Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19734

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَرْضِ قَوْمِي فَلَمَّا حَضَرَ الْحَجُّ حَجَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَجَجْتُ فَقَدِمْتُ عَلَيْهِ وَهُوَ نَازِلٌ بِالْأَبْطَحِ فَقَالَ لِي بِمَ أَهْلَلْتَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ قَالَ قُلْتُ لَبَّيْكَ بِحَجٍّ كَحَجِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَحْسَنْتَ ثُمَّ قَالَ هَلْ سُقْتَ هَدْيًا فَقُلْتُ مَا فَعَلْتُ فَقَالَ لِي اذْهَبْ فَطُفْ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ احْلِلْ فَانْطَلَقْتُ فَفَعَلْتُ مَا أَمَرَنِي وَأَتَيْتُ امْرَأَةً مِنْ قَوْمِي فَغَسَلَتْ رَأْسِي بِالْخِطْمِيِّ وَفَلَّتْهُ ثُمَّ أَهْلَلْتُ بِالْحَجِّ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ فَمَا زِلْتُ أُفْتِي النَّاسَ بِالَّذِي أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تُوُفِّيَ ثُمَّ زَمَنَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ ثُمَّ زَمَنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فَبَيْنَا أَنَا قَائِمٌ عِنْدَ الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ أَوْ الْمَقَامِ أُفْتِ النَّاسَ بِالَّذِي أَمَرَنِي بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ أَتَانِي رَجُلٌ فَسَارَّنِي فَقَالَ لَا تَعْجَلْ بِفُتْيَاكَ فَإِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَدْ أَحْدَثَ فِي الْمَنَاسِكِ شَيْئًا فَقُلْتُ أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ كُنَّا أَفْتَيْنَاهُ فِي الْمَنَاسِكِ شَيْئًا فَلْيَتَّئِدْ فَإِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَادِمٌ فَبِهِ فَأْتَمُّوا قَالَ فَقَدِمَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فَقُلْتُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ هَلْ أَحْدَثْتَ فِي الْمَنَاسِكِ شَيْئًا قَالَ نَعَمْ أَنْ نَأْخُذَ بِكِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَإِنَّهُ يَأْمُرُ بِالتَّمَامِ وَأَنْ نَأْخُذَ بِسُنَّةِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّهُ لَمْ يَحْلِلْ حَتَّى نَحَرَ الْهَدْيَ

حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنی قوم کے علاقے میں بھیج دیا، جب حج کاموسم قریب آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حج کے لئے تشریف لے گئے میں نے بھی حج کی سعادت حاصل کی ، میں جب حاضرخدمت میں ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابطح میں پڑاؤ کئے ہوئے تھے مجھ سے پوچھا کہ اے عبداللہ بن قیس ! تم نے کس نیت سے احرام باندھا؟ میں نے عرض کیا " لبیک بحج کحج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہہ کر، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہت اچھا یہ بتاؤ کہ کیا اپنے ساتھ ہدی کا جانور لائے ہو؟ میں نے کہا نہیں ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جا کر بیت اللہ کا طواف کرو، صفا مروہ کے درمیان سعی کرو، اور حلال ہوجاؤ۔چنانچہ میں چلا گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق کرلیا پھر اپنی قوم کی ایک عورت کے پاس آیا، اس نے " خطمی " سے میرا سر دھویا، اور میرے سر کی جوئیں دیکھیں ، پھر میں نے آٹھ ذی الحج کو حج کا احرام باندھ لیا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال تک لوگوں کو یہی فتویٰ دیتا رہا جس کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا تھا ، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں بھی یہی صورت حال رہی جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا تو ایک دن میں حجر اسود کے قریب کھڑا ہوا تھا اور لوگوں کو یہی مسئلہ بتا رہا تھا جس کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا تھا کہ اچانک ایک آدمی آیا اور سرگوشی میں مجھ سے کہنے لگا کہ یہ فتویٰ دینے میں جلدی سے کام مت لیجئے کیونکہ امیرالمؤمنین نے مناسک حج کے حوالے سے کچھ نئے احکام جاری کئے ہیں ۔ میں نے لوگوں سے کہا کہ اے لوگو! جسے ہم نے مناسک حج کے حوالے سے کوئی فتویٰ دیا ہو وہ انتظار کرے کیونکہ امیرالمؤمنین آنے والے ہیں آپ ان ہی کی اقتداء کریں ، پھر جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ آئے تو میں نے ان سے پوچھا اے امیرالمؤمنین ! کیا مناسک حج کے حوالے سے آپ نے کچھ نئے احکام جاری کئے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! اگر ہم کتاب اللہ کو لیتے ہیں تو وہ ہمیں اتمام کا حکم دیتی ہے اور اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو لیتے ہیں تو انہوں نے قربانی کرنے تک احرام نہیں کھولا تھا ۔

أَبِي مُوسَی الأَشْعَرِيِّ ← طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، ← قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، ← الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19734

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19735

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ حَرْمَلَةَ بْنِ قَيْسٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ أَمَانَانِ كَانَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُفِعَ أَحَدُهُمَا وَبَقِيَ الْآخَرُ وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ وَمَا كَانَ اللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ

حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں دو طرح کی امان تھی جن میں سے ایک اٹھ چکی ہے اور دوسری باقی ہے ، (١) اللہ تعالیٰ انہیں آپ کی موجودگی میں عذاب نہیں دے گا (٢) اللہ انہیں اس وقت تک عذاب نہیں دے گا جب تک یہ استغفار کرتے رہیں گے۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ ← حرملة بن قيس ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19735

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19736

حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي الْعُمَرِيَّ عَنْ نَافِعٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُحِلَّ لِإِنَاثِ أُمَّتِي الْحَرِيرُ وَالذَّهَبُ وَحُرِّمَ عَلَى ذُكُورِهَا

حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ اپنے دائیں ہاتھ میں ریشم اور بائیں ہاتھ میں سونا بلند کیا اور فرمایا یہ دونوں میری امت کی عورتوں کے لئے حلال اور مردوں کے لئے حرام ہیں ۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← رَجُلٍ مَنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، ← نَافِعٍ ← عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي الْعُمَرِيَّ ← سُرَيْجٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19736

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19737

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ عَنْ أَخِيهِ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ قَدِمَ رَجُلَانِ مَعِي مِنْ قَوْمِي قَالَ فَأَتَيْنَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَا وَتَكَلَّمَا فَجَعَلَا يُعَرِّضَانِ بِالْعَمَلِ فَتَغَيَّرَ وَجْهُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ رُئِيَ فِي وَجْهِهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَخْوَنَكُمْ عِنْدِي مَنْ يَطْلُبُهُ فَعَلَيْكُمْ بِتَقْوَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ فَمَا اسْتَعَانَ بِهِمَا عَلَى شَيْءٍ

حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میرے ساتھ میری قوم کے دو آدمی بھی آئے تھے ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ان دونوں نے دوران گفتگو کوئی عہدہ طلب کیا جس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک کا رنگ بدل گیا اور فرمایا میرے نزدیک تم میں سب سے بڑا خائن وہ ہے جو کسی عہدے کا طلب گار ہوتا ہے لہٰذا تم دونوں تقویٰ کو لازم پکڑو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کوئی خدمت نہیں لی۔

فَمَا اسْتَعَانَ بِهِمَا عَلَى شَيْءٍ ← تَكَلَّمَا فَجَعَلَا يُعَرِّضَانِ بِالْعَمَلِ فَتَغَيَّرَ وَجْهُ النَّبِيِّ أَوْ رُئِيَ فِي وَجْهِهِ ← فَأَتَيْنَا إِلَى النَّبِيِّ فَخَطَبَا ← قَدِمَ رَجُلَانِ مَعِي مِنْ قَوْمِي ← أَبِي مُوسَی الأَشْعَرِيِّ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← أَخِيهِ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19737

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19738

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَسِبْتُهُ قَالَ فِي حَائِطٍ فَجَاءَ رَجُلٌ فَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اذْهَبْ فَأْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ فَذَهَبْتُ فَإِذَا هُوَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فَقُلْتُ ادْخُلْ وَأَبْشِرْ بِالْجَنَّةِ فَمَا زَالَ يَحْمَدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى جَلَسَ ثُمَّ جَاءَ آخَرُ فَسَلَّمَ فَقَالَ ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ فَانْطَلَقْتُ فَإِذَا هُوَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فَقُلْتُ ادْخُلْ وَأَبْشِرْ بِالْجَنَّةِ فَمَا زَالَ يَحْمَدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى جَلَسَ ثُمَّ جَاءَ آخَرُ فَسَلَّمَ فَقَالَ اذْهَبْ فَأْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ عَلَى بَلْوَى شَدِيدَةٍ قَالَ فَانْطَلَقْتُ فَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ فَقُلْتُ ادْخُلْ وَأَبْشِرْ بِالْجَنَّةِ عَلَى بَلْوَى شَدِيدَةٍ قَالَ فَجَعَلَ يَقُولُ اللَّهُمَّ صَبْرًا حَتَّى جَلَسَ

حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی باغ میں تھا ایک آدمی آیا اور اس نے سلام کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جاؤ اسے اجازت دے دو اور جنت کی خوشخبری بھی سنادو میں گیا تو وہ حضرت ابوبکرصدق رضی اللہ عنہ تھے میں نے ان سے کہا کہ اندر تشریف لے آئیے اور جنت کی خوشخبری قبول کیجئے وہ مسلسل اللہ کی تعریف کرتے ہوئے ایک جگہ پر بیٹھ گئے پھر دوسرا آدمی آیا اس نے بھی سلام کیا نبی کریم نے فرمایا اسے بھی اجازت اور خوشخبری دے دو میں گیا تو وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ تھے میں نے ان سے کہا کہ اندر تشریف لے آئیے اور جنت کی خوشخبری قبول کیجئے وہ مسلسل اللہ کی تعریف کرتے ہوئے ایک جگہ پر بیٹھ گئے پھر تیسرا آدمی آیا اس نے بھی سلام کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جا کر اسے بھی اجازت دے دو اور ایک امتحان کے ساتھ جنت کی خوشخبری سنا دو میں گیا تو وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تھے میں نے ان سے کہا کہ اندر تشریف لے آئیے اور ایک سخت امتحان کے ساتھ جنت کی خوشخبری قبول کیجئے وہ یہ کہتے ہوئے کہ " اے اللہ ! ثابت قدم رکھنا " آکر بیٹھ گئے۔

أَبِي مُوسَی الأَشْعَرِيِّ ← أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ← قَتَادَةَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19738

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19739

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ سَعِيدِ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ سَلَّمَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَيْسٍ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ فَرَجَعَ فَأَرْسَلَ عُمَرُ فِي أَثَرِهِ لِمَ رَجَعْتَ قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا سَلَّمَ أَحَدُكُمْ ثَلَاثًا فَلَمْ يُجَبْ فَلْيَرْجِعْ

حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو تین مرتبہ سلام کیا، انہیں اجازت نہیں ملی تو وہ واپس چلے گئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے پیچھے قاصد کو بھیجا کہ واپس کیوں چلے گئے ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جب تم میں سے کوئی شخص تین مرتبہ سلام کرچکے اور اسے جواب نہ ملے تو اسے واپس لوٹ جانا چاہئے ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← سَعِیْدٍ الْجُرَیْرِیِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19739

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19740

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا قَالَ الْإِمَامُ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ يَسْمَعْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَكُمْ فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَضَى عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ

حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب امام سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم ربنا لک الحمد کہو اللہ تمہاری سنے گا کیونکہ اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ فیصلہ کرلیاہے کہ جو اللہ کی تعریف کرتا ہے اللہ اس کی سن لیتا ہے ۔

أَبِي مُوسَی الأَشْعَرِيِّ ← حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ، ← يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ، ← قَتَادَةَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19740

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19741

حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ جَدِّهِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْخَازِنَ الْأَمِينَ الَّذِي يُعْطِي مَا أُمِرَ بِهِ كَامِلًا مُوَفَّرًا طَيِّبَةً بِهِ نَفْسُهُ حَتَّى يَدْفَعَهُ إِلَى الَّذِي أُمِرَ لَهُ بِهِ أَحَدُ الْمُتَصَدِّقِينَ

حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امانت دار خزانچی وہ ہوتا ہے کہ اسے جس چیز کا حکم دیا جائے وہ اسے مکمل ، پورا اور دل کی خوشی کے ساتھ ادا کردے تاکہ صدقہ کرنے والے نے جسے دینے کا حکم دیا ہے اس تک وہ چیز پہنچ جائے ۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← جَدِّهِ أَبِي بُرْدَةَ ← بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19741

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19742

حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ أَخْبَرَنَا ثَابِتُ بْنُ عُمَارَةَ الْحَنَفِيُّ عَنْ غُنَيْمِ بْنِ قَيْسٍ عَنِ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّ عَيْنٍ زَانِيَةٌ

حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر آنکھ بدکاری کرتی ہے۔

الْأَشْعَرِيِّ ← غُنَيْمِ بْنِ قَيْسٍ ← ثابت بن عمارة الحنفي ← مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19742

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19743

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ عَنْ ثَابِتِ بْنِ الْحَجَّاجِ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ اخْتَصَمَ رَجُلَانِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَرْضٍ أَحَدُهُمَا مِنْ أَهْلِ حَضْرَمَوْتَ قَالَ فَجَعَلَ يَمِينَ أَحَدِهِمَا قَالَ فَضَجَّ الْآخَرُ وَقَالَ إِنَّهُ إِذًا يَذْهَبُ بِأَرْضِي فَقَالَ إِنْ هُوَ اقْتَطَعَهَا بِيَمِينِهِ ظُلْمًا كَانَ مِمَّنْ لَا يَنْظُرُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يُزَكِّيهِ وَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ قَالَ وَوَرِعَ الْآخَرُ فَرَدَّهَا

حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو آدمی ایک زمین کا مقدمہ لے کر آئے جن میں سے ایک تعلق حضر موت سے تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے کو قسم اٹھانے کا کہہ دیا دوسرا فریق یہ سن کر چیخ پڑا اور کہنے لگا کہ اس طرح تو یہ میری زمین لے جائے گا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ قسم کھاکر ظلماً اسے اپنی ملکیت میں لے لیتا ہے تو یہ ان لوگوں میں سے ہوگا جنہیں قیامت کے دن اللہ تعالیٰ دیکھے گا اور نہ ہی اس کا تزکیہ کرے گا اور اس کے لئے دردناک عذاب ہوگا پھر دوسرے شخص کو تقویٰ کی ترغیب دی تو اس نے وہ زمین واپس کردی۔

فَضَجَّ الْآخَرُ ← فَجَعَلَ يَمِينَ أَحَدِهِمَا ← اخْتَصَمَ رَجُلَانِ إِلَى النَّبِيِّ فِي أَرْضٍ أَحَدُهُمَا مِنْ أَهْلِ حَضْرَمَوْتَ ← اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← ثَابِتُ بْنُ الْحَجَّاجِ ← جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ← حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19743

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19744

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَرِيرُ وَالذَّهَبُ حَرَامٌ عَلَى ذُكُورِ أُمَّتِي وَحِلٌّ لِإِنَاثِهِمْ

حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا کہ سونا اور ریشم دونوں میری امت کی عورتوں کے لئے حلال اور مردوں کے لئے حرام ہیں ۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19744

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19745

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُسْتَأْمَرُ الْيَتِيمَةُ فِي نَفْسِهَا فَإِنْ سَكَتَتْ فَقَدْ أَذِنَتْ وَإِنْ أَبَتْ لَمْ تُكْرَهْ

حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بالغ لڑکی سے اس کے نکاح کی اجازت لی جائے گی ، اگر وہ خاموش رہے تو گویا اس نے اجازت دے دی اور اگر وہ انکار کردے تو اسے اس رشتے پر مجبور نہ کیا جائے ۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19745

chevron_left Previous
1…123124125…146
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter