Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24534

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ قَالَ حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ عَنْ هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلَتْهُ نَفْسِي

فروہ بن نوفل کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی علیہ السلام یہ دعا فر ما تے تھے، اے اللہ! میں ان چیزوں کے شر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں جو میرے نفس نے کی ہیں۔

اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلَتْهُ نَفْسِي ← كان ← دُعَاءِ النَّبِيِّ ← سَأَلْتُ عَائِشَةَ ← فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ، ← هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ← حُصَيْنٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ

Hadith 24534

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24535

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَادِمًا لَهُ قَطُّ وَلَا امْرَأَةً لَهُ قَطُّ وَلَا ضَرَبَ بِيَدِهِ إِلَّا أَنْ يُجَاهِدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَمَا نِيلَ مِنْهُ شَيْءٌ فَانْتَقَمَهُ مِنْ صَاحِبِهِ إِلَّا أَنْ تُنْتَهَكَ مَحَارِمُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَيَنْتَقِمُ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَمَا عُرِضَ عَلَيْهِ أَمْرَانِ أَحَدُهُمَا أَيْسَرُ مِنْ الْآخَرِ إِلَّا أَخَذَ بِأَيْسَرِهِمَا إِلَّا أَنْ يَكُونَ مَأْثَمًا فَإِنْ كَانَ مَأْثَمًا كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کسی خادم یا کسی بیوی کو کبھی نہیں مارا، اور اپنے ہاتھ سے کسی پر ضرب نہیں لگائی الاّ یہ کہ اللہ کے راستہ میں جہاد کر رہے ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کوئی بھی گستاخی ہو تی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس آدمی سے کبھی انتقام نہیں لیتے تھے البتہ اگر محارم الٰہی کو پامال کیا جا تا تو اللہ کے لئے انتقام لیا کر تے تھے، اور جب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو چیزیں پیش کی جا تیں، اور ان میں سے ایک چیز زیادہ آسان ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم آسان چیز کو اختیار فرماتے تھے، الاّ یہ کہ وہ گناہ ہو، کیونکہ اگر وہ گناہ ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے لوگوں کی نسبت اس سے زیادہ سے زیادہ دور ہو تے تھے۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ

Hadith 24535

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24536

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ السَّائِبِ عَنْ أُمِّهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَخَذَ أَهْلَهُ الْوَعْكُ أَمَرَ بِالْحَسَاءِ فَصُنِعَ ثُمَّ أَمَرَهُمْ فَحَسَوْا مِنْهُ ثُمَّ يَقُولُ إِنَّهُ يَعْنِي لَيَرْتُو فُؤَادَ الْحَزِينِ وَيَسْرُو عَنْ فُؤَادِ السَّقِيمِ كَمَا تَسْرُو إِحْدَاكُنَّ الْوَسَخَ بِالْمَاءِ عَنْ وَجْهِهَا

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل خانہ میں سے اگر کسی کو بخار ہوجاتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم دلیا بنانے کا حکم دیتے تھے، جب وہ تیار ہوجاتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہ کھانے کا حکم دیتے تھے، اور فرماتے تھے کہ یہ غمگین آدمی کے دل کو تقویت پہنچاتا ہے اور بیمار آدمی کے دل کی پریشانیوں کو اس طرح دور کردیتا ہے جیسے تم میں سے کوئی عورت اپنے چہرے سے میل کچیل کو پانی کے ذریعے کردیتی ہے۔

عَائِشَةَ ← أُمِّهِ2، ← محمد بن السائب ← إِسْمَاعِيلُ -يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ-

Hadith 24536

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24537

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ مُعَاذَةَ قَالَتْ سَأَلَتْ امْرَأَةٌ عَائِشَةَ أَتَقْضِي الْحَائِضُ الصَّلَاةَ فَقَالَتْ أَحَرُورِيَّةٌ أَنْتِ قَدْ كُنَّا نَحِيضُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا نَقْضِي وَلَا نُؤْمَرُ بِقَضَاءٍ

معاذہ رحمۃ اللہ علیہ کہتی ہیں کہ ایک عورت نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پو چھا کہ کیا حائضہ عورت نمازوں کی قضاء کرے گی؟ انہوں نے فرمایا کیا تو خارجی ہوگئی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جب ہمارے "ایام" آتے تھے تو ہم قضاء کر تے تھے اور نہ ہی ہمیں قضاء کا حکم دیا جاتا تھا۔

سَأَلَتْ امْرَأَةٌ عَائِشَةَ أَتَقْضِي الْحَائِضُ الصَّلَاةَ ← مُعَاذَةَ ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← إِسْمَاعِيلُ

Hadith 24537

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24538

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ قَالَ أَخْرَجَتْ إِلَيْنَا عَائِشَةُ كِسَاءً مُلَبَّدًا وَإِزَارًا غَلِيظًا فَقَالَتْ قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَيْنِ

ابوبردہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ہمارے سامنے ایک چادر "جسے ملبدہ کہا جاتا ہے" اور ایک موٹا تہبند نکالا اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہی دو کپڑوں میں دنیا سے رخصت ہوئے تھے۔

قبض رسول الله في هذين ← أَخْرَجَتْ إِلَيْنَا عَائِشَةُ كِسَاءً مُلَبَّدًا وَإِزَارًا غَلِيظًا ← أَبِي بُرْدَةَ، ← حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ← أَيُّوبَ، ← إِسْمَاعِيلُ

Hadith 24538

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24539

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ رَضِيعًا كَانَ لِعَائِشَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَمُوتُ أَحَدٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ فَيُصَلِّي عَلَيْهِ أُمَّةٌ مِنْ النَّاسِ يَبْلُغُونَ أَنْ يَكُونُوا مِائَةً فَيَشْفَعُوا لَهُ إِلَّا شُفِّعُوا فِيهِ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ جس مسلمان میت پر سو کے قریب مسلمانوں کی ایک جماعت نمازِ جنازہ پڑھ لے اور اس کے حق میں سفارش کردے، اس کے حق میں ان لوگوں کی سفارش قبول کرلی جاتی ہے۔

عَائِشَةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ رَضِيعًا كَانَ لِعَائِشَةَ ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← إِسْمَاعِيلُ

Hadith 24539

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24540

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ قَالَ ذَكَرُوا عِنْدَ عَائِشَةَ أَنَّ عَلِيًّا كَانَ وَصِيًّا فَقَالَتْ مَتَى أَوْصَى إِلَيْهِ فَقَدْ كُنْتُ مُسْنِدَتَهُ إِلَى صَدْرِي أَوْ قَالَتْ فِي حِجْرِي فَدَعَا بِالطَّسْتِ فَلَقَدْ انْخَنَثَ فِي حِجْرِي وَمَا شَعَرْتُ أَنَّهُ مَاتَ فَمَتَى أَوْصَى إِلَيْهِ

اسود کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کچھ لوگوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے سامنے ذکر کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصی حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کب اپنا وصی مقرر فرمایا؟ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے سینے سے سہارا دیا ہوا تھا، انہوں نے ایک طشت منگوایا، بالآ خر میری گود میں ہی ان کی روح نے پرواز کیا اور مجھے معلوم بھی نہ ہو سکا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو چکا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنا وصی کب مقرر فرما دیا؟

مَتَی أَوْصَی إِلَيْهِ فَقَدْ کُنْتُ مُسْنِدَتَهُ إِلَی صَدْرِي أَوْ ← ذَکَرُوا عِنْدَ عَائِشَةَ أَنَّ عَلِيًّا کَانَ وَصِيًّا ← الْأَسْوَدِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← ابْنِ عَوْنٍ ← إِسْمَاعِيلُ

Hadith 24540

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24541

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ إِنِّي لَأَعْلَمُ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي قَالَ ثُمَّ سَمِعْتُهَا تُلَبِّي تَقُولُ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں سب سے زیادہ جانتی ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح تلبیہ کہتے تھے، پھر انہوں نے تلبیہ کے یہ الفاظ دہرائے" لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ"۔

عَائِشَةُ إِنِّي لَأَعْلَمُ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يُلَبِّي ← أَبِي عَطِيَّةَ ← عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ← الْاَعْمَشِ ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ

Hadith 24541

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24542

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْتَكِفُ فَيُخْرِجُ إِلَيَّ رَأْسَهُ مِنْ الْمَسْجِدِ فَأَغْسِلُهُ وَأَنَا حَائِضٌ

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم معتکف ہوتے اور مسجد سے اپنا سر باہر نکال دیتے، میں اسے دھو دیتی حالانکہ میں ایام سے ہوتی تھی۔

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَعْتَكِفُ فَيُخْرِجُ إِلَيَّ رَأْسَهُ مِنْ الْمَسْجِدِ فَأَغْسِلُهُ وَأَنَا حَائِضٌ ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ ← الْاَعْمَشِ ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ

Hadith 24542

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24543

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ الجَزَّارِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ بِتِسْعٍ فَلَمَّا أَسَنَّ وَثَقُلَ أَوْتَرَ بِسَبْعٍ

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نو رکعتوں پر وتر بناتے تھے، پھر جب عمر مبارک زیادہ ہو گئی اور جسم مبارک بھاری ہو گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سات رکعتوں پر وتر بنانے لگے۔

كَانَ رَسُولُ اللهِ يُوتِرُ بِتِسْعٍ فَلَمَّا أَسَنَّ وَثَقُلَ أَوْتَرَ بِسَبْعٍ. ← عَائِشَةَ ← يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، ← عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ← الْاَعْمَشِ ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ

Hadith 24543

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24544

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ قَالَ سُئِلَتْ عَائِشَةُ وَأُمُّ سَلَمَةَ أَيُّ الْعَمَلِ كَانَ أَعْجَبَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتَا مَا دَامَ وَإِنْ قَلَّ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کسی نے پو چھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے پسند یدہ عمل کون سا تھا؟ انہوں نے فرمایا جو ہمیشہ ہو، اگرچہ تھوڑا ہو۔

اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ

Hadith 24544

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24545

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُمَرٍو عَنِ الْعَيْزَارِ بْنِ حُرَيْثٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُومُ وَيُصَلِّي وَعَلَيْهِ طَرَفُ اللِّحَافِ وَعَلَى عَائِشَةَ طَرَفُهُ ثُمَّ يُصَلِّي

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو بیدار ہوکر نماز پڑھتے تو لحاف کا ایک کو نا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر ہوتا اور دوسرا کونا عائشہ پر ہوتا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے رہتے۔

عَائِشَةَ ← الْعَيْزَارِ بْنِ حُرَيْثٍ ← يُونُسَ بْنِ عَمْرِو ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ

Hadith 24545

chevron_left Previous
1…681682683684
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter