Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19230

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطَّائِفِيُّ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَوْسٍ الثَّقَفِيِّ عَنْ جَدِّهِ أَوْسِ بْنِ حُذَيْفَةَ قَالَ كُنْتُ فِي الْوَفْدِ الَّذِينَ أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْلَمُوا مِنْ ثَقِيفٍ مِنْ بَنِي مَالِكٍ أَنْزَلَنَا فِي قُبَّةٍ لَهُ فَكَانَ يَخْتَلِفُ إِلَيْنَا بَيْنَ بُيُوتِهِ وَبَيْنَ الْمَسْجِدِ فَإِذَا صَلَّى الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ انْصَرَفَ إِلَيْنَا فَلَا يَبْرَحُ يُحَدِّثُنَا وَيَشْتَكِي قُرَيْشًا وَيَشْتَكِي أَهْلَ مَكَّةَ ثُمَّ يَقُولُ لَا سَوَاءَ كُنَّا بِمَكَّةَ مُسْتَذَلِّينَ أَوْ مُسْتَضْعَفِينَ فَلَمَّا خَرَجْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ كَانَتْ سِجَالُ الْحَرْبِ عَلَيْنَا وَلَنَا فَمَكَثَ عَنَّا لَيْلَةً لَمْ يَأْتِنَا حَتَّى طَالَ ذَلِكَ عَلَيْنَا بَعْدَ الْعِشَاءِ قَالَ قُلْنَا مَا أَمْكَثَكَ عَنَّا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ طَرَأَ عَنِّي حِزْبٌ مِنْ الْقُرْآنِ فَأَرَدْتُ أَنْ لَا أَخْرُجَ حَتَّى أَقْضِيَهُ فَسَأَلْنَا أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَصْبَحْنَا قَالَ قُلْنَا كَيْفَ تُحَزِّبُونَ الْقُرْآنَ قَالُوا نُحَزِّبُهُ سِتَّ سُوَرٍ وَخَمْسَ سُوَرٍ وَسَبْعَ سُوَرٍ وَتِسْعَ سُوَرٍ وَإِحْدَى عَشْرَةَ سُورَةً وَثَلَاثَ عَشْرَةَ سُورَةً وَحِزْبُ الْمُفَصَّلِ مِنْ ق حَتَّى تَخْتِمَ

حضرت اوس بن حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم ثقیف کے وفد کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ہم بنی مالک کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک قبہ میں ٹھہرایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر شب عشاء کے بعد ہمارے پاس آتے اور ہم سے گفتگو فرماتے رہتے اور زیادہ تر ہمیں قریش کے اپنے ساتھ رویہ کے متعلق سناتے اور فرماتے ہم اور وہ برابر نہ تھے کیونکہ ہم کمزور اور ظاہر طور پر دباؤ میں تھے جب ہم مدینہ آئے توجنگ کا ڈول ہمارے اور ان کے درمیان رہا کبھی ہم ان سے ڈول نکالتے ( اور فتح حاصل کرلیتے. اور کبھی وہ ہم سے ڈول نکالتے ( اور فتح پاتے) ایک رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم سابقہ معمول سے ذرا تاخیر سے تشریف لائے تو میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم آج تاخیر سے تشریف لائے فرمایا میرا تلاوت قرآن کا معمول کچھ رہ گیا تھا میں نے پورا ہونے سے قبل نکلنا پسند نہ کیا حضرت اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے پوچھا کہ تم قرآن (کی تلاوت کے لئے ) کیسے حصے کرتے ہو؟ انہوں نے بتایا کہ تین (سورتیں فاتحہ کے بعدبقرہ ، آل عمران اور نساء ) اور پانچ (سورتیں مائدہ سے براءۃ کے آخرتک ) اور سات (سورتیں یونس سے نحل تک ) اور نو (سورتیں بنی اسرائیل سے فرقان تک) اور گیارہ (سورتیں شعراء سے یٰسین تک ) اور تیرہ (سورتیں والصافات سے حجرات تک ) اور آخری حزب مفصل کا یعنی سورت ق سے آخرتک ۔

جده أَوْس بن حُذَيْفَة. ← عثمان بن عبد الله بن أوس الثقفى ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطَّائِفِيِّ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19230

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19231

قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ : مَالِكٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِي حَازِمٍ التَّمَّارِّ عَنِ الْبَيَاضِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَى النَّاسِ وَهُمْ يُصَلُّونَ وَقَدْ عَلَتْ أَصْوَاتُهُمْ بِالْقِرَاءَةِ فَقَالَ إِنَّ الْمُصَلِّي يُنَاجِي رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَلْيَنْظُرْ مَا يُنَاجِيهِ وَلَا يَجْهَرْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ بِالْقُرْآنِ

حضرت بیاضی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے پاس تشریف لائے تو وہ نماز پڑھ رہے تھے اور تلاوت قرآن کے دوران ان کی آوازیں بلند ہو رہی تھیں ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نمازی آدمی اپنے رب سے مناجات کرتا ہے اس لئے اسے دیکھنا چاہئے کہ وہ کس عظیم ہستی سے مناجات کررہا ہے اور تم ایک دوسرے پر قرآن پڑھتے ہوئے آوازیں بلند نہ کیا کرو۔

البياضي ← أَبِي حَازِمٍ التَّمَّارِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ مَالِكٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19231

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19232

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ وُهَيْبٍ عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ حَدَّثَنِي أَبُو أَرْوَى قَالَ كُنْتُ أُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ ثُمَّ آتِي الشَّجَرَةَ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ

حضرت ابواروی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عصر کی نماز پڑھتا تھا پھر غروب آفتاب سے پہلے اپنے ٹھکانے پر پہنچ جاتا تھا ۔

كُنْتُ أُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ الْعَصْرَ ثُمَّ آتِي الشَّجَرَةَ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ ← أَبُو أَرْوَى ← أبي واقد الليثي ← وُهَيْبٌ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19232

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19233

حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو حَرْبِ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ عَنْ فَضَالَةَ اللَّيْثِيِّ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمْتُ وَعَلَّمَنِي حَتَّى عَلَّمَنِي الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ لِمَوَاقِيتِهِنَّ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ إِنَّ هَذِهِ لَسَاعَاتٌ أُشْغَلُ فِيهَا فَمُرْنِي بِجَوَامِعَ فَقَالَ لِي إِنْ شُغِلْتَ فَلَا تُشْغَلْ عَنْ الْعَصْرَيْنِ قُلْتُ وَمَا الْعَصْرَانِ قَالَ صَلَاةُ الْغَدَاةِ وَصَلَاةُ الْعَصْرِ

حضرت فضالہ لیثی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اسلام قبول کرلیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کچھ باتیں سکھائیں اور پنج وقتہ نماز کو ان کے وقت مقررہ پر ادا کرنے کی تعلیم دی میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ ان اوقات میں تو میں مصروف ہوتاہوں لہٰذا مجھے کوئی جامع باتیں بتادیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم مصروف ہوتے ہو تو پھر بھی کم ازکم " عصرین " تو نہ چھوڑنا میں پوچھا کہ " عصرین " سے کیا مراد ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صبح کی نماز اور عصر کی نماز۔

صَلَاۃُ الغداۃ وصلاۃ العصر۔(17:1) ← الْعَصْرَيْنِ قُلْتُ وَمَا الْعَصْرَانِ ← لِي إِنْ شُغِلْتَ فَلَا تُشْغَلْ ← فَقُلْتُ لَهُ إِنَّ هَذِهِ لَسَاعَاتٌ أُشْغَلُ فِيهَا فَمُرْنِي بِجَوَامِعَ ← أَتَيْتُ النَّبِيَّ فَأَسْلَمْتُ وَعَلَّمَنِي حَتَّى عَلَّمَنِي الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ لِمَوَاقِيتِهِنَّ ← فُضَالَةَ اللَّيْثِى. ← أَبُو حَرْبِ بْنُ أَبِي الأَسْوَدِ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← هُشَيْمٌ ← سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19233

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19234

قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ رَجُلٍ مِنْهُمْ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ ضَمَّ يَتِيمًا بَيْنَ أَبَوَيْنِ مُسْلِمَيْنِ إِلَى طَعَامِهِ وَشَرَابِهِ حَتَّى يَسْتَغْنِيَ عَنْهُ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ الْبَتَّةَ وَمَنْ أَعْتَقَ امْرَأً مُسْلِمًا كَانَ فَكَاكَهُ مِنْ النَّارِ يُجْزِي بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهُ عُضْوًا مِنْهُ مِنْ النَّارِ

حضرت مالک بن حارثرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انہوں نے یہ فرماتے ہوئے سناہے کہ جو شخص مسلمان ماں باپ کے کسی یتیم بچے کو اپنے کھانے اور پینے میں اس وقت تک شامل رکھتا ہے جب تک وہ اس امداد سے مشتغنی نہیں ہوجاتا (خود کمانے لگ جاتا ہے ) تو اس کے لئے یقینی طور پر جنت واجب ہوتی ہے جو شخص کسی مسلمان آدمی کو آزاد کرتا ہے وہ جہنم سے اس کی آزادی کا سبب بن جاتا ہے اور آزاد ہونے والے کے ہر عضو کے بدلے میں اس کا ہر عضو جہنم سے آزاد ہوجاتا ہے۔

النَّبِيِّ ← مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ رَجُلٍ مِنْهُمْ أَنَّهُ ← زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← هُشَيْمٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19234

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19235

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ أَوْ مَالِكِ بْنِ عَمْرٍو كَذَا قَالَ سُفْيَانُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ ضَمَّ يَتِيمًا بَيْنَ أَبَوَيْهِ فَلَهُ الْجَنَّةُ الْبَتَّةَ

حضرت مالک بن حارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انہوں نے یہ فرماتے ہوئے سناہے کہ جو شخص مسلمان ماں باپ کے کسی یتیم بچے کو اپنے کھانے اور پینے میں اس وقت تک شامل رکھتا ہے جب تک وہ اس امداد سے مستغنی نہیں ہوجاتا (خودکمانے لگ جاتا ہے ) تو اس کے لئے یقینی طور پر جنت واجب ہوتی ہے ۔

سُفْيَانَ، ← عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ أَوْ مَالِكِ بْنِ عَمْرٍو كَذَا ← زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ← عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19235

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19236

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى عَنْ أُبَيِّ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ أَدْرَكَ وَالِدَيْهِ أَوْ أَحَدَهُمَا ثُمَّ دَخَلَ النَّارَ مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ وَأَسْحَقَهُ

حضرت ابی بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنے والدین یا ان میں سے کسی ایک کو پائے اور پھر بھی جہنم میں چلا جائے تو وہ اللہ کی رحمت سے بہت دور جاپڑا۔

النَّبِیِّ اَنَّہٗ ← أُبَيِّ بْنِ مَالِكٍ ← زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19236

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19237

قَالَ و حَدَّثَنِي بَهْزٌ قَالَ ثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ يُقَالُ لَهُ أُبَيُّ بْنُ مَالِكٍ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ أَدْرَكَ وَالِدَيْهِ أَوْ أَحَدَهُمَا فَدَخَلَ النَّارَ فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ

حضرت ابی بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنے والدین یا ان میں سے کسی ایک کو پائے اور پھر بھی جہنم میں چلاجائے تو وہ اللہ کی رحمت سے بہت دور جاپڑا۔

من أدرك والديه أو أحدهما فدخل النار فأبعده الله ← النَّبِيِّ ← رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ يُقَالُ لَهُ أُبَيُّ بْنُ مَالِكٍ أَنَّهُ ← زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← بَهْزٌ ← و،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19237

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19238

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ زُرَارَةَ بْنَ أَوْفَى يُحَدِّثُ عَنْ أُبَيِّ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ

حضرت ابی بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنے والدین یا ان میں سے کسی ایک کو پائے اور پھر بھی جہنم میں چلاجائے تو وہ اللہ کی رحمت سے بہت دور جاپڑا۔

النَّبِيِّ ← أُبَيِّ بْنِ مَالِكٍ ← زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← حجاج،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19238

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19239

حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَعَفَّانُ قَالَا ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى عَنْ مَالِكِ بْنِ عَمْرٍو الْقُشَيْرِيِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُسْلِمَةً فَهِيَ فِدَاؤُهُ مِنْ النَّارِ قَالَ عَفَّانُ مَكَانَ كُلِّ عَظْمٍ مِنْ عِظَامِ مُحَرِّرِهِ بِعَظْمٍ مِنْ عِظَامِهِ وَمَنْ أَدْرَكَ أَحَدَ وَالِدَيْهِ ثُمَّ لَمْ يُغْفَرْ لَهُ فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ وَمَنْ ضَمَّ يَتِيمًا مِنْ بَيْنِ أَبَوَيْنِ مُسْلِمَيْنِ قَالَ عَفَّانُ إِلَى طَعَامِهِ وَشَرَابِهِ حَتَّى يُغْنِيَهُ اللَّهُ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ

حضرت مالک بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کسی مسلمان آدمی کو آزاد کرتا ہے وہ جہنم سے اس کی آزادی کا سبب بن جاتا ہے اور آزاد ہونے والے کے ہر عضو کے بدلے میں اس کا ہر عضو جہنم سے آزاد ہوجاتا ہے جو شخص اپنے والدین میں سے کسی ایک کو پائے پھر بھی اس کی بخشش نہ ہو تو وہ بہت دور جا پڑا جو شخص مسلمان ماں باپ کے کسی یتیم بچے کو اپنے کھانے اور پینے میں اس وقت تک شامل رکھتا ہے جب تک وہ اس امداد سے مشتغنی نہیں ہوجاتا (خود کمانے لگ جاتا ہے ) تو اس کے لئے یقینی طور پر جنت واجب ہوتی ہے ۔

مَالِكِ بْنِ عَمْرٍو الْقُشَيْرِيِّ ← زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← بهز وعفان

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19239

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19240

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ عَنْ حُصَيْنِ بْنِ أَبِي الْحُرِّ عَنِ الْخَشْخَاشِ الْعَنْبَرِيِّ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعِي ابْنٌ لِي قَالَ فَقَالَ ابْنُكَ هَذَا قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ لَا يَجْنِي عَلَيْكَ وَلَا تَجْنِي عَلَيْهِ قَالَ هُشَيْمٌ مَرَّةً يُونُسُ قَالَ أَخْبَرَنِي مُخْبِرٌ عَنْ حُصَيْنِ بْنِ أَبِي الْحُرِّ

حضرت خشخاش عنبری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اپنے بیٹے کوساتھ لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا یہ تمہارابیٹا ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں (میں اس کی گواہی دیتا ہوں ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے کسی جرم کا ذمہ دار تمہیں یاتمہارے کسی جرم کا ذمہ دار اسے نہیں بنایا جائے گا۔

حُصَيْنِ بْنِ أَبِي الْحُرِّ ← مُخْبِرٌ ← هُشَيْمٌ مَرَّةً يُونُسُ ← لاَ يَجْنِي عَلَيْكَ وَلاَ تَجْنِي عَلَيْهِ، ← قُلْتُ: نَعَمْ، ← فَقَالَ ابْنُكَ هَذَا ← أَتَيْتُ النَّبِيَّ وَمَعِي ابْنٌ لِي ← الْخَشْخَاشِ الْعَنْبَرِيِّ، ← حُصَيْنِ بْنِ أَبِي الْحُرِّ ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← هُشَيْمٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19240

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19241

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُهَاجِرٍ يَعْنِي أَخَا عَمْرِو بْنِ مُهَاجِرٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَقِيلُ بْنُ شَبِيبٍ عَنْ أَبِي وَهْبٍ الْجُشَمِيِّ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسَمَّوْا بِأَسْمَاءِ الْأَنْبِيَاءِ وَأَحَبُّ الْأَسْمَاءِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَبْدُ اللَّهِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ وَأَصْدَقُهَا حَارِثٌ وَهَمَّامٌ وَأَقْبَحُهَا حَرْبٌ وَمُرَّةُ وَارْتَبِطُوا الْخَيْلَ وَامْسَحُوا بِنَوَاصِيهَا وَأَعْجَازِهَا أَوْ قَالَ وَأَكْفَالِهَا وَقَلِّدُوهَا وَلَا تُقَلِّدُوهَا الْأَوْتَارَ وَعَلَيْكُمْ بِكُلِّ كُمَيْتٍ أَغَرَّ مُحَجَّلٍ أَوْ أَشْقَرَ أَغَرَّ مُحَجَّلٍ أَوْ أَدْهَمَ أَغَرَّ مُحَجَّلٍ

حضرت ابووہب جشمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا انبیاء کرام علیہم السلام کے نام پر نام رکھا کرو اور اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ نام عبداللہ اور عبدالرحمن ہیں سب سے سچے نام حارث اور ہمام ہیں اور سب سے بدترین نام حرب اور مرہ ہیں اور گھوڑے باندھا کرو ان کی پیشانیوں اور دموں کے قریب ہاتھ پھیرا کرو ان کے گلے میں قلادہ باندھا کرو لیکن تانت کا نہیں اور ان گھوڑوں کو اپنے اوپر لازم کرلو جو چتکبرے اور سفید روشن پیشانی اور چمکتے ہوئے اعضاء والے ہوں یا جو سرخ و سفید یا کالے سیاہ ہوں اور پیشانی روشن چمکدار ہو۔

أَبِي وَهْبٍ الْجُشَمِيِّ وَکَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ ← عَقِيلِ بْنِ شَبِيبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُهَاجِرٍ يَعْنِي أَخَا عَمْرِو بْنِ مُهَاجِرٍ ← هِشَامِ بْنِ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19241

chevron_left Previous
1…818283…146
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter