Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19578

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ الْأَجْرُ وَالْمَغْنَمُ

حضرت عروہ بارقی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا گھوڑوں کی پیشانی میں قیامت تک کے لئے خیروبرکت ، اجروثواب اور غنیمت باندھ دی گئی ہے۔

الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ الْأَجْرُ وَالْمَغْنَمُ ← النَّبِيِّ ← عُرْوَةَ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ. ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19578

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19579

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا الزُّبَيْرُ بْنُ الْخِرِّيتِ حَدَّثَنَا أَبُو لَبِيدٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ الْبَارِقِيِّ قَالَ عَرَضَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَبٌ فَأَعْطَانِي دِينَارًا وَقَالَ أَيْ عُرْوَةُ ائْتِ الْجَلَبَ فَاشْتَرِ لَنَا شَاةً فَأَتَيْتُ الْجَلَبَ فَسَاوَمْتُ صَاحِبَهُ فَاشْتَرَيْتُ مِنْهُ شَاتَيْنِ بِدِينَارٍ فَجِئْتُ أَسُوقُهُمَا أَوْ قَالَ أَقُودُهُمَا فَلَقِيَنِي رَجُلٌ فَسَاوَمَنِي فَأَبِيعُهُ شَاةً بِدِينَارٍ فَجِئْتُ بِالدِّينَارِ وَجِئْتُ بِالشَّاةِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا دِينَارُكُمْ وَهَذِهِ شَاتُكُمْ قَالَ وَصَنَعْتَ كَيْفَ قَالَ فَحَدَّثْتُهُ الْحَدِيثَ فَقَالَ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُ فِي صَفْقَةِ يَمِينِهِ فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي أَقِفُ بِكُنَاسَةِ الْكُوفَةِ فَأَرْبَحُ أَرْبَعِينَ أَلْفًا قَبْلَ أَنْ أَصِلَ إِلَى أَهْلِي وَكَانَ يَشْتَرِي الْجَوَارِيَ وَيَبِيعُ

حضرت عروہ بارقی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بکریوں کے آنے کا پتہ چلا انہوں نے مجھے ایک دیناردے کربکری خریدنے کے لئے بھیجا میں وہاں پہنچا اور بکریوں کے مالک سے بھاؤ تاؤ کیا اور ایک دینار کے عوض اس سے دوبکریاں خرید لیں ، میں انہیں ہانکتاہولے کرچلاراستے میں ایک آدمی ملا اور اس نے مجھ سے بھاؤ تاؤ کیا میں نے اسے ایک دینار میں ایک بکری دے دی اور وہ دینار اور ایک بکری لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ رہا آپ کا دینار اور یہ رہی آپ کی بکری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ کیسے ہوگیا؟ میں نے ساری بات بتادی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ اس کے دائیں ہاتھ کے معاملات میں برکت عطاء فرما اس کے بعد مجھ پر وہ وقت بھی آیا کہ میں کوفہ کے کوڑے دان پر کھڑا ہوا اور گھر پہنچنے سے پہلے چالیس ہزار کانفع حاصل کرلیایادرہے کہ حضرت عروہ رضی اللہ عنہ باندیوں کی خریدوفروخت کرتے تھے۔

عُرْوَةَ بْنَ أَبِي الْجَعْدِ الْبَارِقِيَّ ← أَبُو لَبِيدٍ، ← الزُّبَيْرُ بْنُ الْخِرِّيتِ ← سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ ← أَبُو کَامِلٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19579

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19580

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا الزُّبَيْرُ بْنُ الْخِرِّيتِ عَنْ أَبِي لَبِيدٍ وَهُوَ لُمَازَةُ بْنُ زَبَّارٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ الْبَارِقِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ

حضرت عروہ بارقی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بکریوں کے آنے کا پتہ چلا انہوں نے مجھے ایک دیناردے کربکری خریدنے کے لئے بھیجا میں وہاں پہنچا اور بکریوں کے مالک سے بھاؤ تاؤ کیا اور ایک دینار کے عوض اس سے دوبکریاں خرید لیں ، میں انہیں ہانکتاہولے کرچلاراستے میں ایک آدمی ملا اور اس نے مجھ سے بھاؤ تاؤ کیا میں نے اسے ایک دینار میں ایک بکری دے دی اور وہ دینار اور ایک بکری لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ رہا آپ کا دینار اور یہ رہی آپ کی بکری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ کیسے ہوگیا؟ میں نے ساری بات بتادی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ اس کے دائیں ہاتھ کے معاملات میں برکت عطاء فرما اس کے بعد مجھ پر وہ وقت بھی آیا کہ میں کوفہ کے کوڑے دان پر کھڑا ہوا اور گھر پہنچنے سے پہلے چالیس ہزار کانفع حاصل کرلیایادرہے کہ حضرت عروہ رضی اللہ عنہ باندیوں کی خریدوفروخت کرتے تھے۔

النَّبِیِّ مِثْلَہُ ← عُرْوَةَ بْنَ أَبِي الْجَعْدِ الْبَارِقِيَّ ← أَبِي لَبِيدٍ وَهُوَ لُمَازَةُ بْنُ زَبَّارٍ ← الزُّبَيْرُ بْنُ الْخِرِّيتِ ← سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19580

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19581

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ الْعَيْزَارَ بْنَ حُرَيْثٍ يُحَدِّثُ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ الْأَزْدِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ

حضرت عروہ بارقی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا گھوڑوں کی پیشانی میں قیامت تک کے لئے خیروبرکت ، اجروثواب اور غنیمت باندھ دی گئی ہے۔

الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ ← رَسُولِ اللَّهِ ← عُرْوَةَ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ الْأَزْدِيِّ أَنَّهُ ← الْعَيْزَارِ بْنِ حُرَيْثٍ ← اَبُوْ اِسْحَاقِ ← شُعْبَةُ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19581

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19582

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي حُصَيْنٌ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي السَّفَرِ أَنَّهُمَا سَمِعَا الشَّعْبِيَّ سَمِعَ عُرْوَةَ بْنَ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْخَيْلُ مَعْقُودٌ بِنَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ الْأَجْرُ وَالْمَغْنَمُ

حضرت عروہ بارقی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا گھوڑوں کی پیشانی میں قیامت تک کے لئے خیروبرکت ، اجروثواب اور غنیمت باندھ دی گئی ہے۔

الْخَيْلُ مَعْقُودٌ بِنَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ الْأَجْرُ وَالْمَغْنَمُ ← النَّبِيِّ ← عُرْوَةَ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ. ← حُصَيْنٌ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي السَّفَرِ أَنَّهُمَا سَمِعَا الشَّعْبِيَّ ← شُعْبَةُ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19582

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19583

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا عَنِ الشَّعْبِيِّ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ الْبَارِقِيُّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ الْأَجْرُ وَالْمَغْنَمُ

حضرت عروہ بارقی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا گھوڑوں کی پیشانی میں قیامت تک کے لئے خیروبرکت ، اجروثواب اور غنیمت باندھ دی گئی ہے۔

عُرْوَةُ الْبَارِقِيُّ ← الشَّعْبِيِّ، ← زَکَرِیَّا، ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19583

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19584

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا الزُّبَيْرُ بْنُ الْخِرِّيتِ عَنْ أَبِي لَبِيدٍ قَالَ كَانَ عُرْوَةُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ الْبَارِقِيُّ نَازِلًا بَيْنَ أَظْهُرِنَا فَحَدَّثَ عَنْهُ أَبُو لَبِيدٍ لُمَازَةُ بْنُ زَبَّارٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ قَالَ عَرَضَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَبٌ فَأَعْطَانِي دِينَارًا فَقَالَ أَيْ عُرْوَةُ ائْتِ الْجَلَبَ فَاشْتَرِ لَنَا شَاةً قَالَ فَأَتَيْتُ الْجَلَبَ فَسَاوَمْتُ صَاحِبَهُ فَاشْتَرَيْتُ مِنْهُ شَاتَيْنِ بِدِينَارٍ فَجِئْتُ أَسُوقُهُمَا أَوْ قَالَ أَقُودُهُمَا فَلَقِيَنِي رَجُلٌ فَسَاوَمَنِي فَأَبِيعُهُ شَاةً بِدِينَارٍ فَجِئْتُ بِالدِّينَارِ وَجِئْتُ بِالشَّاةِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا دِينَارُكُمْ وَهَذِهِ شَاتُكُمْ قَالَ وَصَنَعْتَ كَيْفَ فَحَدَّثْتُهُ الْحَدِيثَ فَقَالَ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُ فِي صَفْقَةِ يَمِينِهِ فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي أَقِفُ بِكُنَاسَةِ الْكُوفَةِ فَأَرْبَحُ أَرْبَعِينَ أَلْفًا قَبْلَ أَنْ أَصِلَ إِلَى أَهْلِي وَكَانَ يَشْتَرِي الْجَوَارِيَ وَيَبِيعُ

حضرت عروہ بارقی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بکریوں کے آنے کا پتہ چلا انہوں نے مجھے ایک دیناردے کربکری خریدنے کے لئے بھیجا میں وہاں پہنچا اور بکریوں کے مالک سے بھاؤ تاؤ کیا اور ایک دینار کے عوض اس سے دوبکریاں خرید لیں ، میں انہیں ہانکتاہولے کرچلاراستے میں ایک آدمی ملا اور اس نے مجھ سے بھاؤ تاؤ کیا میں نے اسے ایک دینار میں ایک بکری دے دی اور وہ دینار اور ایک بکری لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ رہا آپ کا دینار اور یہ رہی آپ کی بکری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ کیسے ہوگیا؟ میں نے ساری بات بتادی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ اس کے دائیں ہاتھ کے معاملات میں برکت عطاء فرما اس کے بعد مجھ پر وہ وقت بھی آیا کہ میں کوفہ کے کوڑے دان پر کھڑا ہوا اور گھر پہنچنے سے پہلے چالیس ہزار کانفع حاصل کرلیایادرہے کہ حضرت عروہ رضی اللہ عنہ باندیوں کی خریدوفروخت کرتے تھے۔

أَبِي لَبِيدٍ ← الزُّبَيْرُ بْنُ الْخِرِّيتِ ← سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19584

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19585

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ حُصَيْنٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ أَبِي الْجَعْدِ الْبَارِقِيَّ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ الْأَجْرُ وَالْمَغْنَمُ

حضرت عروہ بارقی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا گھوڑوں کی پیشانی میں قیامت تک کے لئے خیروبرکت ، اجروثواب اور غنیمت باندھ دی گئی ہے۔

الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ الْأَجْرُ وَالْمَغْنَمُ ← النَّبِيِّ ← عُرْوَةَ بْنَ أَبِي الْجَعْدِ الْبَارِقِيَّ ← الشَّعْبِيِّ، ← حُصَيْنٍ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19585

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19586

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْتُ إِنَّ أَرْضَنَا أَرْضُ صَيْدٍ فَيَرْمِي أَحَدُنَا الصَّيْدَ فَيَغِيبُ عَنْهُ لَيْلَةً أَوْ لَيْلَتَيْنِ فَيَجِدُهُ وَفِيهِ سَهْمُهُ قَالَ إِذَا وَجَدْتَ سَهْمَكَ وَلَمْ تَجِدْ فِيهِ أَثَرَ غَيْرِهِ وَعَلِمْتَ أَنَّ سَهْمَكَ قَتَلَهُ فَكُلْهُ

حضرت عدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض یا کہ ہمارا علاقہ شکاری علاقہ ہے ہم میں سے کوئی شخص شکار پر تیرپھینکتا ہے وہ شکار ایک دو دن تک اس سے غائب رہتا ہے پھر وہ اسے پالیتا ہے اور اس کے جسم میں اس کاتیرپیوست ہوتا ہے تو اس کا کیا حکم ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم اس میں اپناتیر دیکھ لو اور کسی دوسری چیز کا کوئی اثرنظر نہ آئے اور تمہیں یقین ہو کہ تمہارے ہی تیرنے اسے قتل کیا ہے تو تم اسے کھالو۔

سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ← عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبِي بِشْرٍ، ← هُشَيْمٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19586

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19587

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ عَنِ الشَّعْبِيِّ أَخْبَرَنَا عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمْ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنْ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ قَالَ عَمَدْتُ إِلَى عِقَالَيْنِ أَحَدُهُمَا أَسْوَدُ وَالْآخَرُ أَبْيَضُ فَجَعَلْتُهُمَا تَحْتَ وِسَادِي قَالَ ثُمَّ جَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَيْهِمَا فَلَا تُبِينُ لِي الْأَسْوَدَ مِنْ الْأَبْيَضِ وَلَا الْأَبْيَضَ مِنْ الْأَسْوَدِ فَلَمَّا أَصْبَحْتُ غَدَوْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي صَنَعْتُ فَقَالَ إِنْ كَانَ وِسَادُكَ إِذًا لَعَرِيضٌ إِنَّمَا ذَلِكَ بَيَاضُ النَّهَارِ مِنْ سَوَادِ اللَّيْلِ

حضرت عدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی " رمضان کی رات میں تم اس وقت تک کھاتے پیتے رہو جب تک تمہارے سامنے سفید دھاگے کالے دھاگے سے واضح اور ممتاز نہ ہوجائے " تو میں نے دو دھاگے لئے ایک کالے رنگ کا اور ایک سفید رنگ کا اور انہیں ایک تکیے کے نیچے رکھ لیا میں انہیں دیکھتا رہا لیکن کالا دھاگہ سفید سے اور سفید دھاگہ کالے سے جدا نہ ہوا صبح ہوئی تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور سارا واقعہ بتایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا تکیہ تو بڑا چوڑا ہے اس سے مراد دن کی روشنی اور رات کی تاریکی ہے۔

عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← حُصَيْنٍ ← هُشَيْمٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19587

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19588

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا مُجَالِدٌ وَزَكَرِيَّا وَغَيْرُهُمَا عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَيْدِ الْمِعْرَاضِ فَقَالَ مَا أَصَابَ بِحَدِّهِ فَخَرَقَ فَكُلْ وَمَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَقَتَلَ فَإِنَّهُ وَقِيذٌ فَلَا تَأْكُلْ

حضرت عدی بن حاتم طائی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شکار کے متعلق پوچھا جو تیر کی چوڑائی سے مرجائے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شکار کو تم نے تیر کی دھار سے ماراہو تو اسے کھاسکتے ہولیکن جسے تیر کی چوڑائی سے ماراہو وہ موقوذہ (چوٹ سے مرنے والے جانور) کے حکم میں ہے اس لئے اسے مت کھاؤ۔

صيد المعراض ← سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ← عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← مُجَالِدٌ وَزَكَرِيَّا وَغَيْرُهُمَا ← هُشَيْمٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19588

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19589

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أُرْسِلُ الْكَلْبَ الْمُعَلَّمَ فَيَأْخُذُ قَالَ إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ الْمُعَلَّمَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَأَخَذَ فَكُلْ قُلْتُ وَإِنْ قَتَلَ قَالَ وَإِنْ قَتَلَ قَالَ قُلْتُ أَرْمِي بِالْمِعْرَاضِ قَالَ إِذَا أَصَابَ بِحَدِّهِ فَكُلْ وَإِنْ أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَلَا تَأْكُلْ

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ ہم اپنے سدھائے ہوئے کتے شکار پر چھوڑتے ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے کھالیا کرو میں نے عرض کیا اگرچہ وہ اسے ماردے ؟ نبی کریم نے فرمایا ہاں ! بشرطیکہ دوسرے کتے اس کے ساتھ شریک نہ ہوئے ہوں میں نے اس شکار کے متعلق پوچھا جو تیر کی چوڑائی سے مرجائے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شکار کو تم نے تیر کی دھار سے ماراہو تو اسے کھاسکتے ہولیکن جسے تیر کی چوڑائی سے مارا ہو اسے مت کھاؤ۔

عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ← هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19589

chevron_left Previous
1…110111112…146
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter