Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24282

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، قَالَ : قَالَ الزُّهْرِيُّ : فَأَخْبَرَنِي ابْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ عَمِّهِ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ بَعَثَ إِلَى ابْنِ أَبِي الْحُقَيْقِ بِخَيْبَرَ ، نَهَى عَن قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ.

ابن کعب اپنے چچا سے نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب خیبر کی طرف ابن ابی الحقیق کے پاس ایک دستہ روانہ فرمایا تو اسے عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع فرما دیا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

عَمِّہٖ ← الزُّهْرِيُّ فَأَخْبَرَنِي ابْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24282

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24283

حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ الزُّھْرِیَّ عَنْ ابْنِ کَعْبٍ فَذَکَرَ نَحْوَہُ

ابن کعب اپنے چچا سے نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب خیبر کی طرف ابن ابی الحقیق کے پاس ایک دستہ روانہ فرمایا تو اسے عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع فرما دیا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

ابْنِ کَعْبٍ فَذَکَرَ نَحْوَہُ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24283

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24284

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ خَالِدٍ ، يَعْنِي الْحَذَّاءَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ الْعَنْبَرِيِّ ، عَنِ ابْنِ التَّلِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّ رَجُلاً أَعْتَقَ نَصِيبًا لَهُ مِنْ مَمْلُوكٍ ، فَلَمْ يُضَمِّنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ عَبْدُ اللهِ : قَالَ أَبِي : كَذَا قَالَ غُنْدَرٌ : ابْنِ الثَّلِبِّ ، وَإِنَّمَا هُوَ : ابْن التَّلِبِّ ، وَكَانَ شُعْبَةُ فِي لِسَانِهِ شَيْءٌ ، يَعْنِي لُثْغَةً ، وَلَعَلَّ غُنْدَرًا لَمْ يَفْهَمْ عَنْهُ.

حضرت تلب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے کسی غلام میں اپنی ملکیت کا حصہ آزاد کر دیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دوسرا حصہ آزاد کرانے کا ضامن نہیں بنایا۔

أَبِي كَذَا، ← عَبْدُ اللَّهِ ← النَّبِيِّ أَنَّ رَجُلاً أَعْتَقَ نَصِيبًا لَهُ مِنْ مَمْلُوكٍ فَلَمْ يُضَمِّنْهُ النَّبِيُّ ← أَبِيهِ ← ابْنِ التَّلِبِّ، ← أبي بشر العنبري ← خَالِدٍ يَعْنِي الْحَذَّاءَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24284

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24285

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ وَدِيعَةَ ؛ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضَبٍّ ، فَقَالَ : أُمَّةٌ مُسِخَتْ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

حضرت ثابتؓ سے مروی ہے کہ نبیﷺ کی خدمت میں ایک آدمی چند عدد گوہ شکار کر کے لایا ، نبی ﷺ نے فرمایا کہ ایک امت کی شکلیں مسخ کر دی گئی تھیں ، مجھے معلوم نہیں کہ شاید یہ وہی ہو۔

ثَابِتِ بْنِ وَدِيعَةَ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ بِضَبٍّ فَقَالَ أُمَّةٌ مُسِخَتْ وَاللَّهُ أَعْلَمُ. ← الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24285

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24286

حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا الزُّبَيْرُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَاشِمِيُّ ، عَنْ عَبْدِِ اللهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ؛ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَا أَرَدْتَ بِذَلِكَ ؟ قَالَ : وَاحِدَةً . قَالَ : آللَّهِ ؟ قَالَ : آللَّهِ . قَالَ : هُوَ مَا أَرَدْتُ.

حضرت رکانہ سے مروی ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو ''طلاق البتہ " دے دی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ اس سے تمہارا کیا مقصد تھا؟ انہوں نے عرض کیا ایک طلاق دینے کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قسم کھا کر کہو، انہوں نے قسم کھا کر کہا (کہ میرا یہی ارادہ تھا) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری نیت کے مطابق طلاق ہوئی ۔

هُوَ مَا أَرَدْتُ. ← اللہُ ← اللہُ ← «وَاحِدَةً» ← جَدِّهِ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ فَقَالَ مَا أَرَدْتَ بِذَلِكَ ← أَبِيهِ ← عبد الله بن علي بن يزيد بن ركانة، ← الزُّبَيْرُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَاشِمِيُّ، ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24286

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24287

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِیسی عَنْ جَرِیرٍ بِہِ

حضرت رکانہ سے مروی ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو ''طلاق البتہ " دے دی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ اس سے تمہارا کیا مقصد تھا؟ انہوں نے عرض کیا ایک طلاق دینے کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قسم کھا کر کہو، انہوں نے قسم کھا کر کہا (کہ میرا یہی ارادہ تھا) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری نیت کے مطابق طلاق ہوئی ۔

جَرِیرٍ بِہِ ← إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24287

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24288

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي الْعَلاَءِ ، عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ الْجَذْمِيِّ ، عَنِ الْجَارُودِ ، قَالَ : قُلْتُ ، أَوْ قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولًَ اللهِ ، اللُّقَطَةُ نَجِدُهَا ؟ قَالَ : انْشُدْهَا ، وَلاَ تَكْتُمْ ، وَلاَ تُغِيِّبْ ، فَإِنْ وَجَدْتَ رَبِّهَا ، فَادْفَعْهَا إِلَيْهِ ، وَإِلاَّ فَمَالُ اللهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ.

حضرت جارود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے یا کسی اور آدمی نے بارگاہ نبوت میں اور گمشدہ گری پڑی چیز کے متعلق پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر وہ تمہیں مل جائے تو اس کا اعلان کرو اسے چھپاؤ اور نہ غائب کرو اگر کوئی اس کی شناخت کر لے تو اسے دے دو ورنہ وہ اللہ کا مال ہے وہ جسے چاہتا ہے دے دیتا ہے ۔

رَجُلٌ: ← قُلْتُ أَوَ ← الْجَارُودِ، ← أَبِي مُسْلِمٍ الْجَذْمِيِّ، ← أَبِي الْعَلَاءِ، ← الْجُرَيْرِيِّ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24288

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24289

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ ، عَنِ الْجَارُودِ بْنِ الْمُعَلَّى ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : ضَالَّةُ الْمُسْلِمِ حَرْقُ النَّارِ.

حضرت جارودؓ سے مروی ہے کہ مسلمان کی گمشدہ چیز آگ کی لپٹ ہوتی ہے اس کے قریب بھی نہ جانا۔

الْجَارُودِ بْنِ الْمُعَلَّى ← اَبِیْ مُسْلِمٍ ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24289

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24290

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ : أَنَّ الضَّحَّاكَ بْنَ قَيْسٍ كَتَبَ إِلَى قَيْسِ بْنِ الْهَيْثَمِ حِينَ مَاتَ يَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ : سَلاَمٌ عَلَيْكَ ، أَمَّا بَعْدُ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ ، وَفِتَنًا كَقِطَعِ الدُّخَانِ ، يَمُوتُ فِيهَا قَلْبُ الرَّجُلِ كَمَا يَمُوتُ بَدَنُهُ ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا ، وَيُمْسِي كَافِرًا ، وَيُمْسِي مُؤْمِنًا ، يُصْبِحُ كَافِرًا ، يَبِيعُ فِيهَا أَقْوَامٌ خَلاَقَهُمْ وَدِينَهُمْ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْيَا قَلِيلٍ. وَإِنَّ يَزِيدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ قَدْ مَاتَ ، وَأَنْتُمْ إِخْوَتُنَا وَأَشِقَّاؤُنَا ، فَلاَ تَسْبِقُونَا بِشَيْءٍ حَتَّى نَخْتَارُ لأَنْفُسِنَا.

حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ جب یزید کا انتقال ہوا تو حضرت ضحاک بن قیس رضی اللہ عنہ نے ہیثم کے نام خط میں لکھا سلام علیک، اما بعد! میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت سے پہلے فتنے اس طرح آئیں جیسے اندھیری رات کے ٹکڑے ہوتے ہیں کچھ فتنے ایسے ہوں گے جو دھوئیں کے ٹکڑوں کی طرح ہوں گے ان فتنوں میں انسان کے جسم کی طرح اس کا دل بھی مر جائے گا انسان صبح کو مؤمن اور شام کو کافر ہوگا اسی طرح شام کو مؤمن اور صبح کو کافر ہوگا لوگ اپنے اخلاق اور دین کو دنیا کے تھوڑے سے سازوسامان کے بدلے بیچ دیا کریں گے ۔ اور یزید بن معاویہ فوت ہوگیا ہے تم لوگ ہمارے بھائی اور ہمارے سگے ہو اس لئے تم ہم پر سبقت لے جا کر کسی حکمران کو منتخب نہ کر لینا یہاں تک کہ ہم خود اپنے لئے کسی کو منتخب کر لیں ۔

الْحَسَنِ أَنَّ الضَّحَّاكَ بْنَ قَيْسٍ ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24290

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24291

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ قَيْسٍ الْبَلَوِيِّ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ رِمْثَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ عَمْرَو بْنَ الْعَاصٍ إِلَى الْبَحْرَيْنِ ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ وَخَرَجْنَا مَعَهُ ، فَنَعَسَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . فَقَالَ : يَرْحَمُ اللَّهُ عمرًا قَالَ : فَتَذَاكَرْنَا كُلَّ مَنِ اسْمُهُ عَمْرٌو ، قَالَ : فَنَعَسَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَرْحَمُ اللَّهُ عَمْرًا قَالَ : ثُمَّ نَعَسَ الثَّالِثَةَ ، فَاسْتَيْقَظَ ، فَقَالَ : يَرْحَمُ اللَّهُ عَمْرًا فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللهِ ، مَنْ عَمْرٌو هَذَا ؟ قَالَ : عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ قُلْنَا : وَمَا شَأْنُهُ ؟ قَالَ : كُنْتُ إِذَا نَدَبْتُ النَّاسَ إِلَى الصَّدَقَةِ ، جَاءَ فَأَجْزَلَ مِنْهَا ، فَأَقُولُ : يَا عَمْرُو ، أَنَّى لَكَ هَذَا ؟ قَالَ : مِنْ عِنْدِ اللهِ ، وَصَدَقَ عَمْرٌو ، إِنَّ لَهُ عِنْدَ اللهِ خَيْرًا كَثِيرًا. قَالَ زُهَيْرُ بْنُ قَيْسٍ : لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْت لأًََلْزِمَنَّ هَذَا الَّذِي قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ لَهُ عِنْدَ اللهِ خَيْرًا كَثِيرًا حَتَّى أَمُوتَ.

حضرت علقمہ بن رمثہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو بحرین کی طرف بھیجا پھر خود ایک دستہ کے ساتھ روانہ ہوئے ہم بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے دوران سفر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اونگھ آئی پھر ہوشیار ہو کر فرمایا عمرو پر اللہ کی رحمت نازل ہو یہ سن کر ہم لوگ عمرو نامی تمام افراد کو ذہن میں لانے لگے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دوبارہ اونگھ آئی پھر ہوشیار ہو کر فرمایا عمرو پر اللہ کی رحمت نازل ہو تین مرتبہ اسی طرح ہوا پھر ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم یہ عمرو کون ہے ؟ فرمایا عمرو بن عاص، ہم نے پوچھا کہ انہیں کیا ہوا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں جب بھی لوگوں کو صدقہ کی ترغیب دیتا تھا وہ اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے میں نے ان سے پوچھا کہ عمرو! یہ کہاں سے آیا؟ وہ جواب دیتے کہ اللہ کی طرف سے اور عمرو نے سچ کہا کیونکہ اللہ کے پاس خیر کثیر ہے۔ زہیر بن قیس کہتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوگیا تو میں نے سوچ لیا کہ مرتے دم تک اس شخص کے ساتھ رہوں گا جس کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اللہ کے پاس خیر کثیر ہے۔

عَلْقَمَةَ بْنِ رِمْثَةَ ← زُهَيْرِ بْنِ قَيْسٍ الْبَلَوِيِّ ← سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24291

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24292

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَدْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَيْبَانَ السُّحَيْمِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ؛ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : لاَ يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَى صَلاَةِ عَبْدٍ لاَ يُقِيمُ صُلْبَهُ بَيْنَ رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ.

حضرت طلق بن علیؓ سے مروی ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس شخص کی نماز کو نہیں دیکھتا جو رکوع اور سجود کے درمیان اپنی پشت سیدھی نہیں کرتا۔

لاَ يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَى صَلاَةِ عَبْدٍ لاَ يُقِيمُ صُلْبَهُ بَيْنَ رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ. ← النَّبِيِّ ← أَبِي أَنَّهُ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَيْبَانَ السُّحَيْمِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ، ← أَيُّوبَ بْنِ عُتْبَةَ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24292

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24293

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا مُلاَزِمُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَدْرِ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَلِيٍّ حَدَّثَهُ ، أَنَّ أَبَاهُ عَلِيَّ بْنَ شَيْبَانَ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ قَالَ : صَلَّيْتًُ خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَانْصَرَفَ ، فَرَأَى رَجُلاً يُصَلِّي فَرْدًا خَلْفَ الصَّفِّ ، فَوَقَفَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى انْصَرَفَ الرَّجُلُ مِنْ صَلاَتِهِ ، فَقَالَ لَهُ : اسْتَقْبَلْ صَلاَتَكَ ، فَلاَ صَلاَةَ لِفَرْدٍ خَلْفَ الصَّفِّ.

حضرت علی بن شیبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی نماز سے فارغ ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ صف کے پیچھے اکیلا کھڑا ہوا نماز پڑھ رہا ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہر گئے جب وہ آدمی بھی نماز سے فارغ ہوگیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اپنی نماز ازسر نو پڑھو کیونکہ صف کے پیچھے اکیلے کھڑے ہوئے آدمی کی نماز نہیں ہوتی۔

أَنَّهُ ← أَنَّ أَبَاهُ عَلِيَّ بْنَ شَيْبَانَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَلِيٍّ ← مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو، ← عَبْدُ الصَّمَدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24293

chevron_left Previous
1…660661662…684
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter