Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19206

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلَانَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ يَحْيَى بْنِ خَلَّادٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَمِّهِ وَكَانَ بَدْرِيًّا قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ فَدَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّى فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمُقُهُ ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ فَرَدَّ عَلَيْهِ وَقَالَ ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ قَالَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا فَقَالَ لَهُ فِي الثَّالِثَةِ أَوْ فِي الرَّابِعَةِ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَقَدْ أَجْهَدْتُ نَفْسِي فَعَلِّمْنِي وَأَرِنِي فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَدْتَ أَنْ تُصَلِّيَ فَتَوَضَّأْ فَأَحْسِنْ وُضُوءَكَ ثُمَّ اسْتَقْبِلْ الْقِبْلَةَ ثُمَّ كَبِّرْ ثُمَّ اقْرَأْ ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ قَائِمًا ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ جَالِسًا ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ثُمَّ قُمْ فَإِذَا أَتْمَمْتَ صَلَاتَكَ عَلَى هَذَا فَقَدْ أَتْمَمْتَهَا وَمَا انْتَقَصْتَ مِنْ هَذَا مِنْ شَيْءٍ فَإِنَّمَا تُنْقِصُهُ مِنْ صَلَاتِكَ

حضرت رفاعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے کہ ایک آدمی آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہی نماز پڑھنے لگا نماز سے فارغ ہو کر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا اپنی نماز دوبارہ لوٹاؤ کیونکہ تم نے صحیح طرح نماز نہیں پڑھی وہ چلا گیا اور پہلے کی طرح نماز پڑھنے کر واپس آگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پھر یہی فرمایا اپنی نماز دوبارہ لوٹاؤ کیونکہ تم نے صحیح طرح نماز نہیں پڑھی وہ کہنے لگا یا رسول اللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس آگیا، نبی کریم نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پھریہی فرمایا اپنی نماز دوبارہ لوٹاؤ کیونکہ تم نے صحیح طرح نماز نہیں پڑھی وہ کہنے لگا یا رسول اللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم! مجھے نماز پڑھنے کا طریقہ سمجھادیجئے کہ کیسے پڑھوں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم قبلہ کی طرف رخ کرلو تو اللہ اللہ اکبر کہو، پھر سورت فاتحہ پڑھو اور اس کے ساتھ جو سورت چاہو پڑھو جب رکوع کرو تو اپنی ہتھیلیاں اپنے گھٹنوں پر رکھو اپنی کمربچھالو اور رکوع کے لئے اسے خوب برابر کرلو جب رکوع سے سر اٹھاؤ تو اپنی کمر کو سیدھا کرلو یہاں تک کہ تمام ہڈیاں اپنے اپنے جوڑوں پر قائم ہوجائیں اور جب سجدہ کرو تو خوب اچھی طرح کرو اور کھڑے ہوجاؤ اگر تم نے اس طرح اپنی نماز کو مکمل کیا تو تم نے اسے کامل ادا کیا اور اگر تم نے ان میں سے کسی چیز میں کوتاہی کی تو تمہاری نماز نامکمل ہوئی۔

عَمِّهِ وَكَانَ بَدْرِيًّا ← أَبِيهِ ← عَلِيُّ بْنُ يَحْيَى بْنِ خَلَّادٍ، ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19206

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19207

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ يَعْنِي ابْنَ عَمَّارٍ قَالَ حَدَّثَنِي طَارِقُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُرَشِيُّ قَالَ جَاءَ رَافِعُ بْنُ رِفَاعَةَ إِلَى مَجْلِسِ الْأَنْصَارِ فَقَالَ لَقَدْ نَهَانَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْيَوْمَ عَنْ شَيْءٍ كَانَ يَرْفُقُ بِنَا فِي مَعَايِشِنَا فَقَالَ نَهَانَا عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ قَالَ مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا أَوْ لِيُزْرِعْهَا أَخَاهُ أَوْ لِيَدَعْهَا وَنَهَانَا عَنْ كَسْبِ الْحَجَّامِ وَأَمَرَنَا أَنْ نُطْعِمَهُ نَوَاضِحَنَا وَنَهَانَا عَنْ كَسْبِ الْأَمَةِ إِلَّا مَا عَمِلَتْ بِيَدِهَا وَقَالَ هَكَذَا بِأَصَابِعِهِ نَحْوَ الْخَبْزِ وَالْغَزْلِ وَالنَّفْشِ

طارق بن عبدالرحمن رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت رافع بن رفاعہ رضی اللہ عنہ انصار کی ایک مجلس میں آئے اور کہنے لگے کہ آج نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک ایسی چیز سے منع فرمادیاہے جو معاشی اعتبار سے ہمارے لئے فائدہ مند تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں زمین کو کرائے پردینے سے منع کیا ہے اور فرمایا ہے کہ جس شخص کے پاس کچھ زمین ہو اسے چاہئے کہ وہ اس میں خود کھیت اور فصل لگائے یا اپنے بھائی کو لگوادے یا اسے یونہی پڑا رہنے دے اور سینگی لگانے والے کی کمائی سے منع کرتے ہوئے ہمیں حکم دیا ہے کہ وہ اپنے جانوروں کو کھلادیں ، نیز باندی کی جسم فروشی کی کمائی سے بھی منع کیا ہے الاّ یہ کہ وہ اپنے ہاتھ سے کوئی کام کرتی ہو اور انگلیوں سے اشارہ کرکے بتایا مثلاً روٹی پکانا، سینا پرونا اور بیل بوٹے بنانا۔

هَکَذَا بِأَصَابِعِهِ نَحْوَ الْخَبْزِ وَالْغَزْلِ وَالنَّفْشِ ← کَسْبِ الْأَمَةِ إِلَّا مَا عَمِلَتْ بِيَدِهَا ← كَسْبِ الْحَجَّامِ وَأَمَرَنَا أَنْ نُطْعِمَهُ نَوَاضِحَنَا وَنَهَانَا ← مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا أَوْ لِيُزْرِعْهَا أَخَاهُ أَوْ لِيَدَعْهَا وَنَهَانَا ← كِرَاءِ الْأَرْضِ»، ← نهانا ← شَيْءٍ كَانَ يَرْفُقُ بِنَا فِي مَعَايِشِنَا ← لَقَدْ نَهَانَا نَبِيُّ اللَّهِ الْيَوْمَ ← جَاءَ رَافِعُ بْنُ رِفَاعَةَ إِلَى مَجْلِسِ الْأَنْصَارِ ← طَارِقُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُرَشِيُّ ← عكرمة يعني ابن عمار ← هاشم بن القاسم

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19207

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19208

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ عَنْ عَرْفَجَةَ بْنِ شُرَيْحٍ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهَا سَتَكُونُ بَعْدِي هَنَاتٌ وَهَنَاتٌ وَرَفَعَ يَدَيْهِ فَمَنْ رَأَيْتُمُوهُ يُفَرِّقُ بَيْنَ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ وَهُمْ جَمِيعٌ فَاقْتُلُوهُ كَائِنًا مَنْ كَانَ مِنْ النَّاسِ

حضرت عرفجہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عنقریب فسادات اور فتنے رونما ہوں گے سو جو شخص مسلمانوں کے معاملات میں " جبکہ وہ متفق و متحد ہوں " تفریق پیداکرنا چاہے تو اس کی گردن تلوار سے اڑادو خواہ وہ کوئی بھی ہو۔

عَرْفَجَةَ بْنِ شُرَيْحٍ الْأَسْلَمِيِّ ← زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ← شَيْبَانَ ← أَبُو النَّضْرِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19208

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19209

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ قَالَ سَمِعْتُ عَرْفَجَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّهُ سَتَكُونُ هَنَاتٌ وَهَنَاتٌ فَمَنْ أَرَادَ أَنْ يُفَرِّقَ أَمْرَ هَذِهِ الْأُمَّةِ وَهِيَ جَمِيعٌ فَاضْرِبُوهُ بِالسَّيْفِ كَائِنًا مَنْ كَانَ

حضرت عرفجہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عنقریب فسادات اور فتنے رونما ہوں گے سو جو شخص مسلمانوں کے معاملات میں " جبکہ وہ متفق و متحد ہوں " تفریق پیداکرنا چاہے تو اس کی گردن تلوار سے اڑادو خواہ وہ کوئی بھی ہو۔

رَسُولِ اللَّهِ ← عَرْفَجَةَ ← زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19209

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19210

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ أَنَّ عَبَّادَ بْنَ تَمِيمٍ أَخْبَرَهُ عَنْ عُوَيْمِرِ بْنِ أَشْقَرَ أَنَّهُ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يَغْدُوَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَّهُ ذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَمَا فَرَغَ فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَعُودَ لِأُضْحِيَّتِهِ

حضرت عویمر بن اشقر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے قربانی کا جانور ذبح کرلیاجب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عید کی نماز سے فارغ ہوئے تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دوبارہ قربانی کرنے کا حکم دیا۔

ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ بَعْدَمَا فَرَغَ فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ أَنْ يَعُودَ لِأُضْحِيَّتِهِ ← عُوَيْمِرِ بْنِ أَشْقَرَ أَنَّهُ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يَغْدُوَ رَسُولُ اللَّهِ وَأَنَّهُ ← يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ أَنَّ عَبَّادَ بْنَ تَمِيمٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19210

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19211

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْخَطْمِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ عَنْ كَثِيرِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنَا قُرَيْظَةَ أَنَّهُمْ عُرِضُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ قُرَيْظَةَ فَمَنْ كَانَ مِنْهُمْ مُحْتَلِمًا أَوْ نَبَتَتْ عَانَتُهُ قُتِلَ وَمَنْ لَا تُرِكَ

قریظہ کے دو بیٹوں سے مروی ہے کہ غزوہ بنوقریظہ کے موقع پر ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا تو یہ فیصلہ ہوا کہ جس کے زیرناف بال اگ آئے ہیں اسے قتل کردیا جائے اور جس کے زیر ناف بال نہیں اگے اس کا راستہ چھوڑ دیا جائے۔

کَثِيرِ بْنِ السَّائِبِ ← مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، ← أَبِي جَعْفَرٍ الْخَطْمِيِّ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19211

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19212

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ عَنِ الْحُصَيْنِ بْنِ مِحْصَنٍ أَنَّ عَمَّةً لَهُ أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ فَفَرَغَتْ مِنْ حَاجَتِهَا فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذَاتُ زَوْجٍ أَنْتِ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ كَيْفَ أَنْتِ لَهُ قَالَتْ مَا آلُوهُ إِلَّا مَا عَجَزْتُ عَنْهُ قَالَ فَانْظُرِي أَيْنَ أَنْتِ مِنْهُ فَإِنَّمَا هُوَ جَنَّتُكِ وَنَارُكِ

حضرت حصین بن محصن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان ایک پھوپھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کسی کام کی غرض سے آئیں جب کام مکمل ہوگیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تمہاری شادی ہوئی ہے ؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تم اپنے شوہر کی خدمت کرتی ہو؟ انہوں نے کہا کہ میں اس میں کوئی کوتاہی نہیں کرتی الاّ یہ کہ کسی کام سے عاجز آجاؤں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس چیز کاخیال رکھنا کہ وہ تمہاری جنت بھی ہے اور جہنم بھی ۔

الْحُصَيْنِ بْنِ مِحْصَنٍ ← بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19212

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19213

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَخْبَرَنِي رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ رَبِيعَةُ بْنُ عَبَّادٍ مِنْ بَنِي الدِّيلِ وَكَانَ جَاهِلِيًّا قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فِي سُوقِ ذِي الْمَجَازِ وَهُوَ يَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ قُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ تُفْلِحُوا وَالنَّاسُ مُجْتَمِعُونَ عَلَيْهِ وَوَرَاءَهُ رَجُلٌ وَضِيءُ الْوَجْهِ أَحْوَلُ ذُو غَدِيرَتَيْنِ يَقُولُ إِنَّهُ صَابِئٌ كَاذِبٌ يَتْبَعُهُ حَيْثُ ذَهَبَ فَسَأَلْتُ عَنْهُ فَذَكَرُوا لِي نَسَبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالُوا لِي هَذَا عَمُّهُ أَبُو لَهَبٍ

حضرت ربیعہ رضی اللہ عنہ جنہوں نے زمانہ جاہلیت بھی پایا تھا بعد میں مسلمان ہوگئے تھے سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ذی المجاز نامی بازار میں لوگوں کے سامنے اپنی دعوت پیش کرتے ہوئے دیکھا کہ اے لوگو! لا الہ اللہ کہہ لو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ وہ گلیوں میں داخل ہوتے جاتے اور لوگ ان کے گرد جمع ہوتے جاتے تھے کوئی ان سے کچھ نہیں کہہ رہا تھا اور وہ خاموش ہوئے بغیر اپنی بات دہرا رہے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ایک بھینگا آدمی بھی تھا اس کی رنگت اجلی تھی اور اس کی دومینڈھیاں تھیں اور وہ یہ کہہ رہا تھا کہ یہ شخص بے دین اور جھوٹا ہے (العیاذباللہ ) میں نے پوچھا کہ یہ کون شخص ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ محمد بن عبداللہ ہیں جو نبوت کا دعویٰ کرتے ہیں میں نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ پیچھے والا آدمی کون ہے جوان کی تکذیب کررہا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چچا ابولہب ہے ، راوی نے ان سے کہا کہ آپ تو اس زمانے میں بہت چھوٹے ہوں گے انہوں نے فرمایا نہیں ، واللہ میں اس وقت سمجھدار تھا۔

رَأَيْتُ النَّبِيَّ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فِي سُوقِ ذِي الْمَجَازِ وَهُوَ ← رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ رَبِيعَةُ بْنُ عَبَّادٍ مِنْ بَنِي الدِّيلِ وَكَانَ جَاهِلِيًّا ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19213

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19214

حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عَبَّادٍ الدُّؤَلِيِّ وَكَانَ جَاهِلِيًّا فَأَسْلَمَ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا قَالَ هَذَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَهُوَ يَذْكُرُ النُّبُوَّةَ قُلْتُ مَنْ هَذَا الَّذِي يُكَذِّبُهُ قَالُوا هَذَا عَمُّهُ أَبُو لَهَبٍ قَالَ أَبُو الزِّنَادِ فَقُلْتُ لِرَبِيعَةَ بْنِ عَبَّادٍ إِنَّكَ يَوْمَئِذٍ كُنْتَ صَغِيرًا قَالَ لَا وَاللَّهِ إِنِّي يَوْمَئِذٍ لَأَعْقِلُ أَنِّي لَأَزْفِرُ الْقِرْبَةَ يَعْنِي أَحْمِلُهَا

حضرت ربیعہ رضی اللہ عنہ جنہوں نے زمانہ جاہلیت بھی پایا تھا بعد میں مسلمان ہوگئے تھے سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ذی المجاز نامی بازار میں لوگوں کے سامنے اپنی دعوت پیش کرتے ہوئے دیکھا کہ اے لوگو! لا الہ اللہ کہہ لو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ وہ گلیوں میں داخل ہوتے جاتے اور لوگ ان کے گرد جمع ہوتے جاتے تھے کوئی ان سے کچھ نہیں کہہ رہا تھا اور وہ خاموش ہوئے بغیر اپنی بات دہرا رہے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ایک بھینگا آدمی بھی تھا اس کی رنگت اجلی تھی اور اس کی دومینڈھیاں تھیں اور وہ یہ کہہ رہا تھا کہ یہ شخص بے دین اور جھوٹا ہے (العیاذباللہ ) میں نے پوچھا کہ یہ کون شخص ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ محمد بن عبداللہ ہیں جو نبوت کا دعویٰ کرتے ہیں میں نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ پیچھے والا آدمی کون ہے جوان کی تکذیب کر رہا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چچا ابولہب ہے ، راوی نے ان سے کہا کہ آپ تو اس زمانے میں بہت چھوٹے ہوں گے انہوں نے فرمایا نہیں ، واللہ میں اس وقت سمجھدار تھا۔

رَبِيعَةَ بْنِ عَبَّادٍ الدُّؤَلِيِّ وَكَانَ جَاهِلِيًّا فَأَسْلَمَ ← أَبِيهِ ← ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، ← سُرَيْجٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19214

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19215

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ طَرَفَةَ أَنَّ جَدَّهُ عَرْفَجَةَ أُصِيبَ أَنْفُهُ يَوْمَ الْكُلَابِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَاتَّخَذَ أَنْفًا مِنْ وَرِقٍ فَأَنْتَنَ عَلَيْهِ فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَّخِذَ أَنْفًا مِنْ ذَهَبٍ قَالَ يَزِيدُ فَقِيلَ لِأَبِي الْأَشْهَبِ أَدْرَكْتَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ جَدَّهُ قَالَ نَعَمْ

عبدالرحمن بن طرفہ کہتے ہیں کہ ان کے دادا حضرت عرفجہ رضی اللہ عنہ کی ناک زمانہ جاہلیت میں " یوم کلاب " کے موقع پر ضائع ہوگئی تھی انہوں نے چاندی کی ناک بنوالی لیکن اس میں بدبو پیداہوگئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سونے کی ناک بنوانے کی اجازت دے دی۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ طَرَفَةَ ← أَبُو الْأَشْهَبِ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19215

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19216

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ مُعَاوِيَةَ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ عَنِ الْعَلَاءِ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ عَنْ حَرَامِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمَّا يُوجِبُ الْغُسْلَ وَعَنْ الْمَاءِ يَكُونُ بَعْدَ الْمَاءِ وَعَنْ الصَّلَاةِ فِي بَيْتِي وَعَنْ الصَّلَاةِ فِي الْمَسْجِدِ وَعَنْ مُؤَاكَلَةِ الْحَائِضِ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنْ الْحَقِّ وَأَمَّا أَنَا فَإِذَا فَعَلْتُ كَذَا وَكَذَا فَذَكَرَ الْغُسْلَ قَالَ أَتَوَضَّأُ وُضُوئِي لِلصَّلَاةِ أَغْسِلُ فَرْجِي ثُمَّ ذَكَرَ الْغُسْلَ وَأَمَّا الْمَاءُ يَكُونُ بَعْدَ الْمَاءِ فَذَلِكَ الْمَذْيُ وَكُلُّ فَحْلٍ يُمْذِي فَأَغْسِلُ مِنْ ذَلِكَ فَرْجِي وَأَتَوَضَّأُ وَأَمَّا الصَّلَاةُ فِي الْمَسْجِدِ وَالصَّلَاةُ فِي بَيْتِي فَقَدْ تَرَى مَا أَقْرَبَ بَيْتِي مِنْ الْمَسْجِدِ وَلَأَنْ أُصَلِّيَ فِي بَيْتِي أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُصَلِّيَ فِي الْمَسْجِدِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ صَلَاةً مَكْتُوبَةً وَأَمَّا مُؤَاكَلَةُ الْحَائِضِ فَآكِلْهَا

حضرت عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کن چیزوں سے غسل واجب ہوتا ہے ؟ مادہ منویہ کے بعد جو مادہ نکلتا ہے اس کا کیا حکم ہے ؟گھر میں نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے ؟ مسجد میں نماز پڑھنے اور ایام والی عورت کےساتھ اکٹھے کھانا کھانے کا کیا حکم ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ حق بات سے نہیں شرماتا، جب میں اپنی بیوی کے پاس جاتا ہوں تو غسل کے وقت پہلے وضو کرتا ہوں جیسے نماز کے لئے وضو کرتا ہوں پھر شرمگاہ کو دھوتا ہوں اور پھر غسل کرتا ہوں ، مادہ منویہ کے بعد نکلنے والا مادہ " مذی' کہلاتا ہے اور ہر صحت مند آدمی کو مذی آتی ہے اس موقع پر میں شرمگاہ کودھو کر صرف وضو کرتا ہوں رہا مسجد میں نماز پڑھنے کا سوال تو تم دیکھ ہی رہے ہو کہ میرا گھر مسجد سے کتنا قریب ہے لیکن مجھے مسجد کی نسبت اپنے گھر میں نماز پڑھنا زیادہ پسند ہے الاّ یہ کہ فرض نماز ہو باقی رہاحائضہ عورت کے ساتھ کھانا پینا تو وہ تم کھاپی سکتے ہو۔

أَتَوَضَّأُ وُضُوئِي لِلصَّلاةِ أَغْسِلُ فَرْجِي ثُمَّ ← الغسل ← فَإِذَا فَعَلْتُ كَذَا وَكَذَا ← إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنْ الْحَقِّ وَأَمَّا ← مُؤَاكَلَةِ الْحَائِضِ ← الصَّلاةِ فِي الْمَسْجِدِ ← الصَّلاةِ فِي بَيْتِي ← الْمَاءِ يَكُونُ بَعْدَ الْمَاءِ ← عَمِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ عَمَّا يُوجِبُ الْغُسْلَ ← حَرَامِ بْنِ حَکِيمٍ ← الْعَلاءِ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ← مُعَاوِيَةَ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19216

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19217

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ حَرَامِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ مُؤَاكَلَةِ الْحَائِضِ فَقَالَ وَاكِلْهَا

حضرت عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ایام والی عورت کے ساتھ اکٹھے کھانا کھانے کا کیا حکم ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اس کے ساتھ کھاسکتے ہو۔

مُؤَاكَلَةِ الْحَائِضِ، فَقَالَ: «وَاكِلْهَا» ← سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ← عَمِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ ← حَرَامِ بْنِ حَکِيمٍ ← الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19217

chevron_left Previous
1…798081…146
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter