Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19674

حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فُوَاقَ نَاقَةٍ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَى وَجْهِهِ النَّارَ

حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص ایک اونٹنی کے تھن میں دودھ اترنے کی مقدار کے برابر بھی اللہ کے راستہ میں جہاد کرتا ہے اللہ اس کے چہرے پر جہنم کی آگ کو حرام قرار دے دیتا ہے ۔

النَّبِيِّ ← عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ ← شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ، ← حُمَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ، ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ ← ابْنُ عَيَّاشٍ ← الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19674

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19675

حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنِي شُرَيْحُ بْنُ عُبَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِذٍ الْأَزْدِيِّ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ السُّلَمِيِّ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْرِضُ يَوْمًا خَيْلًا وَعِنْدَهُ عُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنِ بْنِ بَدْرٍ الْفَزَارِيُّ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا أَفْرَسُ بِالْخَيْلِ مِنْكَ فَقَالَ عُيَيْنَةُ وَأَنَا أَفْرَسُ بِالرِّجَالِ مِنْكَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَيْفَ ذَاكَ قَالَ خَيْرُ الرِّجَالِ رِجَالٌ يَحْمِلُونَ سُيُوفَهُمْ عَلَى عَوَاتِقِهِمْ جَاعِلِينَ رِمَاحَهُمْ عَلَى مَنَاسِجِ خُيُولِهِمْ لَابِسُو الْبُرُودِ مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَذَبْتَ بَلْ خَيْرُ الرِّجَالِ رِجَالُ أَهْلِ الْيَمَنِ وَالْإِيمَانُ يَمَانٍ إِلَى لَخْمٍ وَجُذَامَ وَعَامِلَةَ وَمَأْكُولُ حِمْيَرَ خَيْرٌ مِنْ آكِلِهَا وَحَضْرَمَوْتُ خَيْرٌ مِنْ بَنِي الْحَارِثِ وَقَبِيلَةٌ خَيْرٌ مِنْ قَبِيلَةٍ وَقَبِيلَةٌ شَرٌّ مِنْ قَبِيلَةٍ وَاللَّهِ مَا أُبَالِي أَنْ يَهْلِكَ الْحَارِثَانِ كِلَاهُمَا لَعَنَ اللَّهُ الْمُلُوكَ الْأَرْبَعَةَ جَمَدَاءَ وَمِخْوَسَاءَ وَمِشْرَخَاءَ وَأَبْضَعَةَ وَأُخْتَهُمْ الْعَمَرَّدَةَ ثُمَّ قَالَ أَمَرَنِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَنْ أَلْعَنَ قُرَيْشًا مَرَّتَيْنِ فَلَعَنْتُهُمْ وَأَمَرَنِي أَنْ أُصَلِّيَ عَلَيْهِمْ فَصَلَّيْتُ عَلَيْهِمْ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ قَالَ عُصَيَّةُ عَصَتْ اللَّهَ وَرَسُولَهُ غَيْرَ قَيْسٍ وَجَعْدَةَ وَعُصَيَّةَ ثُمَّ قَالَ لَأَسْلَمُ وَغِفَارُ وَمُزَيْنَةُ وَأَخْلَاطُهُمْ مِنْ جُهَيْنَةَ خَيْرٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ وَتَمِيمٍ وَغَطَفَانَ وَهَوَازِنَ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثُمَّ قَالَ شَرُّ قَبِيلَتَيْنِ فِي الْعَرَبِ نَجْرَانُ وَبَنُو تَغْلِبَ وَأَكْثَرُ الْقَبَائِلِ فِي الْجَنَّةِ مَذْحِجٌ وَمَأْكُولُ قَالَ قَالَ أَبُو الْمُغِيرَةِ قَالَ صَفْوَانُ حِمْيَرَ حِمْيَرَ خَيْرٌ مِنْ آكِلِهَا قَالَ مَنْ مَضَى خَيْرٌ مِمَّنْ بَقِيَ

حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے گھوڑے پیش کئے جارہے تھے اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عیینہ بن حصن بھی تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا میں تم سے زیادہ عمدہ گھوڑے پہچانتا ہوں اس نے کہا کہ میں آپ سے بہتر، مردوں کو پہچانتا ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ کیسے ؟ اس نے کہا کہ بہترین مرد وہ ہوتے ہیں جو کندھوں پر تلوار رکھتے ہوں ، گھوڑوں کی گردنوں پر نیزے رکھتے ہوں اور اہل نجد کی چادریں پہنتے ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم غلط کہتے ہو، بلکہ بہترین لوگ یمن کے ہیں ، ایمان یمنی ہے لخم ، جذام اور عاملہ تک یہی حکم ہے حمیر کے گذرے ہوئے لوگ باقی رہ جانے والوں سے بہتر ہیں حضر موت بنوحارث سے بہتر ہے ایک قبیلہ دوسرے سے بہتر اور ایک قبیلہ دوسرے سے بدتر ہوسکتا ہے بخدا! مجھے کوئی پرواہ نہیں اگر دونوں حارث ہلاک ہوجائیں ، چار قسم کے بادشاہوں پر اللہ کی لعنت ہو، (١) بخیل (٢) بدعہد (٣) بدمزاج (٤) کمزور لاغر اور انہیں میں بدخلق بھی شامل ہیں ۔ پھر فرمایا کہ میرے رب نے مجھے دو مرتبہ قریش پر لعنت کرنے کا حکم دیا ہے چنانچہ میں نے ان پر لعنت کردی پھر مجھے ان کے لئے دعاء رحمت کرنے کا دو مرتبہ حکم دیا تو میں نے ان کے لئے دعا کردی اور فرمایا کہ قبیلہ عصیہ نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ہے سوائے قیس ، جعدہ اور عصیہ کے نیز فرمایا کہ قبیلہ اسلم ،غفار، مزینہ اور جہینہ میں ان کے مشترکہ خاندان قبیلے نجران اور بنوتغلب ہیں اور جنت میں سب سے زیادہ اکثریت والے قبیلے مذحج اور ماکول ہوں گے۔

عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ السُّلَمِيِّ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِذٍ الْأَزْدِيِّ ← شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ ← صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، ← أَبُو الْمُغِيرَةِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19675

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19676

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ ثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى وَجَوْفُ اللَّيْلِ الْآخِرُ أَجْوَبُهُ دَعْوَةً قُلْتُ أَوْجَبُهُ قَالَ لَا بَلْ أَجْوَبُهُ يَعْنِي بِذَلِكَ الْإِجَابَةَ قَالَ

حضرت عمروبن عبسہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رات کی نماز دو رکعتیں کرکے پڑھی جائے اور رات کے آخری پہر میں دعاء سب سے زیادہ قبول ہوتی ہے۔

لَا بَلْ أَجْوَبُهُ يَعْنِي بِذَلِكَ الْإِجَابَةَ ← صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى وَجَوْفُ اللَّيْلِ الْآخِرُ أَجْوَبُهُ دَعْوَةً قُلْتُ أَوْجَبُهُ ← النَّبِيِّ ← عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ ← حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ ← أَبُو الْيَمَانِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19676

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19677

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ قَيْسٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِكَ

حضرت عمروبن عبسہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رات کی نماز دو رکعتیں کرکے پڑھی جائے اور رات کے آخری پہر میں دعاء سب سے زیادہ قبول ہوتی ہے۔

النَّبِيِّ مِثْلَ ذَلِكَ ← عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ ← عَطِیَّۃَ بْنِ قَیْسٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ ← أَبُو الْيَمَانِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19677

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19678

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ عَنْ عَطِيَّةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى وَجَوْفُ اللَّيْلِ الْآخِرُ أَوْجَبُهُ دَعْوَةً قَالَ فَقُلْتُ أَوْجَبُهُ قَالَ لَا وَلَكِنْ أَوْجَبُهُ يَعْنِي بِذَلِكَ الْإِجَابَةَ

حضرت عمروبن عبسہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رات کی نماز دو رکعتیں کرکے پڑھی جائے اور رات کے آخری پہر میں دعاء سب سے زیادہ قبول ہوتی ہے۔

عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ ← عَطِيَّةَ، ← أَبُو بَکْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19678

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19679

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ عَنْ رَجُلٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ قَالَ بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْرِضُ خَيْلًا وَعِنْدَهُ عُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنِ بْنِ حُذَيْفَةَ بْنِ بَدْرٍ الْفَزَارِيُّ فَقَالَ لِعُيَيْنَةَ أَنَا أَبْصَرُ بِالْخَيْلِ مِنْكَ فَقَالَ عُيَيْنَةُ وَأَنَا أَبْصَرُ بِالرِّجَالِ مِنْكَ قَالَ فَكَيْفَ ذَاكَ قَالَ خِيَارُ الرِّجَالِ الَّذِينَ يَضَعُونَ أَسْيَافَهُمْ عَلَى عَوَاتِقِهِمْ وَيَعْرِضُونَ رِمَاحَهُمْ عَلَى مَنَاسِجِ خُيُولِهِمْ مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ قَالَ كَذَبْتَ خِيَارُ الرِّجَالِ رِجَالُ أَهْلِ الْيَمَنِ وَالْإِيمَانُ يَمَانٍ وَأَنَا يَمَانٍ وَأَكْثَرُ الْقَبَائِلِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي الْجَنَّةِ مَذْحِجٌ وحَضْرَمَوْتُ خَيْرٌ مِنْ بَنِي الْحَارِثِ وَمَا أُبَالِي أَنْ يَهْلِكَ الْحَيَّانِ كِلَاهُمَا فَلَا قِيلَ وَلَا مُلْكَ إِلَّا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَعَنَ اللَّهُ الْمُلُوكَ الْأَرْبَعَةَ جَمَدَاءَ وَمِشْرَخَاءَ وَمِخْوَسَاءَ وَأَبْضَعَةَ وَأُخْتَهُمْ الْعَمَرَّدَةَ

حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے گھوڑے پیش کئے جارہے تھے اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عیینہ بن حصن بھی تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا میں تم سے زیادہ عمدہ گھوڑے پہچانتا ہوں اس نے کہا کہ میں آپ سے بہتر، مردوں کو پہچانتا ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ کیسے ؟ اس نے کہا کہ بہترین مرد وہ ہوتے ہیں جو کندھوں پر تلوار رکھتے ہوں ، گھوڑوں کی گردنوں پر نیزے رکھتے ہوں اور اہل نجد کی چادریں پہنتے ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم غلط کہتے ہو، بلکہ بہترین لوگ یمن کے ہیں ، ایمان یمنی ہے لخم ، جذام اور عاملہ تک یہی حکم ہے حمیرکے گذرے ہوئے لوگ باقی رہ جانے والوں سے بہتر ہیں حضرموت بنوحارث سے بہتر ہے ایک قبیلہ دوسرے سے بہتر اور ایک قبیلہ دوسرے سے بدتر ہوسکتا ہے بخدا! مجھے کوئی پرواہ نہیں اگر دونوں حارث ہلاک ہوجائیں ، چار قسم کے بادشاہوں پر اللہ کی لعنت ہو، (١) بخیل (٢) بدعہد (٣) بدمزاج (٤) کمزور لاغر اور انہیں میں بدخلق بھی شامل ہیں ۔

عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ ← رَجُلٌ: ← يَزِيدَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ← زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← حَسَنُ بْنُ مُوسَی

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19679

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19680

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَيْفِيٍّ الْأَنْصَارىِّ قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ عَاشُورَاءَ فَقَالَ أَصُمْتُمْ يَوْمَكُمْ هَذَا فَقَالَ بَعْضُهُمْ نَعَمْ وَقَالَ بَعْضُهُمْ لَا قَالَ فَأَتِمُّوا بَقِيَّةَ يَوْمِكُمْ هَذَا وَأَمَرَهُمْ أَنْ يُؤْذِنُوا أَهْلَ الْعَرُوضِ أَنْ يُتِمُّوا يَوْمَهُمْ ذَلِكَ

حضرت محمد بن صیفی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عاشورہ کے دن ہمارے یہاں تشریف لائے اور فرمایا کیا تم نے آج کا روزہ رکھا ہے ؟ بعض نے اثبات میں جواب دیا اور بعض نے نفی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آج کے بقیہ دن کھائے پیئے بغیر مکمل کرلو اور حکم دیا کہ اہل مدینہ اردگرد کے لوگوں کو بھی اطلاع کردیں کہ اپنا دین کھائے پیئے بغیر مکمل کریں ۔

بَعْضُهُمْ: لَا. ← بَعْضُهُمْ: نَعَمْ. ← "أَصُمْتُمْ يَوْمَكُمْ هَذَا؟ ← خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّه فِي يَوْمِ عَاشُورَاءَ، ← محمد بن صيفي الانصاري ← الشَّعْبِيِّ، ← حُصَيْنٍ ← هُشَيْمٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19680

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19681

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ الْأَنْصَارِيُّ عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ عَنْ عَمِّهِ يَزِيدَ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا وَرَدْنَا الْبَقِيعَ إِذَا هُوَ بِقَبْرٍ جَدِيدٍ فَسَأَلَ عَنْهُ فَقِيلَ فُلَانَةُ فَعَرَفَهَا فَقَالَ أَلَا آذَنْتُمُونِي بِهَا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ كُنْتَ قَائِلًا صَائِمًا فَكَرِهْنَا أَنْ نُؤْذِنَكَ فَقَالَ لَا تَفْعَلُوا لَا يَمُوتَنَّ فِيكُمْ مَيِّتٌ مَا كُنْتُ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ أَلَا آذَنْتُمُونِي بِهِ فَإِنَّ صَلَاتِي عَلَيْهِ لَهُ رَحْمَةٌ قَالَ ثُمَّ أَتَى الْقَبْرَ فَصَفَّنَا خَلْفَهُ وَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا

حضرت یزید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے جنت البقیع میں پہنچے تو وہاں ایک نئی قبر نظر آئی نبی کے پوچھا کہ یہ کس کی قبر ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ فلاں عورت کی ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پہچان گئے اور فرمایا تم نے اس کے متعلق مجھے کیوں نہیں بتایا؟ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ روزے کی حالت میں تھے اور قیلولہ فرما رہے تھے ہم نے آپ کو تنگ کرنا مناسب نہ سمجھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسا نہ کیا کرو، میں جب تک تم میں موجود ہوں تو مجھے اپنے درمیان فوت ہونے والوں کی اطلاع ضرور دیا کرو کیونکہ میرا اس کی نماز جنازہ پڑھانا اس کے لئے باعث رحمت ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی قبر کے قریب پہنچنے ہم پیچھے صف بندی کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر چار تکبیرات کہیں ۔

عَمِّہِ یَزِیدَ بْنِ ثَابِتٍ، ← خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ حَکِيمٍ الْأَنْصَارِيُّ ← هُشَيْمٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19681

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19682

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ عُثْمَانَ يَعْنِي ابْنَ حَكِيمٍ عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ عَنْ عَمِّهِ يَزِيدَ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَصْحَابِهِ فَطَلَعَتْ جِنَازَةٌ فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَارَ وَثَارَ أَصْحَابُهُ مَعَهُ فَلَمْ يَزَالُوا قِيَامًا حَتَّى نَفَذَتْ قَالَ وَاللَّهِ مَا أَدْرِي مِنْ تَأَذٍّ بِهَا أَوْ مِنْ تَضَايُقِ الْمَكَانِ وَلَا أَحْسِبُهَا إِلَّا يَهُودِيًّا أَوْ يَهُودِيَّةً وَمَا سَأَلْنَا عَنْ قِيَامِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت یزید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ صحابہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک جنازہ آگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے دیکھ کر کھڑے ہوگئے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ بھی کھڑے ہوگئے اور اس وقت تک کھڑے رہے جب تک جنازہ گذر نہ گیا واللہ میں نہیں جانتا کہ کتنے لوگوں کو اس جنازے کیوجہ سے یا جگہ کے تنگ ہونے کی وجہ سے تکلیف ہوئی اور میرا خیال یہی ہے کہ وہ جنازہ کسی یہودی مرد یا عورت کا تھا لیکن ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کھڑے ہونے کی وجہ نہیں پوچھی ۔

عَمِّہِ یَزِیدَ بْنِ ثَابِتٍ، ← خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ، ← عُثْمَانُ يَعْنِي ابْنَ حَکِيمٍ ← ابْنِ نُمَيْرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19682

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19683

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شَرِيدٍ عَنْ أَبِيهِ الشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ قَالَ مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا جَالِسٌ هَكَذَا وَقَدْ وَضَعْتُ يَدِي الْيُسْرَى خَلْفَ ظَهْرِي وَاتَّكَأْتُ عَلَى أَلْيَةِ يَدِي فَقَالَ أَتَقْعُدُ قَعْدَةَ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ

حضرت شرید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گذرے میں اس وقت اس طرح بیٹھا ہوا تھا کہ اپنا بایاں ہاتھ اپنی کمر کے پیچھے رکھ ہاتھ کے نچلے حصے پر ٹیک لگا رکھی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم ان لوگوں کی طرح بیٹھتے ہوجن پر اللہ کاغضب نازل ہوا۔

أَتَقْعُدُ قِعْدَةَ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ ← جَالِسٌ هَکَذَا وَقَدْ وَضَعْتُ يَدِيَ الْيُسْرَی خَلْفَ ظَهْرِي وَاتَّکَأْتُ عَلَی أَلْيَةِ يَدِي ← مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ ← أَبِيهِ الشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ، ← عَمْرِو بْنِ شَرِيدٍ، ← اِبْرَاھِیْمَ بْنِ مَیْسَرَۃَ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19683

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19684

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنِ الشَّرِيدِ أَنَّ أُمَّهُ أَوْصَتْ أَنْ يُعْتِقُوا عَنْهَا رَقَبَةً مُؤْمِنَةً فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ عِنْدِي جَارِيَةٌ سَوْدَاءُ نُوبِيَّةٌ فَأُعْتِقُهَا عَنْهَا فَقَالَ ائْتِ بِهَا فَدَعَوْتُهَا فَجَاءَتْ فَقَالَ لَهَا مَنْ رَبُّكِ قَالَتْ اللَّهُ قَالَ مَنْ أَنَا قَالَتْ أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ قَالَ أَعْتِقْهَا فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ

حضرت شرید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہیں ان کی والدہ نے یہ وصیت کی کہ ان کی طرف سے ایک مسلمان غلام آزاد کر دیں انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھتے ہوئے کہا کہ میرے پاس حبشہ کے ایک علاقے نوبیہ کی ایک باندی ہے کیا میں اسے آزاد کرسکتا ہوں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے لے کر آؤ میں نے اسے بلایا وہ آگئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا تیرا رب کون ہے ؟ اس نے کہا اللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا میں کون ہوں ۔ ؟ اس نے جواب دیا آپ اللہ کے رسول ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے آزاد کر دو یہ مسلمان ہے۔

أَعْتِقْهَا فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ ← أَنْتُ رَسُولُ اللَّهِ ← مَنْ ← اللہُ ← لَهَا مَنْ رَبُّكِ ← ائْتِ بِهَا فَدَعَوْتُهَا فَجَاءَتْ ← عِنْدِي جَارِيَةٌ سَوْدَاءُ نُوبِيَّةٌ فَأُعْتِقُهَا عَنْهَا ← ذَلِكَ ← الشَّرِيدِ أَنَّ أُمَّهُ أَوْصَتْ أَنْ يُعْتِقُوا عَنْهَا رَقَبَةً مُؤْمِنَةً فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19684

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19685

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا وَبْرُ بْنُ أَبِي دُلَيْلَةَ شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الطَّائِفِ عَنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَيْمُونِ بْنِ مُسَيْكَةَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ خَيْرًا عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُّ الْوَاجِدِ يُحِلُّ عِرْضَهُ وَعُقُوبَتَهُ قَالَ وَكِيعٌ عِرْضُهُ شِكَايَتُهُ وَعُقُوبَتُهُ حَبْسُهُ

حضرت شرید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مالدار کا ٹال مٹول کرنا اس کی شکایت اور اسے قید کرنے کو حلال کردیتا ہے ۔

أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونِ بْنِ مُسَيْكَةَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ خَيْرًا ← وَبَرُ بْنُ أَبِي دُلَيْلَةَ، شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الطَّائِفِ، ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19685

chevron_left Previous
1…118119120…146
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter