Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19098

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عَطَاءٍ عَنْ عَائِشِ بْنِ أَنَسٍ سَمِعَهُ مِنْ عَلِيٍّ يَعْنِي عَلَى مِنْبَرِ الْكُوفَةِ كُنْتُ أَجِدُ الْمَذْيَ فَاسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَسْأَلَهُ أَنَّ ابْنَتَهُ عِنْدِي فَقُلْتُ لِعَمَّارٍ سَلْهُ فَسَأَلَهُ فَقَالَ يَكْفِي مِنْهُ الْوُضُوءُ

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ برسر منبر کوفہ فرمایا کہ مجھے مذی کے خروج کا مرض تھا، میں اس وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھتے ہوئے شرماتا تھا کہ ان کی صاحبزادی میرے نکاح میں تھیں تو میں نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے کہا کہ تم یہ مسئلہ پوچھو، انہوں نے پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسی صورت میں وضو کافی ہے۔

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19098

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19099

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ قَالَ ثَنَا يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ الرُّخْصَةَ الَّتِي أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي الصَّعِيدِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ إِنَّهُمْ ضَرَبُوا أَكُفَّهُمْ فِي الصَّعِيدِ فَمَسَحُوا بِهِ وُجُوهَهُمْ مَسْحَةً وَاحِدَةً ثُمَّ عَادُوا فَضَرَبُوا فَمَسَحُوا أَيْدِيَهُمْ إِلَى الْمَنَاكِبِ وَالْآبَاطِ

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی لشکر کے ساتھ رات کے آخری حصے میں ایک جگہ پڑاؤ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھیں اسی رات ان کا ہاتھی دانت کا ایک ہار ٹوٹ کر گر پڑا لوگ ان کا ہار تلاش کرنے کے لئے رک گئے یہ سلسلہ طلوع فجر تک چلتا رہا اور لوگوں کے پاس پانی بھی نہیں تھا (کہ نماز پڑھ سکیں ) اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے وضو میں رخصت کا پہلو یعنی پاک مٹی کے ساتھ تیمم کرنے کا حکم نازل فرما دیا، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اپنی صاحبزادی عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمایا بخدا! مجھے معلوم نہ تھا کہ تو اتنی مبارک ہے، اللہ نے تیری وجہ سے ہم پر رخصت نازل فرما دی ہے چنانچہ ہم نے ایک ضرب چہرے کے لئے لگائی اور ایک ضرب سے کندھوں اور بغلوں تک ہاتھ پھیرلیا۔

الحديث، إلا أنه ← أَنَّ الرُّخْصَةَ الَّتِي أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي الصَّعِيدِ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ كَانَ ← الزُّهْرِيِّ، ← يُونُسَ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19099

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19100

حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى أَخْبَرَنَا ابْنُ عَجْلَانَ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَنَمَةَ قَالَ رَأَيْتُ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى فَأَخَفَّ الصَّلَاةَ قَالَ فَلَمَّا خَرَجَ قُمْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ يَا أَبَا الْيَقْظَانِ لَقَدْ خَفَّفْتَ قَالَ فَهَلْ رَأَيْتَنِي انْتَقَصْتُ مِنْ حُدُودِهَا شَيْئًا قُلْتُ لَا قَالَ فَإِنِّي بَادَرْتُ بِهَا سَهْوَةَ الشَّيْطَانِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الْعَبْدَ لَيُصَلِّي الصَّلَاةَ مَا يُكْتَبُ لَهُ مِنْهَا إِلَّا عُشْرُهَا تُسْعُهَا ثُمُنُهَا سُبُعُهَا سُدُسُهَا خُمُسُهَا رُبُعُهَا ثُلُثُهَا نِصْفُهَا

ابوبکربن عبدالرحمن رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے اور دو ہلکی لیکن مکمل رکعتیں پڑھیں ، اس کے بعد بیٹھ گئے ابوبکر بن عبدالرحمن رحمتہ اللہ علیہ نے ان سے عرض کیا کہ اے ابوالیقظان ! آپ نے یہ دو رکعتیں تو بہت ہی ہلکی پڑھی ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کیا میں نے اس کی حدود میں کچھ کمی کی ہے ؟ انہوں نے کہا نہیں البتہ آپ نے بہت مختصر کر کے پڑھا ہے انہوں نے فرمایا میں نے ان رکعتوں میں بھولنے پر سبقت کی ہے کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک آدمی نماز پڑھتا ہے لیکن اسے نماز کا دسواں ، نواں ، آٹھواں ، یا ساتواں حصہ ہی نصیب ہوپاتا ہے یہاں تک کہ آخری عدد تک پہنچ گئے۔

رَسُولِ اللَّهِ ← فَإِنِّي بَادَرْتُ بِهَا سَهْوَةَ الشَّيْطَانِ ← فَهَلْ رَأَيْتَنِي انْتَقَصْتُ مِنْ حُدُودِهَا شَيْئًا قُلْتُ لَا ← فَلَمَّا خَرَجَ قُمْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ يَا أَبَا الْيَقْظَانِ لَقَدْ خَفَّفْتَ ← رَأَيْتُ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى فَأَخَفَّ الصَّلَاةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَنَمَةَ، ← عُمَرَ بْنِ الْحَکَمِ ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← صَفْوَانُ بْنُ عِيسَی

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19100

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19101

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا قَالَ أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ عَنْ حُسَيْنِ بْنِ الْحَارِثِ الْجَدَلِيِّ قَالَ خَطَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ فِي الْيَوْمِ الَّذِي يُشَكُّ فِيهِ فَقَالَ أَلَا إِنِّي قَدْ جَالَسْتُ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَأَلْتُهُمْ أَلَا وَإِنَّهُمْ حَدَّثُونِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَنْ تَشَكُّوا لَهَا فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَتِمُّوا ثَلَاثِينَ وَإِنْ شَهِدَ شَاهِدَانِ مُسْلِمَانِ فَصُومُوا وَأَفْطِرُوا

ایک مرتبہ عبدالرحمن بن زید بن خطاب نے یوم شک کے حوالے سے خطبہ دیتے ہوئے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضوان اللہ عنہم کی مجالس میں بیٹھا ہوں اور میں نے ان سے اس کے متعلق پوچھا ہے انہوں نے مجھے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر عید مناؤ اور قربانی کرو اور اگر بادل چھائے ہوں تو تیس کا عدد پورا کرو اور اگر دومسلمان چاند دیکھنے کی گواہی دے دیں تو روزہ رکھ لیا کرو اور عید منالیا کرو ۔

خَطَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ فِي الْيَوْمِ الَّذِي يُشَكُّ فِيهِ ← حُسينِ بنِ الحارثِ الجَدَليِّ، ← حجاج، ← يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19101

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19102

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ ثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ رَجُلٍ عَنْ كَعْبِ بْنِ مُرَّةَ الْبَهْزِيِّ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ اللَّيْلِ أَجْوَبُ وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً أَسْمَعُ قَالَ جَوْفُ اللَّيْلِ الْآخِرِ

حضرت کعب بن مرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کے رات کے کس حصے میں دعاء سب سے زیادہ قبول ہوتی ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رات کے آخری پہر میں ۔

جَوْفُ اللَّيْلِ الْآخِرِ ← سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ اللَّيْلِ أَجْوَبُ وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً أَسْمَعُ ← كَعْبِ بْنِ مُرَّةَ الْبَهْزِيِّ ← رَجُلٌ: ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19102

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19103

وَمَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً أَعْتَقَ اللَّهُ بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهَا عُضْوًا مِنْهُ مِنْ النَّارِ

اور جو شخص کسی غلام کو آزاد کرے اللہ اس کے ہر عضو کے بدلے میں آزاد کرنے والے کے ہر عضو کو جہنم کی آگ سے آزاد فرمادے گا۔

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19103

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19104

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ رَجُلٍ عَنْ كَعْبِ بْنِ مُرَّةَ الْبَهْزِيِّ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ اللَّيْلِ أَسْمَعُ قَالَ جَوْفُ اللَّيْلِ الْآخِرِ قَالَ ثُمَّ قَالَ ثُمَّ الصَّلَاةُ مَقْبُولَةٌ حَتَّى يُصَلَّى الْفَجْرُ ثُمَّ لَا صَلَاةَ حَتَّى تَكُونَ الشَّمْسُ قِيدَ رُمْحٍ أَوْ رُمْحَيْنِ ثُمَّ الصَّلَاةُ مَقْبُولَةٌ حَتَّى يَقُومَ الظِّلُّ قِيَامَ الرُّمْحِ ثُمَّ لَا صَلَاةَ حَتَّى تَزُولَ الشَّمْسُ ثُمَّ الصَّلَاةُ مَقْبُولَةٌ حَتَّى تَكُونَ الشَّمْسُ قِيدَ رُمْحٍ أَوْ رُمْحَيْنِ ثُمَّ لَا صَلَاةَ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ قَالَ إِذَا غَسَلْتَ وَجْهَكَ خَرَجَتْ خَطَايَاكَ مِنْ وَجْهِكَ وَإِذَا غَسَلْتَ يَدَيْكَ خَرَجَتْ خَطَايَاكَ مِنْ يَدَيْكَ وَإِذَا غَسَلْتَ رِجْلَيْكَ خَرَجَتْ خَطَايَاكَ مِنْ رِجْلَيْكَ

حضرت کعب بن مرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کے رات کے کس حصے میں دعاء سب سے زیادہ قبول ہوتی ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رات کے آخری پہر میں ، پھر نماز فجر تک نماز قبول ہوتی ہے نماز فجر کے بعد کوئی نماز نہیں ہے حتٰی کہ سورج ایک یا دو نیزوں کے برابر ہوجائے پھر نماز مقبول ہوتی ہے حتی کہ سایہ ایک نیزے کے برابر ہوجائے پھر زوال شمس تک کوئی نماز نہیں ہے پھر نماز مقبول ہوتی ہے حتیٰ کہ سورج ایک دو نیزوں کے برابررہ جائے پھر غروب آفتاب تک کوئی نماز نہیں ہے اور فرمایا کہ جب تم اپنا چہرہ دھوتے ہو تو چہرے کے گناہ خارج ہوجاتے ہیں ہاتھ دھوتے ہو تو ان کے گناہ خارج ہوجاتے ہیں ، اور پاؤں دھوتے ہو تو پاؤں کے گناہ نکل جاتے ہیں ۔

قُلْتُ ← كَعْبِ بْنِ مُرَّةَ الْبَهْزِيِّ ← رَجُلٌ: ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19104

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19105

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنِي سُفْيَانُ الْعُصْفُرِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ حَبِيبِ بْنِ النُّعْمَانِ الْأَسَدِيِّ أَحَدُ بَنِي عَمْرِو بْنِ أَسَدٍ عَنْ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ الْأَسَدِيِّ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَامَ قَائِمًا فَقَالَ عَدَلَتْ شَهَادَةُ الزُّورِ الْإِشْرَاكَ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ حُنَفَاءَ لِلَّهِ غَيْرَ مُشْرِكِينَ بِهِ

حضرت خریم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر پڑھی جب نماز سے فارغ ہوئے تو اپنی جگہ کھڑے ہوگئے اور فرمایا جھوٹی گواہی کو شرک کے برابر قرار دیا گیا ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی " جھوٹی بات کہنے سے بچو اللہ کیلئے یکسو ہوجاؤ اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔

صَلَّی رَسُولُ اللَّهِ صَلَاةَ الصُّبْحِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَامَ قَائِمًا ← خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ الْأَسَدِيِّ، ← حَبِيبِ بْنِ النُّعْمَانِ الْأَسَدِيِّ أَحَدُ بَنِي عَمْرِو بْنِ أَسَدٍ ← أَبِيهِ ← سُفْيَانُ الْعُصْفُرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19105

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19106

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ شِمْرٍ عَنْ خُرَيْمٍ رَجُلٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا أَنْ فِيكَ اثْنَتَيْنِ كُنْتَ أَنْتَ قَالَ إِنْ وَاحِدَةً تَكْفِينِي قَالَ تُسْبِلُ إِزَارَكَ وَتُوَفِّرُ شَعْرَكَ قَالَ لَا جَرَمَ وَاللَّهِ لَا أَفْعَلُ

حضرت خریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا اگر تم میں دوچیزیں نہ ہوتی تو تم تم ہوتے عرض کیا کہ مجھے ایک ہی بات کافی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اپنا تہبند ٹخنے سے نیچے لٹکاتے ہو اور بال خوب لمبے کرتے ہو عرض کیا اللہ کی قسم ! اب یقینا ایسا نہیں کروں گا۔

خُرَيْمٍ رَجُلٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ ← شمر ← أَبِي إِسْحَاقَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19106

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19107

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنِ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ عَنْ رَجُلٍ عَنْ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَعْمَالُ سِتَّةٌ وَالنَّاسُ أَرْبَعَةٌ فَمُوجِبَتَانِ وَمِثْلٌ بِمِثْلٍ وَحَسَنَةٌ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا وَحَسَنَةٌ بِسَبْعِ مِائَةٍ فَأَمَّا الْمُوجِبَتَانِ فَمَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ وَمَنْ مَاتَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ النَّارَ وَأَمَّا مِثْلٌ بِمِثْلٍ فَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ حَتَّى يَشْعُرَهَا قَلْبُهُ وَيَعْلَمَهَا اللَّهُ مِنْهُ كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةً وَمَنْ عَمِلَ سَيِّئَةً كُتِبَتْ عَلَيْهِ سَيِّئَةً وَمَنْ عَمِلَ حَسَنَةً فَبِعَشْرِ أَمْثَالِهَا وَمَنْ أَنْفَقَ نَفَقَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَحَسَنَةٌ بِسَبْعِ مِائَةٍ وَأَمَّا النَّاسُ فَمُوَسَّعٌ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا مَقْتُورٌ عَلَيْهِ فِي الْآخِرَةِ وَمَقْتُورٌ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا مُوَسَّعٌ عَلَيْهِ فِي الْآخِرَةِ وَمَقْتُورٌ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمُوَسَّعٌ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ

حضرت خریم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اعمال چھ طرح کے ہیں اور لوگ چار طرح کے ہیں دوچیزیں واجب کرنے والی ہیں ایک چیز برابر برابر ہے اور ایک نیکی کا ثواب دس گنا اور ایک نیکی کا ثواب سات سو گنا ہے واجب کرنے والی دوچیزیں تو یہ ہیں کہ جو شخص اس حال میں مرے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو وہ جنت میں داخل ہوگا اور جو اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہوا مرے وہ جہنم میں داخل ہوگا اور برابر سرابر یہ ہے کہ جو شخص نیکی کا ارادہ کرے اس کے دل میں اس کا احساس پیدا ہو اور اللہ کے علم میں ہو تو اس کے لئے ایک نیکی لکھی جاتی ہے اور جو شخص برائی کا عمل سر انجام دے اس کے لئے ایک برائی لکھی جاتی ہے جو شخص ایک نیکی کرے اس کے لئے وہ دس گنا لکھی جاتی ہے اور جو شخص اللہ کے راستہ میں خرچ کرے تو ایک نیکی سات سو گنا تک شمار ہوتی ہے ۔باقی رہے لوگ تو ان میں سے بعض پر دنیا میں کشادگی اور آخرت میں تنگی ہوتی ہے بعض پر دنیا میں تنگی اور آخرت میں کشادگی بعض پر دنیا و آخرت دونوں میں تنگی اور بعض پر دنیا و آخرت دونوں میں کشادگی ہوتی ہے۔

خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ، ← رَجُلٌ: ← الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ، ← الْمَسْعُودِيِّ ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19107

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19108

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ شِمْرِ بْنِ عَطِيَّةَ عَنْ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ الْأَسَدِيِّ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِعْمَ الرَّجُلُ أَنْتَ يَا خُرَيْمُ لَوْلَا خُلَّتَانِ فِيكَ قُلْتُ وَمَا هُمَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِسْبَالُكَ إِزَارَكَ وَإِرْخَاؤُكَ شَعْرَكَ

حضرت خریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا اگر تم میں دوچیزیں نہ ہوتی تو تم تم ہوتے عرض کیا کہ مجھے ایک ہی بات کافی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اپنا تہبند ٹخنے سے نیچے لٹکاتے ہو اور بال خوب لمبے کرتے ہو (عرض کیا اللہ کی قسم ! اب یقینا ایسا نہیں کروں گا) ۔

خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ الْأَسَدِيِّ، ← شِمْرِ بْنِ عَطِيَّةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبُو بَکْرٍ ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19108

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19109

حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ زِيَادٍ عَنْ فَاتِكِ بْنِ فَضَالَةَ عَنْ أَيْمَنَ بْنِ خُرَيْمٍ قَالَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ عَدَلَتْ شَهَادَةُ الزُّورِ إِشْرَاكًا بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ اجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنْ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ

حضرت خریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لئے اپنے جگہ کھڑے ہوگئے اور تین مرتبہ فرمایا جھوٹی گواہی کو شرک کے برابر قراردیا گیا ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی " بتوں کی گندگی سے بچو اور جھوٹی بات کہنے سے بچو۔ "

اجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنْ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ ← يَا أَيُّهَا النَّاسُ عَدَلَتْ شَهَادَةُ الزُّورِ إِشْرَاكًا بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ثَلَاثًا ثُمَّ ← قَامَ رَسُولُ اللَّهِ خَطِيبًا ← أيمن بن خريم ← فَاتِکِ بْنِ فَضَالَةَ ← سُفْيَانَ بْنِ زِيَادٍ، ← مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19109

chevron_left Previous
1…707172…146
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter