Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19482

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ حَيَّانَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ سَحَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مِنْ الْيَهُودِ قَالَ فَاشْتَكَى لِذَلِكَ أَيَّامًا قَالَ فَجَاءَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فَقَالَ إِنَّ رَجُلًا مِنْ الْيَهُودِ سَحَرَكَ عَقَدَ لَكَ عُقَدًا عُقَدًا فِي بِئْرِ كَذَا وَكَذَا فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا مَنْ يَجِيءُ بِهَا فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فَاسْتَخْرَجَهَا فَجَاءَ بِهَا فَحَلَّلَهَا قَالَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنَّمَا نُشِطَ مِنْ عِقَالٍ فَمَا ذَكَرَ لِذَلِكَ الْيَهُودِيِّ وَلَا رَآهُ فِي وَجْهِهِ قَطُّ حَتَّى مَاتَ

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی یہودی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر سحر کردیا جس کی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کئی دن بیمار رہے پھر حضرت جبرائیل آئے اور کہنے لگے کہ ایک یہودی شخص نے آپ پر سحر کردیاہے اس نے فلاں کنوئیں میں کسی چیز پر کچھ گرہیں لگا رکھی ہیں آپ کسی کو بھیج کروہ وہاں سے منگوالیں ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھیج کروہ چیز نکلوالی ، حضرت علی رضی اللہ عنہ اسے لے کر آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھولا جوں جوں وہ گرہیں کھلتی جاتی تھیں ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح تندرست ہوتے جاتے تھے جیسے کسی رسی سے آپ کو کھول دیا گیا ہے ہولیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس یہودی کا کوئی تذکرہ کیا اور نہ ہی وصال تک اس کا چہرہ دیکھا۔

فجاءه جبريل ← فاشتكى لذلك أياما ← سَحَرَ النَّبِيَّ رَجُلٌ مِنْ الْيَهُودِ ← زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، ← يَزِيدَ بْنِ حَيَّانَ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19482

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19483

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ طَلْحَةَ مَوْلَى قَرَظَةَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَنْتُمْ بِجُزْءٍ مِنْ مِائَةِ أَلْفِ جُزْءٍ مِمَّنْ يَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ فَقُلْنَا لِزَيْدٍ وَكَمْ أَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ قَالَ فَقَالَ بَيْنَ السِّتِّ مِائَةِ إِلَى السَّبْعِ مِائَةِ

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن میرے پاس حوض کوثر پر آنے والوں کا لاکھواں حصہ بھی نہیں ہوہم نے حضرت زید رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اس وقت آپ لوگ کتنے تھے ؟ انہوں نے فرمایا چھ سے سات سوکے درمیان ۔

زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، ← طَلْحَةَ مَوْلَى قَرَظَةَ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19483

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19484

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عُقْبَةَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مِنْ الْيَهُودِ فَقَالَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ أَلَسْتَ تَزْعُمُ أَنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ يَأْكُلُونِ فِيهَا وَيَشْرَبُونَ وَقَالَ لِأَصْحَابِهِ إِنْ أَقَرَّ لِي بِهَذِهِ خَصَمْتُهُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَلَى وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ أَحَدَهُمْ لَيُعْطَى قُوَّةَ مِائَةِ رَجُلٍ فِي الْمَطْعَمِ وَالْمَشْرَبِ وَالشَّهْوَةِ وَالْجِمَاعِ قَالَ فَقَالَ لَهُ الْيَهُودِيُّ فَإِنَّ الَّذِي يَأْكُلُ وَيَشْرَبُ تَكُونُ لَهُ الْحَاجَةُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجَةُ أَحَدِهِمْ عَرَقٌ يَفِيضُ مِنْ جُلُودِهِمْ مِثْلُ رِيحِ الْمِسْكِ فَإِذَا الْبَطْنُ قَدْ ضَمُرَ

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا اے ابوالقاسم ! کیا آپ کا یہ خیال نہیں ہے کہ جنتی جنت میں کھائیں پیئں گے ؟ اس نے اپنے دوستوں سے پہلے ہی کہہ رکھا تھا کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا اقرار کرلیا تو میں ان پر غالب آکر دکھاؤں گا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے کیوں نہیں ہر جنتی کو کھانے ، پینے ، خواہشات اور مباشرت کے حوالے سے سو آدمیوں کے برابرطاقت عطاء کی جائے گی ، اس یہودی نے کہا کہ پھر اس کھانے پینے والے کو قضاء حاجت کامسئلہ بھی پیش آئے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قضاء حاجت کا طریقہ یہ ہوگا کہ انہیں پسینہ آئے گا جوان کی کھال سے بہے گا اور اس سے مشک کی مہک آئے گی اور پیٹ ہلکا ہوجائے گا۔

لَهُ الْيَهُودِيُّ: فَإِنَّ الَّذِي يَأْكُلُ وَيَشْرَبُ تَكُونُ لَهُ الْحَاجَةُ، ← لِأَصْحَابِهِ إِنْ أَقَرَّ لِي بِهَذِهِ خَصَمْتُهُ ← يَا أَبَا الْقَاسِمِ أَلَسْتَ تَزْعُمُ أَنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ يأكُلُونَ فِيهَا، وَيَشْرَبُونَ، ← أَتَى النَّبِيُّ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ، ← زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، ← ثمامة بن عقبة ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19484

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19485

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ عَنِ الْقَاسِمِ الشَّيْبَانِيِّ أَنَّ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ رَأَى قَوْمًا يُصَلُّونَ فِي مَسْجِدِ قُبَاءَ مِنْ الضُّحَى فَقَالَ أَمَا لَقَدْ عَلِمُوا أَنَّ الصَّلَاةَ فِي غَيْرِ هَذِهِ السَّاعَةِ أَفْضَلُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ صَلَاةَ الْأَوَّابِينَ حِينَ تَرْمَضُ الْفِصَالُ وَقَالَ مَرَّةً وَأُنَاسٌ يُصَلُّونَ

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کر یم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اہل قباء کے پاس تشریف لے گئے وہ لوگ چاشت کے وقت نماز پڑھ رہے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کی طرف رجوع کرنے والوں کی یہ نماز اس وقت پڑھی جاتی ہے جب اونٹ کے بچوں کے پاؤں جلنے لگیں ۔

أَيُّوبَ، ← إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19485

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19486

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي حَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ طَاوُسٍ قَالَ قَدِمَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ يَسْتَذْكِرُهُ كَيْفَ أَخْبَرْتَنِي عَنْ لَحْمٍ أُهْدِيَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ حَرَامٌ قَالَ نَعَمْ أَهْدَى لَهُ رَجُلٌ عُضْوًا مِنْ لَحْمِ صَيْدٍ فَرَدَّهُ وَقَالَ إِنَّا لَا نَأْكُلُهُ إِنَّا حُرُمٌ

طاؤس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ان سے کریدتے ہوئے پوچھا کہ آپ نے مجھے وہ بات کیسے بتائی تھی کہ حالت احرام میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہدیہ پیش کیا گیا ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! ایک آدمی نے کسی شکار کا ایک حصہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہدیۃ ًپیش کیا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول نہ کیا اور فرمایا ہم اسے نہیں کھاسکتے کیونکہ ہم محرم ہیں ۔

حُرُمٌ ← لا نَأْكُلُهُ ← نَعَمْ أَهْدَی لَهُ رَجُلٌ عُضْوًا مِنْ لَحْمِ صَيْدٍ فَرَدَّهُ وَقَالَ ← لَحْمٍ أُهْدِيَ لِلنَّبِيِّ وَهُوَ حَرَامٌ ← قَدِمَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ يَسْتَذْکِرُهُ کَيْفَ أَخْبَرْتَنِي ← طَاوْسٍ ← حَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19486

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19487

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى أَنَّ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ كَانَ يُكَبِّرُ عَلَى جَنَائِزِنَا أَرْبَعًا وَأَنَّهُ كَبَّرَ عَلَى جِنَازَةٍ خَمْسًا فَسَأَلُوهُ فَقَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَبِّرُهَا أَوْ كَبَّرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ابن ابی لیلیٰ رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ ہمارے جنازوں پر چارتکبیرات کہتے تھے ایک مرتبہ کسی جنازے پر انہوں نے پانچ تکبیرات کہہ دیں لوگوں نے ان سے اس کے متعلق پوچھا تو فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھارپانچ تکبیرات بھی کہہ لیا کرتے تھے۔

ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19487

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19488

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ صُهَيْبٍ عَنْ حَبِيبِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ لَمْ يَأْخُذْ مِنْ شَارِبِهِ فَلَيْسَ مِنَّا

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کر یم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنی مونچھیں نہیں تراشتاوہ ہم میں سے نہیں ہے۔

(مَنْ لَمْ يَأْخُذْ مِنْ شَارِبِهِ فَلَيْسَ مِنَّا) ← النَّبِيِّ ← زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، ← حَبِيبِ بْنِ يَسَارٍ، ← يُوسُفُ بْنُ صُهَيْبٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19488

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19489

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ حَبِيبٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ قَالَ سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ وَالْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ يَقُولَانِ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الذَّهَبِ بِالْوَرِقِ دَيْنًا

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ اور براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کے بدلے سونے کی ادھارخریدوفروخت سے منع کیا ہے۔

بَيْعِ الذَّهَبِ بِالْوَرِقِ دَيْنًا ← زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ وَالْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ يَقُولَانِ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← أَبِي الْمِنْهَالِ، ← حَبِيبٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي ثَابِتٍ، ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19489

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19490

حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَعَفَّانُ قَالَا ثَنَا شُعْبَةُ قَالَ بَهْزٌ فِي حَدِيثِهِ حَدَّثَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْمِنْهَالِ رَجُلًا مِنْ بَنِي كِنَانَةَ قَالَ سَأَلْتُ الْبَرَاءَ عَنْ الصَّرْفِ فَقَالَ سَلْ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ فَإِنَّهُ خَيْرٌ مِنِّي وَأَعْلَمُ قَالَ سَأَلْتُ زَيْدًا فَذَكَرَ الْحَدِيثَ

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ اور براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کے بدلے سونے کی ادھارخریدوفروخت سے منع کیا ہے۔

سَأَلْتُ زَيْدًا فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ← الصَّرْفِ فَقَالَ سَلْ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ فَإِنَّهُ خَيْرٌ مِنِّي وَأَعْلَمُ ← سَأَلْتُ الْبَرَاءَ ← أَبَا الْمِنْهَالِ رَجُلًا مِنْ بَنِي كِنَانَةَ ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← بَهْزٌ فِي حَدِيثِهِ ← شُعْبَةُ، ← بهز وعفان

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19490

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19491

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ وَعَامِرُ بْنُ مُصْعَبٍ سَمِعَا أَبَا الْمِنْهَالِ قَالَ سَأَلْتُ الْبَرَاءَ وَزَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ اور براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کے بدلے سونے کی ادھارخریدوفروخت سے منع کیا ہے۔

سَأَلْتُ الْبَرَاءَ وَزَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ وَعَامِرُ بْنُ مُصْعَبٍ سَمِعَا أَبَا الْمِنْهَالِ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← رَوْحٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19491

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19492

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي حَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ وَلَمْ يَسْمَعْهُ مِنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ زَيْدًا وَالْبَرَاءَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ اور براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کے بدلے سونے کی ادھارخریدوفروخت سے منع کیا ہے۔

زَيْدًا وَالْبَرَاءَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ← أَبِي الْمِنْهَالِ وَلَمْ يَسْمَعْهُ مِنْهُ أَنَّهُ ← حَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← رَوْحٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19492

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19493

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنِ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ شُبَيْلٍ عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ كَانَ الرَّجُلُ يُكَلِّمُ صَاحِبَهُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَاجَةِ فِي الصَّلَاةِ حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ فَأُمِرْنَا بِالسُّكُوتِ

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ابتدائی دور باسعادت میں لوگ اپنی ضرورت سے متعلق نماز کے دوران گفتگوکرلیتے تھے یہاں تک کہ پھر یہ آیت نازل ہوگئی وقومو اللہ قنتین " اور ہمیں خاموشیکا حکم دے دیا گیا۔

زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، ← أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ← الحارث بن شبيل، ← إِسْمَاعِيلُ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19493

chevron_left Previous
1…102103104…146
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter