Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24306

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا أَبُو جَنَابٍ يَحْيَى بْنُ أَبِي حَيَّةَ الْكَلْبِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ هَانِئِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ فَرْوَةَ بْن ِمُسَيْكٍ ، قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، أُقَاتِلُ بِمُقْبِلِ قَوْمِي مُدْبِرَهُمْ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَقَاتَل بمقبل مدبرهم فَلَمَّا وُلِّيت دَعَانِي ، فَقَالَ : لاَ تُقَاتِلْهُم حَتَّى تَدْعُوهُم إِلَى الإِِسْلاَمِ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَرَأَيْتَ سَبَأ ، أَوَادٍ هُوَ ؟ أَجَبَلٍ هُوَ ؟ قَالَ : لاَ ، بَلْ هُوَ رَجُلٌ مِنَ الْعَرَبِ ، وُلِدَ لَهُ عَشْرَةٌ ، فَتَيَامَنَ سِتَّةٌ ، وَتَشَاءَمَ أَرْبَعَةٌ : تَيَامَنَ الأَزْدُ ، وَالأَشْعَرِيُّونَ ، وَحِمْيَرُ ، وَكِنْدَةُ ، وَمَذْحِجٌ ، وَأنْمَارُ ، الَّذِينَ يُقَالُ : مِنْهُمْ بَجَلِيَّةُ وَخَثْعَمٌ ، وَتَشَاءَمَ لَخْمٌ ، وَجُذَامُ ، وَعَامِلَةُ ، وَغَسَّانُ.

حضرت فروہ بن مسیک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا توایک آدمی کو یہ سوال کرتے ہوئے سنا کہ یا رسول اللہ ! سبا کسی علاقے کا نام تھا یا کسی عورت کا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہ وہ کسی علاقے کا نام ہے اور نہ کسی عورت کا، بلکہ یہ ایک آدمی کا نام ہے جس کا تعلق عرب سے تھا اور اس کے دس بیٹے تھے جن میں سے چار بائیں جانب چلے گئے اور چھ دائیں جانب بائیں جانب جانے والے عک ، لخم ' عسان اور عاملہ تھے اور دائیں جانب والے ازد' کندہ ' مذحج 'حمیر' اشعریین' اور انمار ہیں سائل نے پوچھا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم انمار سے کیا مراد ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ لوگ کہ خشم اور بجیلہ ان میں سے ہیں ۔

أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ فَقُلْتُ: ← فَرْوَةَ بْنَ مُسَيْکٍ ← يَحْيَى بْنِ هَانِئِ بْنِ عُرْوَةَ ← أَبُو جَنَابٍ يَحْيَى بْنُ أَبِي حَيَّةَ الْكَلْبِيُّ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24306

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24307

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ ، حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ الْحَكَمِ النَّخَعِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو سَبْرَةَ النَّخَعِيُّ ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ مُسَيْكٍ الْغُطَيْفِيِّ ، قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ ، يَا رَسُولَ اللهِ ، أَلاَ أُقَاتِلُ مَنْ أَدْبَرَ مِنْ قَوْمِي بِمَنْ أَقْبَلَ مِنْهُمْ ؟ قَالَ : بَلَى ثُمَّ بَدَا لِي ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، لاَ بَلْ أَهْلَ سَبَأٍ ، فَهُمْ أَعَزُّ وَأَشَدُّ قُوَّةً . قَالَ : فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَذِنَ لِي فِي قِتَالِهِمْ ، فَلَمَّا خَرَجْتُ مِنْ عِنْدِهِ أَنْزَلَ اللَّهُ فِي سَبَأٍ مَا أَنْزَلَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا فَعَل الْغُطَيْفِيُّ ؟ فَأَرْسَلَ إِلَى مَنْزِلِي ، فَوَجَدَنِي قَدْ سِرْتُ فَرَدَدْتُ ، فَلَمَّا أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدْتُهُ قَاعِدًا وَمَعَهُ أَصْحَابُهُ ، قَالَ : فَقَالَ : بَلْ ادْعُ الْقَوْمَ ، فَمَنْ أَجَابَ فَاقْبَلْ مِنْهُ ، وَمَنْ لَمْ يَجِبْ ، فَلاَ تَعْجَلْ عَلَيْهِ ، حَتَّى تُحْدِثَ إِلَيَّ قَالَ : فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : يَا رَسُولَ اللهِ أَخْبِرْنَا عَنْ سَبَأٍ أَرْضٌ هِيَ أَوِ امْرَأَةٌ ؟ قَالَ : لَيْسَتْ بِأَرْضٍ وَلاَ امْرَأَةٍ ، وَلَكِنَّهُ رَجُلٌ وَلَدَ عَشْرَةً مِنَ الْعَرَبِ ، فَتَيَامَنَ مِنْهُمْ سِتَّةٌ ، وَتَشَاءَمَ مِنْهُمْ أَرْبَعَةٌ ، فَأَمَّا الَّذِينَ تَشَاءَمُوا : فَلَخْمٌ ، وَجُذَامُ ، وَغَسَّانُ ، وَعَامِلَةُ ، وَأَمَّا الَّذِينَ تَيَامَنُوا : فالأُزْدُ ، وَكِنْدَةُ ، وَحِمْيَرُ ، وَالأَشْعَرِيُّونَ ، وَأنْمَارٌ ، وَمَذْحِجٌ فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللهِ ، وَمَا أَنْمَارٌ ؟ قَالَ : الَّذِينَ مِنْهُمْ خَثْعَمٌ وَبَجِيلَةُ.

حضرت فروہ بن مسیک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم کیا میں اپنی قوم کے پیچھے رہ جانے والوں سے قتال نہ کروں ان لوگوں کے ساتھ جو آگے بڑھ گئے ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں ! جب میں پیٹھ پھیر کر جانے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلا کر فرمایا قتال کی بجائے ان لوگوں کو پہلے دعوت دینا جو اس پر لبیک کہے اسے قبول کر لینا اور جو لبیک نہ کہے اس کے متعلق جلد بازی نہ کرنا جب تک کہ مجھے بتا نہ دینا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم سبا کسی علاقے کا نام تھا یا کسی عورت کا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہ وہ کسی علاقے کا نام ہے اور نہ کسی عورت کا، بلکہ یہ ایک آدمی کا نام ہے جس کا تعلق عرب سے تھا اور اس کے دس بیٹے تھے جن میں سے چار بائیں جانب چلے گئے اور چھ دائیں جانب بائیں جانب جانے والے عک ، لخم، عسان اور عاملہ تھے اور دائیں جانب والے ازد، کندہ ، مذحج، حمیر، اشعریین اور انمار ہیں سائل نے پوچھا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم انمار سے کیا مراد ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ لوگ کہ خشم اور بجیلہ ان میں سے ہیں ۔

أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ فَقُلْتُ: ← فَرْوَةَ بْنِ مُسَيْکٍ الْغُطَيْفِيِّ ← أَبُو سَبْرَةَ النَّخَعِيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ الْحَکَمِ النَّخَعِيُّ ← أَبُو أُسَامَةَ ← خلف بن هشام، ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24307

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24308

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُو أَسَامَۃَ حَدثنی الحَسَنُ بْنُ الحَکَمِ حَدَّثَنَا أَبُو سَبْرَۃَ النَّخْعِیُّ عَنْ فَرْوَۃَ بْنِ مُسَیْکٍ الغُطِیْفِیَّ ثُمَّ المَرَادِیَّ قَالَ أَتَیْتُ رَسُولَ اللہَ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ مَعْنَاہُ

حضرت فروہ بن مسیک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم کیا میں اپنی قوم کے پیچھے رہ جانے والوں سے قتال نہ کروں ان لوگوں کے ساتھ جو آگے بڑھ گئے ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں ! جب میں پیٹھ پھیر کر جانے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلا کر فرمایا قتال کی بجائے ان لوگوں کو پہلے دعوت دینا جو اس پر لبیک کہے اسے قبول کر لینا اور جو لبیک نہ کہے اس کے متعلق جلد بازی نہ کرنا جب تک کہ مجھے بتا نہ دینا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم سبا کسی علاقے کا نام تھا یا کسی عورت کا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہ وہ کسی علاقے کا نام ہے اور نہ کسی عورت کا، بلکہ یہ ایک آدمی کا نام ہے جس کا تعلق عرب سے تھا اور اس کے دس بیٹے تھے جن میں سے چار بائیں جانب چلے گئے اور چھ دائیں جانب بائیں جانب جانے والے عک ، لخم، عسان اور عاملہ تھے اور دائیں جانب والے ازد، کندہ ، مذحج، حمیر، اشعریین اور انمار ہیں سائل نے پوچھا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم انمار سے کیا مراد ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ لوگ کہ خشم اور بجیلہ ان میں سے ہیں ۔

أَتَیْتُ رَسُولَ اللہَ فَذَکَرَ مَعْنَاہُ ← فَرْوَةَ بْنِ مُسَيْكٍ الْغُطَيْفِيِّ ثُمَّ الْمُرَادِيِّ، ← أَبُو سَبْرَةَ النَّخَعِيُّ ← الْحَسَنِ بْنِ الْحَكَمِ ← أَبُو أُسَامَةَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24308

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24309

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ قَالَ قَالَ لِي عَلِيٌّ سَلْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الرَّجُلِ يُلَاعِبُ أَهْلَهُ فَيَخْرُجُ مِنْهُ الْمَذْيُ مِنْ غَيْرِ مَاءِ الْحَيَاةِ فَلَوْلَا أَنَّ ابْنَتَهُ تَحْتِي لَسَأَلْتُهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلُ يُلَاعِبُ أَهْلَهُ فَيَخْرُجُ مِنْهُ الْمَذْيُ مِنْ غَيْرِ مَاءِ الْحَيَاةِ قَالَ يَغْسِلُ فَرْجَهُ وَيَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ

حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کا حکم پوچھو جو اپنی بیوی سے " کھیلتا " ہے اور اس کی شرمگاہ سے مذی کا خروج ہوتا ہے جو " آب حیات " نہیں ہوتی ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جواب میں فرمایا وہ اپنی شرمگاہ کو دھوئے اور نماز والا وضو کر لے۔

لِي عَلِيٌّ سَلْ رَسُولَ اللَّهِ ← الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ، ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24309

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24310

حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الأَسْوَدِ ، قَالَ : قَدِمْتُ أَنَا وَصَاحِبَانِ لِي عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَصَابَنَا جُوعٌ شَدِيدٌ ، فَتَعَرَّضْنَا لِلنَّاسِ فَلَمْ يُضِفْنَا أَحَدٌ ، فَانْطَلَقَ بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَنْزِلِهِ وَعِنْدَهُ أَرْبَعُ أَعْنُزٍ ، فَقَالَ لِي : يَا مِقْدَادُ ، جَزِّئْ أَلْبَانَهَا بَيْنَنَا أَرْبَاعًا ، فَكُنْتُ أُجَزِّئُهُ بَيْنَنَا أَرْبَاعًا ، فَاحْتَبَسَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، فَحَدَّثْتُ نَفْسِي أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَتَى بَعْضَ الأَنْصَارِ ، فَأَكَلَ حَتَّى شَبِعَ ، وَشَرِبَ حَتَّى رَوِيَ ، فَلَوْ شَرِبْتُ نَصِيبَهُ ، فَلَمْ أَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى قُمْتُ إِلَى نَصِيبِهِ فَشَرِبْتُهُ ، ثُمَّ غَطَّيْتُ الْقَدَحَ ، فَلَمَّا فَرَغْتُ أَخَذَنِي مَا قَدُمَ وَمَا حَدُثَ ، فَقُلْتُ : يَجِيءُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَائِعًا وَلاَ يَجِدُ شَيْئًا فَتَسَجَّيْتُ ، وَجَعَلْتُ أُحَدِّثُ نَفْسِي ، فَبَيْنَا أَنَا كَذَلِكَ ، إِذْ دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ تَسْلِيمَةً يُسْمِعُ الْيَقْظَانَ ، وَلاَ يُوقِظُ النَّائِمَ ، ثُمَّ أَتَى الْقَدَحَ فَكَشَفَهُ فَلَمْ يَرَ شَيْئًا فَقَالَ : اللَّهُمَّ أَطْعِمْ مَنْ أَطْعَمَنِي ، وَاسْقِ مَنْ سَقَانِي ، وَاغْتَنَمْتُ الدَّعْوَةَ ، فَقُمْتُ إِلَى الشَّفْرَةِ فَأَخَذْتُهَا ، ثُمَّ أَتَيْتُ الأَعْنُزَ فَجَعَلْتُ أَجَسُّهَا أَيُّهَا أَسْمَنُ ، فَلاَ تَمُرُّ يَدَيَّ عَلَى ضَرْعِ وَاحِدَةٍ إِلاَّ وَجَدْتُهَا حَافِلاً ، فَحَلَبْتُ حَتَّى مَلأَتُ الْقَدَحَ ، ثُمَّ أَتَيْتُ بِهِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ : اشْرَبْ يَا رَسُولَ اللهِ ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَيَّ فَقَالَ : بَعْضُ سَوْآتِكَ يَا مِقْدَادُ ، مَا الْخَبَرُ ؟ قُلْتُ : اشْرَبْ ، ثُمَّ الْخَبَرَ ، فَشَرِبَ حَتَّى رَوِيَ ، ثُمَّ نَاوَلَنِي فَشَرِبْتُ ، فَقَالَ : مَا الْخَبَرُ ؟ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ : هَذِهِ بَرَكَةٌ نَزَلَتْ مِنَ السَّمَاءِ ، فَهَلاَّ أَعْلَمْتَنِي حَتَّى نَسْقِيَ صَاحِبَيْنَا فَقُلْتُ : إِذَا أَصَابَتْنِي وَإِيَّاكَ الْبَرَكَةُ فَمَا أُبَالِي مَنْ أَخْطَأَتْ.

حضرت مقداد ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اور میرے دو ساتھی نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، ہمیں سخت بھوک لگ رہی تھی، ہم نے اپنے آپ کو صحابہؓ پر پیش کیا تو ان میں سے کسی نے بھی ہمیں قبول نہیں کیا ، پھر ہم نبی ﷺ کی خدمت میں آئے تو آپﷺ ہمیں اپنے گھر کی طرف لے گئے ( آپﷺ کے گھر میں) چار بکریاں تھیں ۔ نبیﷺ نے مجھ سے فرمایا مقداد! ان بکریوں کا دودھ نکالو ، اور اسے چار حصوں پر تقسیم کر لو ، چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا ، ایک دن نبیﷺ کے رات واپسی میں تاخیر ہو گئی ، میرے دل میں خیال آیا کہ نبیﷺ نے کسی انصاری کے پاس جا کر کھا پی لیا ہو گا اور سیراب ہو گئے ہوں گے، اگر میں نے ان کے حصے کا دودھ پی لیا تو کوئی فرق نہیں پڑے گا ۔ میں ا سی طرح سوچتا رہا حتیٰ کہ کھڑے ہو کر نبیﷺ کے حصے کا دودھ پی گیا ، اور پیالہ ڈھک دیا ، جب میں دودھ پی چکا تو میرے دل میں طرح طرح کے خیالات ابھرنے لگے اور میں سوچنے لگا کہ اگر نبیﷺ بھوک کی حالت میں تشریف لائے اور انہیں کچھ نہ ملا تو کیا ہو گا ؟ میں نے اپنی چادر اوڑھ لی اور اپنے ذہن میں یہ خیالات سوچنے لگا ، ابھی میں انہی خیالات میں تھا کہ نبیﷺ تشریف لائے اور آہستہ سے سلام کیا جو جاگنے والا تو سن لے لیکن سونے والا نہ جا گے ، پھر آپﷺ اپنے دودھ کی طرف آئے ‘ برتن کھولا تو اس میں آپﷺ نے کچھ نہ پایا تو آپ ﷺ نے فرمایا اے اللہ! تو اسے کھلا جا مجھے کھلائے اور تو اسے پلا جو مجھ پلائے ( میں نے اس دعاء کو غنیمت سمجھا اور چھری پکڑ کر بکریوں کی طرف چل پڑا کہ ان بکریوں میں سے جو موٹی بکری ہو رسول اللہﷺ کے لئے ذبح کر ڈالوں ، میں نے دیکھا کہ سب بکریوں ک تھن دودھ سے بھرے پڑے تھے ، پھر میں نے ایک برتن میں دودھ نکالا یہاں تک کہ وہ بھر گیا پھر میں رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپﷺ نے فرمایا کیا تم نے رات کو اپنے حصہ کا دودھ پی لیا تھا ؟ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! آپ دودھ پئیں ، پھر آپ کو واقعہ بتاؤں گا ، آپﷺ نے دودھ پیا پھر آپ نے مجھے دیا ، پھر جب معلوم ہو گیا کہ آپ سیر ہو گئے ہیں تو میں نے بھی اسے پی لیا ، نبیﷺ نے فرمایا اب وہ واقعہ بتاؤ ، میں نے نبیﷺ کے سامنے وہ واقعہ ذکر کر دیا ، تو نبیﷺ نے فرمایا اس وقت کا دودھ سوائے اللہ کی رحمت کےک اور کچھ نہ تھا ، تم نے مجھے پہلے ہی کیوں نہ بتایا تاکہ ہم اپنے ساتھیوں کو بھی جگا دیتے وہ بھی اس میں سے دودھ پی لیتے ، میں نے عرض کیا جب آپ کو اور مجھے یہ برکت حاصل ہو گئی ہے تو اب مجھے کوئی پرواہ نہیں کہ کسے اس کا حصہ نہیں ملا۔

الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24310

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24311

حَدَّثَنَا يَعْمَرُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ أَنْبَأَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ جَلَسْنَا إِلَى الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ يَوْمًا فَمَرَّ بِهِ رَجُلٌ فَقَالَ طُوبَى لِهَاتَيْنِ الْعَيْنَيْنِ اللَّتَيْنِ رَأَتَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ لَوَدِدْنَا أَنَّا رَأَيْنَا مَا رَأَيْتَ وَشَهِدْنَا مَا شَهِدْتَ فَاسْتُغْضِبَ فَجَعَلْتُ أَعْجَبُ مَا قَالَ إِلَّا خَيْرًا ثُمَّ أَقْبَلَ إِلَيْهِ فَقَالَ مَا يَحْمِلُ الرَّجُلُ عَلَى أَنْ يَتَمَنَّى مَحْضَرًا غَيَّبَهُ اللَّهُ عَنْهُ لَا يَدْرِي لَوْ شَهِدَهُ كَيْفَ كَانَ يَكُونُ فِيهِ وَاللَّهِ لَقَدْ حَضَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْوَامٌ أَكَبَّهُمْ اللَّهُ عَلَى مَنَاخِرِهِمْ فِي جَهَنَّمَ لَمْ يُجِيبُوهُ وَلَمْ يُصَدِّقُوهُ أَوَلَا تَحْمَدُونَ اللَّهَ إِذْ أَخْرَجَكُمْ لَا تَعْرِفُونَ إِلَّا رَبَّكُمْ مُصَدِّقِينَ لِمَا جَاءَ بِهِ نَبِيُّكُمْ قَدْ كُفِيتُمْ الْبَلَاءَ بِغَيْرِكُمْ وَاللَّهِ لَقَدْ بَعَثَ اللَّهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَشَدِّ حَالٍ بُعِثَ عَلَيْهَا نَبِيٌّ مِنْ الْأَنْبِيَاءِ فِي فَتْرَةٍ وَجَاهِلِيَّةٍ مَا يَرَوْنَ أَنَّ دِينًا أَفْضَلُ مِنْ عِبَادَةِ الْأَوْثَانِ فَجَاءَ بِفُرْقَانٍ فَرَقَ بِهِ بَيْنَ الْحَقِّ وَالْبَاطِلِ وَفَرَّقَ بَيْنَ الْوَالِدِ وَوَلَدِهِ حَتَّى إِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيَرَى وَالِدَهُ وَوَلَدَهُ أَوْ أَخَاهُ كَافِرًا وَقَدْ فَتَحَ اللَّهُ قُفْلَ قَلْبِهِ لِلْإِيمَانِ يَعْلَمُ أَنَّهُ إِنْ هَلَكَ دَخَلَ النَّارَ فَلَا تَقَرُّ عَيْنُهُ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّ حَبِيبَهُ فِي النَّارِ وَأَنَّهَا لَلَّتِي قَالَ عَزَّ وَجَلَّ الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ

جبیر بن نفیر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ایک آدمی وہاں سے گذرا اور کہنے لگا یہ آنکھیں کیسی خوش نصیب ہیں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہے واللہ ہماری تو یہ تمنا ہی رہی کہ جو آپ نے دیکھا ہم نے بھی وہی دیکھا ہوتا اور جن چیزوں کا مشاہدہ آپ نے کیا ہم نے بھی ان کا مشاہدہ کیا ہوتا اس پر وہ غضبناک ہوگئے مجھے اس پر تعجب ہوا کہ اس نے تو ایک اچھی بات کہی ہے پھر وہ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ انسان کو اس خواہش پر کون سی چیز آمادہ کرتی ہے کہ وہ ان مواقع پر حاضر ہونے کی تمنا کرتا ہے جن سے اللہ نے اسے غائب رکھا اسے معلوم نہیں کہ اگر وہ اس موقع پر موجود ہوتا تو اس کا رویہ کیا ہوتا واللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں ایسے لوگ بھی موجود تھے جنہیں اللہ ان کے سینوں کے بل جہنم میں اوندھا دھکیل دے گا یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پر لبیک کہا اور نہ ہی ان کی تصدیق کی ۔ نبی کی لائی ہوئی شریعت کی تصدیق کرتے ہو دوسروں کے ذریعے آزمائشوں سے تمہیں بچا لیا گیا ہے واللہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو زمانہ فترت وحی اور جاہلیت میں بھیجا جو کسی بھی نبی کی بعثت کے زمانے سے سب سے زیادہ سخت زمانہ تھا لوگ اس زمانے میں بتوں کی پوجا سے زیادہ افضل دین کوئی دین نہیں سمجھتے تھے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرقان لے کر تشریف لائے جس کے ذریعے انہوں نے حق اور باطل میں فرق واضح کر دیا اور والد اور اس کی اولاد کے درمیان فرق نمایاں کر دیا حتیٰ کہ ایک آدمی اپنے باپ بیٹے یا بھائی کو کافر سمجھتا تھا اور اللہ نے اس کے دل کا تالا ایمان کے لئے کھول دیا تھا وہ جانتا تھا کہ اگر وہ کفر کی حالت میں ہی مر گیا تو جہنم میں داخل ہوگا، اس لئے جب اسے یہ معلوم ہوتا کہ اس کا محبوب جہنم میں رہے گا تو اس کی آنکھیں ٹھنڈی نہ ہوتیں اور یہ وہی چیز ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے " وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! ہمیں ہماری بیویوں اور اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما۔ "

جَلَسْنَا إِلَى الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ يَوْمًا فَمَرَّ بِهِ رَجُلٌ، ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ← صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، ← عَبْدُ اللَّهِ -يَعْنِي ابْن الْمُبَارَكِ- ← يَعْمَرُ بْنُ بِشْرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24311

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24312

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ رَجُلًا ضَرَبَنِي بِالسَّيْفِ فَقَطَعَ يَدِي ثُمَّ لَاذَ مِنِّي بِشَجَرَةٍ ثُمَّ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَأَقْتُلُهُ قَالَ لَا فَعُدْتُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا فَقَالَ لَا إِلَّا أَنْ تَكُونَ مِثْلَهُ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ مَا قَالَ وَيَكُونَ مِثْلَكَ قَبْلَ أَنْ تَفْعَلَ مَا فَعَلْتَ

حضرت مقداد بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم یہ بتائیے کہ اگر کوئی آدمی مجھ پر تلوار سے حملہ کرے اور میرا ہاتھ کاٹ دے پھر مجھ سے بچنے کے لئے ایک درخت کی آڑ حاصل کر لے اور اسی وقت "لا الہ الا اللہ " پڑھ لے تو کیا میں اسے قتل کر سکتا ہوں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں میں نے دو تین مرتبہ اپنا سوال دہرایا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ورنہ کلمہ پڑھنے سے پہلے وہ جیسا تھا تم اس کی طرح ہو جاؤ گے اور اس واقعے سے پہلے تم جس طرح تھے وہ اس طرح ہو جائےگا۔

قُلْتُ ← الْمِقْدَادِ بْنِ عَمْرٍو ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ، ← عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ← الزُّهْرِيِّ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24312

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24313

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ الْمِقْدَادِ قَالَ أَقْبَلْتُ أَنَا وَصَاحِبَانِ لِي قَدْ ذَهَبَتْ أَسْمَاعُنَا وَأَبْصَارُنَا مِنْ الْجَهْدِ قَالَ فَجَعَلْنَا نَعْرِضُ أَنْفُسَنَا عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ أَحَدٌ يَقْبَلُنَا قَالَ فَانْطَلَقْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْطَلَقَ بِنَا إِلَى أَهْلِهِ فَإِذَا ثَلَاثُ أَعْنُزٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَلِبُوا هَذَا اللَّبَنَ بَيْنَنَا قَالَ فَكُنَّا نَحْتَلِبُ فَيَشْرَبُ كُلُّ إِنْسَانٍ نَصِيبَهُ وَنَرْفَعُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَصِيبَهُ فَيَجِيءُ مِنْ اللَّيْلِ فَيُسَلِّمُ تَسْلِيمًا لَا يُوقِظُ نَائِمًا وَيُسْمِعُ الْيَقْظَانَ ثُمَّ يَأْتِي الْمَسْجِدَ فَيُصَلِّي ثُمَّ يَأْتِي شَرَابَهُ فَيَشْرَبُهُ قَالَ فَأَتَانِي الشَّيْطَانُ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقَالَ مُحَمَّدٌ يَأْتِي الْأَنْصَارَ فَيُتْحِفُونَهُ وَيُصِيبُ عِنْدَهُمْ مَا بِهِ حَاجَةٌ إِلَى هَذِهِ الْجُرْعَةِ فَاشْرَبْهَا قَالَ مَا زَالَ يُزَيِّنُ لِي حَتَّى شَرِبْتُهَا فَلَمَّا وَغَلَتْ فِي بَطْنِي وَعَرَفَ أَنَّهُ لَيْسَ إِلَيْهَا سَبِيلٌ قَالَ نَدَّمَنِي فَقَالَ وَيْحَكَ مَا صَنَعْتَ شَرِبْتَ شَرَابَ مُحَمَّدٍ فَيَجِيءُ وَلَا يَرَاهُ فَيَدْعُو عَلَيْكَ فَتَهْلِكَ فَتَذْهَبُ دُنْيَاكَ وَآخِرَتُكَ قَالَ وَعَلَيَّ شَمْلَةٌ مِنْ صُوفٍ كُلَّمَا رَفَعْتُهَا عَلَى رَأْسِي خَرَجَتْ قَدَمَايَ وَإِذَا أَرْسَلْتُ عَلَى قَدَمَيَّ خَرَجَ رَأْسِي وَجَعَلَ لَا يَجِيءُ لِي نَوْمٌ قَالَ وَأَمَّا صَاحِبَايَ فَنَامَا فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ كَمَا كَانَ يُسَلِّمُ ثُمَّ أَتَى الْمَسْجِدَ فَصَلَّى فَأَتَى شَرَابَهُ فَكَشَفَ عَنْهُ فَلَمْ يَجِدْ فِيهِ شَيْئًا فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ قَالَ قُلْتُ الْآنَ يَدْعُو عَلَيَّ فَأَهْلِكُ فَقَالَ اللَّهُمَّ أَطْعِمْ مَنْ أَطْعَمَنِي وَاسْقِ مَنْ سَقَانِي قَالَ فَعَمَدْتُ إِلَى الشَّمْلَةِ فَشَدَدْتُهَا لِي فَأَخَذْتُ الشَّفْرَةَ فَانْطَلَقْتُ إِلَى الْأَعْنُزِ أَجُسُّهُنَّ أَيُّهُنَّ أَسْمَنُ فَأَذْبَحُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هُنَّ حُفَّلٌ كُلُّهُنَّ فَعَمَدْتُ إِلَى إِنَاءٍ لِآلِ مُحَمَّدٍ مَا كَانُوا يَطْمَعُونَ أَنْ يَحْلِبُوا فِيهِ وَقَالَ أَبُو النَّضْرِ مَرَّةً أُخْرَى أَنْ يَحْتَلِبُوا فِيهِ فَحَلَبْتُ فِيهِ حَتَّى عَلَتْهُ الرَّغْوَةُ ثُمَّ جِئْتُ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَمَا شَرِبْتُمْ شَرَابَكُمْ اللَّيْلَةَ يَا مِقْدَادُ قَالَ قُلْتُ اشْرَبْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَشَرِبَ ثُمَّ نَاوَلَنِي فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ اشْرَبْ فَشَرِبَ ثُمَّ نَاوَلَنِي فَأَخَذْتُ مَا بَقِيَ فَشَرِبْتُ فَلَمَّا عَرَفْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ رَوِيَ فَأَصَابَتْنِي دَعْوَتُهُ ضَحِكْتُ حَتَّى أُلْقِيتُ إِلَى الْأَرْضِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى سَوْآتِكَ يَا مِقْدَادُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَانَ مِنْ أَمْرِي كَذَا صَنَعْتُ كَذَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا كَانَتْ هَذِهِ إِلَّا رَحْمَةً مِنْ اللَّهِ أَلَا كُنْتَ آذَنْتَنِي نُوقِظُ صَاحِبَيْكَ هَذَيْنِ فَيُصِيبَانِ مِنْهَا قَالَ قُلْتُ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أُبَالِي إِذَا أَصَبْتَهَا وَأَصَبْتُهَا مَعَكَ مَنْ أَصَابَهَا مِنْ النَّاسِ

حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اور میرے دو ساتھی آئے اور تکلیف کی وجہ سے ہماری قوت سماعت اور قوت بصارت چلی گئی تھی ہم نے اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم پر پیش کیا تو ان میں سے کسی نے بھی ہمیں قبول نہیں کیا پھر ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اپنے گھر کی طرف لے گئے (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں ) تین بکریاں تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان بکریوں کا دودھ نکالو پھر ہم ان کا دودھ نکالتے تھے اور ہم میں سے ہر ایک آدمی اپنے حصے کا دودھ پیتا اور ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ اٹھا کر رکھ دیتے ۔ راوی کہتے ہیں کہ آپ رات کے وقت تشریف لاتے (تو ایسے انداز میں ) سلام کرتے کہ سونے والا بیدار نہ ہوتا اور جاگنے والا (آپ کا سلام ) سن لیتا پھر آپ مسجد میں تشریف لاتے اور نماز پڑھتے پھر آپ اپنے دودھ کے پاس آتے اور اسے پیتے ایک رات شیطان آیا جبکہ میں اپنے حصے کا دودھ پی چکا تھا شیطان کہنے لگا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے پاس آتے ہیں اور آپ کو تحفے دیتے ہیں او آپ کو جس کسی چیز کی ضرورت ہوتی ہے وہ مل جاتی ہے آپ کو اس ایک گھونٹ دودھ کی کیا ضرورت ہوگی (شیطان کے اس ورغلانے کے نتیجہ میں ) پھر میں آیا اور میں نے وہ دودھ پی لیا جب وہ دودھ میرے پیٹ میں چلا گیا اور مجھے اس بات کا یقین ہوگیا کہ اب آپ کو دودھ ملنے کا کوئی راستہ نہیں ہے تو شیطان نے مجھے ندامت دلائی اور کہنے لگا تیری خرابی ہو تو نے یہ کیا کیا؟ تونے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے حصے کا بھی دودھ پی لیا آپ آئیں گے اور وہ دودھ نہیں پائیں گے تو تجھے بددعا دیں گے تو تو ہلاک ہوجائے گا اور تیری دنیا آخرت برباد ہو جائے گی میرے پاس ایک چادر تھی جب میں اسے اپنے پاؤں پر ڈالتا تو میرا سر کھل جاتا اور جب میں اسے اپنے سر پر ڈالتا تو میرے پاؤں کھل جاتے اور مجھے نیند بھی آرہی تھی جبکہ میرے دونوں ساتھی سو رہے تھے انہوں نے وہ کام نہیں کیا جو میں نے کیا تھا بالآخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور نماز پڑھی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دودھ کی طرف آئے برتن کھولا تو اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ نہ پایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر مبارک آسمان کی طرف اٹھایا میں نے (دل ) میں کہا کہ اب آپ میرے لئے بددعا فرمائیں گے پھر میں ہلاک ہو جاؤں گا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ ! تو اسے کھلا جو مجھے کھلائے اور تو اسے پلا جو مجھے پلائے (میں نے یہ سن کر) اپنی چادر مضبوط کر کے باندھ لی پھر میں چھری پکڑ کر بکریوں کی طرف چل پڑا کہ ان بکریوں میں سے جو موٹی بکری ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ذبح کر ڈالوں میں نے دیکھا کہ اس کا ایک تھن دودھ سے بھرا پڑا ہے بلکہ سب بکریوں کے تھن دودھ سے بھرے پڑے تھے پھر میں نے اس گھر کے برتنوں میں سے وہ برتن لیا جس میں دودھ نہیں دوہا جاتا تھا پھر میں نے اس برتن میں دودھ نکالا یہاں تک کہ دودھ کی جھاگ اوپر تک آگئی پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم نے رات کو اپنے حصہ کا دودھ پی لیا تھا ؟ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! آپ دودھ پئیں پھر آپ کو واقعہ بتاؤں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ پیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیا پھر جب مجھے معلوم ہوگیا کہ آپ سیر ہوگئے ہیں اور آپ کی دعا میں نے لے لی ہے تو میں ہنس پڑا یہاں تک کہ مارے خوشی کے زمین پر لوٹ پوٹ ہونے لگا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے مقداد! یہ تیری ایک بری عادت ہے میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! میرے ساتھ تو اس طرح کا معاملہ ہوا ہے اور میں نے اس طرح کر لیا ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس وقت کا دودھ سوائے رحمت کے اور کچھ نہ تھا تم نے مجھے پہلے ہی کیوں نہ بتا دیا تاکہ ہم اپنے ساتھیوں کو بھی جگا دیتے وہ بھی اس میں سے دودھ پی لیتے میں نے عرض کیا اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کےساتھ بھیجا ہے جب آپ نے یہ دودھ پی لیا ہے اور میں نے بھی یہ دودھ پی لیا ہے تو اب مجھے اور کوئی پرواہ نہیں (یعنی میں نے اللہ کی رحمت حاصل کر لی ہے تو اب مجھے کیا پرواہ (بوجہ خوشی) کہ لوگوں میں سے کوئی اور بھی یہ رحمت حاصل کرے یا نہ کرے)

الْمِقْدَادِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← ثَابِتٍ، ← سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ ← هاشم بن القاسم

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24313

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24314

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ حَدَّثَنِي سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنِي الْمِقْدَادُ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ أُدْنِيَتْ الشَّمْسُ مِنْ الْعِبَادِ حَتَّى تَكُونَ قِيدَ مِيلٍ أَوْ مِيلَيْنِ قَالَ فَتَصْهَرُهُمْ الشَّمْسُ فَيَكُونُونَ فِي الْعَرَقِ كَقَدْرِ أَعْمَالِهِمْ مِنْهُمْ مَنْ يَأْخُذُهُ إِلَى عَقِبَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ يَأْخُذُهُ إِلَى رُكْبَتِهِ وَمِنْهُمْ مَنْ يَأْخُذُهُ إِلَى حَقْوَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ يُلْجِمُهُ إِلْجَامًا

حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے قیامت کے دن سورج بندوں کے اتنا قریب کر دیا جائے گا کہ وہ ایک دو میل کے فاصلے پر رہ جائے گا گرمی کی شدت سے وہ لوگ اپنے اپنے اعمال کے بقدر پسینے میں ڈوبے ہوں گے کسی کا پسینہ اس کی ایڑیوں تک ہوگا، کسی کا پسینہ اس کے گھٹنوں تک ہوگا کسی کا پسینہ اس کی پسلیوں تک ہوگا اور کسی کا پسینہ اس کے منہ میں لگام کی طرح ہوگا۔

الْمِقْدَادُ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ ← سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24314

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24315

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنِي ابْنُ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ سُلَيْمَ بْنَ عَامِرٍ قَالَ سَمِعْتُ الْمِقْدَادَ بْنَ الْأَسْوَدِ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَبْقَى عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ بَيْتُ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ إِلَّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ كَلِمَةَ الْإِسْلَامِ بِعِزِّ عَزِيزٍ أَوْ ذُلِّ ذَلِيلٍ إِمَّا يُعِزُّهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَيَجْعَلُهُمْ مِنْ أَهْلِهَا أَوْ يُذِلُّهُمْ فَيَدِينُونَ لَهَا

حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ روئے زمین پر کوئی کچا پکا گھر ایسا نہیں رہے گا جس میں اللہ اسلام کا کلمہ داخل نہ کر دے خواہ لوگ اسے عزت کے ساتھ قبول کر کے معزز ہو جائیں یا ذلت اختیار کر لیں جنہیں اللہ عزت عطا فرمائے گا انہیں تو کلمہ والوں میں شامل کر دے گا اور جنہیں ذلت دے گا وہ اس کے سامنے جھک جائیں گے ( اور اس کے تابع فرمان ہوں گے ٹیکس ادا کریں گے )

رَسُولِ اللَّهِ ← الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ، ← سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ ← ابْنِ جَابِرٍ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24315

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24316

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ زُرْعَةَ عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ وَعَمْرِو بْنِ الْأَسْوَدِ عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ وَأَبِي أُمَامَةَ قَالَا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْأَمِيرَ إِذَا ابْتَغَى الرِّيبَةَ فِي النَّاسِ أَفْسَدَهُمْ

حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب حکمران لوگوں میں شک تلاش کرے گا تو انہیں فساد میں مبتلا کر دے گا۔

الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ وَأَبِي أُمَامَةَ ← جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ وَعَمْرِو بْنِ الْأَسْوَدِ ← شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ ← ضَمْضَمِ بْنِ زُرْعَةَ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ← يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24316

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24317

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا الْفَرَجُ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سُلَيْمٍ قَالَ قَالَ الْمِقْدَادُ بْنُ الْأَسْوَدِ لَا أَقُولُ فِي رَجُلٍ خَيْرًا وَلَا شَرًّا حَتَّى أَنْظُرَ مَا يُخْتَمُ لَهُ يَعْنِي بَعَدَ شَيْءٍ سَمِعْتُهُ مِنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِيلَ وَمَا سَمِعْتَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَقَلْبُ ابْنِ آدَمَ أَشَدُّ انْقِلَابًا مِنْ الْقِدْرِ إِذَا اجْتَمَعَتْ غَلْيًا

حضرت مقداد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب سے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث سنی ہے میں کسی آدمی کے متعلق اچھائی یا برائی کا فیصلہ نہیں کرتا کسی نے پوچھا کہ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا سنا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ابن آدم کا دل اس ہنڈیا سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ بدلتا ہے جو خوب کھول رہی ہو۔

سُلَيْمَانُ بْنُ سُلَيْمٍ ← الْفَرَجُ ← هاشم بن القاسم

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24317

chevron_left Previous
1…662663664…684
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter