Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24294

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الشَّقَرِي ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ جَابِرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَدْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : إِنَّ اللَّهَ لاَ يَنْظُرُ إِلَى رَجُلٍ لاَ يُقِيمُ صُلْبَهُ فِي رُكُوعِهِ وَفِي سُجُودِهِ.

حضرت طلق بن علیؓ سے مروی ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس شخص کی نماز کو نہیں دیکھتا جو رکوع اور سجود کے درمیان اپنی پشت سیدھی نہیں کرتا۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَلِيٍّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ، ← عُمَرَ بْنِ جَابِرٍ، ← أَبُو عَبْدِ اللهِ الشَّقَرِيُّ ← أَبِي ← عَبْدُ الصَّمَدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24294

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24295

حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ : أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَى ناسًا ، وَمَنَع نَاسًا ، فَبَلَغَهُ أَنَّهُمْ عَتَبُوا ، فَخَطَبَ النَّاسَ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، وَقَالَ : إِنِّي أَعْطَيْتُ نَاسًا ، وَتَرَكْتُ نَاسًا ، فَعَتَبُوا عَلِيَّ ، وَإِنِّي لأُعْطِي الْعَطَاءَ الرَّجُلًَ ، وَغَيْرُهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ ، وَإِنَّمَا أُعْطِيهِمْ لِمَا فِي قُلُوبِهِمْ مِنَ الْهَلَعِ وَالْجَزَعِ ، وَأَمْنَعُ قَوْمًا لِمَا جَعَلَ اللَّهُ فِي قُلُوبِهِمْ مِنَ الْغِنَى وَالْخَيْرِ ، مِنْهُمْ عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ. قَالَ عَمْرٌو : فَمَا يَسُرُّنِي بِكَلِمَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُمْرُ النَّعَم.

حضرت عمرو بن تغلبؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبیﷺ کے پاس کوئی چیز آئی ، نبیﷺ نے کچھ لوگوں کو وہ دے دی اور کچھ لوگوں کو چھوڑ دیا ، بعد میں نبیﷺ کو معلوم ہوا کہ جن لوگوں کو نبیﷺ نے چھوڑ دیا ہے وہ کچھ خفا ہیں اور باتیں کر رہے ہیں ، تو نبی منبر پر تشریف لے گئے اور اللہ کی حمدو ثناء بیان کرنے کے بعد فرمایا میں کچھ لوگوں کو دے دیتا ہوں اور کچھ لوگوں کو چھوڑ دیتا ہوں ، حالانکہ جسے چھوڑ دیتا ہوں ، وہ مجھے اس سے زیادہ محبوب ہوتا ہے جسے دیتا ہوں ، میں کچھ لوگوں کو صرف اس لئے دیتا ہوں کہ ان کے دل بے صبری اور بخل سے لبریز ہوتے ہیں اور کچھ لوگوں کو اس غنا اور خیر کے حوالے کر دیتا ہوں جو اللہ نے ان کےک دلوں میں پیدا کی ہوتی ہے ، ان ہی میں سے عمرو بن تغلب بھی ہے ، میں اس وقت نبیﷺ کے بالکل سامنے بیٹھا ہوا تھا ، مجھے پسند نہیں کہ نبیﷺ کے اس کلمے کے عوض مجھے سرخ اونٹ بھی ملیں۔

عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ ← حَسَنٌ ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24295

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24296

حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، سَمِعْتُ يُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ تَغْلِبَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ ، أَنْ يَفِيضَ الْمَالُ وَيَكْثُرَ ، وَيَظْهَرَ الْقَلَمُ ، وَتَفْشُوَ التِّجَارَةُ. قَالَ : قَالَ عَمْرٌو : فَإِنْ كَانَ الرَّجُلُ لِيَبِيعُ الْبَيْعَ فَيَقُولُ : حَتَّى أَسْتَأْمِرُ تَاجِرَ بَنِي فُلاَنٍ ، وَيَلْتَمِسُ فِي الْحَيِّ الْعَظِيمِ الْكَاتِبَ ، وَلاَ يُوجَدْ.

حضرت عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا علامات قیامت میں یہ بات بھی شامل ہے کہ مال و دولت خوب پھیل اور بڑھ جائے گا قلم کاظہور ہوگا اور تجارت خوب وسیع ہو جائے گی عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی آدمی خریدوفروخت کرے گا تو کہے گا کہ پہلے میں بنو فلاں کے تاجروں سے مشورہ کرلوں اور ایک بڑے محلے میں کاتب کو تلاش کیا جائے گا لیکن وہ نہیں ملے گا۔

عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ ← الْحَسَنِ، ← يُونُسَ ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24296

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24297

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنُ مُرَّةَ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَنْ كَانَ هَاهُنَا مِنْ مَعْدٍ فَلْيَقُمْ قَالَ : فَأَخَذْت ُثَوْبِي لأَقُومَ ، فَقَالَ : اقْعُدْ ثُمَّ قَالَ : مِن كَانَ هَاهُنَا مِنْ مَعْدٍ فَلْيَقُمْ قَالَ : فَأَخَذْتُ ثَوْبِي لأَقُومَ ، فَقَالَ : اقْعُد فَقَالَ الثَّالِثَةَ ، فَقُلْتُ : مِمَّنْ نَحْنُ يَا رَسُولَ اللهِ ؟ قَالَ : مِنْ حِمْيَرَ.

حضرت عمرو بن مرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حاضرین مجلس میں سے جس کا تعلق قبیلہ معد سے ہو اسے چاہئے کہ کھڑا ہو جائے میں نے کھڑے ہونے کے لئے اپنے کپڑے سمیٹے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیٹھے رہو پھر دوبارہ اعلان فرمایا تین مرتبہ اسی طرح ہوا بالآخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے پوچھ ہی لیا کہ یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم ہم کس قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قبیلہ حمیر سے۔

فَأَخَذْتُ ثَوْبِي لأَقُومَ فَقَالَ اقْعُد فَقَالَ الثَّالِثَةَ فَقُلْتُ مِمَّنْ نَحْنُ ← مِن كَانَ هَاهُنَا مِنْ مَعْدٍ فَلْيَقُمْ ← فَأَخَذْت ُثَوْبِي لأَقُومَ فَقَالَ اقْعُدْ ثُمَّ ← كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ فَقَالَ مَنْ كَانَ هَاهُنَا مِنْ مَعْدٍ فَلْيَقُمْ ← عَمْرَو بْنَ مُرَّةَ الْجُهَنِيَّ ← الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← حَسَنُ بْنُ مُوسَی

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24297

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24298

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ ، سَمِعْتُ عَمْرٍَو بْنَ مُرَّةَ الْجُهَنِيَّ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : مَنْ كَانَ هَاهُنَا مِنْ مَعْدٍ فَلْيَقُمْ فَقُمْتُ ، فَقَالَ : اقْعُدْ فَصَنَعَ ذَلِكَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ، كُلَّ ذَلِكَ أَقُومُ ، فَيَقُولُ : اقْعُدْ فَلَمَّا كَانَتِ الثَّالِثَةُ قُلْتُ : مِمَّنْ نَحْنُ يَا رَسُولَ اللهِ ؟ قَالَ : أَنْتُمْ مَعْشَرَ قُضَاعَةَ مِنْ حِمْيَرَ. قَالَ عَمْرٌو : فَكَتَمَتُ هَذَا الْحَدِيثَ مُنْذُ عِشْرِينَ سَنَةً.

حضرت عمرو بن مرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حاضرین مجلس میں سے جس کا تعلق قبیلہ معد سے ہو اسے چاہئے کہ کھڑا ہو جائے میں نے کھڑے ہونے کے لئے اپنے کپڑے سمیٹے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیٹھے رہو پھر دوبارہ اعلان فرمایا تین مرتبہ اسی طرح ہوا بالآخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے پوچھ ہی لیا کہ یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم ہم کس قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قبیلہ حمیر سے۔

اقْعُدْ فَلَمَّا كَانَتِ الثَّالِثَةُ قُلْتُ مِمَّنْ نَحْنُ ← اقْعُدْ فَصَنَعَ ذَلِكَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ كُلَّ ذَلِكَ أَقُومُ ← مَنْ كَانَ هَاهُنَا مِنْ مَعْدٍ فَلْيَقُمْ فَقُمْتُ ← رَسُولِ اللَّهِ ← عَمْرَو بْنَ مُرَّةَ الْجُهَنِيَّ ← الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24298

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24299

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ ابْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، شَهِدْتُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ ، وَأَنَّكَ رَسُولُ اللهِ ، وَصَلَّيْتُ الْخَمْسَ ، وَأَدَّيْتُ زَكَاةَ مَالِي ، وَصُمْتُ شَهْرَ رَمَضَانَ . فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ مَاتَ عَلَى هَذَا ، كَانَ مَعَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، هَكَذَا ، وَنَصَبَ إِصْبَعَيْهِ ، مَا لَمْ يُعَقَّ وَالِدَيْهِ.

حضرت عمروبن مرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! میں اس بات کی گواہی دیتاہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور یہ کہ آپ اللہ کے رسول ہیں پانچوں نمازیں پڑھتاہوں ' زکوۃ ادا کرتا ہوں ماہ رمضان کے روزے رکھتا ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص ان اعمال پرثابت قدم رہتے ہوئے فوت ہوگاوہ قیامت کے دن انبیاء کرام علیہم السلام صدیقین رضی اللہ عنہم اور شہداء رحمتہ اللہ علیہم کے ساتھ اس طرح ہوگایہ کہہ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی کو کھڑا کر کے اشارہ کیا تاوقتیکہ اپنے والدین کی نافرمانی نہ کرے۔

جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ فَقَالَ ← عَمْرَو بْنَ مُرَّةَ الْجُهَنِيَّ ← عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ← عُبَيْدِ اللهِ ابْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24299

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24300

حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَبِي الْحَسَنِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ أَنَّهُ قَالَ لِمُعَاوِيَةَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : مَا مِنْ وَالٍ يُغْلَقُ بَابَهُ عَنْ ذِي الْخَلَّةِ وَالْحَاجَةِ وَالْمَسْكَنَةِ ، إِلاَّ أَغْلَقَ اللَّهُ أَبْوَابَ السَّمَاءِ دُونَ خَلَّتِهِ وَحَاجَتِهِ وَمَسْكَنَتِهِ.

حضرت عمرو بن مرہ رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا اے معاویہ ! میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو حکمران یا والی ضرورت مندوں، فقیروں اور مسکینوں کے سامنے اپنے دروازے بند رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی ضروریات اور فقرومسکنت کے سامنے آسمان کے دروازے بند کر دیتا ہے (چنانچہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کی ضروریات کی تکمیل کے لئے ایک آدمی مقرر کر دیا)

ما من وال يغلق بابه ← رَسُولِ اللَّهِ ← لِمُعَاوِيَةَ: إِنِّي ← عَمْرَو بْنِ مُرَّةَ، أَنَّهُ ← أَبِي الْحَسَنِ ← عَلِيٍّ الْبُنَانِيِّ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24300

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24301

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زَيْدِ بْنِ الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ أَحْجَارِ الزَّيْتِ يَسْتَسْقِي ، رَافِعًا بَطْنَ كَفَّيْهِ.

حضرت عمیر ﷺ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبیﷺ کو ’’ احجار الزیت ‘‘ نامی جگہ پر ( جو مقام زوراء کے قریب ہے ، کھڑے ہو کر ) دعاء استسقاء کرتے ہوئے دیکھا ہے ، اس وقت نبیﷺ نے ہتھیلیوں کے اندرونی حصے کو اپنے چہرے کی طرف کیا ہوا تھا۔

رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ عِنْدَ أَحْجَارِ الزَّيْتِ يَسْتَسْقِي رَافِعًا بَطْنَ كَفَّيْهِ. ← عُمَيْرٍ، مَوْلَى أَبِي اللَّحْمِ ← مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← حَسَنُ بْنُ مُوسَی

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24301

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24302

حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زَيْدِ بْنِ الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ ، قَالَ : كُنْتُ أَرْعَى بِذَاتِ الْجَيْشِ ، فَأَصَابَتْنِي خَصَاصَةٌ ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِبَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَدَلُّونِي عَلَى حَائِطٍ لِبَعْضِ الأَنْصَارِ ، فَقَطَعْتُ مِنْهُ أَقْنَاءَ ، فَأَخَذُونِي فَذَهَبُوا بِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرْتُهُ بِحَاجَتِي ، فَأَعْطَانِي قِنْوًا وَاحِدًا ، وَرَدَّ سَائِرَهُ إِلَى أَهْلِهِ.

حضرت عمیرؓ سے مروی ہے کہ میں اپنے آقاکے ساتھ ہجرت کے ارادے سے آ رہا تھا ، جب ہم مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو میرے آقا مدینہ منورہ میں داخل ہو گئے اور مجھے اپنی سواری کے پاس چھوڑ گئے ، کچھ دیر بعد مجھے سخت قسم کی بھوک نے ستایا ، اسی اثناء میں مدینہ منورہ سے باہر آنے والا ایک آدمی میرے پاس سے گزرا اور مجھ سے کہنے لگا کہ تم مدینہ کےک اندر چلے جاؤ اور اس کے کسی باغ میں سے پھل توڑ کر کھا لو ، چنانچہ میں ایک باغ میں داخل ہوا اور وہاں سے دو خوشے اتارے ، اتنی دیر میں باغ کا مالک بھی آ گیا ، وہ مجھے لے کر نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، اور میرا واقعہ بتایا ، نبیﷺ نے مجھے ایک خوشہ دے کر باقی اس کے مالک کو لوٹا دیا۔

عُمَيْرٍ، مَوْلَى أَبِي اللَّحْمِ ← مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← حَسَنٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24302

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24303

حَدَّثَنَا صَفْوَانُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ ، قَالَ : أَمَرَنِي مَوْلاَيَ أَنْ أُقَدِّدَ لَهُ لَحْمًا ، قَالَ فَجَاءَ مِسْكِينٌ فَأَطْعَمَتْهُ مِنْهُ ، قَالَ : فَعَلِمَ بِي فَضَرَبَنِي ، قَالَ : فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ : لِمَ ضَرَبْتَهُ ؟ قَالَ : أَطْعَمَ طَعَامِي مِنْ غَيْرِ أَنْ آمُرَهُ . ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الأَجْرُ بَيْنَكُمَا. بَقِيَّةُ حَدِيثِ فَرْوَةَ بْنِ مُسَيْكٍ الْغُطَيْفِيِّ ، رَضِىَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ.

حضرت عمیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مجھے میرے آقا نے گوشت کے ٹکڑے بنانے کا حکم دیا اسی دوران ایک مسکین آیا تو میں نے اس میں سے کچھ کھانے کو اسے بھی دے دیا آقا کو معلوم ہوا تو اس نے مجھے مارا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کہ یہ بات بتائی ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تم نے اسے کیوں مارا؟ اس نے کہا کہ اس نے میری اجازت کے بغیر میرا کھانے کسی کو اٹھا کر دے دیا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کا اجر تم دونوں کے درمیان تقسیم ہوگا۔

أَطْعَمَ طَعَامِي مِنْ غَيْرِ أَنْ آمُرَهُ ← فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ لِمَ ضَرَبْتَهُ ← فَعَلِمَ بِي فَضَرَبَنِي ← فَجَاءَ مِسْكِينٌ فَأَطْعَمَتْهُ مِنْهُ ← أَمَرَنِي مَوْلاَيَ أَنْ أُقَدِّدَ لَهُ لَحْمًا ← عُمَيْرٍ، مَوْلَى أَبِي اللَّحْمِ ← يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، ← صَفْوَانُ؛

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24303

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24304

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، (وَسَمِعْتُهُ أَنَا (1) مِنْهُ) ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، أَخْبَرَنَا مُجَالِدٌ ، أَخْبَرَنِي عَامِرٌ ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ مُسَيْكٍ الْمُرَادِيِّ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَكَرِهْتَ يَوْمَكُمْ وَيَوْمَ هَمْدَانَ ؟ قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللهِ ، فَنَاءَ الأَهْلِ وَالْعَشِيرَةِ . قَالَ : أَمَا إِنَّهُ خَيْرٌ لِمَنِ اتَّقَى مِنْكُمْ.

حضرت فروہ بن مسیک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کیا تم اپنے دونوں دن اور ہمدان کے دن ناپسند سمجھتے ؟ میں نے عرض کیا جی یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم گھر اور خاندان والے ہی برباد ہوتے ہیں ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ اس شخص کے لئے ہے جو تم میں سے متقی ہو۔

قُلْتُ: نَعَمْ، ← لِي رَسُولُ اللهِ أَكَرِهْتَ يَوْمَكُمْ وَيَوْمَ هَمْدَانَ ← فَرْوَةَ بْنِ مُسَيْكٍ الْمُرَادِيِّ ← عَامِرٍ، ← مجالد ← أَبُو أُسَامَةَ ← مِنْهُ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ وَسَمِعْتُہُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24304

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24305

حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَابِسٍ ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ مُسَيْكٍ ، قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَمِعْتُ رَجُلاً يَقُولُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَرْضُ سَبَأٍ أَوِ امْرَأَةٌ ؟ قَالَ : لَيْسَ بِأَرْضٍ وَلاَ امْرَأَةٍ ، وَلَكِنَّهُ رَجُلٌ وَلَدَ عَشْرَةً مِنَ الْعَرَبِ ، تَشَاءَمَ مِنْهُمْ أَرْبَعَةٌ ، وَتَيَمَّنَ سِتَّةٌ ، فَأَمَّا الَّذِينَ تَشَاءَمُوا : فَعَكٌ ، وَلَخْمٌ ، وَغَسَّانُ ، وَعَامِلَةُ ، وَأَمَّا الَّذِينَ تَيَمَّنُوا : فَالأَزْدُ ، وَكِنْدَةَ ، وَمَذْحِجٌ ، وَحِمْيَرُ ، وَالأَشْعَرِيُّونَ ، وَأنْمَارٌ قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللهِ ، وَمَا أَنْمَارٌ ؟ قَالَ : الَّذِينَ مِنْهُمْ خَثْعَمٌ وَبَجِيلَةُ.

حضرت فروہ بن مسیکؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں بارگاہِ نبوت میں حاضر ہوا تو ایک آدمی کو یہ سوال کرتے ہوئے سنا کہ یا رسول اللہ! سبا کسی علاقے کا نام تھا یا کسی عورت کا ؟ نبیﷺ نے فرمایا نہ وہ کسی علاقے کا نام ہے اور نہ کسی عورت کا ‘ بلکہ یہ ایک آدمی کا نام ہے جس کا تعلق عرب سے تھا اور اس کے دس بیٹے تھے ‘ جن میں سے چار بائیں جانب چلے گئے اور چھ دائی جانب ‘ بائیں جانب جانے والے عک ’ لخم ‘ غسان اور عاملہ تھے اور دائیں جانب والے ازد ’ کندہ ‘مذحج‘ اشعریین ‘ اور انمار ہیں ‘ سائل نے پوچھا یا رسول اللہ! نماز سے کیا مراد ہے ؟ نبیﷺ نے فرمایا وہ لوگ کہ خثعم اور بجیلہ ان میں سے ہیں۔

أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ فَسَمِعْتُ رَجُلاً ← فَرْوَةَ بْنَ مُسَيْکٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عَابِسٍ ← الْحَسَنِ بْنِ الْحَكَمِ ← شَيْبَانَ ← حُسَيْنٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24305

chevron_left Previous
1…661662663…684
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter