Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Tuesday, Jumada I 10, 1448 AH · Oct 20, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24675

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ جَابِرِ بْنِ صُبْحٍ قَالَ سَمِعْتُ خِلَاسًا قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَبِيتُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الشِّعَارِ الْوَاحِدِ وَأَنَا طَامِثٌ حَائِضٌ قَالَتْ فَإِنْ أَصَابَهُ مِنِّي شَيْءٌ غَسَلَهُ لَمْ يَعْدُ مَكَانَهُ وَصَلَّى فِيهِ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی چادر میں لیٹ جایا کر تے تھے باوجودیکہ میں ایام سے ہوتی تھی، اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم پر مجھ سے کچھ لگ جاتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم صرف اسی جگہ کو دھولیتے تھے، اس سے زیادہ نہیں اور پھر اسی میں نماز پڑھ لیتے تھے۔

فَإِنْ أَصَابَهُ مِنِّي شَيْءٌ غَسَلَهُ لَمْ يَعْدُ مَكَانَهُ وَصَلَّى فِيهِ ← وَرَسُولُ اللَّهِ فِي الشِّعَارِ الْوَاحِدِ وَأَنَا طَامِثٌ حَائِضٌ ← كُنْتُ أَبِيتُ ← عَائِشَةَ ← خلاسا ← جَابِرِ بْنِ صُبْحٍ ← يَحْيَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24675

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24676

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَبِّلُ أَوْ يُقَبِّلُنِي وَهُوَ صَائِمٌ وَأَيُّكُمْ كَانَ أَمْلَكَ لِإِرْبِهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ باجودیکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی خواہش پر تم سے زیادہ قابو رکھتے تھے لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی مجھے یا اپنی ازواج کو بوسہ دیدیا کرتے تھے۔

عَائِشَةَ ← الْقَاسِمِ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← يَحْيَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24676

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24677

حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعَوِّذُ بَعْضَ أَهْلِهِ يَمْسَحُهُ بِيَمِينِهِ فَيَقُولُ أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ إِنَّكَ أَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اہل خانہ میں سے کسی پر دم فرماتے تو اس پر داہنا ہاتھ پھیرتے اور یہ دعا پڑھتے "اے لوگوں کے رب! اس کی تکلیف کو دور فرما۔ اسے شفاء عطا فر ما کیونکہ تو ہی شفاء دینے والا ہے، تیرے علاوہ کہیں سے شفاء نہیں مل سکتی، ایسی شفاء دے دے کہ جو بیماری کا نام و نشان بھی نہ چھوڑے۔

عَائِشَةَ ← مَسْرُوقٍ ← مُّسْلِمٍ ← سُلَیْمَانَ ← سُفْيَانَ، ← يَحْيَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24677

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24678

قَالَ فَذَكَرْتُهُ لِمَنْصُورٍ فَحَدَّثَنِي عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ نَحْوَهُ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اہل خانہ میں سے کسی پر دم فرماتے تو اس پر داہنا ہاتھ پھیرتے اور یہ دعا پڑھتے "اے لوگوں کے رب! اس کی تکلیف کو دور فرما۔ اسے شفاء عطا فر ما کیونکہ تو ہی شفاء دینے والا ہے، تیرے علاوہ کہیں سے شفاء نہیں مل سکتی، ایسی شفاء دے دے کہ جو بیماری کا نام و نشان بھی نہ چھوڑے۔

عائشة نحوه ← مَسْرُوقٍ ← إِبْرَاهِيمَ، ← فَذَكَرْتُهُ لِمَنْصُورٍ فَحَدَّثَنِي

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24678

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24679

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ وَابْنُ نُمَيْرٍ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا وَلَا شَاةً وَلَا بَعِيرًا وَلَا أَوْصَى بِشَيْءٍ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ترکے میں کوئی دینار، کوئی درہم، کوئی بکری اور اونٹ چھوڑا اور نہ ہی کسی چیز کی وصیت فرمائی۔

عَائِشَةَ ← مَسْرُوقٍ ← شَقِيقٍ، ← الْاَعْمَشِ ← الأَعْمَشُ وَابْنُ نُمَيْرٍ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24679

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24680

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَنْفَقَتْ الْمَرْأَةُ مِنْ طَعَامِ زَوْجِهَا فَذَكَرَ مَعْنَاهُ وَقَالَ لَا يَنْقُصُ وَاحِدٌ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ شَيْئًا

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر کوئی عورت اپنے شوہر کے گھر میں سے کوئی چیز خرچ کرتی ہے۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔

لَا يَنْقُصُ وَاحِدٌ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ شَيْئًا ← مَعْنَاهُ ← إِذَا أَنْفَقَتْ الْمَرْأَةُ مِنْ طَعَامِ زَوْجِهَا ← النَّبِيِّ ← عَائِشَةَ ← مَسْرُوقٍ ← شَقِيقٍ، ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24680

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24681

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ دَخَلَتْ عَلَيْهَا يَهُودِيَّةٌ اسْتَوْهَبَتْهَا طِيبًا فَوَهَبَتْ لَهَا عَائِشَةُ فَقَالَتْ أَجَارَكِ اللَّهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ قَالَتْ فَوَقَعَ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِكَ حَتَّى جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِلْقَبْرِ عَذَابًا قَالَ نَعَمْ إِنَّهُمْ لَيُعَذَّبُونَ فِي قُبُورِهِمْ عَذَابًا تَسْمَعُهُ الْبَهَائِمُ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہمارے یہاں ایک یہودیہ آئی، اس نے مجھ سے خوشبو مانگی، میں نے اسے دے دی، وہ کہنے لگی اللہ تمہیں عذاب قبر سے محفوظ رکھے، وہ کہتی ہیں کہ میرے دل میں یہ بات بیٹھ گئی، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو میں نے ان سے اس واقعہ کا ذکر کیا، اور عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا قبر میں بھی عذاب ہو تا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! لوگوں کو قبروں میں عذاب ہو تا ہے جنہیں درندے اور چوپائے سنتے ہیں۔

فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ قُلْتُ ← فَوَقَعَ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِكَ حَتَّى جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ ← أَجَارَکِ اللَّهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ← دَخَلَتْ عَلَيْهَا يَهُودِيَّةٌ اسْتَوْهَبَتْهَا طِيبًا فَوَهَبَتْ لَهَا عَائِشَةُ ← عَائِشَةَ ← مَسْرُوقٍ ← شَقِيقٍ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24681

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24682

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ الْمَعْنَى قَالَا حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَانِ فَأَغْلَظَ لَهُمَا وَسَبَّهُمَا قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمَنْ أَصَابَ مِنْكَ خَيْرًا مَا أَصَابَ هَذَانِ مِنْكَ خَيْرًا قَالَتْ فَقَالَ أَوَمَا عَلِمْتِ مَا عَاهَدْتُ عَلَيْهِ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ قَالَ قُلْتُ اللَّهُمَّ أَيُّمَا مُؤْمِنٍ سَبَبْتُهُ أَوْ جَلَدْتُهُ أَوْ لَعَنْتُهُ فَاجْعَلْهَا لَهُ مَغْفِرَةً وَعَافِيَةً وَكَذَا وَكَذَا

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو آدمی آئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ترشی کے ساتھ انہیں سخت سست کہا، میں نے عرض کیا یارسول اللہ! جس کو بھی آپ کی جانب سے خیر پہنچی ہو، لیکن ان دونوں کو خیر نہیں پہنچی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ میں نے اپنے رب سے عہد کیا ہے کہ کہ اگر میں کسی مومن کو لعنت ملامت کروں تو تو ان کلمات کو اس کے لئے مغفرت اور عافیت وغیرہ کا ذریعہ بنا دے۔

فَقُلْتُ: ← دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ رَجُلَانِ فَأَغْلَظَ لَهُمَا وَسَبَّهُمَا ← عَائِشَةَ ← مَسْرُوقٍ ← مُّسْلِمٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ الْمَعْنَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24682

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24683

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَمْرٍ فَتَنَزَّهَ عَنْهُ نَاسٌ مِنْ النَّاسِ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَغَضِبَ حَتَّى بَانَ الْغَضَبُ فِي وَجْهِهِ ثُمَّ قَالَ مَا بَالُ قَوْمٍ يَرْغَبُونَ عَمَّا رُخِّصَ لِي فِيهِ فَوَاللَّهِ لَأَنَا أَعْلَمُهُمْ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَأَشَدُّهُمْ لَهُ خَشْيَةً

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ کسی کام میں رخصت عطا فرمائی تو کچھ لوگ اس رخصت کو قبول کرنے سے کنارہ کش رہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اتنا غصہ آیا کہ چہرہ مبارک پر غصے کے آثار نمایاں ہو گئے ، پھر فرمایا لوگوں کا کیا مسئلہ ہے کہ وہ ان چیزوں سے اعراض کرتے ہیں جن میں مجھے رخصت دی گئی ہے، واللہ میں ان سب سے زیادہ اللہ کو جاننے والا اور ان سب سے زیادہ اس سے ڈرنے والا ہوں۔

عَائِشَةَ ← مَسْرُوقٍ ← مُّسْلِمٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24683

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24684

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَرْنَاهُ فَلَمْ يَعْدُدْهَا عَلَيْنَا شَيْئًا

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنے پاس رہنے یا دنیا لینے کا اختیار دیا، ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار کرلیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ہم پر کوئی طلاق شمار نہیں کیا۔

خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ فَاخْتَرْنَاهُ فَلَمْ يَعْدُدْهَا عَلَيْنَا شَيْئًا ← عَائِشَةَ ← مَسْرُوقٍ ← مُّسْلِمٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24684

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24685

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اہل خانہ میں سے کسی پر دم فرماتے تو اس پر داہنا ہاتھ پھیرتے اور یہ دعا پڑھتے "اے لوگوں کے رب! اس کی تکلیف کو دور فرما۔ اسے شفاء عطا فرما کیونکہ تو ہی شفاء دینے والا ہے، تیرے علاوہ کہیں سے شفاء نہیں مل سکتی، ایسی شفاء دے دے کہ جو بیماری کا نام و نشان بھی نہ چھوڑے ، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مرض الوفات میں مبتلا ہوئے تو میں ان کا دست مبارک پکڑتی اور یہ کلمات پڑھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ ان کے جسم پر پھیر دیتی، میں یوں ہی کرتی رہی یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ مجھ سے چھڑا لیا اور کہنے لگے پر وردگار! مجھے معاف فرما دے اور میرے رفیق سے ملا دے، یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری کلام تھا جو میں نے سنا۔

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ← عَائِشَةَ ← مَسْرُوقٍ ← مُّسْلِمٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24685

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24686

وَابْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي الضُّحَى عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَوِّذُ بِهَذِهِ الْكَلِمَاتِ أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ اشْفِ وَأَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا قَالَتْ فَلَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ أَخَذْتُ بِيَدِهِ فَجَعَلْتُ أَمْسَحُهُ بِهَا وَأَقُولُهَا قَالَتْ فَنَزَعَ يَدَهُ مِنِّي ثُمَّ قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَأَلْحِقْنِي بِالرَّفِيقِ قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَتْ فَكَانَ هَذَا آخِرَ مَا سَمِعْتُ مِنْ كَلَامِهِ قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا عَادَ مَرِيضًا مَسَحَهُ بِيَدِهِ وَقَالَ أَذْهِبْ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اہل خانہ میں سے کسی پر دم فرماتے تو اس پر داہنا ہاتھ پھیرتے اور یہ دعا پڑھتے "اے لوگوں کے رب! اس کی تکلیف کو دور فرما۔ اسے شفاء عطا فرما کیونکہ تو ہی شفاء دینے والا ہے، تیرے علاوہ کہیں سے شفاء نہیں مل سکتی، ایسی شفاء دے دے کہ جو بیماری کا نام و نشان بھی نہ چھوڑے ، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مرض الوفات میں مبتلا ہوئے تو میں ان کا دست مبارک پکڑتی اور یہ کلمات پڑھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ ان کے جسم پر پھیر دیتی، میں یوں ہی کرتی رہی یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ مجھ سے چھڑا لیا اور کہنے لگے پر وردگار! مجھے معاف فرما دے اور میرے رفیق سے ملا دے، یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری کلام تھا جو میں نے سنا۔

عَائِشَةَ ← مَسْرُوقٍ ← أَبِي الضُّحَى، ← سُلَیْمَانَ ← شُعْبَةُ، ← وَابْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24686

chevron_left Previous
1…707172…684
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter