Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24462

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ وَيُونُسُ قَالَا حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ قَالَ هَاشِمٌ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ أَبُو شُجَاعٍ وَقَالَ يُونُسُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ أَبِي شُجَاعٍ الْحِمْيَرِيِّ عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ قَالَ يُونُسُ الْمَعَافِرِيِّ عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ اشْتَرَيْتُ قِلَادَةً يَوْمَ فَتْحِ خَيْبَرَ بِاثْنَيْ عَشَرَ دِينَارًا فِيهَا ذَهَبٌ وَخَرَزٌ فَفَصَّلْتُهَا فَوَجَدْتُ فِيهَا أَكْثَرَ مِنْ اثْنَيْ عَشَرَ دِينَارًا فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَا تُبَاعُ حَتَّى تُفَصَّلَ

حضرت فضالہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح خیبر کے موقع پر میں نے بارہ دینار کا ایک ہار خریدا جس میں سونا اور جوہرات لگے ہوئے تھے میں نے انہیں ہار سے الگ کیا تو اس میں سے بارہ دینار سے زیادہ مالیت کا سونا نکل آیا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس چیز کا تذکرہ کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تک اسے جدا نہ کر لیا جائے آگے فروخت نہ کیا جائے ۔

لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← هَاشِمٌ، وَيُونُسُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24462

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24463

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ حَبِيبٍ عَنْ أَبِي مَرْزُوقٍ مَوْلَى تُجِيبَ عَنْ حَنَشٍ عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ نَافِذٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ كَانَ يَصُومُهُ قَالَ فَدَعَا بِمَاءٍ فَشَرِبَ فَقُلْنَا لَهُ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ كَانَ هَذَا الْيَوْمُ كُنْتَ تَصُومُهُ قَالَ أَجَلْ وَلَكِنِّي قِئْتُ

حضرت فضالہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اس دن عام طور پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے ہوتے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کا ایک برتن منگوایا اور اسے نوش فرما لیا ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم اس دن تو آپ روزہ رکھتے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! لیکن آج مجھے قے آگئی تھی۔

فَدَعَا بِمَاءٍ فَشَرِبَ فَقُلْنَا لَهُ وَاللَّهِ ← خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ فِي يَوْمٍ كَانَ يَصُومُهُ ← فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ نَافِذٍ الْأَنْصَارِيِّ ← حنش ← أَبِي مَرْزُوقٍ مَوْلَى تُجِيبَ ← يَزِيدُ بْنُ حَبِيبٍ ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24463

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24464

حَدَّثَنَا يَعْمَرُ بْنُ بِشْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَنْبَأَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ الْجَنْبِيِّ أَنَّ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ وَعُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ حَدَّثَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ وَفَرَغَ اللَّهُ تَعَالَى مِنْ قَضَاءِ الْخَلْقِ فَيَبْقَى رَجُلَانِ فَيُؤْمَرُ بِهِمَا إِلَى النَّارِ فَيَلْتَفِتُ أَحَدُهُمَا فَيَقُولُ الْجَبَّارُ تَبَارَكَ اسْمُهُ رُدُّوهُ فَيَرُدُّوهُ فَيُقَالُ لَهُ لِمَ الْتَفَتَّ يَعْنِي فَيَقُولُ قَدْ كُنْتُ أَرْجُو أَنْ تُدْخِلَنِي الْجَنَّةَ قَالَ فَيُؤْمَرُ بِهِ إِلَى الْجَنَّةِ فَيَقُولُ لَقَدْ أَعْطَانِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى لَوْ أَنِّي أَطْعَمْتُ أَهْلَ الْجَنَّةِ مَا نَقَصَ ذَلِكَ مِمَّا عِنْدِي شَيْئًا قَالَا وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَكَرَهُ يُرَى السُّرُورُ فِي وَجْهِهِ

حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ اور عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ مخلوق کے حساب سے فارغ ہو جائے گا تو دو آدمی رہ جائیں گے ان کے متعلق حکم ہوگا کہ انہیں جہنم میں ڈال دیا جائے ان میں سے ایک جاتے ہوئے پیچھے مڑ کر دیکھے گا اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اسے واپس لے کر آؤ چنانچہ فرشتے اسے واپس لائیں گے اللہ تعالیٰ پوچھے گا کہ تونے پیچھے مڑ کر کیوں دیکھا؟ وہ جواب دے گا کہ مجھے امید تھی کہ آپ مجھے جنت میں داخل فرمائیں گے چنانچہ اسے جنت میں لے جانے کا حکم دیا جائے گا اور وہ کہتا ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اتنا دیا ہے کہ اگر میں تمام اہل جنت کو کھانے کی دعوت دوں تو میرے پاس سے کچھ بھی کم نہ ہوگا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی یہ بات ذکر فرماتے تھے تو چہرہ مبارک پر بشاشت کے اثرات دکھائی دیتے تھے۔

عمرو بن مالك الجنبي أن فضالة بن عبيد وعبادة بن الصامت حدثاه ← أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ، ← رشدين بن سعد ← عَبْدُ اللَّهِ ← يَعْمَرُ بْنُ بِشْرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24464

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24465

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ قَالَ أَنْبَأَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ عَمْرَو بْنَ مَالِكٍ الْجَنْبِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْمُجَاهِدُ مَنْ جَاهَدَ نَفْسَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ

حضرت فضالہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ حقیقی مجاہد وہ ہے جو اللہ کے راستہ میں اپنے نفس کے ساتھ جہاد کرے ۔

الْمُجَاهِدُ مَنْ جَاهَدَ نَفْسَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ← رَسُولِ اللَّهِ ← فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ ← عَمْرَو بْنَ مَالِكٍ الْجَنْبِيَّ، ← أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ، أَنَّهُ ← حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ← عَبْدُ اللَّهِ -يَعْنِي ابْن الْمُبَارَكِ- ← عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24465

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24466

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ قَالَ حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِي مَرْزُوقٍ عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ صَائِمًا فَقَاءَ فَأَفْطَرَ

حضرت فضالہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قے آئی تو انہوں نے روزہ ختم کر دیا۔

النَّبِيِّ أَنَّهُ كَانَ صَائِمًا فَقَاءَ فَأَفْطَرَ ← فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ: ← حنش الصنعاني ← أَبِي مَرْزُوقٍ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ أَنَّهُ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَيَّاشٍ، ← الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، ← يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24466

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24467

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنِي رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ حُمَيْدٍ أَبِي هَانِئٍ الْخَوْلَانِيِّ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ أَلَا أُخْبِرُكُمْ مَنْ الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ وَالْمُؤْمِنُ مَنْ أَمِنَهُ النَّاسُ عَلَى أَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ الْخَطَايَا وَالذَّنُوبَ وَالْمُجَاهِدُ مَنْ جَاهَدَ نَفْسَهُ فِي طَاعَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ

حضرت فضالہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں فرمایا کیا میں تمہیں " مومن " کے متعلق نہ بتاؤں ؟ مؤمن وہ ہوتا ہے جس سے لوگوں کی جان مال محفوظ ہو، مسلمان وہ ہوتا ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے لوگ محفوظ ہوں ، مجاہد وہ ہوتا ہے جو اللہ کی اطاعت کے معاملے میں اپنے نفس سے جہاد کرے اور مہاجر وہ ہوتا ہے جو گناہوں اور لغزشات کو چھوڑ دے۔

فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ ← عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ، ← حُمَيْدٍ أَبِي هَانِئٍ الْخَوْلَانِيِّ ← رشدين بن سعد ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24467

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24468

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ عَنِ الْجُلَاحِ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ حَدَّثَنِي حَنَشٌ الصَّنْعَانِيُّ عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ نُبَايِعُ الْيَهُودَ الْأُوقِيَّةَ الذَّهَبَ بِالدِّينَارَيْنِ وَالثَّلَاثَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلَّا وَزْنًا بِوَزْنٍ

حضرت فضالہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ خیبر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ہار پیش کیا گیا جس میں سونے اور جواہرات ٹکے ہوئے تھے یہ مال غنیمت تھا جسے فروخت کیا جارہا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ہار پر لگے ہوئے سونے کے متعلق حکم دیا تو اسے الگ کر لیا گیا پھر فرمایا کہ سونے کو سونے کے بدلے برابر وزن کے ساتھ بیچا جائے ۔

كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ يَوْمَ خَيْبَرَ نُبَايعُ الْيَهُودَ الْأُوقِيَّةَ الذَّهَبَ بِالدِّينَارَيْنِ وَالثَّلَاثَةِ ← فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ ← حنش الصنعاني ← الجلاح أبي كثير ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ← لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24468

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24469

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَخْبَرَنِي الْجُرَيْرِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَحَلَ إِلَى فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ وَهُوَ بِمِصْرَ فَقَدِمَ عَلَيْهِ وَهُوَ يَمُدُّ نَاقَةً لَهُ فَقَالَ إِنِّي لَمْ آتِكَ زَائِرًا إِنَّمَا أَتَيْتُكَ لِحَدِيثٍ بَلَغَنِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَوْتُ أَنْ يَكُونَ عِنْدَكَ مِنْهُ عِلْمٌ فَرَآهُ شَعِثًا فَقَالَ مَا لِي أَرَاكَ شَعِثًا وَأَنْتَ أَمِيرُ الْبَلَدِ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْهَانَا عَنْ كَثِيرٍ مِنْ الْإِرْفَاهِ وَرَآهُ حَافِيًا فَقَالَ مَا لِي أَرَاكَ حَافِيًا قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنَا أَنْ نَحْتَفِيَ أَحْيَانًا

حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سفر کر کے پہنچے کیونکہ وہ مصر میں رہتے تھے وہ ان کے پاس پہنچے تو حضرت فضالہ رضی اللہ عنہ اپنی اونٹنی کھینچ رہے تھے آنے والے نے کہا کہ میں آپ کے پاس ملاقات کے ارادے سے نہیں آیا میں تو صرف ایک حدیث معلوم کرنے کے لئے آپ کے پاس آیا ہوں جو مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے معلوم ہوئی ہے اور مجھے امید ہے کہ آپ کے پاس اس کا علم ہوگا آنے والے نے دیکھا کہ حضرت فضالہ رضی اللہ عنہ پراگندہ نظر آرہے ہیں تو پوچھا کہ آپ شہر کے گورنر ہونے کے باوجود پراگندہ حال نظر آرہے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بہت زیادہ نازونعمت سے رہنے سے منع فرمایا ہے پھر آنے والے نے انہیں برہنہ پا دیکھا تو کہا کہ کیا وجہ ہے کہ آپ برہنہ پا بھی نظر آ رہے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ کبھی کبھار جوتی پہن لیا کریں ۔

الْجُرَيْرِيِّ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24469

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24470

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا النَّهَّاسُ بْنُ قَهْمٍ أَبُو الْخَطَّابِ عَنْ شَدَّادٍ أَبِي عَمَّارٍ الشَّامِيِّ قَالَ قَالَ عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ يَا طَاعُونُ خُذْنِي إِلَيْكَ قَالَ فَقَالُوا أَلَيْسَ قَدْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا عَمَّرَ الْمُسْلِمُ كَانَ خَيْرًا لَهُ قَالَ بَلَى وَلَكِنِّي أَخَافُ سِتًّا إِمَارَةَ السُّفَهَاءِ وَبَيْعَ الْحُكْمِ وَكَثْرَةَ الشَّرْطِ وَقَطِيعَةَ الرَّحِمِ وَنَشْئًا يَنْشَئُونَ يَتَّخِذُونَ الْقُرْآنَ مَزَامِيرَ وَسَفْكَ الدَّمِ

شداد ابو عمار کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے طاعون ! مجھے اپنی گرفت میں لے لے لوگوں نے عرض کیا کہ کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ مسلمان کو جتنی بھی عمر ملے وہ اس کے حق میں بہتر ہے ؟ انہوں نے فرمایا کیوں نہیں لیکن مجھے چھ چیزوں کا خوف ہے بیوفوقوں کی حکومت ، انصاف کا فروخت ہونا ، کثرت سے شرطیں لگانا قطع رحمی، ایسی نسل کی افزائش جو قرآن کو گانے بجانے کا آلہ بنالے گا،خون ریزی ۔

مَا عَمَّرَ الْمُسْلِمُ كَانَ خَيْرًا لَهُ ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَلَيْسَ قَدْ ← عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ يَا طَاعُونُ خُذْنِي إلَيْك ← شَدَّادٍ أَبِي عَمَّارٍ الشَّامِيِّ ← النَّهَّاسُ بْنُ قَهْمٍ أَبُو الْخَطَّابِ ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24470

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24471

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ يُوسُفَ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ اسْتَأْذَنْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ أَدْخُلُ كُلِّي أَوْ بَعْضِي قَالَ ادْخُلْ كُلُّكَ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ وُضُوءًا مَكِيثًا فَقَالَ لِي يَا عَوْفُ بْنَ مَالِكٍ أَعْدِدْ سِتًّا قَبْلَ السَّاعَةِ مَوْتُ نَبِيِّكُمْ خُذْ إِحْدَى ثُمَّ فَتْحُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ ثُمَّ مَوْتٌ يَأْخُذُكُمْ تُقْعَصُونَ فِيهِ كَمَا تُقْعَصُ الْغَنَمُ ثُمَّ تَظْهَرُ الْفِتَنُ وَيَكْثُرُ الْمَالُ حَتَّى يُعْطَى الرَّجُلُ الْوَاحِدُ مِائَةَ دِينَارٍ فَيَسْخَطَهَا ثُمَّ يَأْتِيكُمْ بَنُو الْأَصْفَرِ تَحْتَ ثَمَانِينَ غَايَةً تَحْتَ كُلِّ غَايَةٍ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گھر میں داخل ہونے کی اجازت طلب کی اور عرض کیا کہ پورا اندر آجاؤں یا آدھا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پورے ہی اندرآجاؤ، چنانچہ میں اندر چلا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت عمدگی کے ساتھ وضو فرما رہے تھے مجھ سے فرمانے لگے اے عوف بن مالک ! قیامت آنے سے پہلے چھ چیزوں کو شمار کر لینا سب سے پہلے تمہارے نبی کا انتقال ہو جائے پھر بیت المقدس فتح ہو جائے گا پھر بکریوں میں موت کی وباء جس طرح پھیلتی ہے تم میں بھی اسی طرح پھیل جائے گی پھر فتنوں کا ظہور ہوگا اور مال ودولت اتنا بڑھ جائے گا کہ اگر کسی آدمی کو سو دینار بھی دیئے جائیں گے تو وہ پھر بھی ناراض رہے گا پھر اسی جھنڈوں کے نیجے جن میں سے ہر جھنڈے کے تحت بارہ ہزار کا لشکر ہوگا رومی لوگ تم سے لڑنے کے لئے جائیں گے۔

ادْخُلْ كُلَّك فَدَخَلْت عَلَيْهِ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ وُضُوءًا مَكِيثًا ← اسْتَأْذَنْتُ عَلَى النَّبِيِّ فَقُلْتُ أَدْخُلُ كُلِّي أَوْ بَعْضِي ← عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، ← هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، ← سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24471

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24472

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ قَالَ دَخَلَ عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ هُوَ وَذُو الْكَلَاعِ مَسْجِدَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَقَالَ لَهُ عَوْفٌ عِنْدَكَ ابْنُ عَمِّكَ فَقَالَ ذُو الْكَلَاعِ أَمَا إِنَّهُ مِنْ خَيْرِ أَوْ مِنْ أَصْلَحِ النَّاسِ فَقَالَ عَوْفٌ أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَقُصُّ إِلَّا أَمِيرٌ أَوْ مَأْمُورٌ أَوْ مُتَكَلِّفٌ

ایک مرتبہ حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ اور ذوالکلاع مسجد اقصیٰ یعنی بیت المقدس میں داخل ہوئے تو حضرت عوف رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ آپ کے پاس تو آپ کا بھتیجا (کعب احبار) ہے ذوالکلاع نے کہا کہ وہ تمام لوگوں میں سب سے بہترین آدمی ہے حضرت عوف رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں شہادت دیتا ہوں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے وعظ گوئی وہی کر سکتا ہے جو امیر ہو یا اسے اس کا حکم اور اجازت حاصل ہو یا پھر تکلف (ریاکاری) کر رہا ہو۔

«لَا يَقُصُّ إِلَّا أَمِيرٌ أَوْ مَأْمُورٌ أَوْ مُتَكَلِّفٌ» ← عَوْفٌ أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ← ذُو الْكَلَاعِ أَمَا إِنَّهُ مِنْ خَيْرِ أَوْ مِنْ أَصْلَحِ النَّاسِ ← لَهُ عَوْفٌ عِنْدَكَ ابْنُ عَمِّكَ ← دَخَلَ عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ هُوَ وَذُو الْكَلَاعِ مَسْجِدَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ ← بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، ← الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، ← أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24472

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24473

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ قَالَ أَنْبَأَنَا النَّهَّاسُ عَنْ شَدَّادٍ أَبِي عَمَّارٍ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ يَا طَاعُونُ خُذْنِي إِلَيْكَ قَالُوا لِمَ تَقُولُ هَذَا أَلَيْسَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا يَزِيدُهُ طُولُ الْعُمُرِ إِلَّا خَيْرًا قَالَ بَلَى فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ وَكِيعٍ

شداد ابو عمار کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے طاعون ! مجھے اپنی گرفت میں لے لے لوگوں نے عرض کیا کہ کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ مسلمان کو جتنی بھی عمر ملے وہ اس کے حق میں بہتر ہے ؟ انہوں نے فرمایا کیوں نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی ۔

بَلَى فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ وَكِيعٍ ← إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا يَزِيدُهُ طُولُ الْعُمُرِ إِلَّا خَيْرًا ← رَسُولِ اللَّهِ ← لِمَ تَقُولُ هَذَا أَلَيْسَ ← يَا طَاعُونُ خُذْنِي إِلَيْكَ ← عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، ← شَدَّادِ أَبِي عَمَّارٍ، ← النهاس، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24473

chevron_left Previous
1…675676677…684
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter