Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19878

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ عَن أَبِي عُثْمَانَ عَن أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَائِطٍ مِنْ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ يَحْيَى إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي قَوْلِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ اللَّهُ الْمُسْتَعَانُ اللَّهُمَّ صَبْرًا وَعَلَى اللَّهِ التُّكْلَانُ

حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی باغ میں تھا ایک آدمی آیا اور اس نے سلام کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جاؤ اسے اجازت دے دو اور جنت کی خوشخبری بھی سنادو میں گیا تو وہ حضرت ابوبکرصدق رضی اللہ عنہ تھے میں نے ان سے کہا کہ اندر تشریف لے آئیے اور جنت کی خوشخبری قبول کیجئے وہ مسلسل اللہ کی تعریف کرتے ہوئے ایک جگہ پر بیٹھ گئے پھر دوسرا آدمی آیا اس نے بھی سلام کیا نبی کریم نے فرمایا اسے بھی اجازت اور خوشخبری دے دو میں گیا تو وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ تھے میں نے ان سے کہا کہ اندر تشریف لے آئیے اور جنت کی خوشخبری قبول کیجئے وہ مسلسل اللہ کی تعریف کرتے ہوئے ایک جگہ پر بیٹھ گئے پھر تیسرا آدمی آیا اس نے بھی سلام کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جا کر اسے بھی اجازت دے دو اور ایک امتحان کے ساتھ جنت کی خوشخبری سنا دو میں گیا تو وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تھے میں نے ان سے کہا کہ اندر تشریف لے آئیے اور ایک سخت امتحان کے ساتھ جنت کی خوشخبری قبول کیجئے وہ یہ کہتے ہوئے کہ " اے اللہ ! ثابت قدم رکھنا " آکر بیٹھ گئے۔

مَعْنَى حَدِيثِ يَحْيَى إِلَّا أَنَّهُ ← كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ فِي حَائِطٍ مِنْ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ ← أَبِي مُوسَی الأَشْعَرِيِّ ← أَبِي عُثْمَانَ ← عُثْمَانُ يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19878

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19879

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَن عُبَيْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ عَن سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَن أَبِي مُوسَى عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أُحِلَّ لُبْسُ الْحَرِيرِ وَالذَّهَبِ لِنِسَاءِ أُمَّتِي وَحُرِّمَ عَلَى ذُكُورِهَا

حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ریشم اور سونا یہ دونوں میری امت کی عورتوں کے لئے حلال اور مردوں کے لئے حرام ہیں ۔

أُحِلَّ لُبْسُ الْحَرِيرِ وَالذَّهَبِ لِنِسَاءِ أُمَّتِي وَحُرِّمَ عَلَى ذُكُورِهَا ← النَّبِيِّ ← اَبِیْ مُوْسیٰ ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19879

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19880

حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا ثَابِتٌ يَعْنِي ابْنَ عُمَارَةَ حَدَّثَنَا غُنَيْمُ بْنُ قَيْسٍ عَن أَبِي مُوسَى عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُلُّ عَيْنٍ زَانِيَةٌ

حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر آنکھ بدکاری کرتی ہے ۔

كُلُّ عَيْنٍ زَانِيَةٌ ← النَّبِيِّ ← اَبِیْ مُوْسیٰ ← غُنَيْمِ بْنِ قَيْسٍ ← ثَابِتٍ يَعْنِي ابْنَ عُمَارَةَ ← يَحْيَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19880

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19881

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا قُرَّةُ حَدَّثَنَا سَيَّارٌ أَبُو الْحَكَمِ عَن أَبِي بُرْدَةَ عَن أَبِيهِ قَالَ قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِأَهْلِ الْيَمَنِ شَرَابَيْنِ أَوْ أَشْرِبَةً هَذَا الْبِتْعُ مِنْ الْعَسَلِ وَالْمِزْرُ مِنْ الذُّرَةِ وَالشَّعِيرِ فَمَا تَأْمُرُنِي فِيهِمَا قَالَ أَنْهَاكُمْ عَنْ كُلِّ مُسْكِرٍ

حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (مجھے یمن کی طرف بھیجا) میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! وہاں کچھ مشروبات رائج ہیں ایک تو تبع جو شہد سے بنتی ہے اور ایک مزر ہے اور وہ جو سے بنتی ہے آپ مجھے اس کے متعلق کیا حکم دیتے ہیں ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی نشہ آور چیز مت پینا۔

قُلْتُ لِلنَّبِيِّ ← أَبِيهِ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← سَيَّارٌ أَبُو الْحَکَمِ ← قُرَّۃَ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19881

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19882

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَن التَّيْمِيِّ عَن أَبِي عُثْمَانَ عَن أَبِي مُوسَى قَالَ أَخَذَ الْقَوْمُ فِي عُقْبَةٍ أَوْ ثَنِيَّةٍ فَكُلَّمَا عَلَا رَجُلٌ عَلَيْهَا نَادَى لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَغْلَةٍ يَعْرِضُهَا فِي الْخَيْلِ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ لَا تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلَا غَائِبًا ثُمَّ قَالَ يَا أَبَا مُوسَى أَوْ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ قَالَ قُلْتُ بَلَى قَالَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ

حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی جہاد کے سفر میں تھے جس ٹیلے یا بلند جگہ پر چڑھتے یا کسی نشیب میں اترتے تو بلند آواز سے تکبیر کہتےنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے قریب آکر فرمایا لوگو! اپنے ساتھ نرمی کرو، تم کسی بہرے یا غائب اللہ کو نہیں پکار رہے ، تم سمیع و بصیر کو پکار رہے ہو جو تمہاری سواری کی گردن سے بھی زیادہ تمہارے قریب ہے ، اے عبداللہ بن قیس کیا میں تمہیں جنت کے ایک خزانے کے متعلق نہ بتاؤں ؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں فرمایا لاحول ولاقوۃ الا باللہ (جنت کا ایک خزانہ ہے )

اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي عُثْمَانَ ← التَّيْمِيِّ ← يَحْيَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19882

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19883

حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا الْجُعَيْدُ عَن يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ بَشِيرٍ عَن الْمُحَرَّرِ عَن مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ عَن أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يُقَلِّبُ كَعَبَاتِهَا أَحَدٌ يَنْتَظِرُ مَا تَأْتِي بِهِ إِلَّا عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ

حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص گوٹیوں کے ساتھ کھیلتا ہے وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کرتا ہے۔

«لَا يُقَلِّبُ كَعَبَاتِهَا أَحَدٌ يَنْتَظِرُ مَا تَأْتِي بِهِ إِلَّا عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ» ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِی مُوسَی الأَشْعَرِیِّ: أَنَّہُ ← مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، ← الْمُحَرَّرِ ← حميد بن بشير ← يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ1 ← الْجُعَيْدِ ← مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19883

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19884

حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ عَن مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتٍ عَن مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَن أَبِي بُرْدَةَ عَن أَبِي مُوسَى قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مُؤْمِنٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا يَأْتِي بِيَهُودِيٍّ أَوْ نَصْرَانِيٍّ يَقُولُ هَذَا فِدَائِي مِنْ النَّارِ

حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن ہر مسلمان ایک یہودی یا عیسائی کو لے کر آئے گا اور کہے گا کہ یہ جہنم سے بچاؤ کے لئے میری طرف سے فدیہ ہے۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتٍ، ← أبو معشر ← خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19884

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19885

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ قَالَا أَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَن عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَن أَبِي عُبَيْدَةَ عَن أَبِي مُوسَى قَالَ سَمَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفْسَهُ أَسْمَاءً مِنْهَا مَا حَفِظْنَا قَالَ أَنَا مُحَمَّدٌ وَأَحْمَدُ والْمُقَفِّي وَالْحَاشِرُ وَنَبِيُّ التَّوْبَةِ والْمَلْحَمَةِ

حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنے کچھ نام بتائے جو ہمیں پہلے سے یاد اور معلوم نہ تھے چنانچہ فرمایا کہ میں محمد ہوں ، احمد، مقفی، حاشر اور نبی التوبہ اور نبی الملحمہ ہوں صلی اللہ علیہ وسلم۔

مُحَمَّدٌ وَأَحْمَدُ والْمُقَفِّي وَالْحَاشِرُ وَنَبِيُّ التَّوْبَةِ والْمَلْحَمَةِ ← سَمَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ نَفْسَهُ أَسْمَاءً مِنْهَا مَا حَفِظْنَا ← اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي عُبَيْدَةَ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← الْمَسْعُودِيِّ ← أَبُو النَّضْرِ وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19885

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19886

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ حَدَّثَنَا قَتَادَةَ عَن أَبِي بُرْدَةَ قَالَ قَالَ أَبُو مُوسَى يَا بُنَيَّ كَيْفَ لَوْ رَأَيْتَنَا وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرِيحُنَا رِيحُ الضَّأْنِ

حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ اپنے بیٹے ابوبردہ سے کہا کہ بیٹا! اگر تم نے وہ وقت دیکھا ہوتا تو کیسا لگتا کہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوتے تھے اور ہمارے اندر سے بھیڑ بکریوں جیسی مہک آرہی ہوتی تھی ، (موٹے کپڑوں پر بارش کا پانی پڑنے کی وجہ سے )

أَبِي بُرْدَةَ، ← قَتَادَةَ ← أَبُو هِلَالٍ؛ ← حَسَنُ بْنُ مُوسَی

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19886

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19887

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ قَالَ حَدَّثَ أَبُو الزِّنَادِ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ نَافِعٍ بْنِ عَبْدِ الْحَارِثِ الْخُزَاعِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا مُوسَى أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي حَائِطٍ بِالْمَدِينَةِ عَلَى قُفِّ الْبِئْرِ مُدَلِّيًا رِجْلَيْهِ فَدَقَّ الْبَابَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ فَفَعَلَ فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فَدَلَّى رِجْلَيْهِ ثُمَّ دَقَّ الْبَابَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ فَفَعَلَ ثُمَّ دَقَّ الْبَابَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ وَسَيَلْقَى بَلَاءً فَفَعَلَ

حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی باغ میں تھا ایک آدمی آیا اور اس نے سلام کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جاؤ اسے اجازت دے دو اور جنت کی خوشخبری بھی سنادو میں گیا تو وہ حضرت ابوبکرصدق رضی اللہ عنہ تھے میں نے ان سے کہا کہ اندر تشریف لے آئیے اور جنت کی خوشخبری قبول کیجئے وہ مسلسل اللہ کی تعریف کرتے ہوئے ایک جگہ پر بیٹھ گئے پھر دوسرا آدمی آیا اس نے بھی سلام کیا نبی کریم نے فرمایا اسے بھی اجازت اور خوشخبری دے دو میں گیا تو وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ تھے میں نے ان سے کہا کہ اندر تشریف لے آئیے اور جنت کی خوشخبری قبول کیجئے وہ مسلسل اللہ کی تعریف کرتے ہوئے ایک جگہ پر بیٹھ گئے پھر تیسرا آدمی آیا اس نے بھی سلام کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جا کر اسے بھی اجازت دے دو اور ایک امتحان کے ساتھ جنت کی خوشخبری سنادو میں گیا تو وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تھے چنانچہ ایسا ہی ہوا۔

إِنَّ أَبَا مُوسَى ← أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ نَافِعِ بْنِ عَبْدِ الْحَارِثِ الْخُزَاعِيَّ، ← حَدَّثَ أَبُو الزِّنَادِ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ ← صَالِحٍ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19887

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19888

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى وَعَفَّانُ قَالَا ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَن عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَن عُمَارَةَ عَن أَبِي بُرْدَةَ عَن أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْأُمَمَ فِي صَعِيدٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَإِذَا بَدَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَصْدَعَ بَيْنَ خَلْقِهِ مَثَّلَ لِكُلِّ قَوْمٍ مَا كَانُوا يَعْبُدُونَ فَيَتْبَعُونَهُمْ حَتَّى يُقْحِمُونَهُمْ النَّارَ ثُمَّ يَأْتِينَا رَبُّنَا عَزَّ وَجَلَّ وَنَحْنُ عَلَى مَكَانٍ رَفِيعٍ فَيَقُولُ مَنْ أَنْتُمْ فَنَقُولُ نَحْنُ الْمُسْلِمُونَ فَيَقُولُ مَا تَنْتَظِرُونَ فَيَقُولُونَ نَنْتَظِرُ رَبَّنَا عَزَّ وَجَلَّ قَالَ فَيَقُولُ وَهَلْ تَعْرِفُونَهُ إِنْ رَأَيْتُمُوهُ فَيَقُولُونَ نَعَمْ فَيَقُولُ كَيْفَ تَعْرِفُونَهُ وَلَمْ تَرَوْهُ فَيَقُولُونَ نَعَمْ إِنَّهُ لَا عِدْلَ لَهُ فَيَتَجَلَّى لَنَا ضَاحِكًا فَيَقُولُ أَبْشِرُوا أَيُّهَا الْمُسْلِمُونَ فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْكُمْ أَحَدٌ إِلَّا جَعَلْتُ مَكَانَهُ فِي النَّارِ يَهُودِيًّا أَوْ نَصْرَانِيًّا

حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ساری امتوں کو ایک ٹیلے پر جمع فرمائے گا جب اللہ تعالیٰ اپنی ساری مخلوق کا امتحان شروع کرے گا تو ہر قدم کے سامنے اس چیز کی تصویر آجائے جس کی وہ عبادت کرتے تھے وہ ان کے پیچھے چلنے لگیں گے اور اس طرح جہنم میں گرجائیں گے پھر ہمارا رب ہمارے پاس آئے گا ہم اس وقت ایک بلند جگہ پر ہوں گے وہ پوچھے گا کہ تم کون ہو؟ ہم کہیں گے کہ ہم مسلمان ہیں وہ کہے گا کہ تم کس کا انتظار کررہے ہو؟ہم کہیں گے کہ اپنے رب کا انتظار کررہے ہیں وہ پوچھے گا کہ اگر تم اسے دیکھو تو پہچان لو گے ہم کہیں گے جی ہاں وہ کہے گا کہ جب تم نے اسے دیکھا ہی نہیں ہے تو کیسے پہچانو گے ؟ ہم کہیں گے کہ ہاں ! اس کی کوئی مثال نہیں ہے پھر وہ مسکراتا ہوا اپنی تجلی ہمارے سامنے ظاہر کرے گا اور فرمایا مسلمانو! خوش ہوجاؤ تم میں سے ایک بھی ایسا نہیں ہے جس کی جگہ پر میں نے کسی یہودی یا عیسائی کو جہنم میں نہ ڈال دیاہو۔

أَبِي مُوسَی الأَشْعَرِيِّ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← عُمَارَةَ، ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَسَنُ بْنُ مُوسَى وَعَفَّانُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19888

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19889

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ عَن عُمَارَةَ الْقُرَشِيِّ قَالَ وَفَدْنَا إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَفِينَا أَبُو بُرْدَةَ فَقَضَى حَاجَتَنَا فَلَمَّا خَرَجَ أَبُو بُرْدَةَ رَجَعَ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَذْكُرُ الشَّيْخَ مَا رَدَّكَ أَلَمْ أَقْضِ حَوَائِجَكَ قَالَ فَقَالَ أَبُو بُرْدَةَ إِلَّا حَدِيثًا حَدَّثَنِيهِ أَبِي عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَجْمَعُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْأُمَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ فَقَالَ عُمَرُ لِأَبِي بُرْدَةَ آللَّهِ لَسَمِعْتَ أَبَا مُوسَى يُحَدِّثُ بِهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ لَأَنَا سَمِعْتُهُ مِنْ أَبِي يُحَدِّثُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے لیکن اس کے آغاز میں یہ ہے کہ عمارہ قرشی کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک وفد لے کر حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ کے پاس گئے جس میں ابوبردہ رحمتہ اللہ علیہ بھی شامل تھے ، انہوں نے ہماری ضرورت پوری کردی ہم وہاں سے نکل آئے لیکن حضرت ابوبردہ رحمتہ اللہ علیہ دوبارہ ان کے پاس چلے گئے عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ نے پوچھا شیخ کو کوئی اور بات یاد آگئی ہے ؟ اب کیا چیز آپ کو واپس لائی ؟ کیا آپ کی ضرورت پوری نہیں ہوئی ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! ایک حدیث ہے جو میرے والدنے مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے سنائی تھی پھر انہوں نے مذکورہ حدیث سنائی عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ نے پوچھا کیا واقعی آپ نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے کہا جی ہاں ! میں نے اپنے والد کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سناہے ۔

مِنْ أَبِي يُحَدِّثُهُ ← نَعَمْ لَأَنَا ← بِهِ ← عُمَرُ لِأَبِي بُرْدَةَ آللَّهِ لَسَمِعْتَ أَبَا مُوسَى ← الْحَدِيثَ. ← يَجْمَعُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْأُمَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ← أَبِي ← أَبُو بُرْدَةَ إِلَّا حَدِيثًا ← عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَذْكُرُ الشَّيْخَ مَا رَدَّكَ أَلَمْ أَقْضِ حَوَائِجَكَ ← فِينَا أَبُو بُرْدَةَ فَقَضَى حَاجَتَنَا فَلَمَّا خَرَجَ أَبُو بُرْدَةَ رَجَعَ ← وَفَدْنَا إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← عُمَارَةَ الْقُرَشِيِّ، ← عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19889

chevron_left Previous
1…135136137…146
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter