Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19146

حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ بِهَذَا الْحَدِيثِ سَوَاءً بِهَذَا الْكَلَامِ كُلِّهِ وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَقُلْ فِيهِ كَانُوا إِذَا فَزِعُوا فَزِعُوا إِلَى الصَّلَاةِ

حضرت صہیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہونٹ ہلتے رہتے تھے اس سے ہمیں کچھ سمجھ میں آتا اور نہ ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے کچھ بیان فرماتے بعد میں فرمایا کہ پہلی امتوں میں ایک پیغمبر تھے انہیں اپنی امت کی تعداد پر اطمینان اور خوشی ہوئی اور ان کے منہ سے یہ جملہ نکل گیا کہ یہ لوگ کبھی شکست نہیں کھاسکتے اللہ تعالیٰ نے اس پر ان کی طرف وحی بھیجی اور انہیں تین میں سے کسی ایک بات کا اختیار دیا کہ یا تو ان پر کسی دشمن کو مسلط کردوں جو ان کا خوف بہائے یا بھوک کو مسلط کردوں یا موت کو؟ انہوں نے اپنی قوم سے اس کے متعلق مشورہ کیا وہ کہنے لگے کہ آپ اللہ کے نبی ہیں یہ معاملہ ہم آپ پر چھوڑتے ہیں آپ ہی کسی ایک صورت کو ترجیح دے لیں چنانچہ وہ نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے اور انبیاء کرام علیہم السلام کا معمول رہا ہے کہ ان پر جب بھی کوئی پریشانی آتی تو وہ نماز کی طرف متوجہ ہوجاتے بہرحال ! نماز سے فارغ ہو کر وہ کہنے لگے کہ قتل اور بھوک کی تو ہم میں طاقت نہیں ہے البتہ موت ہم پر مسلط کردی جائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صرف تین دن میں ان کے ستر ہزار آدمی مرگئے اس لئے اب میں یہ کہتا ہوں کہ اے اللہ ! میں تیری ہی مدد سے حیلہ کرتا ہوں تیری ہی مدد سے حملہ کرتا ہوں اور تیری ہی مدد سے قتال کرتا ہوں اور گناہ سے بچنے اور نیکی کرنے کی قدرت اللہ ہی سے مل سکتی ہے۔

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19146

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19147

حَدَّثَنَا عَفَّانُ مِنْ كِتَابِهِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ صُهَيْبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَجِبْتُ لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ إِنَّ أَمْرَ الْمُؤْمِنِ كُلَّهُ لَهُ خَيْرٌ لَيْسَ ذَلِكَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِ إِنْ أَصَابَتْهُ سَرَّاءُ شَكَرَ وَكَانَ خَيْرًا وَإِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ صَبَرَ وَكَانَ خَيْرًا

حضرت صہیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھے تو مسلمانوں کے معاملات پر تعجب ہوتا ہے کہ اس کے معاملے میں سراسر خیر ہی خیر ہے اور یہ سعادت مومن کے علاوہ کسی کو حاصل نہیں ہے کہ اگر اسے کوئی بھلائی حاصل ہوتی ہے تو وہ شکر کرتا ہے جو کہ اس کے لئے سراسر خیر ہے اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ صبر کرتا ہے اور یہ بھی سراسر خیر ہے۔

صُھَیْبٍ ← ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← ثَابِتٍ، ← سُلَیْمَانَ ← عَفَّانُ مِنْ كِتَابِهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19147

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19148

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ صُهَيْبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَيَّامَ حُنَيْنٍ يُحَرِّكُ شَفَتَيْهِ بَعْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ بِشَيْءٍ لَمْ نَكُنْ نَرَاهُ يَفْعَلُهُ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَرَاكَ تَفْعَلُ شَيْئًا لَمْ تَكُنْ تَفْعَلُهُ فَمَا هَذَا الَّذِي تُحَرِّكُ شَفَتَيْكَ قَالَ إِنَّ نَبِيًّا فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ أَعْجَبَتْهُ كَثْرَةُ أُمَّتِهِ فَقَالَ لَنْ يَرُومَ هَؤُلَاءِ شَيْءٌ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ أَنْ خَيِّرْ أُمَّتَكَ بَيْنَ إِحْدَى ثَلَاثٍ إِمَّا أَنْ نُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ غَيْرِهِمْ فَيَسْتَبِيحَهُمْ أَوْ الْجُوعَ وَإِمَّا أَنْ أُرْسِلَ عَلَيْهِمْ الْمَوْتَ فَشَاوَرَهُمْ فَقَالُوا أَمَّا الْعَدُوُّ فَلَا طَاقَةَ لَنَا بِهِمْ وَأَمَّا الْجُوعُ فَلَا صَبْرَ لَنَا عَلَيْهِ وَلَكِنْ الْمَوْتُ فَأَرْسَلَ عَلَيْهِمْ الْمَوْتَ فَمَاتَ مِنْهُمْ فِي ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ سَبْعُونَ أَلْفًا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنَا أَقُولُ الْآنَ حَيْثُ رَأَى كَثْرَتَهُمْ اللَّهُمَّ بِكَ أُحَاوِلُ وَبِكَ أُصَاوِلُ وَبِكَ أُقَاتِلُ

حضرت صہیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ حنین کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہونٹ ہلتے رہتے تھے اس سے پہلے کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں کیا تھا بعد میں فرمایا کہ پہلی امتوں میں ایک پیغمبر تھے انہیں اپنی امت کی تعداد پر اطمینان اور خوشی ہوئی اور ان کے منہ سے یہ جملہ نکل گیا کہ یہ لوگ کبھی شکست نہیں کھاسکتے اللہ تعالیٰ نے اس پر ان کی طرف وحی بھیجی اور انہیں تین میں سے کسی ایک بات کا اختیار دیا کہ یا تو ان پر کسی دشمن کو مسلط کردوں جو ان کا خون بہائے یا بھوک کو مسلط کردوں یا موت کو؟ وہ کہنے لگے کہ قتل اور بھوک کی تو ہم میں طاقت نہیں ہے البتہ موت ہم پر مسلط کردی جائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صرف تین دن میں ان کے ستر ہزار آدمی مرگئے اس لئے اب میں یہ کہتا ہوں کہ اے اللہ ! میں تیری ہی مدد سے حیلہ کرتا ہوں تیری ہی مدد سے حملہ کرتا ہوں اور تیری ہی مدد سے قتال کرتا ہوں ۔

صُھَیْبٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19148

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19149

حَدَّثَنَا عَفَّانُ أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ صُهَيْبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ قَالَ إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ نَادَى مُنَادٍ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ إِنَّ لَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ مَوْعِدًا يُرِيدُ أَنْ يُنْجِزَكُمُوهُ فَيَقُولُونَ وَمَا هُوَ أَلَمْ يُثَقِّلْ مَوَازِينَنَا وَيُبَيِّضْ وُجُوهَنَا وَيُدْخِلْنَا الْجَنَّةَ وَيُجِرْنَا مِنْ النَّارِ قَالَ فَيُكْشَفُ لَهُمْ الْحِجَابُ فَيَنْظُرُونَ إِلَيْهِ قَالَ فَوَاللَّهِ مَا أَعْطَاهُمْ شَيْئًا أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنْ النَّظَرِ إِلَيْهِ وَلَا أَقَرَّ بِأَعْيُنِهِمْ

حضرت صہیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کرکے ان لوگوں کے لئے جنہوں نے نیکیاں کیں عمدہ بدلہ اور " مزید اضافہ " ہے ارشاد فرمایا جب جنتی جنت میں داخل ہوجائیں گے تو انہیں پکار کر کہا جائے گا کہ اے اہل جنت ! اللہ کا تم سے ایک وعدہ باقی ہے جو ابھی تک تم نے نہیں دیکھا جنتی کہیں گے کہ وہ کیا ہے ؟ کیا آپ نے ہمارے چہروں کو روشن نہیں کیا اور ہمیں جہنم سے بچا کر جنت میں داخل نہیں کیا؟ اس کے جواب میں حجاب اٹھا دیا جائے گا اور جنتی اپنے پروردگار کی زیارت کرسکیں گے بخدا! اللہ نے انہیں جتنی نعمتیں عطاء کر رکھی ہوں گی انہیں اس نعمت سے زیادہ محبوب کوئی نعمت نہ ہوگی ۔

صُھَیْبٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19149

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19150

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ لِصُهَيْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا لَوْلَا ثَلَاثُ خِصَالٍ فِيكَ لَمْ يَكُنْ بِكَ بَأْسٌ قَالَ وَمَا هُنَّ فَوَاللَّهِ مَا نَرَاكَ تَعِيبُ شَيْئًا قَالَ اكْتِنَاؤُكَ بِأَبِي يَحْيَى وَلَيْسَ لَكَ وَلَدٌ وَادِّعَاؤُكَ إِلَى النَّمِرِ بْنِ قَاسِطٍ وَأَنْتَ رَجُلٌ أَلْكَنُ وَأَنَّكَ لَا تُمْسِكُ الْمَالَ قَالَ أَمَّا اكْتِنَائِي بِأَبِي يَحْيَى فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَنَّانِي بِهَا فَلَا أَدَعُهَا حَتَّى أَلْقَاهُ وَأَمَّا ادِّعَائِي إِلَى النَّمِرِ بْنِ قَاسِطٍ فَإِنِّي امْرُؤٌ مِنْهُمْ وَلَكِنْ اسْتُرْضِعَ لِي بِالْأَيْلَةِ فَهَذِهِ اللُّكْنَةُ مِنْ ذَاكَ وَأَمَّا الْمَالُ فَهَلْ تُرَانِي أُنْفِقُ إِلَّا فِي حَقٍّ

زید بن اسلم رحمتہ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے حضرت صہیب رضی اللہ عنہ سے سے فرمایا اگر تم میں تین چیزیں نہ ہوتی تو تم میں کوئی عیب نہ ہوتا انہوں نے پوچھا وہ کیا ہیں ؟ کیونکہ ہم نے تو کبھی آپ کو کسی چیز میں عیب نکالتے ہوئے دیکھا ہی نہیں انہوں نے فرمایا ایک تو یہ کہ تم اپنی کنیت ابویحیی رکھتے ہو حالانکہ تمہارے یہاں کوئی اولاد ہی نہیں ہے دوسرا یہ کہ تم اپنی نسبت نمر بن قاسط کی طرف کرتے ہو جبکہ تمہاری زبان میں لکنت ہے اور تم مال نہیں رکھتے ۔ حضرت صہیب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ جہاں تک میری کنیت ابویحییٰ کا تعلق ہے تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھی ہے لہٰذا اسے تو میں کبھی نہیں چھوڑ سکتا یہاں تک کہ ان سے جا ملوں رہی نمر بن قاسط کی طرف میری نسبت تو یہ صحیح ہے کیونکہ میں ان ہی کا ایک فرد ہوں لیکن چونکہ میری رضاعت " ایلہ " میں ہوئی تھی اس وجہ سے یہ لکنت پیدا ہوگئی اور باقی رہا مال تو کیا کبھی آپ نے مجھے ایسی جگہ خرچ کرتے ہوئے دیکھا ہے جو ناحق ہو۔

زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← بَهْزٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19150

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19151

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ نَاجِيَةَ الْخُزَاعِيِّ قَالَ وَكَانَ صَاحِبَ بُدْنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْتُ كَيْفَ أَصْنَعُ بِمَا عَطِبَ مِنْ الْبُدْنِ قَالَ انْحَرْهُ وَاغْمِسْ نَعْلَهُ فِي دَمِهِ وَاضْرِبْ صَفْحَتَهُ وَخَلِّ بَيْنَ النَّاسِ وَبَيْنَهُ فَلْيَأْكُلُوهُ

حضرت ناجیہ رضی اللہ عنہ (جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں کے ذمہ دار تھے ) سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر ہدی کا کوئی اونٹ مرنے کے قریب ہوجائے تو کیا کروں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فریاما اسے ذبح کردو اور اس کے نعل کو اس کے خون میں ڈبو کر اس کی پیشانی پر مل دو اور اسے لوگوں کے لئے چھوڑ دو تاکہ وہ اسے کھالیں ۔

انْحَرْهُ وَاغْمِسْ نَعْلَهُ فِي دَمِهِ وَاضْرِبْ صَفْحَتَهُ وَخَلِّ بَيْنَ النَّاسِ وَبَيْنَهُ فَلْيَأْكُلُوهُ ← قُلْتُ كَيْفَ أَصْنَعُ بِمَا عَطِبَ مِنْ الْبُدْنِ ← وَكَانَ صَاحِبَ بُدْنِ رَسُولِ اللَّهِ ← نَاجِيَةَ الْخُزَاعِيِّ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19151

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19152

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ نَاجِيَةَ الْخُزَاعِيِّ وَكَانَ صَاحِبَ بُدْنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أَصْنَعُ بِمَا عَطِبَ مِنْ الْإِبِلِ أَوْ الْبُدْنِ قَالَ انْحَرْهَا ثُمَّ أَلْقِ نَعْلَهَا فِي دَمِهَا ثُمَّ خَلِّ عَنْهَا وَعَنْ النَّاسِ فَلْيَأْكُلُوهَا

حضرت ناجیہ رضی اللہ عنہ (جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں کے ذمہ دار تھے ) سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر ہدی کا کوئی اونٹ مرنے کے کر قریب ہوجائے تو کیا کروں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فریاما اسے ذبح کر دو اور اس کے نعل کو اس کے خون میں ڈبو کر اس کی پیشانی پر مل دو اور اسے لوگوں کے لئے چھوڑ دو تاکہ وہ اسے کھالیں ۔

قُلْتُ ← نَاجِيَةَ الْخُزَاعِيِّ وَكَانَ صَاحِبَ بُدْنِ رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← أَبُو مُعَاوِيَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19152

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19153

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ وَكَتَبَ بِهِ إِلَىَّ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ كَتَبْتُ إِلَيْكَ بِخَطِّي وَخَتَمْتُ الْكِتَابَ بِخَاتَمِي وَنَقْشُهُ اللَّهُ وَلِيُّ سَعِيدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ وَهُوَ خَاتَمُ أَبِي حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ مَخْشِيٍّ عَنِ ابْنِ الْفِرَاسِيِّ أَنَّ الْفِرَاسِيَّ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا وَإِنْ كُنْتَ سَائِلًا لَا بُدَّ فَاسْأَلْ الصَّالِحِينَ

حضرت فراسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کیا میں لوگوں سے سوال کرسکتا ہوں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں اور اگر سوال کرنا ہی ہے تو نیک لوگوں سے کرو۔

لِرَسُولِ اللَّهِ أَسْأَلُ ← ابْنِ الْفِرَاسِيِّ أَنَّ الْفِرَاسِيَّ ← مُسْلِمِ بْنِ مَخْشِيٍّ ← بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، ← جَعْفَرِ بْنِ رَبِیعَۃَ، ← لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← خَتَمْتُ الْكِتَابَ بِخَاتَمِي وَنَقْشُهُ اللَّهُ وَلِيُّ سَعِيدٍ وَهُوَ خَاتَمُ أَبِي ← بِهِ إِلَىَّ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ كَتَبْتُ إِلَيْكَ بِخَطِّي ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19153

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19154

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَكَتَبَ بِهِ إِلَيَّ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ يَحْيَى بْنِ مَيْمُونٍ الْحَضْرَمِيِّ أَنَّ أَبَا مُوسَى الْغَافِقِيَّ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ يُحَدِّثُ عَلَى الْمِنْبَرِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَادِيثَ فَقَالَ أَبُو مُوسَى إِنَّ صَاحِبَكُمْ هَذَا لَحَافِظٌ أَوْ هَالِكٌ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ آخِرُ مَا عَهِدَ إِلَيْنَا أَنْ قَالَ عَلَيْكُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ وَسَتَرْجِعُونَ إِلَى قَوْمٍ يُحِبُّونَ الْحَدِيثَ عَنِّي فَمَنْ قَالَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ وَمَنْ حِفْظَ عَنِّي شَيْئًا فَلْيُحَدِّثْهُ

حضرت ابوموسی غافقی رضی اللہ عنہ نے حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کو منبر پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کچھ احادیث بیان کرتے ہوئے سنا تو فرمایا کہ تمہارا یہ ساتھی یا توحافظ ہے یا ہلاک ہونے والا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں آخری وصیت جو فرمائی تھی وہ یہ تھی کہ کتاب اللہ کو اپنے اوپر لازم پکڑو عنقریب تم ایک ایسی قوم کے پاس پہنچو گے جو میری نسبت سے حدیث کو محبوب رکھے گی یاد رکھو! جو شخص میری طرف ایسی بات کی نسبت کرتا ہے جو میں نے نہیں کہی اسے چاہیے کہ جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنالے اور جو شخص میری حدیث کو اچھی طرح محفوظ کرلے اسے چاہئے کہ آگے بیان کردے۔

رَسُولِ اللَّهِ أَحَادِيثَ فَقَالَ أَبُو مُوسَى إِنَّ صَاحِبَكُمْ هَذَا لَحَافِظٌ أَوْ هَالِكٌ ← عَلَى الْمِنْبَرِ:، ← عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ، ← يَحْيَى بْنِ مَيْمُونٍ الْحَضْرَمِيِّ أَنَّ أَبَا مُوسَى الْغَافِقِيَّ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَكَتَبَ بِهِ إِلَيَّ قُتَيْبَةُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19154

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19155

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي الْعُشَرَاءِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمَا تَكُونُ الذَّكَاةُ إِلَّا فِي الْحَلْقِ أَوْ اللَّبَّةِ قَالَ لَوْ طَعَنْتَ فِي فَخِذِهَا لَأَجْزَأَكَ

حضرت ابوالعشراء کے والد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا جانور کو ذبح کرتے وقت اس کے حلق یا سینے ہی کی جانب سے ذبح کرنا ضروری ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم اس کی ران میں بھی نیزہ مار دو تو یہ بھی تمہارے لئے کافی ہے۔

قُلْتُ ← أَبِيهِ ← أَبِي الْعُشَرَاءِ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19155

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19156

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي الْعُشَرَاءِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ قَالَ وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ وَأَبِيكَ

حضرت ابوالعشراء کے والد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا جانور کو ذبح کرتے وقت اس کے حلق یا سینے ہی کی جانب سے ذبح کرنا ضروری ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم اس کی ران میں بھی نیزہ مار دو تو یہ بھی تمہارے لئے کافی ہے۔

وَأَبِيكَ ← وسمعته ← النَّبِیِّ مِثْلَہُ ← أَبِيهِ ← أَبِي الْعُشَرَاءِ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19156

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19157

حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهُ حَدَّثَنَاه هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ قَالَا ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ ثَنَا أَبُو الْعُشَرَاءِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ حَدِيثِ وَكِيعٍ

حضرت ابوالعشراء کے والد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا جانور کو ذبح کرتے وقت اس کے حلق یا سینے ہی کی جانب سے ذبح کرنا ضروری ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم اس کی ران میں بھی نیزہ مار دو تو یہ بھی تمہارے لئے کافی ہے۔

النَّبِيِّ مِثْلَ حَدِيثِ وَكِيعٍ ← أَبِيهِ ← أَبُو الْعُشَرَاءِ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ ← عَبْدُاللٰہِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19157

chevron_left Previous
1…747576…146
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter