Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Tuesday, Jumada I 10, 1448 AH · Oct 20, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21407

قَالَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ عَنْ عُبَادَةَ أَنَّ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُنْزِلَ الْقُرْآنُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قرآن کریم سات حروف پر نازل کیا گیا ہے۔

عُبَادَةَ أَنَّ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ ← أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← حَمَّادٌ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21407

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21408

قَالَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ قَالَ أَقْرَأَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آيَةً وَأَقْرَأَهَا آخَرَ غَيْرَ قِرَاءَةِ أُبَيٍّ فَقُلْتُ مَنْ أَقْرَأَكَهَا قَالَ أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ وَاللَّهِ لَقَدْ أَقْرَأَنِيهَا كَذَا وَكَذَا قَالَ أُبَيٌّ فَمَا تَخَلَّجَ فِي نَفْسِي مِنْ الْإِسْلَامِ مَا تَخَلَّجَ يَوْمَئِذٍ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَمْ تُقْرِئْنِي آيَةَ كَذَا وَكَذَا قَالَ بَلَى قَالَ فَإِنَّ هَذَا يَدَّعِي أَنَّكَ أَقْرَأْتَهُ كَذَا وَكَذَا فَضَرَبَ بِيَدِهِ فِي صَدْرِي فَذَهَبَ ذَاكَ فَمَا وَجَدْتُ مِنْهُ شَيْئًا بَعْدُ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَانِي جِبْرِيلُ وَمِيكَائِيلُ عَلَيْهِمَا السَّلَام فَقَالَ جِبْرِيلُ اقْرَأْ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفٍ فَقَالَ مِيكَائِيلُ اسْتَزِدْهُ قَالَ اقْرَأْهُ عَلَى حَرْفَيْنِ قَالَ اسْتَزِدْهُ حَتَّى بَلَغَ سَبْعَةَ أَحْرُفٍ قَالَ كُلٌّ شَافٍ كَافٍ

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک آیت پڑھائی اور دوسرے آدمی کو وہی آیت دوسری طرح پڑھائی، میں نے اس سے پوچھا کہ تمہیں یہ آیت کس نے پڑھائی ہے؟ اس نے کہا مجھے یہ آیت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھائی ہے میں نے قسم کھا کر کہا کہ مجھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت اس طرح پڑھائی ہے اور اس دن اسلام کے حوالے سے جو وسوسے میرے ذہن میں آئے کبھی ایسے وسوسے نہیں آئے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ نے فلاں آیت مجھے اس اس طرح نہیں پڑھائی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں میں نے عرض کیا کہ یہ شخص دعوی کرتا ہے آپ نے اسے یہی آیت دوسری طرح پڑھائی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینے پر اپنا ہاتھ مارا جس سے وہ تمام وساوس دور ہوگئے اور اس کے بعد کبھی مجھے ایسے وسوسے نہ آئے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے پاس جبرائیل علیہ السلام اور میکائیل علیہ السلام آئے تھے حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ قرآن کریم کو ایک حرف پر پڑھئے حضرت میکائیل علیہ السلام نے کہا کہ آپ ان سے اضافے کی درخواست کیجئے حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ اسے دو حرفوں پر پڑھئے حضرت میکائیل علیہ السلام نے پھر کہا کہ ان سے اضافے کی درخواست کیجئے یہاں تک کہ سات حروف تک پہنچ گئے اور فرمایا ان میں سے ہر ایک کافی شافی ہے۔

أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ قُلْتُ وَاللَّهِ لَقَدْ أَقْرَأَنِيهَا كَذَا وَكَذَا ← أَقْرَأَنِي رَسُولُ اللَّهِ آيَةً وَأَقْرَأَهَا آخَرَ غَيْرَ قِرَاءَةِ أُبَيٍّ فَقُلْتُ مَنْ أَقْرَأَكَهَا ← عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ ← أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← حَمَّادٌ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21408

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21409

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أُبَيًّا قَالَ مَا حَكَّ فِي صَدْرِي شَيْءٌ مُنْذُ أَسْلَمْتُ إِلَّا أَنِّي قَرَأْتُ آيَةً فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عُبَادَةَ

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک آیت پڑھائی اور دوسرے آدمی کو وہی آیت دوسری طرح پڑھائی، میں نے اس سے پوچھا کہ تمہیں یہ آیت کس نے پڑھائی ہے؟ اس نے کہا مجھے یہ آیت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھائی ہے میں نے قسم کھا کر کہا کہ مجھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت اس طرح پڑھائی ہے اور اس دن اسلام کے حوالے سے جو وسوسے میرے ذہن میں آئے کبھی ایسے وسوسے نہیں آئے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ نے فلاں آیت مجھے اس اس طرح نہیں پڑھائی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں میں نے عرض کیا کہ یہ شخص دعوی کرتا ہے آپ نے اسے یہی آیت دوسری طرح پڑھائی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینے پر اپنا ہاتھ مارا جس سے وہ تمام وساوس دور ہوگئے اور اس کے بعد کبھی مجھے ایسے وسوسے نہ آئے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے پاس جبرائیل علیہ السلام اور میکائیل علیہ السلام آئے تھے حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ قرآن کریم کو ایک حرف پر پڑھئے حضرت میکائیل علیہ السلام نے کہا کہ آپ ان سے اضافے کی درخواست کیجئے حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ اسے دو حرفوں پر پڑھئے حضرت میکائیل علیہ السلام نے پھر کہا کہ ان سے اضافے کی درخواست کیجئے یہاں تک کہ سات حروف تک پہنچ گئے اور فرمایا ان میں سے ہر ایک کافی شافی ہے۔

آيَةً فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عُبَادَةَ ← مَا حَكَّ فِي صَدْرِي شَيْءٌ مُنْذُ أَسْلَمْتُ إِلَّا أَنِّي ← أَنَسٍ أَنَّ أُبَيًّا ← حُمَيْدٍ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21409

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21410

قَالَ عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي التَّوْرَاةِ وَلَا فِي الْإِنْجِيلِ مِثْلَ أُمِّ الْقُرْآنِ وَهِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي وَهِيَ مَقْسُومَةٌ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے سورت فاتحہ جیسی سورت پوری تورات اور انجیل میں نازل نہیں فرمائی، یہی سبع مثانی ہے (اور اللہ فرماتے ہیں کہ) یہی سورت میرے اور میرے بندے کے درمیان تقسیم شدہ ہے اور میرے بندے کو وہی ملے گا جو وہ مانگے گا۔

أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ، ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو أُسَامَةَ ← هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21410

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21411

قَالَ عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو مَعْمَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا أُعَلِّمُكَ سُورَةً مَا أُنْزِلَ فِي التَّوْرَاةِ وَلَا فِي الزَّبُورِ وَلَا فِي الْإِنْجِيلِ وَلَا فِي الْقُرْآنِ مِثْلُهَا قُلْتُ بَلَى قَالَ فَإِنِّي أَرْجُو أَنْ لَا أَخْرُجَ مِنْ ذَلِكَ الْبَابِ حَتَّى تَعْلَمَهَا ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُمْتُ مَعَهُ فَأَخَذَ بِيَدِي فَجَعَلَ يُحَدِّثُنِي حَتَّى بَلَغَ قُرْبَ الْبَابِ قَالَ فَذَكَّرْتُهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ السُّورَةَ الَّتِي قُلْتَ لِي قَالَ فَكَيْفَ تَقْرَأُ إِذَا قُمْتَ تُصَلِّي فَقَرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ قَالَ هِيَ هِيَ وَهِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ الَّذِي أُوتِيتُ بَعْدُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں ایک ایسی سورت نہ سکھا دوں جس کی مثال تورات، زبور، انجیل، اور خود قرآن میں بھی نہیں ہے؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے امید ہے کہ تم اس دروازے سے نکلنے نہیں پاؤگے کہ اسے سیکھ چکے ہوگے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے میں بھی ان کے ہمراہ کھڑا ہوگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرا ہاتھ پکڑ کر باتیں کرنے لگے اور چلتے چلتے دروازے کے قریب پہنچ گئے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یاد دہانی کراتے ہوئے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم وہ سورت بتا دیجئے جس کے متعلق آپ نے مجھ سے فرمایا تھا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم نماز پڑھنے کھڑے ہوتے ہو تو کیا پڑھتے ہو؟ انہوں نے سورت فاتحہ پڑھ کر سنا دی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہی وہ سورت ہے وہی سبع مثانی ہے اور وہی قرآن عظیم ہے جو مجھے دیا گیا ہے۔

أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو أُسَامَةَ ← أَبُو مَعْمَرٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21411

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21412

قَالَ عَبْد اللَّهِ سَأَلْتُ أَبِي قَالَ عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَسُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ فَقَدَّمَ الْعَلَاءَ عَلَى سُهَيْلٍ وَقَالَ لَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا ذَكَرَ الْعَلَاءَ بِسُوءٍ و قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ وَأَبُو صَالِحٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ الْعَلَاءِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں ایک ایسی سورت نہ سکھا دوں جس کی مثال تورات، زبور، انجیل، اور خود قرآن میں بھی نہیں ہے؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے امید ہے کہ تم اس دروازے سے نکلنے نہیں پاؤگے کہ اسے سیکھ چکے ہوگے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے میں بھی ان کے ہمراہ کھڑا ہوگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرا ہاتھ پکڑ کر باتیں کرنے لگے اور چلتے چلتے دروازے کے قریب پہنچ گئے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یاد دہانی کراتے ہوئے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم وہ سورت بتا دیجئے جس کے متعلق آپ نے مجھ سے فرمایا تھا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم نماز پڑھنے کھڑے ہوتے ہو تو کیا پڑھتے ہو؟ انہوں نے سورت فاتحہ پڑھ کر سنا دی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہی وہ سورت ہے وہی سبع مثانی ہے اور وہی قرآن عظیم ہے جو مجھے دیا گیا ہے۔

الْعَلَاءَ بِسُوءٍ و ← لَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَسُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ فَقَدَّمَ الْعَلَاءَ عَلَى سُهَيْلٍ ← عَبْد اللَّهِ سَأَلْتُ أَبِي

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21412

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21413

قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ وَابْنُ إِدْرِيسَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ مَعْمَرِ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ زُهَيْرٌ فِي حَدِيثِهِ رِفَاعَةُ بْنُ رَافِعٍ وَكَانَ عَقَبِيًّا بَدْرِيًّا قَالَ كُنْتُ عِنْدَ عُمَرَ فَقِيلَ لَهُ إِنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ يُفْتِي النَّاسَ فِي الْمَسْجِدِ قَالَ زُهَيْرٌ فِي حَدِيثِهِ النَّاسَ بِرَأْيِهِ فِي الَّذِي يُجَامِعُ وَلَا يُنْزِلُ فَقَالَ أَعْجِلْ بِهِ فَأُتِيَ بِهِ فَقَالَ يَا عَدُوَّ نَفْسِهِ أَوَقَدْ بَلَغْتَ أَنْ تُفْتِيَ النَّاسَ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَأْيِكَ قَالَ مَا فَعَلْتُ وَلَكِنْ حَدَّثَنِي عُمُومَتِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَيُّ عُمُومَتِكَ قَالَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ قَالَ زُهَيْرٌ وَأَبُو أَيُّوبَ وَرِفَاعَةُ بْنُ رَافِعٍ فَالْتَفَتُّ إِلَى مَا يَقُولُ هَذَا الْفَتَى وَقَالَ زُهَيْرٌ مَا يَقُولُ هَذَا الْغُلَامُ فَقُلْتُ كُنَّا نَفْعَلُهُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَسَأَلْتُمْ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُنَّا نَفْعَلُهُ عَلَى عَهْدِهِ فَلَمْ نَغْتَسِلْ قَالَ فَجَمَعَ النَّاسَ وَاتَّفَقَ النَّاسُ عَلَى أَنَّ الْمَاءَ لَا يَكُونُ إِلَّا مِنْ الْمَاءِ إِلَّا رَجُلَيْنِ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَمُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ قَالَا إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ قَالَ فَقَالَ عَلِيٌّ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّ أَعْلَمَ النَّاسِ بِهَذَا أَزْوَاجُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلَ إِلَى حَفْصَةَ فَقَالَتْ لَا عِلْمَ لِي فَأَرْسَلَ إِلَى عَائِشَةَ فَقَالَتْ إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ وَجَبَ الْغُسْلُ قَالَ فَتَحَطَّمَ عُمَرُ يَعْنِي تَغَيَّظَ ثُمَّ قَالَ لَا يَبْلُغُنِي أَنَّ أَحَدًا فَعَلَهُ وَلَا يَغْسِلُ إِلَّا أَنْهَكْتُهُ عُقُوبَةً

حضرت رفاعہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر تھا کسی نے ان سے کہا کہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ مسجد میں بیٹھ کر اس شخص کے متعلق جو اپنی بیوی سے مجامعت کرے لیکن اسے انزال نہ ہو، اپنی رائے سے لوگوں کو فتویٰ دے رہے ہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا جلدی سے جا کر انہیں میرے پاس بلا کر لاؤ، جب وہ آگئے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا اے دشمن جان! مجھے پتہ چلا ہے کہ تم مسجد نبوی میں بیٹھ کر اپنی رائے سے لوگوں کو فتویٰ دے رہے ہو؟ حضرت زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے تو ایسا نہیں کیا بلکہ یہ بات تو میرے چچاؤں نے مجھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ذکر کی ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ کون سا چچا؟ انہوں نے بتایا حضرت ابی کعب رضی اللہ عنہ ( اور حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ اور حضرت رفاعہ بن رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ) حضرت عمر رضی عنہ نے میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا یہ نوجوان کیا کہہ رہا ہے؟ میں نے کہا کہ ہم تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے ایسا ہی کرتے تھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ کیا آپ لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تھا؟ میں نے جواب دیا کہ ہم تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ایسا ہی کرتے تھے (اس کا رواج عام تھا) حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے تمام لوگوں کو اکٹھا کیا اور دو آدمیوں یعنی حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے علاوہ سب نے اس بات پر اتفاق کر لیا کہ وجوب غسل انزال کی صورت میں ہی ہوگا مذکورہ دونوں حضرات کا کہنا تھا کہ جب ایک شرمگاہ دوسری شرمگاہ سے مل جائے تو غسل واجب ہو جاتا ہے پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا امیرالمؤمنین اس مسئلے کا سب سے زیادہ علم ازواج مطہرات کے پاس ہو سکتا ہے لہٰذا حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس کسی کو بھیج کر معلوم کروا لیجئے حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے جواب دیا کہ مجھے اس کے متعلق کچھ علم نہیں پھر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس قاصد کو بھیجا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ جب ایک شرمگاہ دوسری شرمگاہ سے مل جائے تو غسل واجب ہو جاتا ہے اس پر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو سخت غصہ آیا اور فرمایا اگر مجھے پتہ چلا کہ کسی نے ایسا کیا ہے اور غسل نہیں کیا تو اسے سخت سزا دوں گا۔

زُهَيْرٌ فِي حَدِيثِهِ رِفَاعَةُ بْنُ رَافِعٍ وَكَانَ عَقَبِيًّا بَدْرِيًّا ← أَبِيهِ ← عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ ← مَعْمَرِ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← زُهَيْرٌ وَابْنُ إِدْرِيسَ ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21413

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24726

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ يَا عَائِشَةُ مَا فَعَلَتْ الذَّهَبُ فَجَاءَتْ مَا بَيْنَ الْخَمْسَةِ إِلَى السَّبْعَةِ أَوْ الثَّمَانِيَةِ أَوْ التِّسْعَةِ فَجَعَلَ يُقَلِّبُهَا بِيَدِهِ وَيَقُولُ مَا ظَنُّ مُحَمَّدٍ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَوْ لَقِيَهُ وَهَذِهِ عِنْدَهُ أَنْفِقِيهَا

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرض الوفات میں مجھ سے فرمایا: اے عائشہ! وہ سونا کیا ہوا؟ وہ پانچ سے نو کے درمیان کچھ اشرفیاں لے کر آئیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اپنے ہاتھ سے پلٹنے اور فرمانے لگے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ سے کس گمان کے ساتھ ملے گا جبکہ اس کے پاس یہ اشرفیاں موجود ہوں؟ انہیں خرچ کر دو۔

عَائِشَةَ ← أَبُو سَلَمَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← يَحْيَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24726

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24727

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ عَنْ أَبِي الضُّحَى عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ فِي رُكُوعِهِ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ رَبِّ اغْفِرْ لِي يَتَأَوَّلُ الْقُرْآنَ

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رکوع و سجود میں بکثر ت، سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ رَبِّ اغْفِرْ لِي کہتے تھے اور قرآن پر عمل فرماتے تھے۔

عَائِشَةَ ← مَسْرُوقٍ ← أَبِي الضُّحَى، ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← يَحْيَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24727

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24728

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ قَالَ حَدَّثَنِي مَخْلَدُ بْنُ خُفَافِ بْنِ إِيمَاءَ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْخَرَاجُ بِالضَّمَانِ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کمائی کا منافع تاوان ضمانت کے ساتھ وابستہ ہو تا ہے۔

الْخَرَاجُ بِالضَّمَانِ. ← النَّبِيِّ ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← مَخْلَدُ بْنُ خُفَافِ بْنِ إِيمَاءَ ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← يَحْيَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24728

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24729

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ لَا يُصَلِّي إِلَّا رَكْعَتَيْنِ فَأَقُولُ قَرَأَ فِيهِمَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی سنتیں اتنی مختصر پڑھتے تھے کہ میں کہتی "نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت فاتحہ بھی پڑھی ہے یا نہیں"۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَسْعَدِ بْنِ زُرَارَةَ ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24729

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24730

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ قَالَ حَدَّثَنِي الْحَكَمُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ فِي أَهْلِهِ قَالَتْ كَانَ فِي مِهْنَةِ أَهْلِهِ فَإِذَا حَضَرَتْ الصَّلَاةُ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ

اسود کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں کیا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ گھر کے چھوٹے موٹے کاموں میں لگے رہتے تھے اور جب نماز کا وقت آتا تو نماز کے لئے تشریف لے جاتے۔

كَانَ فِي مِهْنَةِ أَهْلِهِ فَإِذَا حَضَرَتْ الصَّلَاةُ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ ← قُلْتُ لِعَائِشَةَ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَصْنَعُ فِي أَهْلِهِ ← الْأَسْوَدِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24730

chevron_left Previous
1…777879…684
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter