Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19626

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي خَالِدٍ قَالَ قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بنِ أَبِي أَوْفَى هَلْ بَشَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَدِيجَةَ قَالَ نَعَمْ بَشَّرَهَا بِبَيْتٍ مِنْ قَصَبٍ لَا صَخَبٌ فِيهِ وَلَا نَصَبٌ

اسماعیل رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کوخوشخبری دی تھی ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جنت میں لکڑی کے ایک محل کی خوشخبری دی تھی جس میں کوئی شوروشغب ہوگا اور نہ ہی کوئی تعب ۔

نَعَمْ بَشَّرَهَا بِبَيْتٍ مِنْ قَصَبٍ لَا صَخَبٌ فِيهِ وَلَا نَصَبٌ ← قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بنِ أَبِي أَوْفَى هَلْ بَشَّرَ رَسُولُ اللَّهِ خَدِيجَةَ ← إِسْمَاعِيلَ يَعْنِي: ابْنَ أَبِي خَالِدٍ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19626

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19627

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أَوْفَى قَالَ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ ثُمَّ خَرَجَ فَطَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَجَعَلْنَا نَسْتُرُهُ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ أَنْ يَرْمِيَهُ أَحَدٌ أَوْ يُصِيبَهُ بِشَيْءٍ فَسَمِعْتُهُ يَدْعُو عَلَى الْأَحْزَابِ يَقُولُ اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ سَرِيعَ الْحِسَابِ هَازِمَ الْأَحْزَابِ اللَّهُمَّ اهْزِمْهُمْ وَزَلْزِلْهُمْ

حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عمرے کے لئے روانہ ہوئے بیت اللہ کا طواف کیا پھر باہر نکل کر صفامروہ کے درمیان سعی کی ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کواہل مکہ سے بچاکرچل رہے تھے کہ کہیں کوئی مشرک انہیں تیر نہ ماردے یا انہیں کوئی تکلیف نہ پہنچادے میں نے انہیں مشرکین کے لشکروں کے لئے بدعاء کرتے ہوئے سنا اے کتاب کونازل کرنے والے اللہ ! جلدی حساب لینے والے لشکروں کو شکست دینے والے ، انہیں شکست سے ہمکنار فرما اور انہیں ہلا کر رکھ دے۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ اَبِیْ اَوْفٰی ← إِسْمَاعِيلُ ← يَحْيَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19627

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19628

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ قَالَ قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى أَوْصَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ قَالَ لَا قُلْتُ فَكَيْفَ أَمْرَ الْمُسْلِمِينَ بِالْوَصِيَّةِ قَالَ أَوْصَى بِكِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ قَالَ طَلْحَةُ وَقَالَ الْهُزَيْلُ بْنُ شُرَحْبِيلَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ كَانَ يَتَأَمَّرُ عَلَى وَصِيِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدَّ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ أَنَّهُ وَجَدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهْدًا فَخُزِمَ أَنْفُهُ بِخِزَامٍ

طلحہ رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی وصیت فرمائی ہے ؟ انہوں نے فرمایا نہیں ، میں نے کہا تو پھر انہوں نے مسلمانوں کو وصیت کا حکم کیسے دے دیا جبکہ خود وصیت کی نہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتاب اللہ پر عمل کرنے کی وصیت فرمائی ہے (لیکن کسی کو کوئی خاص وصیت نہیں فرمائی ')

طَلْحَةَ، ← مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ ← أَوْصَى بِكِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ← لَا، قُلْتُ: فَكَيْفَ أَمَرَ الْمُسْلِمِينَ بِالْوَصِيَّةِ، ← قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى: أَوْصَى النَّبِيُّ بِشَيْءٍ؟ ← طَلْحَۃَ بن مصرف ← مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19628

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19629

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنْ إِبْرَاهِيمَ أَبِي إِسْمَاعِيلَ السَّكْسَكِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَا أَقْرَأُ الْقُرْآنَ فَمُرْنِي بِمَا يُجْزِئُنِي مِنْهُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْ الْحَمْدُ لِلَّهِ وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ قَالَ فَقَالَهَا الرَّجُلُ وَقَبَضَ كَفَّهُ وَعَدَّ خَمْسًا مَعَ إِبْهَامِهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا لِلَّهِ تَعَالَى فَمَا لِنَفْسِي قَالَ قُلْ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَعَافِنِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي قَالَ فَقَالَهَا وَقَبَضَ عَلَى كَفِّهِ الْأُخْرَى وَعَدَّ خَمْسًا مَعَ إِبْهَامِهِ فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ وَقَدْ قَبَضَ كَفَّيْهِ جَمِيعًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ مَلَأَ كَفَّيْهِ مِنْ الْخَيْرِ

حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں قرآن کریم کا تھوڑا ساحصہ بھی یاد نہیں کرسکتا، اس لئے مجھے کوئی ایسی چیز سکھا دیجئے جو میرے لئے کافی ہو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یوں کہہ لیا کرو سبحان اللہ والحمدللہ ولا الہ الا اللہ و اللہ اکبر ولاحول ولاقوۃ الاباللہ اس نے کہا یا رسول اللہ ! یہ تو اللہ تعالیٰ کے لئے ہے میرے لئے کیا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یوں کہہ لیا کرو اے اللہ ! مجھے معاف فرما، مجھ پر رحم فرما، مجھے عافیت عطاء فرما، مجھے ہدایت عطاء فرما اور مجھے رزق عطاء فرما، پھر وہ آدمی پلٹ کر چلا گیا اور اس نے اپنے دونوں ہاتھوں کو مضبوطی سے بند کر رکھا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ شخص تو اپنے ہاتھ خیر سے بھر کر چلا گیا ۔

أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ فَقَالَ: ← عَبْدِ اللہِ بْنِ اَبِیْ اَوْفٰی ← إِبْرَاهِيمَ أَبِي إِسْمَاعِيلَ السَّكْسَكِيِّ ← الْمَسْعُودِيِّ ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19629

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19630

قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ وَكَانَ فِي كِتَابِ أَبِي حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا فَائِدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى قَالَ كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُ غُلَامٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَاهُنَا غُلَامًا يَتِيمًا لَهُ أُمٌّ أَرْمَلَةٌ وَأُخْتٌ يَتِيمَةٌ أَطْعِمْنَا مِمَّا أَطْعَمَكَ اللَّهُ تَعَالَى أَعْطَاكَ اللَّهُ مِمَّا عِنْدَهُ حَتَّى تَرْضَى فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ

حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا کہ ایک غلام (لڑکا) آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ ایک یتیم لڑکا ہے جس کی بیوی ، ماں اور ایک یتیم بہن ہے آپ ہمیں ان چیزوں میں سے کھلائیے جو اللہ نے آپ کو کھلائی ہیں ، اللہ آپ کو اپنے پاس سے اتنا دے کہ آپ راضی ہوجائیں پھر راوی نے مکمل حدیث ذکر کی ۔

كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ فَأَتَاهُ غُلَامٌ فَقَالَ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ اَبِیْ اَوْفٰی ← فايد بن عبد الرحمن ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ وَكَانَ فِي كِتَابِ أَبِي

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19630

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19631

قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ وَكَانَ فِي كِتَابِ أَبِي حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا فَائِدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَاهُنَا غُلَامًا قَدْ احْتُضِرَ يُقَالُ لَهُ قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَلَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَقُولَهَا فَقَالَ أَلَيْسَ كَانَ يَقُولُ فِي حَيَاتِهِ قَالَ بَلَى قَالَ فَمَا مَنَعَهُ مِنْهَا عِنْدَ مَوْتِهِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ فَلَمْ يُحَدِّثْنَا أَبِي بِهَذَيْنِ الْحَدِيثَيْنِ ضَرَبَ عَلَيْهِمَا مِنْ كِتَابِهِ لِأَنَّهُ لَمْ يَرْضَ حَدِيثَ فَائِدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَكَانَ عِنْدَهُ مَتْرُوكَ الْحَدِيثِ

حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! یہاں ایک لڑکا ہے جو قریب المرگ ہے اسے لا الہ الا اللہ کی تلقین کی جارہی ہے لیکن وہ اسے کہہ نہیں پارہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا وہ اپنی زندگی میں یہ کلمہ نہیں پڑھتا تھا ؟ اس نے کہا کیوں نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر موت کے وقت اسے کسی نے روک دیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر راوی نے مکمل حدیث ذکر کی ۔فائدہ ۔ امام احمد کے صاحبزادے عبداللہ کہتے ہیں کہ میرے والد صاحب نے یہ دونوں حدیثیں بیان نہیں کی ہیں البتہ کتاب میں لکھ دی تھیں اور انہیں کاٹ دیا تھا کیونکہ انہیں فائد بن عبدالرحمن کی احادیث پر اعتماد نہیں تھا اور ان کے نزدیک وہ متروک الحدیث تھا۔

جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ فَقَالَ: ← عَبْدِ اللہِ بْنِ اَبِیْ اَوْفٰی ← فايد بن عبد الرحمن ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ وَكَانَ فِي كِتَابِ أَبِي

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19631

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19632

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَحَجَّاجٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْمُخْتَارِ مِنْ بَنِي أَسَدٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى قَالَ أَصَابَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ عَطَشٌ قَالَ فَنَزَلَ مَنْزِلًا فَأُتِيَ بِإِنَاءٍ فَجَعَلَ يَسْقِي أَصْحَابَهُ وَجَعَلُوا يَقُولُونَ اشْرَبْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاقِي الْقَوْمِ آخِرُهُمْ حَتَّى سَقَاهُمْ كُلَّهُمْ

حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ کسی سفر میں تھے ہمیں پانی نہیں مل رہا تھا تھوڑی دیر بعد ایک جگہ پانی نظر آگیا لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پانی لے کر آنے لگے جب بھی کوئی آدمی پانی لے کر آتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہی فرماتے کسی بھی قوم کا ساقی سب سے آخر میں پیتا ہے یہاں تک کہ سب لوگوں نے پانی پی لیا۔

رَسُولُ اللَّهِ سَاقِي الْقَوْمِ آخِرُهُمْ حَتَّى سَقَاهُمْ كُلَّهُمْ ← فَنَزَلَ مَنْزِلًا فَأُتِيَ بِإِنَاءٍ فَجَعَلَ يَسْقِي أَصْحَابَهُ وَجَعَلُوا يَقُولُونَ اشْرَبْ ← أَصَابَ رَسُولَ اللَّهِ وَأَصْحَابَهُ عَطَشٌ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ اَبِیْ اَوْفٰی ← أَبَا الْمُخْتَارِ مِنْ بَنِي أَسَدٍ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَحَجَّاجٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19632

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19633

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ وَهُوَ صَائِمٌ فَدَعَا صَاحِبَ شَرَابِهِ بِشَرَابٍ فَقَالَ صَاحِبُ شَرَابِهِ لَوْ أَمْسَيْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ثُمَّ دَعَاهُ فَقَالَ لَهُ لَوْ أَمْسَيْتَ ثَلَاثًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَاءَ اللَّيْلُ مِنْ هَاهُنَا فَقَدْ حَلَّ الْإِفْطَارُ أَوْ كَلِمَةً هَذَا مَعْنَاهَا

حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ماہ رمضان میں کسی سفر میں تھے جب سورج غروب ہوگیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا، اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ابھی تودن کا کچھ حصہ باقی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پھر پانی لانے کے لئے فرمایا تین مرتبہ اسی طرح ہوا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب یہاں سورج غروب ہوجائے اور رات یہاں تک آجائے تو روزہ دار روزہ کھول لے۔

صَاحِبُ شَرَابِهِ لَوْ أَمْسَيْتَ ← كَانَ رَسُولُ اللَّهِ فِي سَفَرٍ وَهُوَ صَائِمٌ فَدَعَا صَاحِبَ شَرَابِهِ بِشَرَابٍ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ اَبِیْ اَوْفٰی ← سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19633

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19634

حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَعَفَّانُ الْمَعْنَى قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ وَقَالَ بَهْزٌ فِي حَدِيثِهِ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ قَالَ كُنَّا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى يُقَاتِلُ الْخَوَارِجَ وَقَدْ لَحِقَ غُلَامٌ لِابْنِ أَبِي أَوْفَى بِالْخَوَارِجِ فَنَادَيْنَاهُ يَا فَيْرُوزُ هَذَا ابْنُ أَبِي أَوْفَى قَالَ نِعْمَ الرَّجُلُ لَوْ هَاجَرَ قَالَ مَا يَقُولُ عَدُوُّ اللَّهِ قَالَ يَقُولُ نِعْمَ الرَّجُلُ لَوْ هَاجَرَ فَقَالَ هِجْرَةٌ بَعْدَ هِجْرَتِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرَدِّدُهَا ثَلَاثًا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ طُوبَى لِمَنْ قَتَلَهُمْ ثُمَّ قَتَلُوهُ قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ وَقَتَلُوهُ ثَلَاثًا

سعید بن جمہان رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ کے ہمراہ خوارج سے قتال کر رہے تھے کہ حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ کا ایک غلام خوارج سے جاملا وہ لوگ اس طرف تھے اور ہم اس طرف ، ہم نے اسے " اے فیروز! اے فیروز! کہہ کر آوازیں دیتے ہوئے کہا ارے کمبخت ! تیرے آقا حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ تو یہاں ہیں وہ کہنے لگا کہ وہ اچھے آدمی ہوتے اگر تمہارے یہاں سے ہجرت کر جاتے، انہوں نے پوچھا کہ یہ دشمن اللہ کیا کہہ رہا ہے ؟ ہم نے اس کاجملہ ان کے سامنے نقل کیا تو وہ فرمانے لگے کیا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کرنے والی ہجرت کے بعد دوبارہ ہجرت کروں گا؟ پھر فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناہے کہ خوشخبری ہے اس شخص کے لئے جو انہیں قتل کرے یا وہ اسے قتل کردیں ۔

حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ← بَهْزٌ وَعَفَّانُ الْمَعْنَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19634

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19635

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا الْحَشْرَجُ ابْنُ نُبَاتَةَ الْعَبْسِيُّ كُوفِيٌّ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ قَالَ لَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى وَهُوَ مَحْجُوبُ الْبَصَرِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ قَالَ لِي مَنْ أَنْتَ فَقُلْتُ أَنَا سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ قَالَ فَمَا فَعَلَ وَالِدُكَ قَالَ قُلْتُ قَتَلَتْهُ الْأَزَارِقَةُ قَالَ لَعَنَ اللَّهُ الْأَزَارِقَةَ لَعَنَ اللَّهُ الْأَزَارِقَةَ حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ كِلَابُ النَّارِ قَالَ قُلْتُ الْأَزَارِقَةُ وَحْدَهُمْ أَمْ الْخَوَارِجُ كُلُّهَا قَالَ بَلَى الْخَوَارِجُ كُلُّهَا قَالَ قُلْتُ فَإِنَّ السُّلْطَانَ يَظْلِمُ النَّاسَ وَيَفْعَلُ بِهِمْ قَالَ فَتَنَاوَلَ يَدِي فَغَمَزَهَا بِيَدِهِ غَمْزَةً شَدِيدَةً ثُمَّ قَالَ وَيْحَكَ يَا ابْنَ جُمْهَانَ عَلَيْكَ بِالسَّوَادِ الْأَعْظَمِ عَلَيْكَ بِالسَّوَادِ الْأَعْظَمِ إِنْ كَانَ السُّلْطَانُ يَسْمَعُ مِنْكَ فَأْتِهِ فِي بَيْتِهِ فَأَخْبِرْهُ بِمَا تَعْلَمُ فَإِنْ قَبِلَ مِنْكَ وَإِلَّا فَدَعْهُ فَإِنَّكَ لَسْتَ بِأَعْلَمَ مِنْهُ

سعید بن جمہان رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت تک ان کی بینائی ختم ہوچکی تھی انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ تم کون ہو؟ میں نے بتایا کہ میں سعید بن جمہان ہوں ، انہوں نے پوچھا کہ تمہارے والد صاحب کیسے ہیں ؟ میں نے عرض کیا کہ انہیں تو" ازارقہ " نے قتل کردیاہے انہوں نے دو مرتبہ فرمایا ازارقہ پر لعنت الٰہی نازل ہو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا ہے کہ وہ جہنم کے کتے ہیں ۔ میں نے ان سے پوچھا کہ اس سے صرف " ازارقہ " فرقے کے لوگ مراد ہیں یاتمام خوارج ہیں ؟ انہوں نے فرمایا تمام خوارج " مراد ہیں پھر میں نے عرض کیا بعض اوقات بادشاہ بھی عوام کے ساتھ ظلم اور نا انصافی وغیرہ کرتا ہے انہوں نے میرا ہاتھ زور سے دبایا اور بہت تیز چٹکی کاٹی اور فرمایا اے ابن جمہان ! تم پر افسوس ہے سواد اعظم کی پیروی کرو سواد اعظم کی پیروی کرو اگر بادشاہ تمہاری بات سنتا ہے تو اس کے گھر میں اس کے پاس جاؤ اور اس کے سامنے وہ ذکر کرو جو تم جانتے ہو اگر وہ قبول کرلے توبہت اچھا ورنہ تم اس سے بڑے عالم نہیں ہو۔

بَلَى الْخَوَارِجُ كُلُّهَا ← قُلْتُ الْأَزَارِقَةُ وَحْدَهُمْ أَمْ الْخَوَارِجُ كُلُّهَا ← لَعَنَ اللَّهُ الْأَزَارِقَةَ لَعَنَ اللَّهُ الْأَزَارِقَةَ ← قُلْتُ قَتَلَتْهُ الْأَزَارِقَةُ ← فَمَا فَعَلَ وَالِدُكَ ← سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ، ← لِي: مَنْ أَنْتَ؟ فَقُلْتُ: ← لَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى وَهُوَ مَحْجُوبُ الْبَصَرِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ← سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ، ← الْحَشْرَجُ ابْنُ نُبَاتَةَ الْعَبْسِيُّ كُوفِيٌّ ← أَبُو النَّضْرِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19635

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19636

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ أَنْبَأَنِي قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى قَالَ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَاهُ رَجُلٌ بِصَدَقَتِهِ قَالَ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ فُلَانٍ قَالَ فَأَتَاهُ أَبِي بِصَدَقَتِهِ فَقَالَ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَى

حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب کوئی شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے مال کی زکوۃ لے کر آتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لئے دعاء فرماتے تھے ایک دن میں بھی اپنے والد کے مال کی زکوۃ لے کر حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہم صل علی آل ابی اوفی۔

فَأَتَاهُ أَبِي بِصَدَقَتِهِ فَقَالَ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَى ← اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ فُلَانٍ ← كَانَ النَّبِيُّ إِذَا أَتَاهُ رَجُلٌ بِصَدَقَتِهِ ← وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ اَبِیْ اَوْفٰی ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19636

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19637

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ أَخْبَرَنَا الْهَجَرِيُّ قَالَ خَرَجْتُ فِي جِنَازَةِ بِنْتِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى وَهُوَ عَلَى بَغْلَةٍ لَهُ حَوَّاءَ يَعْنِي سَوْدَاءَ قَالَ فَجَعَلَ النِّسَاءُ يَقُلْنَ لِقَائِدِهِ قَدِّمْهُ أَمَامَ الْجِنَازَةِ فَفَعَلَ قَالَ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ لَهُ أَيْنَ الْجِنَازَةُ قَالَ فَقَالَ خَلْفَكَ قَالَ فَفَعَلَ ذَلِكَ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ قَالَ أَلَمْ أَنْهَكَ أَنْ تُقَدِّمَنِي أَمَامَ الْجِنَازَةِ قَالَ فَسَمِعَ امْرَأَةً تَلْتَدِمُ وَقَالَ مَرَّةً تَرْثِي فَقَالَ مَهْ أَلَمْ أَنْهَكُنَّ عَنْ هَذَا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْهَى عَنْ الْمَرَاثِي لِتُفِضْ إِحْدَاكُنَّ مِنْ عَبْرَتِهَا مَا شَاءَتْ فَلَمَّا وُضِعَتْ الْجِنَازَةُ تَقَدَّمَ فَكَبَّرَ عَلَيْهَا أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ ثُمَّ قَامَ هُنَيْهَةً فَسَبَّحَ بِهِ بَعْضُ الْقَوْمِ فَانْفَتَلَ فَقَالَ أَكُنْتُمْ تَرَوْنَ أَنِّي أُكَبِّرُ الْخَامِسَةَ قَالُوا نَعَمْ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا كَبَّرَ الرَّابِعَةَ قَامَ هُنَيَّةً فَلَمَّا وُضِعَتْ الْجِنَازَةُ جَلَسَ وَجَلَسْنَا إِلَيْهِ فَسُئِلَ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ فَقَالَ تَلَقَّانَا يَوْمَ خَيْبَرَ حُمُرٌ أَهْلِيَّةٌ خَارِجًا مِنْ الْقَرْيَةِ فَوَقَعَ النَّاسُ فِيهَا فَذَبَحُوهَا فَإِنَّ الْقُدُورَ لَتَغْلِي بِبَعْضِهَا إِذْ نَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْرِيقُوهَا فَأَهْرَقْنَاهَا وَرَأَيْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى مِطْرَفًا مِنْ خَزٍّ أَخْضَرَ

ہجری کہتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی کے جنازے میں شریک ہوا وہ خود ایک سیاہ رنگ کے خچر پر سوار تھے عورتیں ان کے رہبر سے کہنے لگیں کہ انہیں جنازے کے آگے لے کر چلو اس نے ایسا ہی کیا میں نے انہیں یہ کہتے ہوئے سنا کہ جنازہ کہاں ہے ؟ (کیونکہ وہ نابینا ہوچکے تھے ) اس نے بتایا آپ کے پیچھے ایک دو مرتبہ اسی طرح ہونے کے بعد انہوں نے فرمایا کیا میں نے تمہیں منع نہیں کیا تھا کہ مجھے جنازے سے آگے لے کر مت چلا کرو ۔ پھر انہوں نے ایک عورت کی آواز سنی جو بین کررہی تھی انہوں نے اسے روکتے ہوئے فرمایا کیا میں نے تمہیں اس سے منع نہیں کیا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بین کرنے سے منع فرماتے تھے ہاں البتہ آنسو بہانا چاہتی ہو بہالو، پھر جب جنازہ سامنے رکھا گیا تو انہوں نے آگے بڑھ چار تکبیرات کہیں اور تھوڑی دیر کھڑے رہے یہ دیکھ کر کچھ لوگ " سبحان اللہ " کہنے لگے انہوں نے مڑ کر فرمایا کیا تم یہ سمجھ کر رہے تھے کہ میں پانچویں تکبیر کہنے لگا ہوں ؟ انہوں نے جواب دیا جی ہاں ! فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی جب تکبیر کہہ چکتے تو تھوڑی دیر کھڑے رہتے تھے۔ پھر جب جنازہ لا کر رکھا گیا تو حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ بیٹھ گئے کسی شخص نے ان سے پالتو گدھوں کے گوشت کے متعلق پوچھا تو فرمایا کہ غزوہ خیبر کے موقع پر شہر سے باہر ہمیں کچھ پالتو گدھے مل گئے لوگ ان پر جاپڑے اور انہیں ذبح کرلیا، ابھی کچھ ہانڈیوں میں اس کا گوشت ابل ہی رہا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے نداء لگائی انہیں بہادو، چنانچہ ہم نے اسے بہا دیا اور میں نے حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ کے جسم پر نہایت عمدہ لباس جو سبز ریشم کا تھا دیکھا۔

الْهَجَرِيِّ ← عَلِي بْنُ عَاصِمٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19637

chevron_left Previous
1…114115116…146
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter