Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18546

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ يَقُولُ عَلَى مِنْبَرِ الْكُوفَةِ وَاللَّهِ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ نَبِيُّكُمْ عَلَيْهِ السَّلَام يَشْبَعُ مِنْ الدَّقَلِ وَمَا تَرْضَوْنَ دُونَ أَلْوَانِ التَّمْرِ وَالزُّبْدِ

سماک بن حرب رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کو کوفہ کے منبر پر یہ کہتے ہوئے سنا اللہ کی قسم ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو ایک ایک مہینہ تک کبھی ردی کھجور سے اپنا پیٹ نہیں بھرا اور تم لوگ کھجور اور مکھن کے رنگوں پر ہی راضی ہو کر نہیں دیتے۔

نَبِيُّكُمْ يَشْبَعُ مِنْ الدَّقَلِ وَمَا تَرْضَوْنَ دُونَ أَلْوَانِ التَّمْرِ وَالزُّبْدِ ← عَلَى مِنْبَرِ الْكُوفَةِ وَاللَّهِ مَا كَانَ النَّبِيُّ أَوْ ← النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← زُهَيْرٍ ← أَبُو کَامِلٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18546

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18547

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكٍ أَنَّهُ سَمِعَ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يَخْطُبُ وَهُوَ يَقُولُ أَحْمَدُ اللَّهَ تَعَالَى فَرُبَّمَا أَتَى عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشَّهْرُ يَظَلُّ يَتَلَوَّى مَا يَشْبَعُ مِنْ الدَّقَلِ

سماک بن حرب رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کو کوفہ کے منبر پر یہ کہتے ہوئے سنا اللہ کی قسم ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو ایک ایک مہینہ تک کبھی ردی کھجور سے اپنا پیٹ نہیں بھرا۔

النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، يَخْطُبُ وَهُوَ ← سماك أنه ← اِسْرَائِیْلُ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18547

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18548

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ ذَهَبَ أَبِي بَشِيرُ بْنُ سَعْدٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُشْهِدَهُ عَلَى نُحْلٍ نَحَلَنِيهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكُلَّ بَنِيكَ نَحَلْتَ مِثْلَ هَذَا قَالَ لَا قَالَ فَأَرْجِعْهَا

حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے والدنے انہیں کوئی تحفہ دیا ان سے میری والدہ نے کہا کہ اس عطیے پر میرے بیٹے کے لئے کسی کو گواہ بنالو میرے والد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس معاملے کا ذکر کردیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کیا تم نے اپنے سارے بیٹوں کو بھی اسی طرح دے دیاہے جیسے اسے دیاہے ؟ انہوں نے کہا نہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واپس چلے جاؤ۔

فَأَرْجِعْهَا ← لَا۔ ← النَّبِيُّ أَكُلَّ بَنِيكَ نَحَلْتَ مِثْلَ هَذَا ← ذَهَبَ أَبِي بَشِيرُ بْنُ سَعْدٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ لِيُشْهِدَهُ عَلَى نُحْلٍ نَحَلَنِيهِ ← النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18548

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18549

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا فِطْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو الضُّحَى قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يَقُولُ انْطَلَقَ بِي أَبِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي يُشْهِدُهُ عَلَى عَطِيَّةٍ يُعْطِينِيهَا فَقَالَ هَلْ لَكَ وَلَدٌ غَيْرُهُ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَسَوِّ بَيْنَهُمْ

حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے والدنے انہیں کوئی تحفہ دیا اور اس پر گواہ بنانے کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس معاملے کا ذکر کردیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کیا اس کے علاوہ بھی تمہارے بچے ہیں ؟ انہوں نے کہا جی ہاں ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر سب کو برابر برابر دو۔

فَسَوِّ بَيْنَهُمْ ← نَعَمْ ← «هَلْ لَكَ، وَلَدٌ غَيْرَهُ؟ ← انْطَلَقَ بِي أَبِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ يَعْنِي يُشْهِدُهُ عَلَى عَطِيَّةٍ يُعْطِينِيهَا ← النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← أَبُو الضُّحَی ← فِطْرٍ ← أَبُو أَحْمَدَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18549

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18550

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ سِمَاكٍ قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ يَخْطُبُ وَعَلَيْهِ خَمِيصَةٌ لَهُ فَقَالَ لَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ وَهُوَ يَقُولُ أَنْذَرْتُكُمْ النَّارَ فَلَوْ أَنَّ رَجُلًا مَوْضِعَ كَذَا وَكَذَا سَمِعَ صَوْتَهُ

سماک رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت نعمان رضی اللہ عنہ کوچادراوڑھے ہوئے خطاب کے دوران یہ کہتے ہوئے سناکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ دیتے ہوئے سناکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے میں نے تمہیں جہنم سے ڈرا دیا ہے اگر کوئی شخص اتنی اتنی مسافت پر ہوتا تب بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز کو سن لیتا۔

صَوْتَهُ، ← أَنْذَرْتُكُمْ النَّارَ فَلَوْ أَنَّ رَجُلًا مَوْضِعَ كَذَا وَكَذَا ← رَسُولَ اللَّهِ يَخْطُبُ وَهُوَ ← النُّعْمَانَ يَخْطُبُ وَعَلَيْهِ خَمِيصَةٌ لَهُ فَقَالَ لَقَدْ ← سِمَاكٍ، ← شُعْبَةُ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18550

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18551

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الْقَائِمِ عَلَى حُدُودِ اللَّهِ تَعَالَى وَالْمُدَّهِنِ فِيهَا كَمَثَلِ قَوْمٍ اسْتَهَمُوا عَلَى سَفِينَةٍ فِي الْبَحْرِ فَأَصَابَ بَعْضُهُمْ أَسْفَلَهَا وَأَصَابَ بَعْضُهُمْ أَعْلَاهَا فَكَانَ الَّذِينَ فِي أَسْفَلِهَا يَصْعَدُونَ فَيَسْتَقُونَ الْمَاءَ فَيَصُبُّونَ عَلَى الَّذِينَ فِي أَعْلَاهَا فَقَالَ الَّذِينَ فِي أَعْلَاهَا لَا نَدَعُكُمْ تَصْعَدُونَ فَتُؤْذُونَنَا فَقَالَ الَّذِينَ فِي أَسْفَلِهَا فَإِنَّنَا نَنْقُبُهَا مِنْ أَسْفَلِهَا فَنَسْتَقِي قَالَ فَإِنْ أَخَذُوا عَلَى أَيْدِيهِمْ فَمَنَعُوهُمْ نَجَوْا جَمِيعًا وَإِنْ تَرَكُوهُمْ غَرِقُوا جَمِيعًا

حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا حدود اللہ کو قائم کرنے والے اور اس میں مداہنت برتنے والوں کی مثال اس قوم کی سی ہے جو کسی سمندری سفر پر روانہ ہو کچھ لوگ نچلے حصے میں بیٹھ جائیں اور کچھ لوگ اوپر والے حصے میں بیٹھ جائیں نچلے حصے والے اوپر چڑھ کر جاتے ہوں ، وہاں سے پانی لاتے ہوں جس میں سے تھوڑا بہت پانی اوپروالوں پر بھی گرجاتا ہو جیسے دیکھ کر اوپر والے کہیں کہ اب ہم تمہیں اوپر نہیں چڑھنے دیں گے تم ہمیں تکلیف دیتے ہو نیچے والے اس کا جواب دیں کہ ٹھیک ہے پھر ہم کشتی کے نیچے سوراخ کرکے وہاں سے پانی حاصل کرلیں گے اب اگر اوپر والے ان کا ہاتھ پکڑ لیں اور انہیں اس سے باز رکھیں تو سب ہی بچ جائیں گے ورنہ سب ہی غرق ہوجائیں گے۔

النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← الشَّعْبِيِّ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18551

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18552

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا مُوسَى يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ الطَّحَّانَ عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ أَوْ عَنْ أَخِيهِ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِينَ يَذْكُرُونَ مِنْ جَلَالِ اللَّهِ مِنْ تَسْبِيحِهِ وَتَحْمِيدِهِ وَتَكْبِيرِهِ وَتَهْلِيلِهِ يَتَعَاطَفْنَ حَوْلَ الْعَرْشِ لَهُنَّ دَوِيٌّ كَدَوِيِّ النَّحْلِ يُذَكِّرُونَ بِصَاحِبِهِنَّ أَلَا يُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ لَا يَزَالَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ شَيْءٌ يُذَكِّرُ بِهِ

حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو لوگ اللہ کے جلال کی وجہ سے اس کی تسبیح و تحمید اور تکبیر و تہلیل کے ذریعے اس کا ذکر کرتے ہیں تو ان کے یہ کلمات تسبیح عرش کے گرد گھومتے رہتے ہیں اور مکھیوں جیسی بھنبھناہٹ ان سے نکلتی رہتی ہے اور وہ ذاکر کا ذکر کرتے رہتے ہیں کیا تم میں سے کوئی شخص اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ ایک چیز مسلسل اللہ کے یہاں اس کا ذکر کرتی رہے۔

النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← أَخِيهِ ← أَبِيهِ أَوْ ← عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← مُوسَى يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ الطَّحَّانَ ← ابْنِ نُمَيْرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18552

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18553

حَدَّثَنَا يَعْلَى أَخْبَرَنَا أَبُو حَيَّانَ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ سَأَلَتْ أُمِّي أَبِي بَعْضَ الْمَوْهِبَةِ لِي فَوَهَبَهَا لِي فَقَالَتْ لَا أَرْضَى حَتَّى تُشْهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَخَذَ أَبِي بِيَدِي وَأَنَا غُلَامٌ وَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمَّ هَذَا ابْنَةَ رَوَاحَةَ زَاوَلَتْنِي عَلَى بَعْضِ الْمَوْهِبَةِ لَهُ وَإِنِّي قَدْ وَهَبْتُهَا لَهُ وَقَدْ أَعْجَبَهَا أَنْ أُشْهِدَكَ قَالَ يَا بَشِيْرُ أَلَكَ ابْنٌ غَيْرُ هَذَا قَالَ نَعَمْ قَالَ قَالَ فَوَهَبْتَ لَهُ مِثْلَ الَّذِي وَهَبْتَ لِهَذَا قَالَ لَا قَالَ فَلَا تُشْهِدْنِي إِذًا فَإِنِّي لَا أَشْهَدُ عَلَى جَوْرٍ

حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میری والدہ نے میرے والد سے مجھے کوئی چیز ہبہ کرنے کے لئے کہا انہوں نے وہ چیز مجھے ہبہ کردی ، وہ کہنے لگیں کہ میں اس وقت تک مطمئن نہیں ہوسکتی جب تک تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پر گواہ نہیں بنالیتے میں اس وقت نوعمر تھا میرے والدنے میرا ہاتھ پکڑا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوگئے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کی والدہ بنت رواحہ نے مجھ سے مطالبہ کیا کہ میں اس بچے کو کوئی چیز ہبہ کردوں سو میں نے کردی وہ چاہتی ہے کہ میں آپ کو اس پر گواہ بناؤں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بشیر! کیا اس کے علاوہ بھی تمہارا کوئی بیٹا ہے ؟ انہوں نے کہا جی ہاں ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کیا تم نے اپنے سارے بیٹوں کو بھی اسی طرح دے دیا ہے جیسے اسے دیا ہے ؟ انہوں نے کہا نہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اس پر گواہ نہ بناؤ کیونکہ میں ظلم پر گواہ نہیں بن سکتا۔

غُلَامٌ وَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ ← فَأَخَذَ أَبِي بِيَدِي ← لا أرضى حتى تشهد رسول الله ← سألت أمي أبي بعض الموهبة لي فوهبها لي ← النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← الشَّعْبِيِّ، ← أَبُو حَيَّانَ، ← يعلى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18553

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18554

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ حَدَّثَنِي سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الصَّفِّ الْأَوَّلِ أَوْ الصُّفُوفِ الْأُوَلِ

حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سناہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے صف اول میں شامل ہونے والوں پر صلوٰۃ پڑھتے ہیں (اللہ تعالیٰ دعاء قبول فرماتے ہیں اور فرشتے ان کے لئے رحمت کی دعاء کرتے ہیں )

إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الصَّفِّ الْأَوَّلِ أَوْ الصُّفُوفِ الْأُوَلِ ← النَّبِيِّ ← النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18554

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18555

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ انْكَسَفَتْ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ فَكَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَيَسْأَلُ وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَيَسْأَلُ حَتَّى انْجَلَتْ فَقَالَ إِنَّ رِجَالًا يَزْعُمُونَ أَنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ إِذَا انْكَسَفَ وَاحِدٌ مِنْهُمَا فَإِنَّمَا يَنْكَسِفُ لِمَوْتِ عَظِيمٍ مِنْ الْعُظَمَاءِ وَلَيْسَ كَذَلِكَ وَلَكِنَّهُمَا خَلْقَانِ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَإِذَا تَجَلَّى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِشَيْءٍ مِنْ خَلْقِهِ خَشَعَ لَهُ

حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ایک مرتبہ سورج گرہن ہوگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعت نماز پڑھتے اور لوگوں سے صورت حال دریافت کرتے ، پھر دو رکعت پڑھتے اور صورت حال دریافت کرتے حتیٰ کہ سورج مکمل روشن ہوگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زمانہ جاہلیت میں لوگ کہتے ہیں کہ اگر چاند اور سورج میں سے کسی ایک کو گرہن لگ جائے تو وہ اہل زمین میں سے کسی بڑے آدمی کی موت کی وجہ سے ہوتا ہے حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں یہ دونوں تو اللہ کی مخلوق ہیں البتہ جب اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق پر اپنی تجلی ظاہر فرماتا ہے تو وہ اس کے سامنے جھک جاتی ہے۔

النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18555

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18556

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ دَاوُدَ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ حَمَلَنِي أَبِي بَشِيرُ بْنُ سَعْدٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اشْهَدْ أَنِّي قَدْ نَحَلْتُ النُّعْمَانَ كَذَا وَكَذَا شَيْئًا سَمَّاهُ قَالَ فَقَالَ أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَ مِثْلَ الَّذِي نَحَلْتَ النُّعْمَانَ قَالَ لَا قَالَ فَأَشْهِدْ غَيْرِي ثُمَّ قَالَ أَلَيْسَ يَسُرُّكَ أَنْ يَكُونُوا إِلَيْكَ فِي الْبِرِّ سَوَاءً قَالَ بَلَى قَالَ فَلَا إِذًا

حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میرے والد مجھے لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ اس بات پر گواہ بن جائیے کہ میں نے نعمان کو فلاں فلاں چیز بخش دی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کیا تم نے اپنے سارے بیٹوں کو بھی دے دیا ہے جسے اسے دیا ہے ؟ انہوں نے کہ نہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر کسی اور کو گواہ بنالو تھوڑی دیر بعد فرمایا کیا تمہیں یہ بات اچھی نہیں لگتی کہ حس سلوک میں یہ سب تمہارے ساتھ برابر ہوں ؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ اس طرح تو نہیں ہوگا۔

حَمَلَنِي أَبِي بَشِيرُ بْنُ سَعْدٍ إِلَى النَّبِيِّ فَقَالَ ← النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← الشَّعْبِيِّ، ← دَاوُدُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18556

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18557

قَالَ عَبْد اللَّهِ وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ كَتَبَ إِلَيَّ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو تَوْبَةَ يَعْنِي الْحَلَبِيَّ فَكَانَ فِي كِتَابِهِ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ عَنْ أَخِيهِ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ قَالَ حَدَّثَنِي النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ قَالَ كُنْتُ إِلَى جَانِبِ مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَجُلٌ مَا أُبَالِ أَنْ لَا أَعْمَلَ بَعْدَ الْإِسْلَامِ إِلَّا أَنْ أَسْقِيَ الْحَاجَّ وَقَالَ آخَرُ مَا أُبَالِ أَنْ لَا أَعْمَلَ عَمَلًا بَعْدَ الْإِسْلَامِ إِلَّا أَنْ أَعْمُرَ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ وَقَالَ آخَرُ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَفْضَلُ مِمَّا قُلْتُمْ فَزَجَرَهُمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فَقَالَ لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ عِنْدَ مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ وَلَكِنْ إِذَا صَلَّيْتُ الْجُمُعَةَ دَخَلْتُ فَاسْتَفْتَيْتُهُ فِيمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ أَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاجِّ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ كُلِّهَا

حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں منبر نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب بیٹھا ہوا تھا ایک صاحب کہنے لگے کہ اسلام لانے کے بعد مجھے کوئی پرواہ نہیں کہ میں کوئی عمل کروں الاّ یہ کہ حجاج کرام کو پانی پلاتا ہوں دوسرے نے کہا کہ میں مسجد حرام کو آباد کرتا ہوں لہٰذا اسلام لانے کے بعد مجھے کسی عمل کی کوئی پرواہ نہیں اور تیسرے نے کہا کہ تم نے جو باتیں بیان کی ہیں ان سب سے افضل جہاد ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں ڈانٹتے ہوئے فرمایا کہ منبر نبوی کے نزدیک اپنی آوازیں بلند نہ کرو وہ جمعہ کا دن تھا نماز کے بعد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوں گا اور اس مسئلے کے متعلق دریافت کروں گا جس میں تم اختلاف کر رہے ہو اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی کیا تم حاجیوں کو پانی پلانا اور مسجد حرام کو آباد و تعمیر کرنا اس شخص کے برابر قرار دیتے ہو جو اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان لاتاہے۔ "

النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← أَبَا سَلَّامٍ، ← اَخِیْہِ زَیْدِ بْنِ سَلَّامِ اَنَّہٗ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، ← إِلَيَّ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو تَوْبَةَ يَعْنِي الْحَلَبِيَّ فَكَانَ ← عَبْدُ اللَّهِ وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18557

chevron_left Previous
1…242526…146
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter