Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19614

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا الشَّيْبَانِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ فَلَمَّا غَابَتْ الشَّمْسُ قَالَ انْزِلْ يَا فُلَانُ فَاجْدَحْ لَنَا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَيْكَ نَهَارٌ قَالَ انْزِلْ فَاجْدَحْ قَالَ فَفَعَلَ فَنَاوَلَهُ فَشَرِبَ فَلَمَّا شَرِبَ أَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى الْمَغْرِبِ فَقَالَ إِذَا غَرَبَتْ الشَّمْسُ هَاهُنَا جَاءَ اللَّيْلُ مِنْ هَاهُنَا فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ

حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ماہ رمضان میں کسی سفر میں تھے جب سورج غروب ہوگیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو حکم دیا کہ اے فلاں ! اترو اور ہمارے لئے ستو گھولو، اس نے کہا یا رسول اللہ ! ابھی تودن کا کچھ حصہ باقی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پھر فرمایا کہ اترو اور ستو گھولو، چنانچہ اس نے اس پر عمل کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا برتن ہاتھ میں پکڑا اور اسے نوش فرمالیا اور اس کے بعد ہاتھ سے مغرب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا جب یہاں سورج غروب ہوجائے اور رات یہاں تک آجائے تو روزہ دار روزہ کھول لے۔

انْزِلْ يَا فُلَانُ فَاجْدَحْ لَنَا ← کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ فِي سَفَرٍ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ فَلَمَّا غَابَتْ الشَّمْسُ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ اَبِیْ اَوْفٰی ← الشَّيْبَانِيِّ ← هُشَيْمٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19614

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19615

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَنْبَأَنَا الشَّيْبَانِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ قَالَ أَرْسَلَنِي ابْنُ شَدَّادٍ وَأَبُو بُرْدَةَ فَقَالَا انْطَلِقْ إِلَى ابْنِ أَبِي أَوْفَى فَقُلْ لَهُ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ شَدَّادٍ وَأَبَا بُرْدَةَ يُقْرِئَانِكَ السَّلَامَ وَيَقُولَانِ هَلْ كُنْتُمْ تُسَلِّفُونَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْبُرِّ وَالشَّعِيرِ وَالزَّبِيبِ قَالَ نَعَمْ كُنَّا نُصِيبُ غَنَائِمَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنُسَلِّفُهَا فِي الْبُرِّ وَالشَّعِيرِ وَالتَّمْرِ وَالزَّبِيبِ فَقُلْتُ عِنْدَ مَنْ كَانَ لَهُ زَرْعٌ أَوْ عِنْدَ مَنْ لَيْسَ لَهُ زَرْعٌ فَقَالَ مَا كُنَّا نَسْأَلُهُمْ عَنْ ذَلِكَ قَالَ وَقَالَا لِي انْطَلِقْ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى فَاسْأَلْهُ قَالَ فَانْطَلَقَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ مِثْلَ مَا قَالَ ابْنُ أَبِي أَوْفَى

عبداللہ بن ابی المجاہد کہتے ہیں کہ ادھاربیع کے مسئلے میں حضرت عبداللہ بن شداد رضی اللہ عنہ اور ابوبردہرضی اللہ عنہ کے درمیان اختلاف رائے ہوگیا ان دونوں نے مجھے حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دیا کہ ابن شداد اور ابوبردہ آپ کوسلام کہتے ہیں اور پوچھ رہے ہیں کہ کیا آپ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں گندم جو اور زیتون کی ادھاربیع کرتے تھے ؟ تو انہوں نے فرمایا ہاں ! ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں مال غنیمت حاصل کرکے گندم ، جو کشمش یا جو چیزیں بھی لوگوں کے پاس ہوتی تھیں ، ان سے ادھاربیع کرلیا کرتے تھے میں نے ان سے پوچھا جس کے پاس کھیت ہوتا تھا یا جس کے پاس کھیت نہیں ہوتا تھا ؟ انہوں نے فرمایا ہم یہ بات ان سے نہیں پوچھتے تھے پھر ان دونوں حضرات نے مجھے حضرت عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا میں نے ان سے یہ مسئلہ پوچھا تو انہوں نے بھی وہی جواب دیا جو حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ نے دیا تھا ۔

انْطَلِقْ إِلَى ابْنِ أَبِي أَوْفَى فَقُلْ لَهُ ← أَرْسَلَنِي ابْنُ شَدَّادٍ وَأَبُو بُرْدَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ، مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ← الشَّيْبَانِيِّ ← هُشَيْمٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19615

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19616

قَالَ وَكَذَا حَدَّثَنَاهُ أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ زَائِدَةَ عَنِ الشَّيْبَانِيِّ قَالَ وَالزَّيْتِ

حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہانڈیاں اور ان میں جو کچھ ہے الٹادو۔

وَالزَّيْتِ ← الشَّيْبَانِيِّ ← زَائِدَۃَ، ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← وكذا

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19616

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19617

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْهَيْثَمِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ الْأَخْضَرِ قَالَ قُلْتُ فَالْأَبْيَضِ قَالَ لَا أَدْرِي

شیبانی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سناکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سبزمٹکے کی نبیذسے منع فرمایا ہے میں نے ان سے پوچھا سفیدمٹکے کا کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا مجھے معلوم نہیں ۔

لَا أَدْرِي ← قُلْتُ فَالْأَبْيَضُ ← نَبِيذِ الْجَرِّ الْأَخْضَرِ ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← ابن اَبِیْ اَوْفٰی ← سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ ← شُعْبَةُ، ← عَمْرِو بْنِ الْهَيْثَمِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19617

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19618

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا أَبُو يَعْفُورٍ عَبْدِيٌّ مَوْلًى لَهُمْ قَالَ ذَهَبْتُ إِلَى ابْنِ أَبِي أَوْفَى أَسْأَلُهُ عَنْ الْجَرَادِ قَالَ غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّ غَزَوَاتٍ نَأْكُلُ الْجَرَادَ

ابویعفور کہتے ہیں کہ میرے ایک شریک نے میرے سامنے حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے ٹڈی دلکا حکم پوچھا انہوں نے فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں ، اور فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سات غزوات میں شرکت کی ہے ان غزوات میں ہم لوگ ٹڈی دل کھایا کرتے تھے۔

غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ سِتَّ غَزَوَاتٍ نَأْكُلُ الْجَرَادَ ← الْجَرَادِ ← ذَهَبْتُ إِلَى ابْنِ أَبِي أَوْفَى أَسْأَلُهُ ← أَبُو يَعْفُورٍ عَبْدِيٌّ مَوْلًى لَهُمْ ← سُفْيَانَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19618

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19619

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَقَالَ لِرَجُلٍ انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ اجْدَحْ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ اجْدَحْ فَجَدَحَ فَشَرِبَ فَلَمَّا شَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْمَأَ بِيَدِهِ نَحْوَ اللَّيْلِ إِذَا رَأَيْتُمْ اللَّيْلَ قَدْ أَقْبَلَ مِنْ هَاهُنَا فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ

حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ماہ رمضان میں کسی سفر میں تھے جب سورج غروب ہوگیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو حکم دیا کہ اے فلاں ! اترو اور ہمارے لئے ستو گھولو، اس نے کہا یا رسول اللہ ! ابھی تودن کا کچھ حصہ باقی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پھر فرمایا کہ اترو اور ستو گھولو، چنانچہ اس نے اس پر عمل کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا برتن ہاتھ میں پکڑا اور اسے نوش فرمالیا اور اس کے بعد ہاتھ سے مغرب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا جب یہاں سورج غروب ہوجائے اور رات یہاں تک آجائے تو روزہ دار روزہ کھول لے۔

سُفْيَانُ مَرَّةً ← لِرَجُلٍ: «انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا» ← کُنَّا مَعَ النَّبِيِّ فِي سَفَرٍ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ اَبِیْ اَوْفٰی ← أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ ← سُفْيَانَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19619

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19620

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الشَّيْبَانِيِّ عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ أَصَبْنَا حُمُرًا خَارِجًا مِنْ الْقَرْيَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْفِئُوا الْقُدُورَ بِمَا فِيهَا فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ فَقَالَ إِنَّمَا نَهَى عَنْهَا أَنَّهَا كَانَتْ تَأْكُلُ الْعَذِرَةَ

حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بستی سے باہر کچھ گدھے ہمارے ہاتھ لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہانڈیوں میں جو کچھ سے سب الٹادو، سعید بن جبیررحمتہ اللہ علیہ نے اس کی وجہ یہ بیان فرمائی ہے کہ وہ گندگی کھاتے تھے۔

إِنَّمَا نَهَى عَنْهَا أَنَّهَا كَانَتْ تَأْكُلُ الْعَذِرَةَ ← رَسُولُ اللَّهِ أَكْفِئُوا الْقُدُورَ بِمَا فِيهَا فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَصَبْنَا حُمُرًا خَارِجًا مِنْ الْقَرْيَةِ ← ابن اَبِیْ اَوْفٰی ← الشَّيْبَانِيِّ ← سُفْيَانَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19620

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19621

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ الْحَسَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ قَالَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ

حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع سے سر اٹھاتے توسمع اللہ لمن حمدہ کہہ کریہ فرماتے اے ہمارے پروردگاراللہ! تمام تعریفیں تیرے ہی لئے ہیں زمین و آسمان کے بھرپور ہونے کے برابر اور اس کے علاوہ جن چیزوں کو آپ چاہیں ان کے بھرپور ہونے کے برابر۔

اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ← كَانَ رَسُولُ اللَّهِ إِذَا ← عَبْدِ اللہِ بْنِ اَبِیْ اَوْفٰی ← عُبَيْدٍ بْنِ الْحَسَنَ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19621

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19622

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا لَيْثٌ عَنْ مُدْرِكٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو فَيَقُولُ اللَّهُمَّ طَهِّرْنِي بِالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَالْمَاءِ الْبَارِدِ اللَّهُمَّ طَهِّرْ قَلْبِي مِنْ الْخَطَايَا كَمَا طَهَّرْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنْ الدَّنَسِ وَبَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ ذُنُوبِي كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ وَمِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ وَدُعَاءٍ لَا يُسْمَعُ وَعِلْمٍ لَا يَنْفَعُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَؤُلَاءِ الْأَرْبَعِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِيشَةً تَقِيَّةً وَمِيتَةً سَوِيَّةً وَمَرَدًّا غَيْرَ مُخْزٍ

حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعاء فرمایا کرتے تھے اے ! مجھے برف اولوں اور ٹھنڈے پانی سے پاکیزگی عطاء فرما، اے اللہ ! میرے قلب کو لغزشات سے اس طرح پاک فرما جیسے سفیدکپڑے کو میل کچیل سے صاف کرتا ہے میرے اور میرے گناہوں کے درمیان مشرق اور مغرب جتنافاصلہ حائل فرمادے اے اللہ ! میں خشوع سے خالی دل ، سیراب نہ ہونے والے نفس ،غیرمقبول دعاء اور غیرنافع علم سے آپ کی پناہ میں آتاہوں اے اللہ! میں ان چاروں چیزوں سے آپ کی پناہ میں آتاہوں ، اے اللہ ! میں آپ سے تقویٰ والی زندگی ، عمدہ موت اور شرمندگی سے پاک لوٹائے جانے کا سوال کرتا ہوں ۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ اَبِیْ اَوْفٰی ← مُدْرِكٍ ← لَيْثٌ، ← إِسْمَاعِيلُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19622

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19623

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنِ القَاسِمِ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ قَدِمَ مُعَاذٌ الْيَمَنَ أَوْ قَالَ الشَّامَ فَرَأَى النَّصَارَى تَسْجُدُ لِبَطَارِقَتِهَا وَأَسَاقِفَتِهَا فَرَوَّأَ فِي نَفْسِهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَقُّ أَنْ يُعَظَّمَ فَلَمَّا قَدِمَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْتُ النَّصَارَى تَسْجُدُ لِبَطَارِقَتِهَا وَأَسَاقِفَتِهَا فَرَوَّأْتُ فِي نَفْسِي أَنَّكَ أَحَقُّ أَنْ تُعَظَّمَ فَقَالَ لَوْ كُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا وَلَا تُؤَدِّي الْمَرْأَةُ حَقَّ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهَا كُلَّهُ حَتَّى تُؤَدِّيَ حَقَّ زَوْجِهَا عَلَيْهَا كُلَّهُ حَتَّى لَوْ سَأَلَهَا نَفْسَهَا وَهِيَ عَلَى ظَهْرِ قَتَبٍ لَأَعْطَتْهُ إِيَّاهُ

حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب حضرت معاذ رضی اللہ عنہ یمن پہنچے تو وہاں کے عیسائیوں کو دیکھا کہ وہ اپنے پادریوں اور مذہبی رہنماؤں کوسجدہ کرتے ہیں ان کے دل میں خیال آیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو ان سے بھی زیادہ تعظیم کے مستحق ہیں لہٰذایمن سے واپس آکر انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں نے عیسائیوں کو اپنے پادریوں اور مذہبی رہنماؤں کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہوئے دیکھاہے میرے دل میں خیال آتا ہے کہ ان سے زیادہ تعظیم کے مستحق تو آپ ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میں کسی کو کسی کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتاکہ اپنے شوہرکوسجدہ کرے اور کوئی عورت اس وقت تک مکمل طور پر حقوق اللہ کو ادانہیں کرسکتی جب تک اپنے شوہر کے مکمل حقوق ادانہ کرے حتیٰ کہ اگر مرد اس سے اپنی خواہش کی تکمیل کا اس وقت ارادہ کرے جبکہ وہ توے پر روٹی پکار رہی ہوتب بھی اس کی بات پوری کرے۔

الشَّامَ فَرَأَى النَّصَارَى تَسْجُدُ لِبَطَارِقَتِهَا وَأَسَاقِفَتِهَا فَرَوَّأَ فِي نَفْسِهِ ← قَدِمَ مُعَاذٌ الْيَمَنَ أَوْ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ اَبِیْ اَوْفٰی ← الْقَاسِمِ الشَّيْبَانِيِّ، ← أَيُّوبَ، ← إِسْمَاعِيلُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19623

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19624

حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَوْفٍ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ أَحَدِ بَنِي مُرَّةَ بْنِ هَمَّامٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ أَبِيهِ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ إِنَّهُ أَتَى الشَّامَ فَرَأَى النَّصَارَى فَذَكَرَ مَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فَقُلْتُ لِأَيِّ شَيْءٍ تَصْنَعُونَ هَذَا قَالُوا هَذَا كَانَ تَحِيَّةَ الْأَنْبِيَاءِ قَبْلَنَا فَقُلْتُ نَحْنُ أَحَقُّ أَنْ نَصْنَعَ هَذَا بِنَبِيِّنَا فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُمْ كَذَبُوا عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ كَمَا حَرَّفُوا كِتَابَهُمْ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَبْدَلَنَا خَيْرًا مِنْ ذَلِكَ السَّلَامَ تَحِيَّةَ أَهْلِ الْجَنَّةِ

گذشہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے کہ البتہ اس میں یہ اضافہ بھی ہے کہ میں نے ان لوگوں سے پوچھا کہ تم یہ کیوں کرتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ ہم سے پہلے انبیاء علیہم السلام کی تعظیم کا یہی طریقہ تھا میں نے کہا کہ پھر توہم اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس طرح کرنے کا زیادہ حق رکھتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہوں نے جس طرح اپنی کتابوں میں تحریف کردی ہے اسی طرح اپنے انبیاء پر جھوٹ بھی باندھتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس کے بدلے میں اس سے بہتر چیزیعنی سلام عطاء فرمادیاہے جو اہل جنت کا طریقہ تعظیم ہے۔

هَذَا كَانَ تَحِيَّةَ الْأَنْبِيَاءِ قَبْلَنَا فَقُلْتُ نَحْنُ أَحَقُّ أَنْ نَصْنَعَ هَذَا بِنَبِيِّنَا ← فَقُلْتُ لِأَيِّ شَيْءٍ تَصْنَعُونَ هَذَا ← مَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ ← إِنَّهُ أَتَى الشَّامَ فَرَأَى النَّصَارَى ← مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← الْقَاسِمِ بْنِ عَوْفٍ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ أَحَدِ بَنِي مُرَّةَ بْنِ هَمَّامٍ ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19624

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19625

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَاهُ قَوْمٌ بِصَدَقَتِهِمْ صَلَّى عَلَيْهِمْ فَأَتَاهُ أَبِي بِصَدَقَتِهِ فَقَالَ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَى

حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب کوئی شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے مال کی زکوۃ لے کر آتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لئے دعاء فرماتے تھے ایک دن میں بھی اپنے والد کے مال کی زکوۃ لے کر حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہم صل علی آل ابی اوفی۔

اللهم صل على آل أبي أوفى ← كَانَ النَّبِيُّ إِذَا أَتَاهُ قَوْمٌ بِصَدَقَتِهِمْ صَلَّى عَلَيْهِمْ فَأَتَاهُ أَبِي بِصَدَقَتِهِ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ اَبِیْ اَوْفٰی ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19625

chevron_left Previous
1…113114115…146
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter