Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19506

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا حَمْزَةَ مَوْلَى الْأَنْصَارِ قَالَ سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ قَالَ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَنْزِلٍ نَزَلُوهُ فِي مَسِيرِهِ فَقَالَ مَا أَنْتُمْ بِجُزْءٍ مِنْ مِائَةِ أَلْفِ جُزْءٍ مِمَّنْ يَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ مِنْ أُمَّتِي قَالَ قُلْتُ كَمْ كُنْتُمْ يَوْمَئِذٍ قَالَ كُنَّا سَبْعَ مِائَةٍ أَوْ ثَمَانِ مِائَةٍ

حضرت زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سفر میں ایک مقام پر پڑاؤ کرکے فرمایا تم لوگ قیامت کے دن میرے پاس حوض کوثر پر آنے والوں کا لاکھواں حصہ بھی نہیں ہوہم نے حضرت زید رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اس وقت آپ لوگ کتنے تھے ؟ انہوں نے فرمایا چھ سے سات سو۔

زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، ← أَبَا حَمْزَةَ مَوْلَى الأَنْصَارِ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← هاشم بن القاسم

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19506

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19507

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ النَّضْرَ بْنَ أَنَسٍ يُحَدِّثُ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَلِأَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ وَلِأَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ

حضرت زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ ! انصار کی ، ان کی بیٹوں کی اور ان کی پوتوں کی مغفرت فرما۔

زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، ← النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19507

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19508

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ قَالَ سَمِعْتُ دَاوُدَ الطُّفَاوِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ الْبَجَلِيِّ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي دُبُرِ صَلَاتِهِ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ أَنَا شَهِيدٌ أَنَّكَ أَنْتَ الرَّبُّ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ قَالَ إِبْرَاهِيمُ مَرَّتَيْنِ رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ أَنَا شَهِيدٌ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ أَنَا شَهِيدٌ أَنَّ الْعِبَادَ كُلَّهُمْ إِخْوَةٌ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ اجْعَلْنِي مُخْلِصًا لَكَ وَأَهْلِي فِي كُلِّ سَاعَةٍ مِنْ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ذَا الْجِلَالِ وَالْإِكْرَامِ اسْمَعْ وَاسْتَجِبْ اللَّهُ الْأَكْبَرُ الْأَكْبَرُ اللَّهُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ اللَّهُ الْأَكْبَرُ الْأَكْبَرُ حَسْبِيَ اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ اللَّهُ الْأَكْبَرُ الْأَكْبَرُ

حضرت زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے بعدیوں کہتے تھے اے اللہ ! ہمارے اور ہر چیز کے رب ! میں گواہی دیتاہوں کہ آپ اکیلے رب ہیں آپ کا کوئی شریک نہیں اے ہمارے اور ہر چیز کے رب ! میں گواہی دیتاہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے بندے اور آپ کے رسول ہیں اے ہمارے اور ہر چیز کے رب ! میں گواہی دیتاہوں کہ سب بندے آپس میں بھائی بھائی ہیں اے اللہ ! اے ہمارے اور ہر چیز کے رب! مجھے اور میرے گھروالوں کو دنیا و آخرت میں اپنے لئے مخلص بنادیجئے اے بزرگی اور عزت والے میری دعا کو سن لے اور قبول فرمالے اللہ سب سے بڑا ہے سب سے بڑا اللہ زمین و آسمان کانورہے اللہ سب سے بڑا ہے سب سے بڑا اللہ مجھے کافی ہے اور وہ بہترین کا رسازہے اللہ سب سے بڑا ہے سب سے بڑا۔

شَهِيدٌ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ ← إِبْرَاهِيمُ مَرَّتَيْنِ رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ ← شَهِيدٌ أَنَّكَ أَنْتَ الرَّبُّ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ ← فِي دُبُرِ صَلَاتِهِ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ ← كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ ← زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، ← أبي مسلم البجلي ← دَاوُدَ الطُّفَاوِيُّ، ← مُعْتَمِرٌ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19508

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19509

حَدَّثَنَا عَفَّانُ وَمُؤَمَّلٌ قَالَا ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ عَطَاءٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ يَا زَيْدُ بْنَ أَرْقَمَ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُهْدِيَ لَهُ عُضْوُ صَيْدٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَلَمْ يَقْبَلْهُ قَالَ نَعَمْ قَالَ مُؤَمَّلٌ فَرَدَّهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ إِنَّا حُرُمٌ قَالَ نَعَمْ

عطاء رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ نے مجھے وہ بات کیسے بتائی تھی کہ حالت احرام میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہدیہ پیش کیا گیا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول نہیں فرمایا؟ انہوں نے کہا ہاں ! اسی طرح ہے۔

يَا زَيْدُ بْنَ أَرْقَمَ أَمَا عَلِمْتَ ← عَطَاءٌ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ← قَیْسِ بْنِ سَعْدٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ وَمُؤَمَّلٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19509

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19510

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ كَعْبٍ الْقُرَظِيَّ قَالَ سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ قَالَ لَمَّا قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ مَا قَالَ لَا تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ أَوْ قَالَ لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ قَالَ فَسَمِعْتُهُ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ قَالَ فَلَامَنِي نَاسٌ مِنْ الْأَنْصَارِ قَالَ وَجَاءَ هُوَ فَحَلَفَ مَا قَالَ ذَاكَ فَرَجَعْتُ إِلَى الْمَنْزِلِ فَنِمْتُ قَالَ فَأَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ بَلَغَنِي فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ صَدَّقَكَ وَعَذَرَكَ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ هُمْ الَّذِينَ يَقُولُونَ لَا تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ

حضرت زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں (کسی غزوے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کےساتھ شریک تھا) ، (رئیس المنافقین) عبداللہ بن ابی کہنے لگا کہ اگر ہم مدینہ منورہ واپس گئے تو جوزیادہ باعزت ہوگاوہ زیادہ ذلیل کو وہاں سے باہر نکال دے گا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر آپ کو اس کی یہ بات بتائی ، عبداللہ بن ابی نے قسم اٹھالی کہ ایسی کوئی بات نہیں ہوئی میری قوم کے لوگ مجھے ملامت کرنے لگے اور کہنے لگے کہ تمہارا اس سے کیا مقصد تھا؟ میں وہاں سے واپس آکرغمزدہ سالیٹ کرسونے لگا تھوڑی ہی دیر بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قاصد کے ذریعے مجھے بلابھیجا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے تمہاراعذرنازل کرکے تمہاری سچائی کوثابت کردیاہے، اور یہ آیت نازل ہوئی ہے یہ لوگ کہتے ہیں کہ جو لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہیں ان پر کچھ خرچ نہ کرو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اگرہم مدینہ منورہ واپس گئے تو جوزیادہ باعزت ہوگاوہ زیادہ ذلیل کو وہاں سے باہر نکال دے گا۔

فَأَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ أَوْ بَلَغَنِي فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ ← ذَاكَ فَرَجَعْتُ إِلَى الْمَنْزِلِ فَنِمْتُ ← وَجَاءَ هُوَ فَحَلَفَ مَا ← فَلَامَنِي نَاسٌ مِنْ الْأَنْصَارِ ← فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ ← لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ ← لَا تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ أَوْ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ مَا ← لَمَّا ← زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← هَاشِمٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19510

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19511

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ

حضرت زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں (کسی غزوے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کےساتھ شریک تھا) ، (رئیس المنافقین) عبداللہ بن ابی کہنے لگا کہ اگر ہم مدینہ منورہ واپس گئے تو جوزیادہ باعزت ہوگاوہ زیادہ ذلیل کو وہاں سے باہر نکال دے گا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر آپ کو اس کی یہ بات بتائی ، عبداللہ بن ابی نے قسم اٹھالی کہ ایسی کوئی بات نہیں ہوئی میری قوم کے لوگ مجھے ملامت کرنے لگے اور کہنے لگے کہ تمہارا اس سے کیا مقصد تھا؟ میں وہاں سے واپس آکرغمزدہ سالیٹ کرسونے لگا تھوڑی ہی دیر بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قاصد کے ذریعے مجھے بلابھیجا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے تمہاراعذرنازل کرکے تمہاری سچائی کوثابت کردیاہے، اور یہ آیت نازل ہوئی ہے یہ لوگ کہتے ہیں کہ جو لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہیں ان پر کچھ خرچ نہ کرو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اگرہم مدینہ منورہ واپس گئے تو جوزیادہ باعزت ہوگاوہ زیادہ ذلیل کو وہاں سے باہر نکال دے گا۔

النَّبِيِّ نَحْوَهُ ← زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← أَبِي ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19511

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19512

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ ثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ

حضرت زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں (کسی غزوے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کےساتھ شریک تھا) ، (رئیس المنافقین) عبداللہ بن ابی کہنے لگا کہ اگر ہم مدینہ منورہ واپس گئے تو جوزیادہ باعزت ہوگاوہ زیادہ ذلیل کو وہاں سے باہر نکال دے گا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر آپ کو اس کی یہ بات بتائی ، عبداللہ بن ابی نے قسم اٹھالی کہ ایسی کوئی بات نہیں ہوئی میری قوم کے لوگ مجھے ملامت کرنے لگے اور کہنے لگے کہ تمہارا اس سے کیا مقصد تھا؟ میں وہاں سے واپس آکرغمزدہ سالیٹ کرسونے لگا تھوڑی ہی دیر بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قاصد کے ذریعے مجھے بلابھیجا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے تمہاراعذرنازل کرکے تمہاری سچائی کوثابت کردیاہے، اور یہ آیت نازل ہوئی ہے یہ لوگ کہتے ہیں کہ جو لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہیں ان پر کچھ خرچ نہ کرو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اگرہم مدینہ منورہ واپس گئے تو جوزیادہ باعزت ہوگاوہ زیادہ ذلیل کو وہاں سے باہر نکال دے گا۔

النَّبِيِّ نَحْوَهُ ← زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، ← أَبِي حَمْزَةَ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← أَبِي ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19512

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19513

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ سَأَلْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ كَمْ غَزَوْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَبْعَ عَشْرَةَ قَالَ وَحَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزَا تِسْعَ عَشْرَةَ وَأَنَّهُ حَجَّ بَعْدَ مَا هَاجَرَ حَجَّةً وَاحِدَةً حَجَّةَ الْوَدَاعِ قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ وَبِمَكَّةَ أُخْرَى

ابواسحاق کہتے ہیں کہ میں نے حضرت زید رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کتنے غزوات فرمائے ؟ انہوں نے جواب دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انیس غزوات فرمائے تھے جن میں سے سترہ میں میں بھی شریک تھا۔

وَحَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ ← سَبْعَ عَشْرَةَ ← سَأَلْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ کَمْ غَزَوْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← زُهَيْرٍ ← حَسَنُ بْنُ مُوسَی

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19513

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19514

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ أَنَّ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ كَتَبَ إِلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ زَمَنَ الْحَرَّةِ يُعَزِّيهِ فِيمَنْ قُتِلَ مِنْ وَلَدِهِ وَقَوْمِهِ وَقَالَ أُبَشِّرُكَ بِبُشْرَى مِنْ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَلِأَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ وَلِأَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ وَاغْفِرْ لِنِسَاءِ الْأَنْصَارِ وَلِنِسَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ وَلِنِسَاءِ أَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ

نضربن انس رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ واقعہ حرہ میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کے جو بچے اور قوم کے لوگ شہید ہوگئے تھے ان کی تعزیت کرنے کے لئے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے انہیں خط لکھا اور کہا کہ میں آپ کو اللہ کی طرف سے ایک خوشخبری سناتاہوں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناہے کہ اے اللہ ! انصار کی ، ان کی بیٹوں کی اور ان کی پوتوں کی مغفرت فرما، اور انصار کی عورتوں کی ان کے بیٹوں کی عورتوں کی اور ان کے پوتوں کی عورتوں کی مغفرت فرما۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أُبَشِّرُكَ بِبُشْرَى مِنْ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ← إِلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ زَمَنَ الْحَرَّةِ يُعَزِّيهِ فِيمَنْ قُتِلَ مِنْ وَلَدِهِ وَقَوْمِهِ ← النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ أَنَّ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَسَنُ بْنُ مُوسَی

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19514

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19515

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى قَالَ صَلَّيْتُ خَلْفَ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ عَلَى جِنَازَةٍ فَكَبَّرَ خَمْسًا فَقَامَ إِلَيْهِ أَبُو عِيسَى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى فَأَخَذَ بِيَدِهِ فَقَالَ نَسِيتَ قَالَ لَا وَلَكِنْ صَلَّيْتُ خَلْفَ أَبِي الْقَاسِمِ خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَبَّرَ خَمْسًا فَلَا أَتْرُكُهَا أَبَدًا

عبدالاعلی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز جنازہ پڑھی انہوں نے اس میں پانچ مرتبہ تکبیرکہی تو ابن ابی لیلیٰ نے کھڑے ہو کر ان کا ہاتھ پکڑا اور کہنے لگے کیا آپ بھول گئے ہیں ؟ انہوں نے کہا نہیں البتہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے " جو میرے خلیل اور ابوالقاسم تھے صلی اللہ علیہ وسلم " نماز جنازہ پڑھی ہے ، انہوں نے پانچ مرتبہ تکبیرکہی تھی لہٰذا میں اسے کبھی ترک نہیں کروں گا۔

عَبْدُ الْأَعْلَى ← اِسْرَائِیْلُ ← أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19515

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19516

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي سَلْمَانَ الْمُؤَذِّنِ قَالَ تُوُفِّيَ أَبُو سَرِيحَةَ فَصَلَّى عَلَيْهِ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ فَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا وَقَالَ كَذَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ابوسلمان مؤذن کہتے ہیں کہ ابوسریحہ کا انتقال ہوا تو حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور چارتکبیرات کہیں اور فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح کرتے تھے۔

كَذَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ ← تُوُفِّيَ أَبُو سَرِيحَةَ فَصَلَّى عَلَيْهِ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ فَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا ← أَبِي سَلْمَانَ الْمُؤَذِّنِ ← عُثْمَانَ بْنِ أَبِي زُرْعَةَ ← شَرِيکٍ ← أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19516

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19517

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَأَبُو نُعَيْمٍ الْمَعْنَى قَالَا ثَنَا فِطْرٌ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ جَمَعَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ النَّاسَ فِي الرَّحَبَةِ ثُمَّ قَالَ لَهُمْ أَنْشُدُ اللَّهَ كُلَّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ مَا سَمِعَ لَمَّا قَامَ فَقَامَ ثَلَاثُونَ مِنْ النَّاسِ وَقَالَ أَبُو نُعَيْمٍ فَقَامَ نَاسٌ كَثِيرٌ فَشَهِدُوا حِينَ أَخَذَهُ بِيَدِهِ فَقَالَ لِلنَّاسِ أَتَعْلَمُونَ أَنِّي أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ قَالُوا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَهَذَا مَوْلَاهُ اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ قَالَ فَخَرَجْتُ وَكَأَنَّ فِي نَفْسِي شَيْئًا فَلَقِيتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ فَقُلْتُ لَهُ إِنِّي سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ يَقُولُ كَذَا وَكَذَا قَالَ فَمَا تُنْكِرُ قَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ذَلِكَ لَهُ

ابوالطفیل رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے صحن کوفہ میں لوگوں کو جمع کیا اور فرمایا جس مسلمان نے غدیرخم کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد سناہو میں اسے قسم دے کر کہتاہوں کہ اپنی جگہ پر کھڑا ہوجائے چنانچہ تیس آدمی کھڑے ہوگئے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا کیا تم لوگ نہیں جانتے کہ مجھے مسلمانوں پر ان کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ حق حاصل ہے ؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کیوں نہیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ کا ہاتھ دبا کر فرمایا جس کا میں محبوب ہوں علی بھی اس کے محبوب ہونے چاہئیں اے اللہ ، اے اللہ ! جو علی رضی اللہ عنہ سے محبت کرتا ہے تو اس سے محبت فرما اور جو اس سے دشمنی کرتا ہے تو اس سے دشمنی فرما میں وہاں سے نکلا تو میرے دل میں اس کے متعلق کچھ شکوک وشبہات تھے چنانچہ میں حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے ملا اور عرض کیا کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اس اس طرح کہتے ہوئے سناہے انہوں نے فرمایا تمہیں اس پر تعجب کیوں ہورہاہے؟ میں نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناہے۔

نَعَمْ ← لِلنَّاسِ: «أَتَعْلَمُونَ أَنِّي أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ؟» ← أَبُو نُعَيْمٍ فَقَامَ نَاسٌ كَثِيرٌ فَشَهِدُوا حِينَ أَخَذَهُ بِيَدِهِ ← لَمَّا قَامَ فَقَامَ ثَلَاثُونَ مِنْ النَّاسِ ← يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ مَا ← رَسُولِ اللَّهِ ← لَهُمْ أَنْشُدُ اللَّهَ كُلَّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ ← جَمَعَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ النَّاسَ فِي الرَّحَبَةِ ثُمَّ ← أَبِي الطُّفَيْلِ، ← فِطْرٍ ← حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَأَبُو نُعَيْمٍ الْمَعْنَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19517

chevron_left Previous
1…104105106…146
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter