Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19494

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سُلَيْمَانَ عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ قَالَ سَأَلْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ فَقُلْتُ لَهُ إِنَّ خَتَنًا لِي حَدَّثَنِي عَنْكَ بِحَدِيثٍ فِي شَأْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْكَ فَقَالَ إِنَّكُمْ مَعْشَرَ أَهْلِ الْعِرَاقِ فِيكُمْ مَا فِيكُمْ فَقُلْتُ لَهُ لَيْسَ عَلَيْكَ مِنِّي بَأْسٌ فَقَالَ نَعَمْ كُنَّا بِالْجُحْفَةِ فَخَرْجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْنَا ظُهْرًا وَهُوَ آخِذٌ بِعَضُدِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ قَالُوا بَلَى قَالَ فَمَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ هَلْ قَالَ اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ قَالَ إِنَّمَا أُخْبِرُكَ كَمَا سَمِعْتُ

عطیہ عوفی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے عرض کیا کہ میرے ایک دامادنے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شان میں غدیرخم کے موقع کی حدیث آپ کے حوالے سے میرے سامنے بیان کی ہے، میں چاہتا ہوں کہ براہ راست آپ سے اس کی سماعت کروں ؟ انہوں نے فرمایا اے اہل عراق ! مجھے تم سے اندیشہ ہے میں نے عرض کیا کہ میری طرف سے آپ بے فکر رہیں انہوں نے کہا اچھا ایک مرتبہ ہم لوگ مقام جحفہ میں تھے کہ ظہر کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑے ہوئے ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا لوگو! کیا تم لوگ نہیں جانتے کہ مجھے مسلمانوں پر ان کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ حق حاصل ہے ؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کیوں نہیں ، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ دبا کر فرمایا جس کا میں محبوب ہوں علی بھی اس کے محبوب ہونے چاہئیں میں نے عرض کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا اے اللہ ! جو علی رضی اللہ عنہ سے محبت کرتا ہے تو اس سے محبت فرما اور جو اس سے دشمنی کرتا ہے تو اس سے دشمنی فرما؟ انہوں نے فرمایا میں نے جو سنا تھا وہ تمیں بتادیا۔

سَأَلْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ فَقُلْتُ لَهُ ← عَطِّيَةَ الْعَوْفِيِّ ← عَبْدُ الْمَلِکِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سُلَيْمَانَ ← ابْنِ نُمَيْرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19494

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19495

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ وَأَبُو الْمُنْذِرِ قَالَا ثَنَا يُوسُفُ بْنُ صُهَيْبٍ قَالَ أَبُو الْمُنْذِرِ فِي حَدِيثِهِ قَالَ حَدَّثَنِي حَبِيبُ بْنُ يَسَارٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ لَقَدْ كُنَّا نَقْرَأُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ ذَهَبٍ وَفِضَّةٍ لَابْتَغَى إِلَيْهِمَا آخَرَ وَلَا يَمْلَأُ بَطْنَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ

حضرت زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ابتدائی دور میں ہم اس کی تلاوت کرتے تھے (جوبعد میں منسوخ ہوگئی) کہ اگر ابن آدم کے پاس سونے چاندی کی دووادیاں بھی ہوں تو وہ ایک اور کی تمنا کرے گا اور ابن آدم کا پیٹ مٹی کے علاوہ کوئی چیز نہیں بھرسکتی البتہ جوتوبہ کرلیتا ہے ، اللہ اس پر متوجہ ہوجاتاہے۔

زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، ← حَبِيبِ بْنِ يَسَارٍ، ← أَبُو الْمُنْذِرِ فِي حَدِيثِهِ ← يُوسُفُ بْنُ صُهَيْبٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ وَأَبُو الْمُنْذِرِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19495

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19496

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي حَمْزَةَ مَوْلَى الْأَنْصَارِ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ (بچوں میں ) سب سے پہلے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا۔

أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ ← زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، ← أَبِي حَمْزَةَ مَوْلَى الأَنْصَارِ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19496

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19497

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ وَأَبِي عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ سَأَلْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ كَمْ غَزَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تِسْعَ عَشْرَةَ وَغَزَوْتُ مَعَهُ سَبْعَ عَشْرَةَ وَسَبَقَنِي بِغَزَاتَيْنِ

ابواسحاق کہتے ہیں کہ میں نے حضرت زید رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے غزوات فرمائے ؟ انہوں نے جواب دیا انیس جن میں سے سترہ میں میں بھی شریک تھا لیکن دوغزوے مجھ سے رہ گئے تھے۔

تِسْعَ عَشْرَةَ وَغَزَوْتُ مَعَهُ سَبْعَ عَشْرَةَ وَسَبَقَنِي بِغَزَاتَيْنِ ← سَأَلْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ كَمْ غَزَا النَّبِيُّ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← إِسْرَائِيلُ وَأَبِي ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19497

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19498

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا سَلَّامُ بْنُ مِسْكِينٍ عَنْ عَائِذِ اللَّهِ الْمُجَاشِعِيِّ عَنْ أَبِي دَاوُدَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ قُلْتُ أَوْ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا هَذِهِ الْأَضَاحِيُّ قَالَ سُنَّةُ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ قَالُوا مَا لَنَا مِنْهَا قَالَ بِكُلِّ شَعْرَةٍ حَسَنَةٌ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَالصُّوفُ قَالَ بِكُلِّ شَعْرَةٍ مِنْ الصُّوفِ حَسَنَةٌ

حضرت زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ان قربانیوں کی کیا حقیقت ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تمہارے باپ حضرت ابراہیم کی سنت ہے انہوں نے پوچھا اس پر ہمیں کیا ملے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہربال کے بدلے ایک نیکی انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! اون کا کیا حکم ہے ؟ فرمایا اون کے ہربال کے عوض بھی ایک نیکی ملے گی ۔

قُلْتُ أَوَ ← زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، ← أَبِي دَاوُدَ، ← عائذ الله المجاشعي ← سَلَامُ بْنُ مِسْكِينٍ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19498

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19499

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا حَمْزَةَ يُحَدِّثُ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ قَالَ عَمْرٌو فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِإِبْرَاهِيمَ فَأَنْكَرَ ذَلِكَ وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ (بچوں میں ) سب سے پہلے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھی ۔

أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهِ تَعَالَى عَنْهُ: ← عَمْرٌو فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِإِبْرَاهِيمَ فَأَنْكَرَ ذَلِكَ ← أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ ← زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، ← أَبَا حَمْزَةَ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19499

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19500

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ قَالَ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ قَالَ فَحَلَفَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ شَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ قَالَ فَلَامَنِي قَوْمِي وَقَالُوا مَا أَرَدْتَ إِلَى هَذَا قَالَ فَانْطَلَقْتُ فَنِمْتُ كَئِيبًا أَوْ حَزِينًا قَالَ فَأَرْسَلَ إِلَيَّ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَنْزَلَ عُذْرَكَ وَصَدَّقَكَ قَالَ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ هُمْ الَّذِينَ يَقُولُونَ لَا تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ حَتَّى يَنْفَضُّوا حَتَّى بَلَغَ لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ

حضرت زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں کسی غزوے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کےساتھ شریک تھا (رئیس المنافقین) عبداللہ بن ابی کہنے لگا کہ اگر ہم مدینہ منورہ واپس گئے تو جوزیادہ باعزت ہوگاوہ زیادہ ذلیل کو وہاں سے باہر نکال دے گا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر آپ کو اس کی یہ بات بتائی ، عبداللہ بن ابی نے قسم اٹھالی کہ ایسی کوئی بات نہیں ہوئی میری قوم کے لوگ مجھے ملامت کرنے لگے اور کہنے لگے کہ تمہارا اس سے کیا مقصد تھا؟ میں وہاں سے واپس آکرغمزدہ سالیٹ کرسونے لگا تھوڑی ہی دیر بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قاصد کے ذریعے مجھے بلابھیجا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے تمہاراعذرنازل کرکے تمہاری سچائی کوثابت کردیاہے، اور یہ آیت نازل ہوئی ہے یہ لوگ کہتے ہیں کہ جو لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہیں ان پر کچھ خرچ نہ کرو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اگرہم مدینہ منورہ واپس گئے تو جوزیادہ باعزت ہوگاوہ زیادہ ذلیل کو وہاں سے باہر نکال دے گا۔

إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَنْزَلَ عُذْرَكَ وَصَدَّقَكَ ← فَأَرْسَلَ إِلَيَّ نَبِيُّ اللَّهِ أَوْ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ← فَانْطَلَقْتُ فَنِمْتُ كَئِيبًا أَوْ حَزِينًا ← مَا أَرَدْتَ إِلَى هَذَا ← فَلَامَنِي قَوْمِي ← فَحَلَفَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ شَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ ← فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ فَأَخْبَرْتُهُ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ ← كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ فِي غَزْوَةٍ ← زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19500

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19501

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ هَذِهِ الْحُشُوشَ مُحْتَضَرَةٌ فَإِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ

حضرت زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ان بیت الخلاؤں میں جنات آتے رہتے ہیں اس لئے جب تم میں سے کوئی شخص بیت الخلاء میں داخل ہو تو اسے یہ دعاء پڑھ لینی چاہئے کہ اے اللہ ! میں خبیث مذکر و مؤنث جنات سے آپ کی پناہ میں آتاہوں ۔

زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، ← النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19501

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19502

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَوْفٌ عَنْ مَيْمُونٍ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ كَانَ لِنَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْوَابٌ شَارِعَةٌ فِي الْمَسْجِدِ قَالَ فَقَالَ يَوْمًا سُدُّوا هَذِهِ الْأَبْوَابَ إِلَّا بَابَ عَلِيٍّ قَالَ فَتَكَلَّمَ فِي ذَلِكَ النَّاسُ قَالَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللَّهَ تَعَالَى وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي أَمَرْتُ بِسَدِّ هَذِهِ الْأَبْوَابِ إِلَّا بَابَ عَلِيٍّ وَقَالَ فِيهِ قَائِلُكُمْ وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا سَدَدْتُ شَيْئًا وَلَا فَتَحْتُهُ وَلَكِنِّي أُمِرْتُ بِشَيْءٍ فَاتَّبَعْتُهُ

حضرت زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کئی صحابہ رضی اللہ عنہم کے دروازے مسجد نبوی کے طرف کھلتے تھے ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ علی کے دروازے کو چھوڑ کر باقی سب دروازے بند کر دو، اس پر کچھ لوگوں نے باتیں کیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور اللہ کی حمدوثناء کی، پھر امابعد کہہ کر فرمایا کہ میں نے علی کا دروازہ چھوڑ کر باقی تمام دروازے بند کرنے کا جو حکم دیاہے اس پر تم میں سے بعض لوگوں کواعتراض ہے اللہ کی قسم ! میں اپنے طور پر کسی چیز کو کھول بند نہیں کرتا بلکہ مجھے تو حکم دیا گیا ہے اور میں اسی کی پیروی کرتا ہوں ۔

أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي أَمَرْتُ بِسَدِّ هَذِهِ الْأَبْوَابِ إِلَّا بَابَ عَلِيٍّ ← فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ فَحَمِدَ اللَّهَ تَعَالَى وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ ← فَتَكَلَّمَ فِي ذَلِكَ النَّاسُ ← يَوْمًا: «سُدُّوا هَذِهِ الْأَبْوَابَ إِلَّا بَابَ عَلِيٍّ» ← كَانَ لِنَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ أَبْوَابٌ شَارِعَةٌ فِي الْمَسْجِدِ ← زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، ← مَيْمُونَ أَبِي عَبْدِ اللهِ ← عَوْفٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19502

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19503

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ عَنِ الْحَجَّاجِ مَوْلَى بَنِي ثَعْلَبَةَ عَنْ قُطْبَةَ بْنِ مَالِكٍ عَمِّ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ قَالَ نَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ مِنْ عَلِيٍّ فَقَالَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ قَدْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْهَى عَنْ سَبِّ الْمَوْتَى فَلِمَ تَسُبُّ عَلِيًّا وَقَدْ مَاتَ

حضرت قطبہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کی زبان سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شان میں کوئی نامناسب جملہ نکل گیا تو حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ آپ جانتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو برابھلا کہنے سے منع فرمایا ہے پھر آپ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے متعلق ایسی بات کیوں کررہے ہیں جبکہ وہ فوت ہوچکے ؟

نَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ مِنْ عَلِيٍّ فَقَالَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ قَدْ عَلِمْتَ ← قُطْبَةَ بْنِ مَالِكٍ عَمِّ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ← الْحَجَّاجِ مَوْلَى بَنِي ثَعْلَبَةَ ← مِسْعَرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19503

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19504

حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ مَيْمُونًا يُحَدِّثُ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُمْ أَنْ يَتَدَاوَوْا مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ بِالْعُودِ الْهِنْدِيِّ وَالزَّيْتِ

حضرت زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیاہے کہ ذت الجنب کی بیماری میں عودہندی اور زیتون استعمال کیا کریں ۔

زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، ← أَبَا عَبْدِ اللَّهِ مَيْمُونًا ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19504

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19505

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الشَّامِيِّ قَالَ سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ يَخْطُبُ يَقُولُ يَا أَهْلَ الشَّامِ حَدَّثَنِي الْأَنْصَارِيُّ قَالَ قَالَ شُعْبَةُ يَعْنِي زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا هُمْ يَا أَهْلَ الشَّامِ

ابو عبداللہ شامی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو دوران خطبہ یہ کہتے ہوئے سناکہ مجھے انصاری صحابی حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے بتایاہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت میں ایک گروہ ہمیشہ حق پر غالب رہے گا اور مجھے امید ہے کہ اے اہل شام ! یہ تم ہی ہو۔

شُعْبَةُ يَعْنِي زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ ← الْأَنْصَارِيُّ، ← يَا أَهْلَ الشَّامِ ← مُعَاوِيَةَ يَخْطُبُ ← أَبِي عَبْدِ اللهِ الشَّامِيِّ ← شُعْبَةُ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19505

chevron_left Previous
1…103104105…146
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter