Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19590

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ خَيْثَمَةَ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا سَيُكَلِّمُهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ تَرْجُمَانٌ ثُمَّ يَنْظُرُ أَيْمَنَ مِنْهُ فَلَا يَرَى إِلَّا شَيْئًا قَدَّمَهُ ثُمَّ يَنْظُرُ أَشْأَمَ مِنْهُ فَلَا يَرَى إِلَّا شَيْئًا قَدَّمَهُ ثُمَّ يَنْظُرُ تِلْقَاءَ وَجْهِهِ فَتَسْتَقْبِلُهُ النَّارُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَقِيَ وَجْهَهُ النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ فَلْيَفْعَلْ

حضرت عدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی آدمی بھی ایسا نہیں ہے جس سے اس کا پروردگار براہ راست بغیر کسی ترجمان کے گفتگونہ کرے وہ اپنی دائیں جانب دیکھے گا تو صرف وہی نظر آئے گا جو اس وقت خود آگے بھیجا ہوگا بائیں جانب دیکھے گا تو بھی وہی کچھ نظر آئے گا جو اس نے خود آگے بھیجا ہوگا اور سامنے دیکھے گا تو جہنم کی آگ اس کا استقبال کرے گی اس لئے تم میں سے جو شخص جہنم سے بچ سکتاہو خواہ کھجورکے ایک ٹکڑے ہی کے عوض تو وہ ایساہی کرے '

عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ← خيثمة ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19590

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19591

حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا سِمَاكٌ عَنْ مُرَيِّ بْنِ قَطَرِىٍّ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي كَانَ يَصِلُ الرَّحِمَ وَيَقْرِي الضَّيْفَ وَيَفْعَلُ كَذَا قَالَ إِنَّ أَبَاكَ أَرَادَ شَيْئًا فَأَدْرَكَهُ

حضرت عدی سے مروی ہے کہ ایک میں نے بارگارہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! میرے والد صاحب صلہ رحمی اور فلاں فلاں کام کرتے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے باپ کا ایک مقصد (شہرت') تھا جو اس نے پالیا۔

قُلْتُ ← عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ← مُرِّيَّ بْنَ قَطَرِيٍّ ← سِمَاكٍ، ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19591

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19592

قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرْمِي الصَّيْدَ وَلَا أَجِدُ مَا أُذَكِّيهِ بِهِ إِلَّا الْمَرْوَةَ وَالْعَصَا قَالَ أَمَرَّ الدَّمَ بِمَا شِئْتَ ثُمَّ اذْكُرْ اسْمَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قُلْتُ طَعَامٌ مَا أَدَعُهُ إِلَّا تَحَرُّجًا قَالَ مَا ضَارَعْتَ فِيهِ نَصْرَانِيَّةً فَلَا فَدَعْهُ

حضرت عدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم جب شکار کرتے ہیں توبعض اوقات چھری نہیں ملتی صرف نوکیلے پتھریالاٹھی کی تیزدھارہوتی ہے تو کیا کریں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کا نام لے کر جس چیز سے بھی چاہوخون بہادو۔ میں نے عرض کیا کہ میں آپ سے اس کھانے کے متعلق پوچھتاہوں جو میں صرف مجبوری کے وقت چھوڑوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی ایسی چیز مت چھوڑو جس میں تم عیسائیت کے مشابہہ معلوم ہو۔

قُلْتُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19592

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19593

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ مُجَالِدٍ أَخْبَرَنِي عَامِرٌ حَدَّثَنِي عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ قَالَ عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ وَالصِّيَامَ قَالَ صَلِّ كَذَا وَكَذَا وَصُمْ فَإِذَا غَابَتْ الشَّمْسُ فَكُلْ وَاشْرَبْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكَ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنْ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ وَصُمْ ثَلَاثِينَ يَوْمًا إِلَّا أَنْ تَرَى الْهِلَالَ قَبْلَ ذَلِكَ فَأَخَذْتُ خَيْطَيْنِ مِنْ شَعْرٍ أَسْوَدَ وَأَبْيَضَ فَكُنْتُ أَنْظُرُ فِيهِمَا فَلَا يَتَبَيَّنُ لِي فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَحِكَ وَقَالَ يَا ابْنَ حَاتِمٍ إِنَّمَا ذَاكَ بَيَاضُ النَّهَارِ مِنْ سَوَادِ اللَّيْلِ

حضرت عدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز روزے کی تعلیم دی اور فرمایا فلاں فلاں وقت نماز پڑھو، روزہ رکھوجب سورج غروب ہوجائے تو کھاؤ پیو جب تک تمہارے سامنے سفید دھاگے کالے دھاگے سے واضح اور ممتاز نہ ہوجائے " اور تیس روزے رکھو الا یہ کہ اس سے پہلے ہی چاند نظر آجائے تو میں نے دو دھاگے لئے ایک کالے رنگ کا اور ایک سفید رنگ کا اور انہیں ایک تکیے کے نیچے رکھ لیا میں انہیں دیکھتارہا لیکن کالا دھاگہ سفید سے اور سفید دھاگہ کالے سے جدا نہ ہوا صبح ہوئی تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور سارا واقعہ بتایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاراتکیہ تو بڑا چوڑا ہے اس سے مراد دن کی روشنی اور رات کی تاریکی ہے۔

عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ← عَامِرٍ، ← مجالد ← يَحْيَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19593

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19594

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَيْسَرَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ قَالَ عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرْمِي الصَّيْدَ فَأَطْلُبُ أَثَرَهُ بَعْدَ لَيْلَةٍ فَأَجِدُ فِيهِ سَهْمِي فَقَالَ إِذَا وَجَدْتَ فِيهِ سَهْمَكَ وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ سَبُعٌ فَكُلْ

حضرت عدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض یا کہ ہمارا علاقہ شکاری علاقہ ہے ہم میں سے کوئی شخص شکار پر تیرپھینکتا ہے وہ شکار ایک دو دن تک اس سے غائب رہتا ہے پھر وہ اسے پالیتا ہے اور اس کے جسم میں اس کاتیرپیوست ہوتا ہے تو اس کا کیا حکم ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم اس میں اپناتیر دیکھ لو اور کسی درندے نے اسے کھایانہ ہو تو تم اسے کھالو۔

عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ، قُلْتُ: ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19594

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19595

فَذَكَرْتُهُ لِأَبِي بِشْرٍ فَقَالَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ عَدِيٍّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ وَجَدْتَ فِيهِ سَهْمَكَ تَعْلَمُ أَنَّهُ قَتَلَهُ فَكُلْ

حضرت عدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض یا کہ ہمارا علاقہ شکاری علاقہ ہے ہم میں سے کوئی شخص شکار پر تیرپھینکتا ہے وہ شکار ایک دو دن تک اس سے غائب رہتا ہے پھر وہ اسے پالیتا ہے اور اس کے جسم میں اس کاتیرپیوست ہوتا ہے تو اس کا کیا حکم ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم اس میں اپناتیر دیکھ لو اور کسی درندے نے اسے کھایانہ ہو تو تم اسے کھالو۔

النَّبِيِّ إِنْ وَجَدْتَ فِيهِ سَهْمَكَ تَعْلَمُ أَنَّهُ قَتَلَهُ فَكُلْ ← عَدِيٌّ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← فَذَكَرْتُهُ لأَبِي بِشْرٍ فَقَالَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19595

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19596

حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ قَالَ سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ

حضرت عدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے جو شخص جہنم سے بچ سکتاہو خواہ کھجورکے ایک ٹکڑے ہی کے عوض تو وہ ایساہی کرے۔

عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ ← اَبُوْ اِسْحَاقِ ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19596

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19597

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ ابْنِ حُذَيْفَةَ قَالَ كُنْتُ أُحَدَّثُ حَدِيثًا عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ فَقُلْتُ هَذَا عَدِيٌّ فِي نَاحِيَةِ الْكُوفَةِ فَلَوْ أَتَيْتُهُ فَكُنْتُ أَنَا الَّذِي أَسْمَعُهُ مِنْهُ فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ إِنِّي كُنْتُ أُحَدَّثُ عَنْكَ حَدِيثًا فَأَرَدْتُ أَنْ أَكُونَ أَنَا الَّذِي أَسْمَعُهُ مِنْكَ قَالَ لَمَّا بَعَثَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَرْتُ مِنْهُ حَتَّى كُنْتُ فِي أَقْصَى أَرْضِ الْمُسْلِمِينَ مِمَّا يَلِي الرُّومَ قَالَ فَكَرِهْتُ مَكَانِي الَّذِي أَنَا فِيهِ حَتَّى كُنْتُ لَهُ أَشَدَّ كَرَاهِيَةً لَهُ مِنِّي مِنْ حَيْثُ جِئْتُ قَالَ قُلْتُ لَآتِيَنَّ هَذَا الرَّجُلَ فَوَاللَّهِ إِنْ كَانَ صَادِقًا فَلَأَسْمَعَنَّ مِنْهُ وَإِنْ كَانَ كَاذِبًا مَا هُوَ بِضَائِرِي قَالَ فَأَتَيْتُهُ وَاسْتَشْرَفَنِي النَّاسُ وَقَالُوا عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ قَالَ أَظُنُّهُ قَالَ ثَلَاثَ مِرَارٍ قَالَ فَقَالَ لِي يَا عَدِيُّ بْنَ حَاتِمٍ أَسْلِمْ تَسْلَمْ قَالَ قُلْتُ إِنِّي مِنْ أَهْلِ دِينٍ قَالَ يَا عَدِيُّ بْنَ حَاتِمٍ أَسْلِمْ تَسْلَمْ قَالَ قُلْتُ إِنِّي مِنْ أَهْلِ دِينٍ قَالَهَا ثَلَاثًا قَالَ أَنَا أَعْلَمُ بِدِينِكَ مِنْكَ قَالَ قُلْتُ أَنْتَ أَعْلَمُ بِدِينِي مِنِّي قَالَ نَعَمْ قَالَ أَلَيْسَ تَرْأَسُ قَوْمَكَ قَالَ قُلْتُ بَلَى قَالَ فَذَكَرَ مُحَمَّدٌ الرَّكُوسِيَّةَ قَالَ كَلِمَةً الْتَمَسَهَا يُقِيمُهَا فَتَرَكَهَا قَالَ فَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ فِي دِينِكَ الْمِرْبَاعُ قَالَ فَلَمَّا قَالَهَا تَوَاضَعَتْ مِنِّي هُنَيَّةٌ قَالَ وَإِنِّي قَدْ أَرَى أَنَّ مِمَّا يَمْنَعُكَ خَصَاصَةٌ تَرَاهَا مِمَّنْ حَوْلِي وَإِنَّ النَّاسَ عَلَيْنَا أَلْبًا وَاحِدًا هَلْ تَعْلَمُ مَكَانَ الْحِيرَةِ قَالَ قُلْتُ قَدْ سَمِعْتُ بِهَا وَلَمْ آتِهَا قَالَ لَتُوشِكَنَّ الظَّعِينَةُ أَنْ تَخْرُجَ مِنْهَا بِغَيْرِ جِوَارٍ حَتَّى تَطُوفَ قَالَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ جَوْرٍ وَقَالَ يُونُسُ عَنْ حَمَّادٍ جَوَازٍ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى حَدِيثِ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ حَتَّى تَطُوفَ بِالْكَعْبَةِ وَلَتُوشِكَنَّ كُنُوزُ كِسْرَى بْنِ هُرْمُزَ أَنْ تُفْتَحَ قَالَ قُلْتُ كِسْرَى بْنُ هُرْمُزَ قَالَ كِسْرَى بْنُ هُرْمُزَ قَالَ قُلْتُ كِسْرَى بْنُ هُرْمُزَ قَالَ كِسْرَى بْنُ هُرْمُزَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَلَيُوشِكَنَّ أَنْ يَبْتَغِيَ مَنْ يَقْبَلُ مَالَهُ مِنْهُ صَدَقَةً فَلَا يَجِدُ قَالَ فَلَقَدْ رَأَيْتُ ثِنْتَيْنِ قَدْ رَأَيْتُ الظَّعِينَةَ تَخْرُجُ مِنْ الْحِيرَةِ بِغَيْرِ جِوَارٍ حَتَّى تَطُوفَ بِالْكَعْبَةِ وَكُنْتُ فِي الْخَيْلِ الَّتِي غَارَتْ وَقَالَ يُونُسُ عَنْ حَمَّادٍ أَغَارَتْ عَلَى الْمَدَائِنِ وَايْمُ اللَّهِ لَتَكُونَنَّ الثَّالِثَةُ إِنَّهُ لَحَدِيثُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنِيهِ

ابن حذیفہ کہتے ہیں کہ مجھے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ایک حدیث معلوم ہوئی میں نے سوچاکہ وہ کوفہ میں آئے ہوئے ہیں میں ان کی خدمت میں حاضر ہو کربراہ راست ان سے اس کا سماع کرتا ہوں چنانچہ میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے عرض کیا کہ مجھے آپ کے حوالے سے ایک حدیث معلوم ہوئی ہے لیکن میں اسے خود آپ سے سننا چاہتا ہوں انہوں نے فرمایا بہت اچھاجب مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلان نبوت کی خبرملی تو مجھے اس پر بڑی ناگواری ہوئی میں اپنے علاقے سے نکل کر روم کے ایک کنارے پہنچا اور قیصرکے پاس چلا گیا لیکن وہاں پہنچ کرمجھے اس سے زیادہ شدیدناگواری ہوئی جو بعثت نبوت کی اطلاع ملنے پر ہوئی تھی ، میں نے سوچاکہ میں اس شخص کے پاس جاکرتودیکھوں اگر وہ جھوتاہو تو مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچاسکے گا اور اگر سچا ہوا تو مجھے معلوم ہوجائے گا۔چنانچہ میں واپس آکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا وہاں پہنچا تو لوگوں نے " عدی بن حاتم ، عدی بن حاتم " کہنا شروع کردیا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رحمتہ اللہ علیہ نے مجھ سے فرمایا اے عدی! اسلام قبول کرلوسلامتی پاجاؤگے تین مرتبہ یہ جملہ دہرایا میں نے عرض کیا کہ میں تو پہلے سے ایک دین پر قائم ہوں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تم سے زیادہ تمہارے دین کو جانتاہوں میں نے عرض کیا کہ آپ مجھ سے زیادہ میرے دین کو جانتے ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! کیا تم " رکوسیہ " میں سے نہیں ہو جو اپنی قوم کا چوتھائی مال غنیمت کھاجاتے ہیں ؟ میں نے کہا کیوں نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حالانکہ یہ تمہارے دین میں حلال نہیں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے آگے جو بات فرمائی میں اس کے آگے جھک گیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں جانتاہوں کہ تمہیں اسلام قبول کرنے میں کون سی چیز مانع لگ رہی ہے تم یہ سمجھتے ہو کہ اس دین کے پیروکارکمزور اور بے مایہ لوگ ہیں جنہیں عرب نے دھتکاردیاہے یہ بتاؤ کہ تم شہرحیرہ کو جانتے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ دیکھاتونہیں ہے البتہ سناضرورہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اللہ اس دین کو مکمل کرکے رہے گا یہاں تک کہ ایک عورت حیرہ سے نکلے گی اور کسی محافظ کے بغیربیت اللہ کا طواف کر آئے گی اور عنقریب کسریٰ بن ہرمزکے خزانے فتح ہوں گے میں نے تعجب سے پوچھا کسریٰ بن ہرمزکے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! کسریٰ بن ہرمزکے اور عنقریب اتنامال خرچ کیا جائے گا کہ اسے قبول کرنے والا کوئی نہیں رہے گا۔ حضرت عدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ واقعی اب ایک عورت حیرہ سے نکلتی ہے اور کسی محافظ کے بغیربیت اللہ کا طواف کر جاتی ہے اور کسریٰ بن ہرمزکے خزانوں کوفتح کرنے والوں میں تو میں خود بھی شامل تھا اور اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے تیسری بات بھی وقوع پذیر ہو کررہے گی کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی پیشین گوئی فرمائی ہے۔

الَّذِي أَسْمَعُهُ مِنْهُ فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ إِنِّي كُنْتُ أُحَدَّثُ عَنْكَ حَدِيثًا فَأَرَدْتُ ← عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ فَقُلْتُ هَذَا عَدِيٌّ فِي نَاحِيَةِ الْكُوفَةِ فَلَوْ أَتَيْتُهُ فَكُنْتُ ← كُنْتُ أُحَدِّثُ حَدِيثًا ← ابْنِ حُذَيْفَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← ابْنِ عَوْنٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19597

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19598

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا أَخْبَرَنِي عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا وَقَعَتْ رَمِيَّتُكَ فِي الْمَاءِ فَلَا تَأْكُلْ

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر تمہاراشکارپانی میں گر کر غرق ہوجائے تو اسے مت کھاؤ۔

عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19598

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19599

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو يُحَدِّثُ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ أَنَّ رَجُلًا جَاءَهُ يَسْأَلُهُ عَنْ شَيْءٍ اسْتَقَلَّهُ فَحَلَفَ ثُمَّ قَالَ لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى غَيْرًا خَيْرًا مِنْهَا فَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ هَذَا حَدِيثٌ مَا سَمِعْتُهُ قَطُّ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا مِنْ أَبِي

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی کے پاس آیا اور ان سے سو درہم مانگے انہوں نے فرمایا کہ تو مجھ سے صرف سو درہم مانگ رہاہے جبکہ میں حاتم طائی کا بیٹاہوں ، واللہ میں تجھے کچھ نہیں دوں گا پھر فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناہے کہ جو شخص کسی بات پر قسم کھائے پھر کسی اور چیز میں بہتری محسوس کرے تو وہی کام کرے جس میں بہتری ہو ( اور قسم کا کفارہ دے دے)

عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19599

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19600

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ سِمَاكَ بْنَ حَرْبٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبَّادَ بْنَ حُبَيْشٍ يُحَدِّثُ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ جَاءَتْ خَيْلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ رُسُلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا بِعَقْرَبٍ فَأَخَذُوا عَمَّتِي وَنَاسًا قَالَ فَلَمَّا أَتَوْا بِهِمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَصَفُّوا لَهُ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَأَى الْوَافِدُ وَانْقَطَعَ الْوَلَدُ وَأَنَا عَجُوزٌ كَبِيرَةٌ مَا بِي مِنْ خِدْمَةٍ فَمُنَّ عَلَيَّ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْكَ قَالَ مَنْ وَافِدُكِ قَالَتْ عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ قَالَ الَّذِي فَرَّ مِنْ اللَّهِ وَرَسُولِهِ قَالَتْ فَمَنَّ عَلَيَّ قَالَتْ فَلَمَّا رَجَعَ وَرَجُلٌ إِلَى جَنْبِهِ نَرَى أَنَّهُ عَلِىٌّ قَالَ سَلِيهِ حِمْلَانًا قَالَ فَسَأَلَتْهُ فَأَمَرَ لَهَا قَالَتْ فَأَتَتْنِي فَقَالَتْ لَقَدْ فَعَلْتَ فَعْلَةً مَا كَانَ أَبُوكَ يَفْعَلُهَا قَالَتْ ائْتِهِ رَاغِبًا أَوْ رَاهِبًا فَقَدْ أَتَاهُ فُلَانٌ فَأَصَابَ مِنْهُ وَأَتَاهُ فُلَانٌ فَأَصَابَ مِنْهُ قَالَ فَأَتَيْتُهُ فَإِذَا عِنْدَهُ امْرَأَةٌ وَصِبْيَانٌ أَوْ صَبِيٌّ فَذَكَرَ قُرْبَهُمْ مِنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَرَفْتُ أَنَّهُ لَيْسَ مُلْكُ كِسْرَى وَلَا قَيْصَرَ فَقَالَ لَهُ يَا عَدِيُّ بْنَ حَاتِمٍ مَا أَفَرَّكَ أَنْ يُقَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَهَلْ مِنْ إِلَهٍ إِلَّا اللَّهُ مَا أَفَرَّكَ أَنْ يُقَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ فَهَلْ شَيْءٌ هُوَ أَكْبَرُ مِنْ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ فَأَسْلَمْتُ فَرَأَيْتُ وَجْهَهُ اسْتَبْشَرَ وَقَالَ إِنَّ الْمَغْضُوبَ عَلَيْهِمْ الْيَهُودُ وَ الضَّالِّينَ النَّصَارَي ثُمَّ سَأَلُوهُ فَحَمِدَ اللَّهَ تَعَالَى وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَلَكُمْ أَيُّهَا النَّاسُ أَنْ تَرْضَخُوا مِنْ الْفَضْلِ ارْتَضَخَ امْرُؤٌ بِصَاعٍ بِبَعْضِ صَاعٍ بِقَبْضَةٍ بِبَعْضِ قَبْضَةٍ قَالَ شُعْبَةُ وَأَكْثَرُ عِلْمِي أَنَّهُ قَالَ بِتَمْرَةٍ بِشِقِّ تَمْرَةٍ إِنَّ أَحَدَكُمْ لَاقِي اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَقَائِلٌ مَا أَقُولُ أَلَمْ أَجْعَلْكَ سَمِيعًا بَصِيرًا أَلَمْ أَجْعَلْ لَكَ مَالًا وَوَلَدًا فَمَاذَا قَدَّمْتَ فَيَنْظُرُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ وَعَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ فَلَا يَجِدُ شَيْئًا فَمَا يَتَّقِي النَّارَ إِلَّا بِوَجْهِهِ فَاتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ فَإِنْ لَمْ تَجِدُوهُ فَبِكَلِمَةٍ لَيِّنَةٍ إِنِّي لَا أَخْشَى عَلَيْكُمْ الْفَاقَةَ لَيَنْصُرَنَّكُمْ اللَّهُ تَعَالَى وَلَيُعْطِيَنَّكُمْ أَوْ لَيَفْتَحَنَّ لَكُمْ حَتَّى تَسِيرَ الظَّعِينَةُ بَيْنَ الْحِيرَةِ ويَثْرِبَ أَوْ أَكْثَرَ مَا تَخَافُ السَّرَقَ عَلَى ظَعِينَتِهَا قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ثَنَاهُ شُعْبَةُ مَا لَا أُحْصِيهِ وَقَرَأْتُهُ عَلَيْهِ

حضرت عدی رضی اللہ عنہ سے مروی کہ میں " عقرب " نامی مقام پر تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے شہسوار ہم تک آپہنچے انہوں نے میری پھوپھی اور بہت سے لوگوں کو گرفتار کرلیا جب وہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے تو انہیں ایک صف میں کھڑا کردیا گیا میری پھوپھی نے کہا یا رسول اللہ ! رونے والے دورچلے گئے اور بچے بچھڑگئے میں بہت بوڑھی ہوچکی ہوں کسی قسم کی خدمت بھی نہیں کرسکتی اس لئے مجھ پر مہربانی فرمائیے اللہ آپ پر مہربانی کرے گا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تمہیں کون لایاہے ؟ انہوں نے بتایاعدی بن حاتم ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہی جو اللہ اور اس کے رسول سے بھاگا پھر رہاہے اس نے کہ پھر بھی آپ مجھ پر مہربانی فرمائیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس جانے لگے تو ان کے پہلو میں ایک آدمی تھا جو غالباًحضرت علی رضی اللہ عنہ تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ ان سے سواری کا جانورمانگ لو، میں نے ان سے درخو اس کی تو انہوں نے میرے لئے اس کا حکم دے دیا۔ تھوڑی دیربعدعدی ان کے پاس گئے تو وہ کہنے لگیں کہ تم نے ایساکام کیا جو تمہارے باپ نے نہیں کیا تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس شوق سے جاؤیاخوف سے (لیکن جاؤضرور) کیونکہ فلاں آدمی ان کے پاس گیا تھا تو اسے بھی کچھ مل گیا اور فلاں آدمی بھی گیا تھا اور اسے بھی کچھ مل گیا چنانچہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو وہاں ایک عورت اور کچھ بچے بیٹھے ہوئے تھے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کے قریب ہونے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میں سمجھ گیا کہ یہ قیصروکسریٰ جیسے بادشاہ نہیں ہیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا اے عدی! لا الہ الا اللہ کہنے سے تمہیں کون سی چیزراہ فرار پر مجبور کرتی ہے ؟ کیا اللہ کے علاوہ بھی کوئی معبود ہے ؟ تمہیں " اللہ اکبر " کہنے سے کون سی چیزراہ فرار پر مجبور کرتی ہے ؟ کیا اللہ سے بڑی بھی کوئی چیز ہے ؟ اس پر میں نے اسلام قبول کرلیا اور میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک خوشی سے کھل اٹھا، اور فرمایا جن پر اللہ کاغضب نازل ہواوہ یہودی ہیں اور جو گمراہ ہوئے وہ عیسائی ہیں ۔ پھر لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ مانگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی حمدوثناء سے فارغ ہو کر " امابعد " کہہ کر فرمایا لوگو! زائد چیزیں اکٹھی کرو چنانچہ کسی نے ایک صاع کسی نے نصف صاع کسی نے ایک مٹھی اور کسی نے آدھی مٹھی دی ، پھر فرمایا تم لوگ اللہ سے ملنے والے ہو، اس وقت ایک کہنے والا وہی کہے گا جو میں کہہ رہاہوں کہ کیا میں نے تمہیں سننے اور دیکھنے والانہیں بنایا تھا ؟ کیا میں نے تمہیں مال اور اولاد سے نہیں نوازا تھا ؟ تم نے آگے کیا بھیجا؟ وہ اپنے آگے پیچھے اور دائیں بائیں دیکھے گا لیکن کچھ نہیں ملے گا اور اپنی ذات کے علاوہ کسی چیز کے ذریعے آگ سے نہیں بچ سکے گا اس لئے تم جہنم کی آگ سے بچو خواہ کھجورکے ایک ٹکڑے ہی کے ذریعے ہو اگر وہ بھی نہ ملے تونرمی سے بات کرکے بچومجھے تم پر فقروفاقہ کا اندیشہ نہیں ہے اللہ تمہاری مددضرور کرے گا اور تمہیں ضرورمال ودولت دے گا یا اتنی فتوحات ہوں گی کہ ایک عورت حیرہ اور مدینہ کے درمیان اکیلی سفر کرلیا کرے گی حالانکہ عورت کے پاس سے چوری ہونے کا خطرہ سب سے زیادہ ہوتا ہے ۔

فَصَفُّوا لَهُ قُلْتُ ← فَلَمَّا أَتَوْا بِهِمْ رَسُولَ اللَّهِ ← رُسُلُ رَسُولِ اللَّهِ وَأَنَا بِعَقْرَبٍ فَأَخَذُوا عَمَّتِي وَنَاسًا ← جَاءَتْ خَيْلُ رَسُولِ اللَّهِ أَوْ ← عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ← عَبَّادَ بْنَ حُبَيْشٍ، ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19600

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19601

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ جَاءَ رَجُلَانِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَشَهَّدَ أَحَدُهُمَا فَقَالَ مَنْ يُطِعْ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ رَشَدَ وَمَنْ يَعْصِهِمَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِئْسَ الْخَطِيبُ أَنْتَ قُمْ

حضرت عدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتا ہے وہ کامیاب ہوجاتا ہے اور جو ان " دونوں " کی نافرمانی کرتا ہے وہ گمراہ ہوجاتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم بہت برے خطیب ہو، یہاں سے آٹھ جاؤ۔

رَسُولُ اللَّهِ بِئْسَ الْخَطِيبُ أَنْتَ قُمْ ← مَنْ يُطِعْ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ رَشِدَ وَمَنْ يَعْصِهِمَا ← جَاءَ رَجُلَانِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ فَتَشَهَّدَ أَحَدُهُمَا ← عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ← تَمِیْمِ بْنِ طَرَفَۃَ، ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19601

chevron_left Previous
1…111112113…146
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter