Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19638

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنِ الْحَجَّاجِ يَعْنِي الصَّوَّافَ بْنَ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ وَأَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِنَا فَيَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَتَيْنِ وَيُسْمِعُنَا الْآيَةَ أَحْيَانًا وَكَانَ يُطَوِّلُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى مِنْ الظُّهْرِ وَيُقَصِّرُ فِي الثَّانِيَةِ وَكَذَا فِي الصُّبْحِ

حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب ہمیں نماز پڑھاتے تھے تو ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں سورت فاتحہ اور کوئی سی دو سورتیں پڑھ لیتے تھے اور کبھی کبھی کوئی آیت اونچی آواز سے پڑھ کر ہمیں سنا دیتے تھے اور ظہر کی پہلی رکعت نسبتاً لمبی پڑھاتے تھے اور دوسری رکعت مختصر کرتے تھے فجر کی نماز میں بھی اسی طرح کرتے تھے۔

أَبِي قَتَادَةَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ "وَأَبِي سَلَمَةَ" ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْحَجَّاجِ يَعْنِي الصَّوَّافَ بْنَ أَبِي عُثْمَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19638

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19639

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنِ الْحَجَّاجِ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا شَرِبَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَتَنَفَّسْ فِي الْإِنَاءِ وَإِذَا دَخَلَ الْخَلَاءَ فَلَا يَتَمَسَّحْ بِيَمِينِهِ وَإِذَا بَالَ فَلَا يَمَسَّ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ

حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کچھ پیئے تو برتن میں سانس نہ لے جب بیت الخلاء میں داخل ہو تو دائیں ہاتھ سے اسنتجاء نہ کرے اور جب پیشاب کرے تو دائیں ہاتھ سے شرمگاہ کو نہ چھوئے۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْحَجَّاجِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19639

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19640

قَالَ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَأْكُلْ بِشِمَالِهِ وَإِذَا شَرِبَ فَلَا يَشْرَبْ بِشِمَالِهِ وَإِذَا أَخَذَ فَلَا يَأْخُذْ بِشِمَالِهِ وَإِذَا أَعْطَى فَلَا يُعْطِي بِشِمَالِهِ

عبداللہ بن ابی طلحہ رحمتہ اللہ علیہ سے مرسلاًمروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھائے تو وہ بائیں ہاتھ سے نہ کھائے جب پیئے تو بائیں ہاتھ سے نہ پیئے جب کوئی چیز پکڑے تو بائیں ہاتھ سے نہ پکڑے اور جب کوئی چیز دے توبائیں ہاتھ سے نہ دے۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19640

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19641

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ عَنْ عَطِيَّةَ الْقُرَظِيِّ قَالَ عُرِضْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ قُرَيْظَةَ فَشَكُّوا فِيَّ فَأَمَرَ بِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْظُرُوا إِلَيَّ هَلْ أَنْبَتُّ بَعْدُ فَنَظَرُوا فَلَمْ يَجِدُونِي أَنْبَتُّ فَخَلَّى عَنِّي وَأَلْحَقَنِي بِالسَّبْيِ

حضرت عطیہ قرظی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ بنو قریظہ کے موقع پر ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا تو یہ فیصلہ ہوا کہ جس کے زیر ناف بال اگ آئے ہیں اسے قتل کردیا جائے اور جس کے زیر ناف بال نہیں اگے اس کا راستہ چھوڑ دیا جائے میں ان لوگوں میں سے تھا جن کے بال نہیں اگے تھے لہٰذا مجھے چھوڑ دیا گیا ۔

عَطِيَّةَ الْقُرَظِيَّ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← هُشَيْمٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19641

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19642

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ أَنَّهُ سَمِعَ عَطِيَّةَ يَقُولُ كُنْتُ يَوْمَ حَكَمَ سَعْدٌ فِيهِمْ غُلَامًا فَلَمْ يَجِدُونِي أَنْبَتُّ فَهَا أَنَا ذَا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ

حضرت عطیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جس دن حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے بنو قریظہ کے متعلق فیصلہ فرمایا ہے میں ایک چھوٹا لڑکا تھا، انہوں نے میرے زیر ناف بال اگے ہوئے نہیں پائے اسی وجہ سے آج میں تمہارے درمیان موجود ہوں ۔

ذَا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ ← كُنْتُ يَوْمَ حَكَمَ سَعْدٌ فِيهِمْ غُلَامًا فَلَمْ يَجِدُونِي أَنْبَتُّ فَهَا ← عَطِيَّةَ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ أَنَّهُ ← سُفْيَانَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19642

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19643

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ عُقْبَةَ وَلَكِنِّي لِحَدِيثِ عُبَيْدٍ أَحْفَظُ قَالَ تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً فَجَاءَتْنَا امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ فَقَالَتْ إِنِّي قَدْ أَرْضَعْتُكُمَا فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ إِنِّي تَزَوَّجْتُ فُلَانَةَ ابْنَةَ فُلَانٍ فَجَاءَتْنَا امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ فَقَالَتْ إِنِّي قَدْ أَرْضَعْتُكُمَا وَهِيَ كَاذِبَةٌ فَأَعْرَضَ عَنِّي فَأَتَيْتُهُ مِنْ قِبَلِ وَجْهِهِ فَقُلْتُ إِنَّهَا كَاذِبَةٌ فَقَالَ فَكَيْفَ بِهَا وَقَدْ زَعَمَتْ أَنَّهَا قَدْ أَرْضَعَتْكُمَا دَعْهَا عَنْكَ

حضرت عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک خاتون سے نکاح کیا، اس کے بعد ایک سیاہ فام عورت ہمارے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے (اس لئے تم دونوں رضاعی بہن بھائی ہو اور یہ نکاح صحیح نہیں ہے) میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اور عرض کیا کہ میں نے فلاں شخص کی بیٹی سے نکاح کیا، نکاح کے بعد ایک سیاہ فام عورت ہمارے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میں نے تم دونوں کو دودھ پلا دیا ہے حالانکہ وہ جھوٹی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر منہ پھیرلیا، میں سامنے کے رخ سے آیا اور پھر یہی کہا کہ وہ جھوٹ بول رہی ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب تم اس عورت کے پاس کیسے رہ سکتے ہوجبکہ اس سیاہ فام کا کہنا ہے کہ اس نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے ، اسے چھوڑ دو۔

وقد ← عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ ← عُبَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← أَيُّوبَ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19643

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19644

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ تَزَوَّجْتُ ابْنَةَ أَبِي إِهَابٍ فَجَاءَتْ امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ فَذَكَرَتْ أَنَّهَا أَرْضَعَتْنَا فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُمْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَكَلَّمْتُهُ فَأَعْرَضَ عَنِّي فَقُمْتُ عَنْ يَمِينِهِ فَأَعْرَضَ عَنِّي فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا هِيَ سَوْدَاءُ قَالَ وَكَيْفَ وَقَدْ قِيلَ

حضرت عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے بنت ابی اہاب سے نکاح کیا، اس کے بعد ایک سیاہ فام عورت ہمارے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے (اس لئے تم دونوں رضاعی بہن بھائی ہو اور یہ نکاح صحیح نہیں ہے) میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اور عرض کیا کہ میں نے فلاں شخص کی بیٹی سے نکاح کیا، نکاح کے بعد ایک سیاہ فام عورت ہمارے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میں نے تم دونوں کو دودھ پلا دیا ہے حالانکہ وہ جھوٹی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر منہ پھیرلیا، میں دائیں جانب سے آیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر منہ پھیرلیا، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! وہ عورت توسیاہ فام ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب تم اس عورت کے پاس کیسے رہ سکتے ہو جبکہ یہ بات کہہ دی گئی ۔

تَزَوَّجْتُ ابْنَةَ أَبِي إِهَابٍ فَجَاءَتْ امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ فَذَكَرَتْ ← عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، ← سُفْيَانَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19644

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19645

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ حَدَّثَنِي عُقْبَةُ بْنُ الْحَارِثِ قَالَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنُّعَيْمَانِ قَدْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ فِي الْبَيْتِ فَضَرَبُوهُ بِالْأَيْدِي وَالْجَرِيدِ وَالنِّعَالِ قَالَ وَكُنْتُ فِيمَنْ ضَرَبَهُ

حضرت عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک مرتبہ نعیمان کو لایا گیا جن پر شراب نوشی کا الزام تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت گھر میں موجود سارے مردوں کو حکم دیا اور انہوں نے نعیمان کو ہاتھوں ،ٹہنیوں ، اور جوتیوں سے مارا میں بھی مارنے والوں میں شامل تھا۔

عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← أَيُّوبَ، ← أَبِي ← عَبْدُ الصَّمَدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19645

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19646

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ سَرِيعًا فَدَخَلَ عَلَى بَعْضِ نِسَائِهِ ثُمَّ خَرَجَ وَرَأَى مَا فِي وُجُوهِ الْقَوْمِ مِنْ تَعَاجُبِهِمْ لِسُرْعَتِهِ قَالَ ذَكَرْتُ وَأَنَا فِي الصَّلَاةِ تِبْرًا عِنْدَنَا فَكَرِهْتُ أَنْ يُمْسِيَ أَوْ يَبِيتَ عِنْدَنَا فَأَمَرْتُ بِقَسْمِهِ

حضرت عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے عصر کی نماز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھی ، سلام پھیرنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تیزی سے اٹھے اور کسی زوجہ محترمہ کے حجرے میں چلے گئے تھوڑی دیربعد باہر آئے اور دیکھا کہ لوگوں کے چہروں پر تعجب کے آثار ہیں تو فرمایا کہ مجھے نماز میں یہ بات یاد آگئی تھی کہ ہمارے پاس چاندی کا ایک ٹکڑا پڑا رہ گیا ہے میں نے اس بات کو گوارا نہ کیا کہ شام تک یا رات تک وہ ہمارے پاس ہی رہتا ہے اس لئے اسے تقسیم کرنے کا حکم دے کر آیا ہوں ۔

عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، ← رَوْحٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19646

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19647

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ صَلَّى الْعَصْرَ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ

حضرت عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے عصر کی نماز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھی ، سلام پھیرنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تیزی سے اٹھے اور کسی زوجہ محترمہ کے حجرے میں چلے گئے تھوڑی دیربعد باہر آئے اور دیکھا کہ لوگوں کے چہروں پر تعجب کے آثار ہیں تو فرمایا کہ مجھے نماز میں یہ بات یاد آگئی تھی کہ ہمارے پاس چاندی کا ایک ٹکڑا پڑا رہ گیا ہے میں نے اس بات کو گوارا نہ کیا کہ شام تک یا رات تک وہ ہمارے پاس ہی رہتا ہے اس لئے اسے تقسیم کرنے کا حکم دے کر آیا ہوں ۔

انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ حِينَ صَلَّى الْعَصْرَ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ ← عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ، ← أَبُو أَحْمَدَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19647

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19648

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ هِشَامٍ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَبِي نَجِيحٍ السُّلَمِيِّ قَالَ حَاصَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِصْنَ الطَّائِفِ أَوْ قَصْرَ الطَّائِفِ فَقَالَ مَنْ بَلَغَ بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَلَهُ دَرَجَةٌ فِي الْجَنَّةِ فَبَلَغْتُ يَوْمَئِذٍ سِتَّةَ عَشَرَ سَهْمًا وَمَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَهُوَ لَهُ عِدْلُ مُحَرَّرٍ وَمَنْ أَصَابَهُ شَيْبٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَهُوَ لَهُ نُورٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَيُّمَا رَجُلٍ أَعْتَقَ رَجُلًا مُسْلِمًا جَعَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وِقَاءَ كُلِّ عَظْمٍ مِنْ عِظَامِهِ عَظْمًا مِنْ عِظَامِ مُحَرِّرِهِ مِنْ النَّارِ وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ مُسْلِمَةٍ أَعْتَقَتْ امْرَأَةً مُسْلِمَةً فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَاعِلٌ وِقَاءَ كُلِّ عَظْمٍ مِنْ عِظَامِهَا عَظْمًا مِنْ عِظَامِ مُحَرِّرِهَا مِنْ النَّارِ

ابونجیح سلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ طائف کے قلعے کا محاصرہ کرلیا، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس نے ایک تیر ماراجنت میں اس کا ایک درجہ ہوگا چنانچہ میں نے اس دن سولہ تیر پھینکے ، اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناکہ جو شخص اللہ کے راستہ میں ایک تیر پھینکے تو یہ ایک غلام آزاد کرانے کے برابر ہے جو شخص اللہ کے راستہ میں بوڑھا ہوجائے تو وہ بڑھاپا قیامت کے دن اس کے لئے باعث نور ہوگا اور جو شخص کوئی تیر پھینکے " خواہ وہ نشانے پر لگے یاچوک جائے " تو یہ ایسے ہے جیسے حضرت اسماعیل کی اولاد میں کسی غلام کو آزاد کرنا اور جو شخص کسی مسلمان غلام کو آزاد کرائے اس کے ہر عضو کے بدلے میں وہ اس کے لئے جہنم سے آزادی کا پروانہ بن جائے گا اور عورت کے آزاد کرنے کا بھی یہی حکم ہے۔

حَاصَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ حِصْنَ الطَّائِفِ أَوْ قَصْرَ الطَّائِفِ ← أَبِي نَجِيحٍ السُّلَمِيِّ ← مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← قَتَادَةَ ← هِشَامٍ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19648

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19649

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَن سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ الْغَطَفَانِيِّ عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ عَنْ أَبِي نَجِيحٍ السُّلَمِيِّ قَالَ حَاصَرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِصْنَ الطَّائِفِ فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَبَلَغَهُ فَلَهُ دَرَجَةٌ فِي الْجَنَّةِ فَقَالَ رَجُلٌ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنْ رَمَيْتُ فَبَلَغْتُ فَلِي دَرَجَةٌ فِي الْجَنَّةِ قَالَ فَرَمَى فَبَلَغَ قَالَ فَبَلَغْتُ يَوْمَئِذٍ سِتَّةَ عَشَرَ سَهْمًا فَذَكَرَ مَعْنَاهُ

حضرت ابونجیح سلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ طائف کے قلعے کا محاصرہ کرلیا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناکہ جس نے ایک تیر مارا جنت میں اس کا ایک درجہ ہوگا چنانچہ میں نے اس دن سولہ تیرپھینکے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی ۔

مَعْنَاهُ ← فَبَلَغَتْ يَوْمَئِذٍ سِتَّةَ عَشَرَ سَهْمًا. ← فَرَمَى فَبَلَغَ ← رَجُلٌ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنْ رَمَيْتُ فَبَلَغْتُ فَلِي دَرَجَةٌ فِي الْجَنَّةِ ← مَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَبَلَغَهُ فَلَهُ دَرَجَةٌ فِي الْجَنَّةِ ← رَسُولِ اللَّهِ ← حَاصَرْنَا مَعَ النَّبِيِّ حِصْنَ الطَّائِفِ ← أَبِي نَجِيحٍ السُّلَمِيِّ ← مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ، ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ الْغَطَفَانِيِّ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19649

chevron_left Previous
1…115116117…146
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter