Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19650

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ حَدِيدٍ الْبَجَلِيِّ عَنْ صَخْرٍ الْغَامِدِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا قَالَ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ سَرِيَّةً بَعَثَهَا أَوَّلَ النَّهَارِ وَكَانَ صَخْرٌ رَجُلًا تَاجِرًا فَكَانَ لَا يَبْعَثُ غِلْمَانَهُ إِلَّا مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ فَكَثُرَ مَالُهُ حَتَّى لَا يَدْرِيَ أَيْنَ يَضَعُ مَالَهُ

حضرت صخر غامدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعاء فرماتے تھے کہ اے اللہ میری امت کے پہلے اوقات میں برکت فرما خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی لشکر روانہ فرماتے تھے کہ اس لشکر کو دن کے ابتدائی حصے میں بھیجتے تھے اور راوی حدیث حضرت صخر رضی اللہ عنہ تاجر آدمی تھے یہ بھی اپنے نوکروں کو صبح سویرے ہی بھیجتے تھے نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے پاس مال ودولت کی اتنی کثرت ہوگئی کہ انہیں یہ سمجھ نہیں آتا تھا کہ اپنا مال ودولت کہاں رکھیں ؟

اللَّهُمَّ بَارِكْ لأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا. ← النَّبِيِّ ← صَخْرٍ الْغَامِدِيِّ، ← عُمَارَةَ بْنِ حَدِيدٍ الْبَجَلِيِّ، ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19650

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19651

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُفْيَانَ الثَّقَفِيِّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَقَدْ قَالَ هُشَيْمٌ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مُرْنِي فِي الْإِسْلَامِ بِأَمْرٍ لَا أَسْأَلُ عَنْهُ أَحَدًا بَعْدَكَ قَالَ قُلْ آمَنْتُ بِاللَّهِ ثُمَّ اسْتَقِمْ قَالَ قُلْتُ فَمَا أَتَّقِي فَأَوْمَأَ إِلَى لِسَانِهِ

حضرت سفیان بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اسلام کے حوالے سے کوئی ایسی بات بتادیجئے کہ مجھے آپ کے بعد کسی سے کچھ پوچھنے کی ضرورت ہی نہ رہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پہلے زبان سے اقرار کرو کہ میں اللہ پر ایمان لایا پھر اس پر ہمیشہ ثابت قدم رہو میں نے عرض کیا کہ میں کس چیز سے بچوں ؟ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان کی طرف اشارہ کردیا۔

أَبِيهِ أَنَّ رَجُلًا ← عَبْدِ اللهِ بْنِ سُفْيَانَ الثَّقَفِيِّ، ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← هُشَيْمٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19651

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19652

حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ أَشْعَثَ بْنِ جَابِرٍ الْحُدَّانِيِّ عَنْ مَكْحُولٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْخٌ كَبِيرٌ يَدَّعِمُ عَلَى عَصًا لَهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي غَدَرَاتٍ وَفَجَرَاتٍ فَهَلْ يُغْفَرُ لِي قَالَ أَلَسْتَ تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ قَالَ بَلَى وَأَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ قَالَ قَدْ غُفِرَ لَكَ غَدَرَاتُكَ وَفَجَرَاتُكَ

حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک بہت بوڑھا آدمی لاٹھی کے سہارے چلتا ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں نے بڑے دھوکے دیئے ہیں اور بڑے گناہ کئے ہیں کیا میری بخشش ہوسکتی ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے سب دھوکے اور گناہ معاف ہوگئے۔

جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ شَيْخٌ كَبِيرٌ يَدَّعِمُ عَلَى عَصًا لَهُ فَقَالَ ← عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ ← مَكْحُولٌ ← أَشْعَثُ بْنُ جَابِرٍ الْحُدَّانِيُّ، ← نُوحُ بْنُ قَيْسٍ ← سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19652

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19653

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ وَهُوَ الرَّحَبِيُّ حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِعُكَاظٍ فَقُلْتُ مَنْ تَبِعَكَ عَلَى هَذَا الْأَمْرِ فَقَالَ حُرٌّ وَعَبْدٌ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَبِلَالٌ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا فَقَالَ لِي ارْجِعْ حَتَّى يُمَكِّنَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِرَسُولِهِ فَأَتَيْتُهُ بَعْدُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ شَيْئًا تَعْلَمُهُ وَأَجْهَلُهُ لَا يَضُرُّكَ وَيَنْفَعُنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِ هَلْ مِنْ سَاعَةٍ أَفْضَلُ مِنْ سَاعَةٍ وَهَلْ مِنْ سَاعَةٍ يُتَّقَى فِيهَا فَقَالَ لَقَدْ سَأَلْتَنِي عَنْ شَيْءٍ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَحَدٌ قَبْلَكَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَتَدَلَّى فِي جَوْفِ اللَّيْلِ فَيَغْفِرُ إِلَّا مَا كَانَ مِنْ الشِّرْكِ وَالْبَغْيِ فَالصَّلَاةُ مَشْهُودَةٌ مَحْضُورَةٌ فَصَلِّ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَإِذَا طَلَعَتْ فَأَقْصِرْ عَنْ الصَّلَاةِ فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ وَهِيَ صَلَاةُ الْكُفَّارِ حَتَّى تَرْتَفِعَ فَإِذَا اسْتَقَلَّتْ الشَّمْسُ فَصَلِّ فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَحْضُورَةٌ مَشْهُودَةٌ حَتَّى يَعْتَدِلَ النَّهَارُ فَإِذَا اعْتَدَلَ النَّهَارُ فَأَقْصِرْ عَنْ الصَّلَاةِ فَإِنَّهَا سَاعَةٌ تُسَجَّرُ فِيهَا جَهَنَّمُ حَتَّى يَفِيءَ الْفَيْءُ فَإِذَا فَاءَ الْفَيْءُ فَصَلِّ فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَحْضُورَةٌ مَشْهُودَةٌ حَتَّى تَدَلَّى الشَّمْسُ لِلْغُرُوبِ فَإِذَا تَدَلَّتْ فَأَقْصِرْ عَنْ الصَّلَاةِ حَتَّى تَغِيبَ الشَّمْسُ فَإِنَّهَا تَغِيبُ عَلَى قَرْنَيْ شَيْطَانٍ وَهِيَ صَلَاةُ الْكُفَّارِ

حضرت عمروبن عبسہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے عکاظ میں بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ اس دین کے معاملے میں آپ کی پیروی کون لوگ کررہے ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آزاد بھی اور غلام بھی اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ تھے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا ابھی تم واپس چلے جاؤ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر کو غلبہ عطاء فرمادے چنانچہ کچھ عرصے بعد میں دوبارہ حاضر ہوا اور عرض کیا اللہ مجھے آپ پر نثار کرے کچھ چیزیں ہیں جو آپ جانتے ہیں لیکن میں نہیں جانتا مجھے بتانے سے آپ کا کوئی نقصان نہیں ہوگا البتہ اللہ تعالیٰ مجھے اس سے فائدہ پہنچادے گا کیا اوقات میں سے کوئی خاص وقت زیادہ افضل ہے ؟ کیا کوئی وقت ایسا بھی ہے جس میں نماز سے اجتناب کیا جائے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے مجھ سے ایسا سوال پوچھا ہے جو تم سے پہلے کسی نے نہیں پوچھا اللہ تعالیٰ درمیانی رات میں آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے اور شرک و بدکاری کے علاوہ سب گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے اس وقت نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں لہٰذا تم طلوع آفتاب تک نماز پڑھتے رہوجب سورج طلوع ہوجائے تب بھی اس وقت تک نہ پڑھوجب تک کہ سورج بلند نہ ہوجائے ، کیونکہ جب وہ طلوع ہوتا ہے شیطان کے دوسینگوں کے درمیان کے درمیان طلوع ہوتا ہے اور اسی وقت کفار اسے سجدہ کرتے ہیں ، البتہ جب وہ ایک یا دو نیزے کے برابر بلند ہوجائے تو پھر نماز پڑھ سکتے ہو کیونکہ یہ نماز فرشتوں کی حاضری والی ہوتی ہے، یہاں تک کہ نیزے کا سایہ پیدا ہونے لگے تو نماز سے رک جاؤ کیونکہ اس وقت جہنم کودھکایا جاتا ہے البتہ جب سایہ ڈھل جائے تو تم نماز پڑھ سکتے ہو کیونکہ اس نماز میں بھی فرشتے حاضر ہوتے ہیں یہاں تک کہ تم عصر کی نماز پڑھ لو نماز عصر پڑھنے کے بعد غروب آفتاب تک نوافل پڑھنے سے رک جاؤ کیونکہ وہ شیطان کے دوسینگوں کے درمیان غروب ہوتا ہے اور اسے اس وقت کفارسجدہ کرتے ہیں ۔

حُرٌّ وَعَبْدٌ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَبِلَالٌ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا ← أتيت رسول الله وهو بعكاظ فقلت من تبعك على هذا الأمر ← عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ ← سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ ← حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ وَهُوَ الرَّحَبِيُّ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19653

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19654

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ مَنْ تَابَعَكَ عَلَى أَمْرِكَ هَذَا قَالَ حُرٌّ وَعَبْدٌ يَعْنِي أَبَا بَكْرٍ وَبِلَالًا رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا وَكَانَ عَمْرٌو يَقُولُ بَعْدَ ذَلِكَ فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي وَإِنِّي لَرُبُعُ الْإِسْلَامِ

حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں (قبول اسلام سے پہلے ) حاضر ہوا اور پوچھا کہ آپ کے اس دین کی پیروی کرنے والے کون لوگ ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آزادبھی اور غلام بھی، مراد حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ تھے اور حضرت عمرو رضی اللہ عنہ بعد میں کہتے ہیں کہ میں نے وہ زمانہ دیکھا ہے جب میں اسلام کا چوتھائی رکن تھا۔

بَعْدَ ذَلِكَ فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي وَإِنِّي لَرُبُعُ الْإِسْلَامِ ← حُرٌّ وَعَبْدٌ يَعْنِي أَبَا بَكْرٍ وَبِلَالًا رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا وَكَانَ عَمْرٌو ← أَتَيْتُ النَّبِيَّ فَقُلْتُ مَنْ تَابَعَكَ عَلَى أَمْرِكَ هَذَا ← عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← هُشَيْمٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19654

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19655

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ ذَكْوَانَ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ تَبِعَكَ عَلَى هَذَا الْأَمْرِ قَالَ حُرٌّ وَعَبْدٌ قُلْتُ مَا الْإِسْلَامُ قَالَ طِيبُ الْكَلَامِ وَإِطْعَامُ الطَّعَامِ قُلْتُ مَا الْإِيمَانُ قَالَ الصَّبْرُ وَالسَّمَاحَةُ قَالَ قُلْتُ أَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ قَالَ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ قَالَ قُلْتُ أَيُّ الْإِيمَانِ أَفْضَلُ قَالَ خُلُقٌ حَسَنٌ قَالَ قُلْتُ أَيُّ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ قَالَ طُولُ الْقُنُوتِ قَالَ قُلْتُ أَيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ قَالَ أَنْ تَهْجُرَ مَا كَرِهَ رَبُّكَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ قُلْتُ فَأَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ قَالَ مَنْ عُقِرَ جَوَادُهُ وَأُهْرِيقَ دَمُهُ قَالَ قُلْتُ أَيُّ السَّاعَاتِ أَفْضَلُ قَالَ جَوْفُ اللَّيْلِ الْآخِرُ ثُمَّ الصَّلَاةُ مَكْتُوبَةٌ مَشْهُودَةٌ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ فَإِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ فَلَا صَلَاةَ إِلَّا الرَّكْعَتَيْنِ حَتَّى تُصَلِّيَ الْفَجْرَ فَإِذَا صَلَّيْتَ صَلَاةَ الصُّبْحِ فَأَمْسِكْ عَنْ الصَّلَاةِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَإِذَا طَلَعَتْ الشَّمْسُ فَإِنَّهَا تَطْلُعُ فِي قَرْنَيْ شَيْطَانٍ وَإِنَّ الْكُفَّارَ يُصَلُّونَ لَهَا فَأَمْسِكْ عَنْ الصَّلَاةِ حَتَّى تَرْتَفِعَ فَإِذَا ارْتَفَعَتْ فَالصَّلَاةُ مَكْتُوبَةٌ مَشْهُودَةٌ حَتَّى يَقُومَ الظِّلُّ قِيَامَ الرُّمْحِ فَإِذَا كَانَ كَذَلِكَ فَأَمْسِكْ عَنْ الصَّلَاةِ حَتَّى تَمِيلَ فَإِذَا مَالَتْ فَالصَّلَاةُ مَكْتُوبَةٌ مَشْهُودَةٌ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَإِذَا كَانَ عِنْدَ غُرُوبِهَا فَأَمْسِكْ عَنْ الصَّلَاةِ فَإِنَّهَا تَغْرُبُ أَوْ تَغِيبُ فِي قَرْنَيْ شَيْطَانٍ وَإِنَّ الْكُفَّارَ يُصَلُّونَ لَهَا

حضرت عمروبن عبسہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے عکاظ میں بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کرعرض کیا کہ اس دین کے معاملے میں آپ کی پیروی کون لوگ کررہے ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آزادبھی اور غلام بھی اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ تھے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا ابھی تم واپس چلے جاؤیہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبرکوغلبہ عطاء فرمادے چنانچہ کچھ عرصے بعد میں دوبارہ حاضر ہوا اور عرض کیا اللہ مجھے آپ پر نثار کرے کچھ چیزیں ہیں جو آپ جانتے ہیں لیکن میں نہیں جانتا مجھے بتانے سے آپ کا کوئی نقصان نہیں ہوگا البتہ اللہ تعالیٰ مجھے اس سے فائدہ پہنچادے گا کیا اوقات میں سے کوئی خاص وقت زیادہ افضل ہے ؟ کیا کوئی وقت ایسابھی ہے جس میں نماز سے اجتناب کیا جائے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے مجھ سے ایسا سوال پوچھاہے جو تم سے پہلے کسی نے نہیں پوچھا اللہ تعالیٰ درمیانی رات میں آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے اور شرک وبدکاری کے علاوہ سب گناہوں کو معاف فرمادیتا ہے اس وقت نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں لہٰذاتم طلوع آفتاب تک نماز پڑھتے رہوجب سورج طلوع ہوجائے تب بھی اس وقت تک نہ پڑھوجب تک کہ سورج بلند نہ ہوجائے ، کیونکہ جب وہ طلوع ہوتا ہے شیطان کے دوسینگوں کے درمیان کے درمیان طلوع ہوتا ہے اور اسی وقت کفاراسے سجدہ کرتے ہیں ، البتہ جب وہ ایک یا دو نیزے کے برابر بلند ہوجائے تو پھر نماز پڑھ سکتے ہو کیونکہ یہ نماز فرشتوں کی حاضری والی ہوتی ہے، یہاں تک کہ نیزے کا سایہ پیداہونے لگے تو نماز سے رک جاؤ کیونکہ اس وقت جہنم کودہکایا جاتا ہے البتہ جب سایہ ڈھل جائے تو تم نماز پڑھ سکتے ہو کیونکہ اس نماز میں بھی فرشتے حاضر ہوتے ہیں یہاں تک کہ تم عصر کی نماز پڑھ لو نماز عصر پڑھنے کے بعد غروب آفتاب تک نوافل پڑھنے سے رک جاؤ کیونکہ وہ شیطان کے دوسینگوں کے درمیان غروب ہوتا ہے اور اسے اس وقت کفارسجدہ کرتے ہیں ۔

أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ فَقُلْتُ: ← عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ ذَكْوَانَ ← حَجَّاجٌ يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ ← ابْنِ نُمَيْرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19655

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19656

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي الْفَيْضِ عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ قَالَ كَانَ بَيْنَ مُعَاوِيَةَ وَبَيْنَ قَوْمٍ مِنْ الرُّومِ عَهْدٌ فَخَرَجَ مُعَاوِيَةُ قَالَ فَجَعَلَ يَسِيرُ فِي أَرْضِهِمْ حَتَّى يَنْقُضُوا فَيُغِيرَ عَلَيْهِمْ فَإِذَا رَجُلٌ يُنَادِي فِي نَاحِيَةِ النَّاسِ وَفَاءٌ لَا غَدْرٌ فَإِذَا هُوَ عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَوْمٍ عَهْدٌ فَلَا يَشِدَّ عُقْدَةً وَلَا يَحُلَّ حَتَّى يَمْضِيَ أَمَدُهَا أَوْ يَنْبِذَ إِلَيْهِمْ عَلَى سَوَاءٍ

سلیم بن عامر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ فوج کو لے کرہ ارض روم کی طرف چل پڑے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور رومیوں کے درمیان طے شدہ معاہدے کی کچھ مدت ابھی باقی تھی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے سوچاکہ ان کے قریب پہنچ کر رک جاتے ہیں جوں ہی مدت ختم ہوگی ان سے جنگ شروع کردیں گے لیکن دیکھا کہ ایک شیخ سواری پر سواریہ کہتے جارہے ہیں " اللہ اکبر اللہ اکبر " وعدہ پورا کیا جائے عہد شکنی نہ کی جائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے جس شخص کا کسی قوم کے ساتھ کوئی معاہدہ ہو تو اسے مدت گذرنے سے پہلے یا ان کی طرف سے عہدشکنی سے پہلے اس کی گرہ کھولنی اور بند نہیں کرنی چاہئے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو یہ بات معلوم ہوئی تو وہ واپس لوٹ گئے اور پتہ چلاکہ وہ شیخ حضرت عمروبن عبسہ رضی اللہ عنہ تھے۔

سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ ← أَبِي الْفَيْضِ ← شُعْبَةُ، ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19656

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19657

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا الْفَرَجُ حَدَّثَنَا لُقْمَانُ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ السُّلَمِيِّ قَالَ قُلْتُ لَهُ حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ فِيهِ انْتِقَاصٌ وَلَا وَهْمٌ قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ مَنْ وُلِدَ لَهُ ثَلَاثَةُ أَوْلَادٍ فِي الْإِسْلَامِ فَمَاتُوا قَبْلَ أَنْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ أَدْخَلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْجَنَّةَ بِرَحْمَتِهِ إِيَّاهُمْ

ابوامامہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمروبن عبسہ رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیے جس میں کوئی کمی بیشی یا وہم نہ ہو انہوں نے جواب دیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناکہ حالت اسلام میں جس شخص کے یہاں تین بچے پیدا ہوں ، اور وہ بلوغت کی عمر کو پہنچنے سے پہلے فوت ہوجائیں ، تو اللہ تعالیٰ اس شخص کو ان بچوں پر شفقت کی وجہ سے جنت میں داخل فرمادے گا۔

مِنْ رسولِ الله ليسَ فيه انْتِقاصٌ ولا وَهْمٌ، ← حَدِيثًا ← قُلْتُ لَهُ ← عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ السُّلَمِيِّ ← اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← لُقْمَانُ، ← الْفَرَجُ ← هاشم بن القاسم

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19657

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19658

وَمَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ كَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ

اور جو شخص اللہ کے راستہ میں بوڑھا ہوجائے تو وہ بڑھاپا قیامت کے دن اس کے لئے باعث نور ہوگا ۔

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19658

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19659

وَمَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بَلَغَ بِهِ الْعَدُوَّ أَصَابَ أَوْ أَخْطَأَ كَانَ لَهُ كَعِدْلِ رَقَبَةٍ

اور جو شخص کوئی تیر پھینکے " خواہ وہ نشانے پر لگے یاچوک جائے " تو یہ ایسے ہے جیسے کسی غلام کو آزاد کرنا۔

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19659

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19660

وَمَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً أَعْتَقَ اللَّهُ بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهَا عُضْوًا مِنْهُ مِنْ النَّارِ

اور جو شخص کسی مسلمان غلام کو آزاد کرائے اس کے ہر عضو کے بدلے میں وہ اس کے لئے جہنم سے آزادی کا پروانہ بن جائے گا

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19660

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19661

وَمَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَإِنَّ لِلْجَنَّةِ ثَمَانِيَةَ أَبْوَابٍ يُدْخِلُهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ أَيِّ بَابٍ شَاءَ مِنْهَا الْجَنَّةَ

اور جو شخص اللہ کے راستہ میں دوجوڑے خرچ کرتا ہے اس کے لئے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دئیے جاتے ہیں کہ جس دروازے سے چاہے جنت میں داخل ہوجائے ۔

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19661

chevron_left Previous
1…116117118…146
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter