Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18606

حَدَّثَنَا يُونُسُ وَسُرَيْجٌ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ سُرَيْجٌ فِي حَدِيثِهِ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ كَمَثَلِ الْجَسَدِ إِذَا أَلِمَ بَعْضُهُ تَدَاعَى سَائِرُهُ

حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مؤمن کی مثال جسم کی سی ہے کہ اگر انسان کے سر کو تکلیف ہوتی ہے توسارے جسم کو تکلیف کا احساس ہوتا ہے۔

النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← حَمَّادٌ، ← يُونُسُ وَسُرَيْجٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18606

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18607

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ مَعْقِلِ بْنِ مُنَبِّهٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ يَعْنِي ابْنَ مَعْقِلٍ قَالَ سَمِعْتُ وَهْبًا يَقُولُ حَدَّثَنِي النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ الرَّقِيمَ فَقَالَ إِنَّ ثَلَاثَةً كَانُوا فِي كَهْفٍ فَوَقَعَ الْجَبَلُ عَلَى بَابِ الْكَهْفِ فَأُوصِدَ عَلَيْهِمْ قَالَ قَائِلٌ مِنْهُمْ تَذَاكَرُوا أَيُّكُمْ عَمِلَ حَسَنَةً لَعَلَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بِرَحْمَتِهِ يَرْحَمُنَا فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ قَدْ عَمِلْتُ حَسَنَةً مَرَّةً كَانَ لِي أُجَرَاءُ يَعْمَلُونَ فَجَاءَنِي عُمَّالٌ لِي فَاسْتَأْجَرْتُ كُلَّ رَجُلٍ مِنْهُمْ بِأَجْرٍ مَعْلُومٍ فَجَاءَنِي رَجُلٌ ذَاتَ يَوْمٍ وَسَطَ النَّهَارِ فَاسْتَأْجَرْتُهُ بِشَطْرِ أَصْحَابِهِ فَعَمِلَ فِي بَقِيَّةِ نَهَارِهِ كَمَا عَمِلَ كُلُّ رَجُلٍ مِنْهُمْ فِي نَهَارِهِ كُلِّهِ فَرَأَيْتُ عَلَيَّ فِي الزِّمَامِ أَنْ لَا أُنْقِصَهُ مِمَّا اسْتَأْجَرْتُ بِهِ أَصْحَابَهُ لِمَا جَهِدَ فِي عَمَلِهِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ أَتُعْطِي هَذَا مِثْلَ مَا أَعْطَيْتَنِي وَلَمْ يَعْمَلْ إِلَّا نِصْفَ نَهَارٍ فَقُلْتُ يَا عَبْدَ اللَّهِ لَمْ أَبْخَسْكَ شَيْئًا مِنْ شَرْطِكَ وَإِنَّمَا هُوَ مَالِي أَحْكُمُ فِيهِ مَا شِئْتُ قَالَ فَغَضِبَ وَذَهَبَ وَتَرَكَ أَجْرَهُ قَالَ فَوَضَعْتُ حَقَّهُ فِي جَانِبٍ مِنْ الْبَيْتِ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ مَرَّتْ بِي بَعْدَ ذَلِكَ بَقَرٌ فَاشْتَرَيْتُ بِهِ فَصِيلَةً مِنْ الْبَقَرِ فَبَلَغَتْ مَا شَاءَ اللَّهُ فَمَرَّ بِي بَعْدَ حِينٍ شَيْخًا ضَعِيفًا لَا أَعْرِفُهُ فَقَالَ إِنَّ لِي عِنْدَكَ حَقًّا فَذَكَّرَنِيهِ حَتَّى عَرَفْتُهُ فَقُلْتُ إِيَّاكَ أَبْغِي هَذَا حَقُّكَ فَعَرَضْتُهَا عَلَيْهِ جَمِيعَهَا فَقَالَ يَا عَبْدَ اللَّهِ لَا تَسْخَرْ بِي إِنْ لَمْ تَصَدَّقْ عَلَيَّ فَأَعْطِنِي حَقِّي قَالَ وَاللَّهِ لَا أَسْخَرُ بِكَ إِنَّهَا لَحَقُّكَ مَا لِي مِنْهَا شَيْءٌ فَدَفَعْتُهَا إِلَيْهِ جَمِيعًا اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتُ فَعَلْتُ ذَلِكَ لِوَجْهِكَ فَافْرُجْ عَنَّا قَالَ فَانْصَدَعَ الْجَبَلُ حَتَّى رَأَوْا مِنْهُ وَأَبْصَرُوا قَالَ الْآخَرُ قَدْ عَمِلْتُ حَسَنَةً مَرَّةً كَانَ لِي فَضْلٌ فَأَصَابَتْ النَّاسَ شِدَّةٌ فَجَاءَتْنِي امْرَأَةٌ تَطْلُبُ مِنِّي مَعْرُوفًا قَالَ فَقُلْتُ وَاللَّهِ مَا هُوَ دُونَ نَفْسِكِ فَأَبَتْ عَلَيَّ فَذَهَبَتْ ثُمَّ رَجَعَتْ فَذَكَّرَتْنِي بِاللَّهِ فَأَبَيْتُ عَلَيْهَا وَقُلْتُ لَا وَاللَّهِ مَا هُوَ دُونَ نَفْسِكِ فَأَبَتْ عَلَيَّ وَذَهَبَتْ فَذَكَرَتْ لِزَوْجِهَا فَقَالَ لَهَا أَعْطِيهِ نَفْسَكِ وَأَغْنِي عِيَالَكِ فَرَجَعَتْ إِلَيَّ فَنَاشَدَتْنِي بِاللَّهِ فَأَبَيْتُ عَلَيْهَا وَقُلْتُ وَاللَّهِ مَا هُوَ دُونَ نَفْسِكِ فَلَمَّا رَأَتْ ذَلِكَ أَسْلَمَتْ إِلَيَّ نَفْسَهَا فَلَمَّا تَكَشَّفْتُهَا وَهَمَمْتُ بِهَا ارْتَعَدَتْ مِنْ تَحْتِي فَقُلْتُ لَهَا مَا شَأْنُكِ قَالَتْ أَخَافُ اللَّهَ رَبَّ الْعَالَمِينَ قُلْتُ لَهَا خِفْتِيهِ فِي الشِّدَّةِ وَلَمْ أَخَفْهُ فِي الرَّجَاءِ فَتَرَكْتُهَا وَأَعْطَيْتُهَا مَا يَحِقُّ عَلَيَّ بِمَا تَكَشَّفْتُهَا اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتُ فَعَلْتُ ذَلِكَ لِوَجْهِكَ فَافْرُجْ عَنَّا قَالَ فَانْصَدَعَ حَتَّى عَرَفُوا وَتَبَيَّنَ لَهُمْ قَالَ الْآخَرُ عَمِلْتُ حَسَنَةً مَرَّةً كَانَ لِي أَبَوَانِ شَيْخَانِ كَبِيرَانِ وَكَانَتْ لِي غَنَمٌ فَكُنْتُ أُطْعِمُ أَبَوَيَّ وَأَسْقِيهِمَا ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى غَنَمِي قَالَ فَأَصَابَنِي يَوْمًا غَيْثٌ حَبَسَنِي فَلَمْ أَبْرَحْ حَتَّى أَمْسَيْتُ فَأَتَيْتُ أَهْلِي وَأَخَذْتُ مِحْلَبِي فَحَلَبْتُ وَغَنَمِي قَائِمَةٌ فَمَضَيْتُ إِلَى أَبَوَيَّ فَوَجَدْتُهُمَا قَدْ نَامَا فَشَقَّ عَلَيَّ أَنْ أُوقِظَهُمَا وَشَقَّ عَلَيَّ أَنْ أَتْرُكَ غَنَمِي فَمَا بَرِحْتُ جَالِسًا وَمِحْلَبِي عَلَى يَدِي حَتَّى أَيْقَظَهُمَا الصُّبْحُ فَسَقَيْتُهُمَا اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتُ فَعَلْتُ ذَلِكَ لِوَجْهِكَ فَافْرُجْ عَنَّا قَالَ النُّعْمَانُ لَكَأَنِّي أَسْمَعُ هَذِهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْجَبَلُ طَاقْ فَفَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُمْ فَخَرَجُوا

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا گزشتہ زمانہ میں تین آدمی جارہے تھے راستے میں بارش شروع ہوگئی یہ تینوں پہاڑ کے ایک غار میں پناہ گزین ہوئے اوپر سے ایک پتھر آکر دروازہ پر گرا اور غار کا دروازہ بند ہوگیا یہ لوگ آپس میں ایک دوسرے سے کہنے لگے اللہ کی قسم تمہاری یہاں سے رہائی بغیر سچائی کے اظہار کے نہیں ہوسکتی لہٰذا جس شخص نے اپنی دانست میں جو کوئی سچائی کا کام کیا ہو اس کو پیش کرکے خداسے دعا کرے۔ مشورہ طے ہونے کے بعد ایک شخص بولا میں نے ایک مرتبہ ایک نیکی کی تھی میرے یہاں کچھ مزودر کام کررہے تھے، میں نے ان میں سے ہر ایک کو طے شدہ مزدوری پر رکھا ہوا تھا ایک دن ایک مزدور نصف النہار کے وقت میرے پاس آیا میں نے اسے اسی مزدوری پر رکھ لیا جس پر صبح سے کام کرنے والوں کو رکھا تھا چنانچہ وہ دوسرے مزدوروں کی طرح باقی دن کام کرتا رہاجب مزدوری دینے کا وقت آیا تو ان میں سے ایک آدمی کہنے لگا کہ اس نے مزدوری تونصف النہار سے کی ہے اور آپ اسے اجرت اتنی ہی دے رہے ہیں جتنی مجھے دی ہے ؟ میں نے اس سے کہا اللہ کے بندے ! میں نے تمہارے حق میں تو کوئی کمی نہیں کی آگے یہ میرا مال ہے میں جو چاہوں فیصلہ کروں اس پر وہ ناراض ہوگیا اور اپنی مزدوری بھی چھوڑ کر چلا گیا میں نے اس کا حق اٹھا کر گھرکے ایک کونے میں رکھ دیا کچھ عرصے بعد میرے پاس سے ایک گائے گذری میں نے ان پیسوں سے گائے کا بچہ خرید لیا جو بڑھتے بڑھتے پورا ریوڑ بن گیا کچھ عرصے بعد وہ انتہائی بوڑھا ہوگیا تو وہ شخص اپنی مزدوری مانگتا ہوا میرے پاس آیا میں نے کہا یہ گائے بیل لے جا وہ کہنے لگا میرے ساتھ مذاق نہ کر، میرا حق مجھے دے دے میں نے جواب دیا میں تمہارے ساتھ مذاق نہیں کر رہا، یہ تمہارا حق ہے یہ گائے بیل لے جا، الہٰی! اگر تیری دانست میں میں نے یہ فعل صرف تیرے خوف سے کیا ہے تو ہم سے یہ مصیبت دور فرمادے چنانچہ اس کی دعاکی برکت سے پتھر کسی قد رکھل گیا۔ دوسرا شخص بولا الہٰی !تو واقف ہے کہ ایک عورت جو میری نظر میں سب سے زیادہ محبوب تھی میں نے بہلا کر اس سے کار برآری کرنا چاہی لیکن اس نے بغیر سو دینار لئے (وصل سے) انکار کردیا میں نے کوشش کرکے سو دینارحاصل کئے اور جب وہ میرے قبضہ میں آگئے تو میں نے لے جا کر اس کودے دیئے اس نے اپنے نفس کو میرے قبضہ میں دے دیا جب میں اس کی ٹانگوں کے درمیان بیٹھا تو وہ کہنے لگی اللہ کاخوف کر اور بغیرحق کے مہر نہ توڑ، میں توفوراً اٹھ کھڑا ہو اور سو دینار بھی چھوڑ دئیے ، الہٰی ! اگر میرا یہ فعل صرف تیرے خوف کی وجہ سے تھا تو یہ مصیبت ہم سے دور کردے چنانچہ وہ پتھر مزید ہٹ گیا اور وہ باہر کی چیزیں دیکھنے لگے ۔ تیسرا شخص کہنے لگا الہٰی! تو واقف ہے کہ میرے والدین بہت بوڑھے تھے میں ان کو روزانہ شام کو اپنی بکریوں کا دودھ (دوہ کر) دیا کرتا تھا ایک روزمجھے (جنگل سے آنے میں ) دیر ہوگئی جس وقت میں آیا تو وہ سوچکے تھے اور میری بیوی بچے بھوک کی وجہ سے چلارہے تھے لیکن میرا قاعدہ تھا کہ جب تک میرے ماں باپ نہ پی لیتے تھے میں ان کو نہ پلاتا تھا (اس لئے بڑاحیران ہوا) ' نہ تو ان کو بیدار کرنامناسب معلوم ہوا نہ یہ کچھ اچھا معلوم ہوا کہ ان کو ایسے ہی چھوڑ دوں کہ (نہ کھانے سے ) ان کو کمزوری ہوجائے اور صبح تک میں ان کی (آنکھ کھلنے کے ) انتظار میں (کھڑا) رہا الہٰی! اگر تیری دانست میں میرایہ فعل تیرے خوف کی وجہ سے تھا توہم سے اس مصیبت کو دور فرمادے فوراًپتھرکھل گیا اور آسمان ان کو نظر آنے لگا اور وہ باہر نکل آئے۔

النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← وَهْبًا ← عَبْدُ الصَّمَدِ يَعْنِي ابْنَ مَعْقِلٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ مَعْقِلِ بْنِ مُنَبِّهٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18607

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18608

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي فَرْوَةَ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَلَالٌ بَيِّنٌ وَحَرَامٌ بَيِّنٌ وَبَيْنَ ذَلِكَ أُمُورٌ مُشْتَبِهَةٌ فَمَنْ تَرَكَ مَا اشْتَبَهَ عَلَيْهِ مِنْ الْإِثْمِ أَوْ الْأَمْرِ فَهُوَ لِمَا اسْتَبَانَ لَهُ أَتْرَكُ وَمَنْ اجْتَرَأَ عَلَى مَا شَكَّ أَوْشَكَ أَنْ يُوَاقِعَ مَا اسْتَبَانَ وَمَنْ يَرْتَعْ حَوْلَ الْحِمَى يُوشِكْ أَنْ يُوَاقِعَهُ

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے ان دونوں کے درمیان جو کچھ ہے وہ متشابہات ہیں جو شخص ان متشابہات کو چھوڑ دے گا وہ حرام کو بآسانی چھوڑ سکے گا اور اللہ کے محرمات اس کی چراگاہیں ہیں اور جو شخص چراگاہ کے آس پاس اپنے جانوروں کو چراتا ہے اندیشہ ہوتا ہے کہ وہ چراگاہ میں گھس جائے۔

النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← الشَّعْبِيِّ، ← أَبِي فَرْوَةَ ← سُفْيَانَ، ← مُؤَمَّلٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18608

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18609

حَدَّثَنَا سُرَيجُ بْنُ النُّعْمَانِ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ حَاجِبِ بْنِ الْمُفَضَّلِ يَعْنِي ابْنَ الْمُهَلَّبِ بْنِ أَبِي صُفْرَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْدِلُوا بَيْنَ أَبْنَائِكُمْ

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے بچوں کے درمیان عدل کیا کرو۔

النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← أَبِيهِ ← حَاجِبِ بْنِ الْمُفَضَّلِ يَعْنِي ابْنَ الْمُهَلَّبِ بْنِ أَبِي صُفْرَةَ ← حَمَّادٌ -يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ-، ← سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18609

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18610

قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ حَدَّثَنِي الْقَوَارِيرِيُّ وَالْمُقَدَّمِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ حَاجِبِ بْنِ الْمُفَضَّلِ يَعْنِي ابْنَ الْمُهَلَّبِ بْنِ أَبِي صُفْرَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْدِلُوا بَيْنَ أَبْنَائِكُمْ

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے بچوں کے درمیان عدل کیا کرو۔

النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← أَبِيهِ ← حَاجِبِ بْنِ الْمُفَضَّلِ يَعْنِي ابْنَ الْمُهَلَّبِ بْنِ أَبِي صُفْرَةَ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← الْقَوَارِيرِيُّ وَالْمُقَدَّمِيُّ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18610

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18611

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا الْعِيزَارُ بْنُ حُرَيْثٍ قَالَ قَالَ النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ قَالَ اسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعَ صَوْتَ عَائِشَةَ عَالِيًا وَهِيَ تَقُولُ وَاللَّهِ لَقَدْ عَرَفْتُ أَنَّ عَلِيًّا أَحَبُّ إِلَيْكَ مِنْ أَبِي وَمِنِّي مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا فَاسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ فَدَخَلَ فَأَهْوَى إِلَيْهَا فَقَالَ يَا بِنْتَ فُلَانَةَ أَلَا أَسْمَعُكِ تَرْفَعِينَ صَوْتَكِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اندر آنے کی اجازت طلب کرنے لگے اسی دوران حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی اونچی ہوتی ہوئی آوازان کے کانوں میں پہنچی، اجازت ملنے پر جب وہ اندر داخل ہوئے تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو پکڑ لیا اور فرمایا اسے بنت رومان! کیا تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی آواز بلند کرتی ہو؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے درمیان میں آکر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو بچالیا۔

«اسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ← النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← الْعَيْزَارِ بْنِ حُرَيْثٍ ← يُونُسَ ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18611

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18612

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ حَاجِبِ بْنِ الْمُفَضَّلِ بْنِ الْمُهَلَّبِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يَخْطُبُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْدِلُوا بَيْنَ أَبْنَائِكُمْ اعْدِلُوا بَيْنَ أَبْنَائِكُمْ

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے بچوں کے درمیان عدل کیا کرو۔

النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يَخْطُبُ ← أَبِيهِ ← حَاجِبِ بْنِ الْمُفَضَّلِ بْنِ الْمُهَلَّبِ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18612

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18613

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ يَعْنِي الْحَرَّانِيَّ قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ سِمَاكٍ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ لَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ مِنْ رَجُلٍ كَانَ فِي سَفَرٍ فِي فَلَاةٍ مِنْ الْأَرْضِ فَآوَى إِلَى ظِلِّ شَجَرَةٍ فَنَامَ تَحْتَهَا فَاسْتَيْقَظَ فَلَمْ يَجِدْ رَاحِلَتَهُ فَأَتَى شَرَفًا فَصَعِدَ عَلَيْهِ فَأَشْرَفَ فَلَمْ يَرَ شَيْئًا ثُمَّ أَتَى آخَرَ فَأَشْرَفَ فَلَمْ يَرَ شَيْئًا فَقَالَ أَرْجِعُ إِلَى مَكَانِي الَّذِي كُنْتُ فِيهِ فَأَكُونُ فِيهِ حَتَّى أَمُوتَ قَالَ فَذَهَبَ فَإِذَا بِرَاحِلَتِهِ تَجُرُّ خِطَامَهَا قَالَ فَاللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ مِنْ هَذَا بِرَاحِلَتِهِ

حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے غالباً مرفوعاً مروی ہے کہ ایک آدمی کسی جنگل کے راستے سفر پر روانہ ہواراستے میں وہ ایک درخت کے نیچے قیلولہ کرے اس کے ساتھ اس کی سواری بھی ہو جس پر کھانے پینے کا سامان رکھا ہوا ہو وہ آدمی جب سو کر اٹھے تو اسے اپنی سواری نظر نہ آئے وہ ایک بلند ٹیلے پر چڑھ کر دیکھے لیکن سواری نظر نہ آئے پھر دوسرے ٹیلے پر چڑھے لیکن سواری نظر نہ آئے پھر پیچھے مڑ کر دیکھے تواچانک اسے اپنی سواری نظر آجائے جو اپنی لگام گھسیٹتی چلی جارہی ہو تو وہ کتنا خوش ہوگا لیکن اس کی یہ خوشی اللہ کی اس خوشی سے زیادہ نہیں ہوتی جب بندہ اللہ کے سامنے توبہ کرتا ہے اور اللہ خوش ہوتا ہے۔

النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← سِمَاكٍ، ← شَرِيکٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ يَعْنِي الْحَرَّانِيَّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18613

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18614

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا جَابِرٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَازِبٍ قَالَ دَخَلْنَا عَلَى النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ فِي شَهَادَةٍ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ كُلُّ شَيْءٍ خَطَأٌ إِلَّا السَّيْفَ وَفِي كُلِّ خَطَإٍ أَرْشٌ

حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر چیز کی ایک خطا ہوتی ہے سوائے تلوار کے اور ہر خطا کا تاوان ہوتا ہے۔

دَخَلْنَا عَلَى النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ فِي شَهَادَةٍ فَسَمِعْتُهُ ← أَبُو عَازِبٍ ← جَابِرٍ ← زُهَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18614

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18615

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ وَهُوَ الْعَطَّارُ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ عُرْفُطَةَ عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ أَنَّ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حُنَيْنٍ وَكَانَ يُنْبَزُ قُرْقُورًا وَقَعَ عَلَى جَارِيَةِ امْرَأَتِهِ قَالَ فَرُفِعَ إِلَى النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ الْأَنْصَارِيِّ فَقَالَ لَأَقْضِيَنَّ فِيكَ بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ كَانَتْ أَحَلَّتْهَا لَكَ جَلَدْتُكَ مِائَةً وَإِنْ لَمْ تَكُنْ أَحَلَّتْهَا لَكَ رَجَمْتُكَ بِالْحِجَارَةِ قَالَ وَكَانَتْ قَدْ أَحَلَّتْهَا لَهُ فَجَلَدَهُ مِائَةً

حبیب بن سالم رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت نعمان رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی کو لایا گیا جس کی بیوی نے اپنی باندی سے فائدہ اٹھانا اپنے شوہر کے لئے حلال کردیا تھا ، انہوں نے فرمایا کہ میں اس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم والا فیصلہ ہی کروں گا، اگر اس کی بیوی نے اسے اپنی باندی سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دی ہوگی تو میں اسے سو کوڑے لگاؤں گا اور اگر اجازت نہ دی ہو تو میں اسے رجم کردوں گا معلوم ہوا کہ اس کی بیوی نے اجازت دے رکھی تھی اس لئے انہوں نے اسے سو کوڑے لگائے ۔

النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، ← خَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ ← قَتَادَةَ ← أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ وَهُوَ الْعَطَّارُ ← بَهْزٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18615

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18616

وَقَالَ سَمِعْتُ أَبَانًا يَقُولُ وَأَخْبَرَنَا قَتَادَةُ أَنَّهُ كَتَبَ فِيهِ إِلَى حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ وَكَتَبَ إِلَيْهِ بِهَذَا

حبیب بن سالم رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت نعمان رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی کو لایا گیا جس کی بیوی نے اپنی باندی سے فائدہ اٹھانا اپنے شوہر کے لئے حلال کردیا تھا ، انہوں نے فرمایا کہ میں اس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم والا فیصلہ ہی کروں گا، اگر اس کی بیوی نے اسے اپنی باندی سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دی ہوگی تو میں اسے سو کوڑے لگاؤں گا اور اگر اجازت نہ دی ہو تو میں اسے رجم کردوں گا معلوم ہوا کہ اس کی بیوی نے اجازت دے رکھی تھی اس لئے انہوں نے اسے سو کوڑے لگائے ۔

فِيهِ إِلَى حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ وَكَتَبَ إِلَيْهِ بِهَذَا ← وَأَخْبَرَنَا قَتَادَةُ أَنَّهُ ← أَبَانًا ← وَقَالَ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18616

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18617

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبَانُ الْعَطَّارُ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ خَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ وَقَالَ أَبَانُ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ أَنَّهُ كَتَبَ إِلَى حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ فِيهِ فَكَتَبَ إِلَيْهِ أَنَّ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حُنَيْنٍ كَانَ يُنْبَزُ قُرْقُورًا رُفِعَ إِلَى النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ وَطِئَ جَارِيَةَ امْرَأَتِهِ فَقَالَ لَأَقْضِيَنَّ فِيكَ بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ كَانَتْ أَحَلَّتْهَا لَكَ جَلَدْتُكَ مِائَةً وَإِنْ لَمْ تَكُنْ أَحَلَّتْهَا لَكَ رَجَمْتُكَ فَوَجَدَهَا قَدْ أَحَلَّتْهَا لَهُ فَجَلَدَهُ مِائَةً

حبیب بن سالم رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت نعمان رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی کو لایا گیا جس کی بیوی نے اپنی باندی سے فائدہ اٹھانا اپنے شوہر کے لئے حلال کردیا تھا ، انہوں نے فرمایا کہ میں اس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم والا فیصلہ ہی کروں گا، اگر اس کی بیوی نے اسے اپنی باندی سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دی ہوگی تو میں اسے سو کوڑے لگاؤں گا اور اگر اجازت نہ دی ہو تو میں اسے رجم کردوں گا معلوم ہوا کہ اس کی بیوی نے اجازت دے رکھی تھی اس لئے انہوں نے اسے سو کوڑے لگائے ۔

إلى حبيب بن سالم فيه ← قَتَادَةَ أَنَّهُ ← أَبَانُ، ← حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، ← خَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ ← قَتَادَةَ ← أَبَانُ الْعَطَّارُ ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18617

chevron_left Previous
1…293031…146
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter