Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18510

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ ثَرْوَانَ بْنِ مِلْحَانَ قَالَ كُنَّا جُلُوسًا فِي الْمَسْجِدِ فَمَرَّ عَلَيْنَا عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ فَقُلْنَا لَهُ حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي الْفِتْنَةِ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَكُونُ بَعْدِي قَوْمٌ يَأْخُذُونَ الْمُلْكَ يَقْتُلُ عَلَيْهِ بَعْضُهُمْ بَعْضًا قَالَ قُلْنَا لَهُ لَوْ حَدَّثَنَا غَيْرُكَ مَا صَدَّقْنَاهُ قَالَ فَإِنَّهُ سَيَكُونُ

ثروان بن ملحان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ ہمارے پاس سے گذرے ہم نے ان سے درخواست کی کہ فتنوں کے حوالے سے آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے میرے بعد ایک ایسی قوم آئے گی جو اقتدار حاصل کرنے کے لئے ایک دوسرے کو قتل کردے گی ہم نے ان سے کہا کہ اگر آپ کے علاوہ کوئی اور شخص ہم سے یہ حدیث بیان کرتا تو ہم کبھی اس کی تصدیق نہ کرتے انہوں نے فرمایا ایسا ہو کر رہے گا۔

فَإِنَّهُ سَيَكُونُ ← غَيْرُكَ مَا صَدَّقْنَاهُ ← قُلْنَا لَهُ لَوْ ← يَكُونُ بَعْدِي قَوْمٌ يَأْخُذُونَ الْمُلْكَ يَقْتُلُ عَلَيْهِ بَعْضُهُمْ بَعْضًا ← رَسُولِ اللَّهِ ← فِي الْفِتْنَةِ فَقَالَ ← مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ← مَا ← كُنَّا جُلُوسًا فِي الْمَسْجِدِ فَمَرَّ عَلَيْنَا عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ فَقُلْنَا لَهُ ← ثروان بن ملحان ← سِمَاكٍ، ← اِسْرَائِیْلُ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18510

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18511

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ خُثَيْمٍ الْمُحَارِبِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ خُثَيْمٍ أَبِي يَزِيدَ عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ كُنْتُ أَنَا وَعَلِيٌّ رَفِيقَيْنِ فِي غَزْوَةِ ذَاتِ الْعُشَيْرَةِ فَلَمَّا نَزَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَقَامَ بِهَا رَأَيْنَا أُنَاسًا مِنْ بَنِي مُدْلِجٍ يَعْمَلُونَ فِي عَيْنٍ لَهُمْ فِي نَخْلٍ فَقَالَ لِي عَلِيٌّ يَا أَبَا الْيَقْظَانِ هَلْ لَكَ أَنْ تَأْتِيَ هَؤُلَاءِ فَنَنْظُرَ كَيْفَ يَعْمَلُونَ فَجِئْنَاهُمْ فَنَظَرْنَا إِلَى عَمَلِهِمْ سَاعَةً ثُمَّ غَشِيَنَا النَّوْمُ فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَعَلِيٌّ فَاضْطَجَعْنَا فِي صَوْرٍ مِنْ النَّخْلِ فِي دَقْعَاءَ مِنْ التُّرَابِ فَنِمْنَا فَوَاللَّهِ مَا أَهَبَّنَا إِلَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَرِّكُنَا بِرِجْلِهِ وَقَدْ تَتَرَّبْنَا مِنْ تِلْكَ الدَّقْعَاءِ فَيَوْمَئِذٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ يَا أَبَا تُرَابٍ لِمَا يُرَى عَلَيْهِ مِنْ التُّرَابِ قَالَ أَلَا أُحَدِّثُكُمَا بِأَشْقَى النَّاسِ رَجُلَيْنِ قُلْنَا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أُحَيْمِرُ ثَمُودَ الَّذِي عَقَرَ النَّاقَةَ وَالَّذِي يَضْرِبُكَ يَا عَلِيُّ عَلَى هَذِهِ يَعْنِي قَرْنَهُ حَتَّى تُبَلَّ مِنْهُ هَذِهِ يَعْنِي لِحْيَتَهُ

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ غزوہ ذات العشیرہ میں میں اور حضرت علی رضی اللہ عنہ رفیق سفر تھے، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مقام پر پڑاؤ ڈالا اور وہاں قیام فرمایا تو ہم نے بنی مدلج کے کچھ لوگوں کو دیکھا جو اپنے باغات کے چشموں میں کام کر رہے تھے حضرت علی رضی اللہ عنہ مجھ سے کہنے لگے اے ابوالیقظان ! آؤ، ان لوگوں کے پاس چل کر دیکھتے ہیں کہ یہ کس طرح کام کرتے ہیں ؟چنانچہ ہم ان کے قریب چلے گئے تھوڑی دیر تک ان کا کام دیکھا پھر ہمیں نیند کے جھونکے آنے لگے چنانچہ ہم واپس آگئے اور ایک باغ میں مٹی کے اوپر ہی لیٹ گئے ۔ہم اس طرح بے خبر ہو کر سوئے کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی نے آکر اٹھایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اپنے پاؤں سے ہلا رہے تھے اور ہم اس مٹی میں لت پت ہوچکے تھے اس دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا ابوتراب ! کیونکہ ان پر تراب (مٹی) زیادہ تھی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں تمام لوگوں میں سب سے زیادہ شقی دو آدمیوں کے متعلق نہ بتاؤں ؟ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک تو قوم ثمود کا وہ سرخ و سپید آدمی جس نے ناقتہ اللہ کی کونچیں کاٹی تھیں اور دوسرا وہ آدمی جو اے علی ! تمہارے سر پر وار کر کے تمہاری ڈاڑھی کو خون سے تر کردے گا۔

كُنْتُ ← عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ خُثَيْمٍ أَبِي يَزِيدَ ← مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، ← يَزِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ خُثَيْمٍ الْمُحَارِبِيُّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18511

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18512

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ قَالَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرَّسَ بِأُوَلَاتِ الْجَيْشِ وَمَعَهُ عَائِشَةُ زَوْجَتُهُ فَانْقَطَعَ عِقْدٌ لَهَا مِنْ جَزْعِ ظَفَارِ فَحُبِسَ النَّاسُ ابْتِغَاءَ عِقْدِهَا وَذَلِكَ حَتَّى أَضَاءَ الْفَجْرُ وَلَيْسَ مَعَ النَّاسِ مَاءٌ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُخْصَةَ التَّطَهُّرِ بِالصَّعِيدِ الطَّيِّبِ فَقَامَ الْمُسْلِمُونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَرَبُوا بِأَيْدِيهِمْ الْأَرْضَ ثُمَّ رَفَعُوا أَيْدِيَهُمْ وَلَمْ يَقْبِضُوا مِنْ التُّرَابِ شَيْئًا فَمَسَحُوا بِهَا وُجُوهَهُمْ وَأَيْدِيَهُمْ إِلَى الْمَنَاكِبِ وَمِنْ بُطُونِ أَيْدِيهِمْ إِلَى الْآبَاطِ وَلَا يَغْتَرُّ بِهَذَا النَّاسُ وَبَلَغَنَا أَنَّ أَبَا بَكْرٍ قَالَ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ إِنَّكِ لَمُبَارَكَةٌ

حضرت عماربن یاسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی لشکر کے ساتھ رات کے آخری حصے میں ایک جگہ پڑاؤ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھیں اسی رات ان کا ہاتھی دانت کا ایک ہار ٹوٹ کر گر پڑا لوگ ان کا ہار تلاش کرنے کے لئے رک گئے یہ سلسلہ طلوع فجر تک چلتا رہا اور لوگوں کے پاس پانی بھی نہیں تھا (کہ نماز پڑھ سکیں ) اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے وضو میں رخصت کا پہلو یعنی پاک مٹی کے ساتھ تیمم کرنے کا حکم نازل فرما دیا، چنانچہ تمام مسلمان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہوئے اور زمین پر ہاتھ مار کر اپنے ہاتھ اٹھائے لیکن مٹی نہیں اٹھائی اور اپنے چہروں اور کندھوں تک ہاتھوں پر انہیں پھیرلیا اسی طرح ہاتھوں کے باطنی حصے پر بغلوں تک اسے پھیرلیا لہٰذا لوگ اس میں شکوک کا شکار نہ ہوں اور ہمیں یہ بات بھی معلوم ہوئی ہے کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اپنی صاحبزادی عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمایا بخدا! مجھے معلوم نہ تھا کہ تو اتنی مبارک ہے۔

عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← صَالِحٍ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18512

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18513

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ عَنِ ابْنِ لَاسٍ الْخُزَاعِيِّ قَالَ دَخَلَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ الْمَسْجِدَ فَرَكَعَ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ أَخَفَّهُمَا وَأَتَمَّهُمَا قَالَ ثُمَّ جَلَسَ فَقُمْنَا إِلَيْهِ فَجَلَسْنَا عِنْدَهُ ثُمَّ قُلْنَا لَهُ لَقَدْ خَفَّفْتَ رَكْعَتَيْكَ هَاتَيْنِ جِدًّا يَا أَبَا الْيَقْظَانِ فَقَالَ إِنِّي بَادَرْتُ بِهِمَا الشَّيْطَانَ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيَّ فِيهِمَا قَالَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ

ابن لاس خزاعی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے اور دو ہلکی لیکن مکمل رکعتیں پڑھیں اس کے بعد بیٹھ گئے ہم بھی اٹھ کر ان کے پاس پہنچے اور بیٹھ گئے اور ان سے عرض کیا کہ ابوالیقظان ! آپ نے یہ دو رکعتیں تو بہت ہی ہلکی پڑھی ہیں انہوں نے فرمایا کہ میں نے ان میں شیطان پر سبقت حاصل کی ہے ، کہ وہ میرے اندر داخل نہ ہونے پائے ۔ پھر انہوں نے مکمل حدیث ذکر کی ۔

ابْنِ لَاسٍ الْخُزَاعِيِّ ← عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبِي ← يَعْقُوبُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18513

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18514

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي هَاشِمٍ عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ قَالَ صَلَّى عَمَّارٌ صَلَاةً فَجَوَّزَ فِيهَا فَسُئِلَ أَوْ فَقِيلَ لَهُ فَقَالَ مَا خَرَمْتُ مِنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ابن لاس خزاعی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے اور دو ہلکی لیکن مکمل رکعتیں پڑھیں اس کے بعد بیٹھ گئے ہم بھی اٹھ کر ان کے پاس پہنچے اور بیٹھ گئے اور ان سے عرض کیا کہ ابوالیقظان ! آپ نے یہ دو رکعتیں تو بہت ہی ہلکی پڑھی ہیں انہوں نے فرمایا کہ میں نے ان میں شیطان پر سبقت حاصل کی ہے ، کہ وہ میرے اندر داخل نہ ہونے پائے ۔ پھر انہوں نے مکمل حدیث ذکر کی ۔

مَا خَرَمْتُ مِنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ ← صَلَّى عَمَّارٌ صَلَاةً فَجَوَّزَ فِيهَا فَسُئِلَ أَوْ فَقِيلَ لَهُ ← اَبِیْ مِجْلَزٍ، ← أَبِي هَاشِمٍ ← شَرِيکٍ ← أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18514

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18515

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ عَنْ شَرِيكٍ عَنْ أَبِي هَاشِمٍ عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ قَالَ صَلَّى بِنَا عَمَّارٌ صَلَاةً فَأَوْجَزَ فِيهَا فَأَنْكَرُوا ذَلِكَ فَقَالَ أَلَمْ أُتِمَّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ قَالُوا بَلَى قَالَ أَمَا إِنِّي قَدْ دَعَوْتُ فِيهِمَا بِدُعَاءٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهِ اللَّهُمَّ بِعِلْمِكَ الْغَيْبَ وَقُدْرَتِكَ عَلَى الْخَلْقِ أَحْيِنِي مَا عَلِمْتَ الْحَيَاةَ خَيْرًا لِي وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتْ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي أَسْأَلُكَ خَشْيَتَكَ فِي الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ وَكَلِمَةَ الْحَقِّ فِي الْغَضَبِ وَالرِّضَا وَالْقَصْدَ فِي الْفَقْرِ وَالْغِنَى وَلَذَّةَ النَّظَرِ إِلَى وَجْهِكَ وَالشَّوْقَ إِلَى لِقَائِكَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ ضَرَّاءَ مُضِرَّةٍ وَمِنْ فِتْنَةٍ مُضِلَّةٍ اللَّهُمَّ زَيِّنَّا بِزِينَةِ الْإِيمَانِ وَاجْعَلْنَا هُدَاةً مَهْدِيِّينَ

ابومجلز رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے مختصر سی نماز پڑھی ان سے کسی نے اس کی وجہ پوچھی تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے سرمو بھی تفاوت نہیں کیا۔ ابومجلز رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے ہمیں بہت مختصر نماز پڑھائی لوگوں کو اس پر تعجب ہوا تو انہوں نے فرمایا میں نے رکوع سجود مکمل نہیں کیا لوگوں نے کہا کیوں نہیں ، انہوں نے فرمایا میں نے اس میں ایک دعا مانگی ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مانگتے تھے اور وہ یہ ہے اے اللہ اپنے علم غیب اور مخلوق پر قدرت کی وجہ سے مجھے اس وقت تک زندگی عطا فرما جب تک تیرے علم کے مطابق میں میرے لئے بہتری ہو اور جب میرے لئے موت بہتر ہو تو مجھے موت سے ہمکنار فرما، میں ظاہر باطن میں تیری خشیت کا سوال کرتا ہوں ناراضگی اور رضامندی میں کلمہ حق کہنے کی اور تنگدستی اور کشادہ دستی میں میانہ روی ، آپ کے روئے انور کی زیارت اور آپ سے ملاقات کا شوق مانگتا ہوں اور نقصان دہ چیزوں سے اور گمراہ کن فتنوں سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں اے اللہ ہمیں ایمان کی زینت سے مزین فرما اور ہمیں ہدایت یافتہ اور ہدایت کنندہ بنا۔

بَلٰی ← أَلَمْ أُتِمَّ الرُّکُوعَ وَالسُّجُودَ ← صَلَّى بِنَا عَمَّارٌ صَلَاةً فَأَوْجَزَ فِيهَا فَأَنْكَرُوا ذَلِكَ ← اَبِیْ مِجْلَزٍ، ← أَبِي هَاشِمٍ ← شَرِيکٍ ← إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18515

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18516

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ يَزِيدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ خُثَيْمٍ أَبُو يَزِيدَ عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ كُنْتُ أَنَا وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ رَفِيقَيْنِ فِي غَزْوَةِ الْعُشَيْرَةِ فَمَرَرْنَا بِرِجَالٍ مِنْ بَنِي مُدْلِجٍ يَعْمَلُونَ فِي نَخْلٍ لَهُمْ فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ عِيسَى بْنِ يُونُسَ

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ غزوہ ذات العشیرہ میں میں اور حضرت علی رضی اللہ عنہ رفیق سفر تھے، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مقام پر پڑاؤ ڈالا اور وہاں قیام فرمایا تو ہم نے بنی مدلج کے کچھ لوگوں کو دیکھا جو اپنے باغات کے چشموں میں کام کر رہے تھے حضرت علی رضی اللہ عنہ مجھ سے کہنے لگے اے ابوالیقظان ! آؤ، ان لوگوں کے پاس چل کر دیکھتے ہیں کہ یہ کس طرح کام کرتے ہیں ؟چنانچہ ہم ان کے قریب چلے گئے تھوڑی دیر تک ان کا کام دیکھا پھر ہمیں نیند کے جھونکے آنے لگے چنانچہ ہم واپس آگئے اور ایک باغ میں مٹی کے اوپر ہی لیٹ گئے ۔ہم اس طرح بے خبر ہو کر سوئے کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی نے آکر اٹھایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اپنے پاؤں سے ہلا رہے تھے اور ہم اس مٹی میں لت پت ہوچکے تھے اس دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا ابوتراب ! کیونکہ ان پر تراب (مٹی) زیادہ تھی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں تمام لوگوں میں سب سے زیادہ شقی دو آدمیوں کے متعلق نہ بتاؤں ؟ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک تو قوم ثمود کا وہ سرخ و سپید آدمی جس نے ناقتہ اللہ کی کونچیں کاٹی تھیں اور دوسرا وہ آدمی جو اے علی ! تمہارے سر پر وار کر کے تمہاری ڈاڑھی کو خون سے تر کردے گا۔

عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ خُثَيْمٍ أَبُو يَزِيدَ ← مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، ← يزيد بن محمد بن خثيم ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18516

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18517

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ مِنْ الْفِطْرَةِ أَوْ الْفِطْرَةُ الْمَضْمَضَةُ وَالِاسْتِنْشَاقُ وَقَصُّ الشَّارِبِ وَالسِّوَاكُ وَتَقْلِيمُ الْأَظْفَارِ وَغَسْلُ الْبَرَاجِمِ وَنَتْفُ الْإِبِطِ وَالِاسْتِحْدَادُ وَالِاخْتِتَانُ وَالِانْتِضَاحُ

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مندرجہ ذیل چیزیں امور فطرت میں سے ہیں کلی کرنا، ناک میں پانی ڈالنا، مونچھیں کترانا، مسواک کرنا، ناخن تراشنا، انگلیوں کے پورے دھونا، بغل کے بال نوچنا، زیر ناف بال صاف کرنا، ختنہ کرنا اور استنجاء کے بعد کپڑے پر پانی کے چھینٹے مارنا۔

عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ← سَلَمَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادٌ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18517

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18518

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ شَقِيقٍ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا مَعَ أَبِي مُوسَى وَعَبْدِ اللَّهِ قَالَ فَقَالَ أَبُو مُوسَى يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا لَمْ يَجِدْ الْمَاءَ وَقَدْ أَجْنَبَ شَهْرًا مَا كَانَ يَتَيَمَّمُ قَالَ لَا وَلَوْ لَمْ يَجِدْ الْمَاءَ شَهْرًا قَالَ فَقَالَ لَهُ أَبُو مُوسَى فَكَيْفَ تَصْنَعُونَ بِهَذِهِ الْآيَةِ فِي سُورَةِ الْمَائِدَةِ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا قَالَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ لَوْ رُخِّصَ لَهُمْ فِي هَذَا لَأَوْشَكُوا إِذَا بَرَدَ عَلَيْهِمْ الْمَاءُ أَنْ يَتَيَمَّمُوا الصَّعِيدَ ثُمَّ يُصَلُّوا قَالَ فَقَالَ لَهُ أَبُو مُوسَى إِنَّمَا كَرِهْتُمْ ذَا لِهَذَا قَالَ نَعَمْ قَالَ لَهُ أَبُو مُوسَى أَلَمْ تَسْمَعْ لِقَوْلِ عَمَّارٍ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ فَأَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدْ الْمَاءَ فَتَمَرَّغْتُ فِي الصَّعِيدِ كَمَا تَمَرَّغُ الدَّابَّةُ ثُمَّ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَقُولَ وَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى الْأَرْضِ ثُمَّ مَسَحَ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا بِصَاحِبَتِهَا ثُمَّ مَسَحَ بِهَا وَجْهَهُ لَمْ يُجِزْ الْأَعْمَشُ الْكَفَّيْنِ قَالَ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ أَلَمْ تَزْعُمُوا لَمْ يَقْنَعْ بِقَوْلِ عَمَّارٍ وَقَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ مَرَّةً قَالَ فَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى الْأَرْضِ ثُمَّ نَفَضَهَا ثُمَّ ضَرَبَ بِشِمَالِهِ عَلَى يَمِينِهِ وَبِيَمِينِهِ عَلَى شِمَالِهِ عَلَى الْكَفَّيْنِ ثُمَّ مَسَحَ وَجْهَهُ

شقیق رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ کہنے لگے اے ابوعبدالرحمن ! یہ بتائیے کہ اگر کوئی آدمی ناپاک ہوجائے اور اسے پانی نہ ملے تو کیا وہ ایک مہینے تک جنبی ہی رہے گا اسے تیمم کرنے کی اجازت نہ ہوگی ؟ انہوں نے فرمایا نہیں خواہ ایک مہینے تک پانی نہ ملے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا پھر سورت مائدہ کی اس آیت کا کیا کریں گے جس میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ " اگر تمہیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمم کرلو " حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ اگر لوگوں کو اس کی اجازت دے دی گئی تو وہ معمولی سردی میں بھی مٹی سے تیمم کرکے نماز پڑھنے لگیں گے حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا آپ صرف اسی وجہ سے ہی اسے مکروہ سمجھتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا جی ہاں !

أَبُو مُوسَی يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَرَأَيْتَ لَوْ ← كُنْتُ جَالِسًا مَعَ أَبِي مُوسَى، وَعَبْدِ اللهِ ← شَقِيقٍ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18518

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18519

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ حَدَّثَنَا شَقِيقٌ قَالَ كُنْتُ قَاعِدًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ فَقَالَ أَبُو مُوسَى لِعَبْدِ اللَّهِ لَوْ أَنَّ رَجُلًا لَمْ يَجِدْ الْمَاءَ لَمْ يُصَلِّ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ لَا فَقَالَ أَبُو مُوسَى أَمَا تَذْكُرُ إِذْ قَالَ عَمَّارٌ لِعُمَرَ أَلَا تَذْكُرُ إِذْ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِيَّاكَ فِي إِبِلٍ فَأَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ فَتَمَرَّغْتُ فِي التُّرَابِ فَلَمَّا رَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرْتُهُ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَقُولَ هَكَذَا وَضَرَبَ بِكَفَّيْهِ إِلَى الْأَرْضِ ثُمَّ مَسَحَ كَفَّيْهِ جَمِيعًا وَمَسَحَ وَجْهَهُ مَسْحَةً وَاحِدَةً بِضَرْبَةٍ وَاحِدَةٍ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ لَا جَرَمَ مَا رَأَيْتُ عُمَرَ قَنَعَ بِذَلِكَ قَالَ فَقَالَ لَهُ أَبُو مُوسَى فَكَيْفَ بِهَذِهِ الْآيَةِ فِي سُورَةِ النِّسَاءِ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا قَالَ فَمَا دَرَى عَبْدُ اللَّهِ مَا يَقُولُ وَقَالَ لَوْ رَخَّصْنَا لَهُمْ فِي التَّيَمُّمِ لَأَوْشَكَ أَحَدُهُمْ إِنْ بَرَدَ الْمَاءُ عَلَى جِلْدِهِ أَنْ يَتَيَمَّمَ قَالَ عَفَّانُ وَأَنْكَرَهُ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ فَسَأَلْتُ حَفْصَ بْنَ غِيَاثٍ فَقَالَ كَانَ الْأَعْمَشُ يُحَدِّثُنَا بِهِ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ وَذَكَرَ أَبَا وَائِلٍ

حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا آپ نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ کی یہ بات نہیں سنی کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کسی کام سے بھیجا مجھ پر دوران سفر غسل واجب ہوگیا مجھے پانی نہیں ملا تو میں اسی طرح مٹی میں لوٹ پوٹ ہوگیا جیسے چوپائے ہوتے ہیں پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس واقعے کا بھی ذکر کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے لئے تو صرف یہی کافی تھا، یہ کہہ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین پر اپنا ہاتھ مارا پھر دونوں ہاتھوں کو ایک دوسرے پر ملا اور چہرے پر مسح کرلیا حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا آپ کو معلوم نہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ کی بات پر قناعت نہیں کی تھی؟ شقیق رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہنے لگے اے ابوعبدالرحمن ! یہ بتائیے کہ اگر کوئی آدمی ناپاک ہوجائے اور اسے پانی نہ ملے تو کیا وہ ایک مہینے تک جنبی ہی رہے گا اسے تیمم کرنے کی اجازت نہ ہوگی ؟ انہوں نے فرمایا نہیں خواہ ایک مہینے تک پانی نہ ملے حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ نے فرمایا حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ نے فرمایا پھر سورت مائدہ کی اس آیت کا کیا کریں گے جس میں اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ " اگر تمہیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمم کرلو " حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ اگر لوگوں کو اس کی اجازت دے دی گئی تو وہ معمولی سردی میں بھی مٹی سے تیمم کرکے نماز پڑھنے لگیں گے حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا آپ صرف اسی وجہ سے ہی اسے مکروہ سمجھتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا جی ہاں !حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا آپ نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ کی یہ بات نہیں سنی کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کسی کام سے بھیجا مجھ پر دوران سفر غسل واجب ہوگیا مجھے پانی نہیں ملا تو میں اسی طرح مٹی میں لوٹ پوٹ ہوگیا جیسے چوپائے ہوتے ہیں پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس واقعے کا بھی ذکر کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے لئے تو صرف یہی کافی تھا، یہ کہہ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین پر اپنا ہاتھ مارا پھر دونوں ہاتھوں کو ایک دوسرے پر ملا اور چہرے پر مسح کرلیا حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا آپ کو معلوم نہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ کی بات پر قناعت نہیں کی تھی؟

أَبُو مُوسَى لِعَبْدِ اللَّهِ لَوْ ← كُنْتُ قَاعِدًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ← شَقِيقٍ، ← سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ ← عَبْدُ الْوَاحِدِ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18519

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18520

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ قَالَ أَبُو مُوسَى لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ إِنْ لَمْ نَجِدْ الْمَاءَ لَا نُصَلِّي قَالَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ نَعَمْ إِنْ لَمْ نَجِدْ الْمَاءَ شَهْرًا لَمْ نُصَلِّ وَلَوْ رَخَّصْتُ لَهُمْ فِي هَذَا كَانَ إِذَا وَجَدَ أَحَدُهُمْ الْبَرْدَ قَالَ هَكَذَا يَعْنِي تَيَمَّمَ وَصَلَّى قَالَ فَقُلْتُ لَهُ فَأَيْنَ قَوْلُ عَمَّارٍ لِعُمَرَ قَالَ إِنِّي لَمْ أَرَ عُمَرَ قَنَعَ بِقَوْلِ عَمَّارٍ

ابووائل رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ کہنے لگے اے ابوعبدالرحمن ! یہ بتائیے کہ اگر کوئی آدمی ناپاک ہوجائے اور اسے پانی نہ ملے تو کیا وہ ایک مہینے تک جنبی ہی رہے گا اسے تیمم کرنے کی اجازت نہ ہوگی ؟ انہوں نے فرمایا نہیں خواہ ایک مہینے تک پانی نہ ملے حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ نے فرمایا پھر سورت مائدہ کی اس آیت کا کیا کریں گے جس میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ " اگر تمہیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمم کرلو " حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ اگر لوگوں کو اس کی اجازت دے دی گئی تو وہ معمولی سردی میں بھی مٹی سے تیمم کرکے نماز پڑھنے لگیں گے حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے جو بات فرمائی تھی وہ کہاں جائے گی ؟

أبو موسى لعبد الله بن مسعود ← أَبِي وَائِلٍ ← سُلَیْمَانَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18520

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18521

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ قَالَ لَمَّا بَعَثَ عَلِيٌّ عَمَّارًا وَالْحَسَنَ إِلَى الْكُوفَةِ لِيَسْتَنْفِرَاهُمْ فَخَطَبَ عَمَّارٌ فَقَالَ إِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّهَا زَوْجَتُهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَلَكِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ابْتَلَاكُمْ لِتَتَّبِعُوهُ أَوْ إِيَّاهَا

ابووائل کہتے ہیں کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ اور امام حسن رضی اللہ عنہ کو کوفہ بھیجا تاکہ وہ انہیں کوچ کرنے پر آمادہ کرسکیں تو حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے وہاں تقریر کرتے ہوئے فرمایا میں جانتا ہوں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا دنیا و آخرت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس آزمائش میں مبتلا کیا ہے کہ تم ان کی پیروی کرتے ہو یا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی ۔

لَمَّا بَعَثَ عَلِيٌّ عَمَّارًا وَالْحَسَنَ إِلَى الْكُوفَةِ لِيَسْتَنْفِرَاهُمْ فَخَطَبَ عَمَّارٌ ← أَبَا وَائِلٍ، ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18521

chevron_left Previous
1…212223…146
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter