Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24270

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا مَطَرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، سَمِعْتُ هِنْدَ بِنْتَ الْوَزَّاعِ ، أَنَّهَا سَمِعْتُ اْلوَزَّاعَ (1) يَقُولُ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَالأَشَجَّ الْمُنْذِرَ بْنَ عَامِرٍ ، أَوْ عَامِرَ بْنَ الْمُنْذِرِ ، وَمَعَهُمْ رَجُلٌ مُصَابٌ ، فَانْتَهُوا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا رَأَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَثَبُوا مِنْ رَوَاحِلَهُمْ ، فَأَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَبَّلُوا يَدَهُ ، ثُمَّ نَزَلَ الشَّجَّ ، فَعَقَلَ رَاحِلَتَهُ ، وَأَخْرَجَ عَيْبَتَهُ فَفَتَحَهَا ، فَأَخْرَجَ ثَوْبَيْنِ أَبْيَضَيْنِ مِنْ ثِيَابِهِ فَلَبِسَهُمَا ، ثُمَّ أَتَى رَوَاحِلَهُمْ فَعَقْلَهَا ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا أَشَجُّ ، إِنَّ فِيكَ خَصْلَتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ : الْحِلْمَ وَالأَنَاةَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَنَا تَخَلَّقْتُهُمَا ، أَوْ جَبَلَنِي اللَّهُ عَلَيْهِمَا ؟ قَالَ : بَلِ اللَّهُ جَبَلَكَ عَلَيْهِمَا . قَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَبَلَنِي عَلَى خُلُقَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ . فَقَالَ الْوَزَّاعُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنَّ مَعِي خَالاً لِي مُصَابًا ، فَادْعُ اللَّهَ لَهُ . فَقَالَ : أَيْنَ هُوَ ؟ ائْتِنِي بِهِ قَالَ : فَصَنَعْتُ مِثْلَ مَا صَنَعَ الأَشَجُّ ، أَلْبَسْتُهُ ثَوْبَيْهِ ، فَأَتَيْتُهُ ، فَأَخَذَ مِنْ رِدَائِهِ فَرَفَعَهَا حَتَّى رَأَيْنَا بَيَاضَ إِبْطِهِ ، ثُمَّ ضَرَبَ بِظَهْرِهِ ، فَقَالَ : اخْرُجْ عَدُوَّ اللهِ فَوَلَّى وَجْهَهُ وَهُوَ يَنْظُرُ نَظَرَ رَجُلٍ صَحِيحٍ.

حضرت وازع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں اور اشج (منذر بن عائذ یا عائذ بن منذر) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ہمارے ساتھ دوسرے لوگوں میں ایک بیمار آدمی بھی تھا وہ لوگ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے تو انہیں دیکھتے ہی اپنی سواریوں سے چھلانگیں لگائیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر ان کے دست مبارک کو بوسہ دینے لگے جبکہ اشج نے اتر کر پہلے اپنی سواری کو رسی سے باندھا اپنا سامان نکال کر اسے کھولا اس میں سے دو سفید کپڑے نکال کر انہیں زیب بدن کیا اور لوگوں کی سواریوں کو بھی رسی سے باندھا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اے اشج! تم میں دو خوبیاں ایسی ہیں جو اللہ کو پسند ہیں بردباری اور وقار انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم میری یہ دونوں عادتیں مصنوعی ہیں یا اللہ نے فطری طور پر مجھ میں رکھ دی ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے فطری طور پر تمہارے اندر انہیں رکھ دیا ہے انہوں نے یہ سن کر کہا اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے فطری طور پر ایسی خوبیاں عطا فرمائیں جو اللہ اور اس کے رسول کو پسند ہیں ۔ پھر وازع نے عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم میرے ساتھ میرے ماموں بھی آئے ہیں لیکن وہ بیمار رہتے ہیں آپ ان کے لئے اللہ سے دعاء کر دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ کہاں ہیں ؟ انہیں میرے پاس لاؤ چنانچہ میں نے اسی طرح کیا جیسے اشج نے کیا تھا کہ انہیں صاف ستھرے کپڑے پہنائے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے کر حاضر ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پیچھے سے پکڑ کر ان کے ہاتھ اتنے بلند کئے کہ ہم ان کی بغل کی سفیدی دیکھنے لگے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی پشت پر ایک ضرب لگا کر فرمایا اے دشمن خدا! نکل جا، اس نے جب چہرہ پھیر کر دیکھا تو وہ بالکل صحیح اور تندرست آدمی کی طرح دیکھ رہا تھا ۔

هِنْدَ بِنْتَ الْوَزَّاعِ ← مَطَرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَی بَنِي هَاشِمٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24270

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24271

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَخِيهِ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ أَحَدِ بَنِي حَارِثَةَ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : لاَ يَقْتَطِعُ رَجُلٌ حَقَّ رَجُلٍ مُسْلِمٍ بِيَمِينِهِ ، إِلاَّ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ ، وَأَوْجَبَ لَهُ النَّارَ . فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللهِ ، وَإِنْ كَانَ شَيْئًا يَسِيرًا ؟ قَالَ : وَإِنْ كَانَ سِوَاكًا مِنْ أَرَاكٍ.

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنی قسم کے ذریعے کسی مسلمان کا حق مار لیتا ہے اللہ اس کے لئے جہنم کو واجب کر دیتا ہے اور جنت کو اس پر حرام قرار دے دیتا ہے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگرچہ تھوڑی سی چیز ہو؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگرچہ پیلو کے درخت کی ایک مسواک ہی ہو۔

أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ أَحَدِ بَنِي حَارِثَةَ ← أَخِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، ← مَعْبَدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24271

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24272

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي الْعَلاَءُ ، يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبٍ السُّلَمِيِّ ، عَنْ أَخِيهِ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنِ اقْتَطَعَ حَقَّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بَيَمِينِهِ ، فَقَدْ أَوْجَبَ اللَّهُ لَهُ بِهَا النَّارَ، وَحَرَّمَ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ . فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : وَإِنْ كَانَ شَيْئًا يَسِيرًا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : وَإِنْ قَضِيبًا مِنْ أَرَاكٍ.

حضرت ابو امامہ ؓ سے مروی ہے کہ نبیﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنی قسم کے ذریعے کسی مسلمان کا حق مار لیتا ہے ، اللہ اس کے لئے جہنم کو واجب کر دیتا ہے اور جنت کو اس پر حرام قرار دے دیتا ہے۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← أَخِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، ← مَعْبَدِ بْنِ کَعْبٍ السَّلَمِيِّ ← الْعَلَاءُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← إِسْمَاعِيلُ -يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ- ← سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24272

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24273

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ ، عَنِ الْعَلاَءِ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَخِيهِ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنْ اقْتَطَعَ حَقَّ مُسْلِمٍ بِيَمِينِهِ ، حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ ، وَأَوْجَبَ لَهُ النَّارَ قَالَ : وَإِنْ كَانَ شَيْئًا يَسِيرًا ؟ قَالَ : وَإِنْ كَانَ قَضِيبًا مِنْ أَرَاكٍ يَقُولُهَا ثَلاَثًا.

حضرت ابو امامہ ؓ سے مروی ہے کہ نبیﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنی قسم کے ذریعے کسی مسلمان کا حق مار لیتا ہے ، اللہ اس کے لئے جہنم کو واجب کر دیتا ہے اور جنت کو اس پر حرام قرار دے دیتا ہے۔ ، کسی نے پوچھا یا رسول اللہ! اگرچہ تھوڑی سی چیز ہو ؟ نبی ﷺ نے فرمایا اگرچہ پیلو کے درخت کی ایک شاخ ہی ہو۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← أَخِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، ← مَعْبَدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ← الْعَلَاءِ ← مَالِكٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24273

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24274

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ زُهَيْرٍ ، يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ صَالِحٍ ، يَعْنِي ابْنَ كَيْسَانَ ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ أَبِي أُمَامَةَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ أَبَا أُمَامَةَ أَخْبَرَهُ : أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : الْبَذَاذَةُ مِنَ الإِِيمَانِ ، الْبَذَاذَةُ مِنَ الإِِيمَانِ.

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فطری سادگی ایمان کا حصہ ہے۔

أَنَّ أَبَا أُمَامَةَ ← صَالِحٍ يَعْنِي ابْنَ كَيْسَانَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أُمَامَةَ ← زُهَيْرٍ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24274

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24275

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ . أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ أَرْسَلَ إِلَى أَبِي جُهَيْمٍ ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : بَعَثَنِي زَيْدُ بْنُ خَالِدٍ إِلَى أَبِي جُهَيْمِ الأَنْصَارِيِّ : مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي الرَّجُلِ يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيِ الرَّجُلِ وَهُوَ يُصَلِّي ؟ قَالَ : سَمِعْتُهُ يَقُولُ : لَوْ يَعْلَمُ أَحَدُكُمْ مَا لَهُ فِي أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيِ الرَّجُلِ وَهُوَ يُصَلِّي ، كَانَ لأَنْ يَقِفَ أَرْبَعِينَ ، لاَ أَدْرِي : عَامًا ، أَوْ يَوْمًا ، أَوْ شَهْرًا ، خَيْرًا لَهُ مِنْ ذَلِكَ.

بسر بن سعید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھے حضرت زید بن خالد ؓ نے حضرت ابو جہیمؓ کے پاس وہ حدیث پوچھنے کے لئے بھیجا جو انہوں نے نمازی کے آگے سے گزرنے والے شخص کے متعلق سن رکھی تھی ، انہوں نے فرمایا میں نے نبیﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ انسان کے لئے نمازی کے آگے سے گزرنے کی نسبت زیادہ بہتر ہے کہ وہ چالیس تک کھڑا رہے ، یہ مجھے یاد نہیں رہا کہ نبیﷺ نے دن فرمایا ، مہینے یا سال فرمایا ؟

فِي الرَّجُلِ يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيِ الرَّجُلِ وَهُوَ يُصَلِّي ← مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بَعَثَنِي زَيْدُ بْنُ خَالِدٍ إِلَى أَبِي جُهَيْمِ الأَنْصَارِيِّ مَا ← بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ أَرْسَلَ إِلَى أَبِي جُهَيْمٍ ← سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ، ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24275

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24276

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ : أَرْسَلَنِي زَيْدُ بْنُ خَالِدٍ إِلَى أَبِي جُهَيْمٍ الأَنْصَارِيِّ أَسْأَلُهُ : مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِيمَنْ يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي ؟ قَالَ : سَمِعْتُهُ يَقُولُ : لأَنْ يَقُومَ فِي مَقَامِهِ ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي. فَلاَ أَدْرِي قَالَ : أَرْبَعِينَ سَنَةً ، أَوْ أَرْبَعِينَ شَهْرًا ، أَوْ أَرْبَعِينَ يَوْمًا.

بسر بن سعید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھے حضرت زید بن خالد ؓ نے حضرت ابو جہیمؓ کے پاس وہ حدیث پوچھنے کے لئے بھیجا جو انہوں نے نمازی کے آگے سے گزرنے والے شخص کے متعلق سن رکھی تھی ، انہوں نے فرمایا میں نے نبیﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ انسان کے لئے نمازی کے آگے سے گزرنے کی نسبت زیادہ بہتر ہے کہ وہ چالیس تک کھڑا رہے ، یہ مجھے یاد نہیں رہا کہ نبیﷺ نے دن فرمایا ، مہینے یا سال فرمایا ؟

فِيمَنْ يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي ← مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ← أَرْسَلَنِي زَيْدُ بْنُ خَالِدٍ إِلَى أَبِي جُهَيْمٍ الأَنْصَارِيِّ أَسْأَلُهُ مَا ← بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ← أَبِي النَّضْرِ ← مَالِكٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24276

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24277

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ هُرْمُزَ الأَعْرَجُ ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، وَكَانَ عُمَيْرٌ مَوْلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ ثِقَةً فِيمَا بَلَغَنِي ، عَنْ أَبِي جُهَيْمِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْبَصْمَةِ الأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَعْضِ حَاجَتِهِ نَحْوَ بِئْرِ جَمَلٍ ، ثُمَّ أَقْبَلَ ، فَلَقِيَهُ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى وَضَع يَدَهُ عَلَى الْجِدَارِ ، ثُمَّ مَسَحَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : وَعَلَيْكَ السَّلاَمُ.

عمیر " جو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہیں " کہتے ہیں کہ میں اور عبداللہ بن یسار " جو حضرت میمونہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام تھے " حضرت ابوجہیم بن حارث رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو وہ کہنے لگے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بئر جمل کی طرف سے آرہے تھے کہ راستے میں ایک آدمی سے ملاقات ہوگئی اس نے سلام کیا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب نہیں دیا بلکہ ایک دیوار کی طرف متوجہ ہوئے اور چہرے اور ہاتھوں پر اس سے تیمم کیا اور پھر اسے سلام کا جواب دیا۔

أَبِي جُهَيْمِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْبَصْمَةِ الأَنْصَارِيِّ ← كَانَ عُمَيْرٌ مَوْلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ ثِقَةً فِيمَا بَلَغَنِي ← عمير مولى عبد الله بن عباس ← عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ ھُرْمُزَ الْاَعْرَجِ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبِي ← يَعْقُوبُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24277

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24278

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلاَلٍ ، عَنْ أَبِي رِفَاعَةَ الْعَدَوِيِّ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ ، فَقُلْتُ : رَجُلٌ غَرِيبٌ جَاءَ يَسْأَلُ عَنْ دِينِهِ ، لاَ يَدْرِي مَا دِينُهُ . قَالَ : فَأَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَتَرَكَ خُطْبَتَهُ ، ثُمَّ أُتِي بِكُرْسِيٍّ خَلِبٍ قَوَائِمُهُ حَدِيدٌ ، فَقَعَدَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيَّ يُعَلِّمُنِي مِمَّا عِلَّمَهُ اللَّهُ ، ثُمَّ أَتَى خُطْبَتَهُ ، فَأَتَمَّ آخِرَهَا. قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ فِي حَدِيثِهِ : قَالَ حُمَيْدٌ : قَالَ أُرَاهُ رَأَى خَشَبًا أَسْوَدَ حَسِبَهُ حَدِيدًا.

حضرت ابو رفاعہؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبیﷺ خطبہ دے رہے تھے ، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ایک مسافر آپ کے پاس اپنے دین کے متعلق پوچھنے کے لئے حاضر ہوا ہے جو اپنے دین کے متعلق کچھ نہیں جانتا ، نبیﷺ میری طرف متوجہ ہو گئے ، ایک کرسی لائی گئی اور نبیﷺ اس پر بیٹھ گئے ، اور مجھے وہ باتیں سکھانے لگے جو اللہ نے انہیں سکھائی تھیں ، پھر اپنے خطبے کی طرف آئے اور اسے مکمل کیا۔

أَبِي رِفَاعَةَ الْعَدَوِيِّ ← حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24278

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24279

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ حَدَّثَنَا حُمُیْدٌ قَالَ قَالَ أَبُو رِفَاعَۃَ رَجُلٌ مِنْ بَنِی عَدِیَّ أَتَیْتَ رَسُولَ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَھُوَ یَخْطُبُ فَذَکَرَ الحَدِیثَ

حضرت ابو رفاعہؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبیﷺ خطبہ دے رہے تھے ، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ایک مسافر آپ کے پاس اپنے دین کے متعلق پوچھنے کے لئے حاضر ہوا ہے جو اپنے دین کے متعلق کچھ نہیں جانتا ، نبیﷺ میری طرف متوجہ ہو گئے ، ایک کرسی لائی گئی اور نبیﷺ اس پر بیٹھ گئے ، اور مجھے وہ باتیں سکھانے لگے جو اللہ نے انہیں سکھائی تھیں ، پھر اپنے خطبے کی طرف آئے اور اسے مکمل کیا۔

الْحَدِيثَ. ← أَبُو رِفَاعَۃَ رَجُلٌ مِنْ بَنِی عَدِیَّ أَتَیْتَ رَسُولَ اللہ وَھُوَ یَخْطُبُ ← حُمَيْدٍ ← سُلَیْمَانَ ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24279

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24280

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ صَفْوَانَ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ بِالنَّبَاوَةِ ، أَوْ بِالْبَنَاوَةِ ، مِنَ الطَّائِفِ : يُوشِكُ أَنْ تَعَلَمُوا أَهْلَ الْجَنَّةِِ مِنْ أَهْلْ النَّارِ ، أَوْ خِيَارُكُمْ مِنْ شِرَارُكُمْ وَلاَ أَعْلَمُهُ إِلاَّ قَالَ : أَهْلَ الْجَنَّةِ مِنْ أَهْلِ النَّارْ . فَقَالَ قَائِلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ : بِمَ يَا رَسُولَ اللهِ ؟ قَالَ : بِالثَّنَاءِ الْحَسَنِ ، وَالثَّنَاءِ السَّيِّئِ ، أَنْتُمْ شُهَدَاءُ بَعْضِكُمْ عَلَى بَعْضٍ.

ابو بکر بن ابی زہیرؓ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ میں نے نبیﷺ کو زمانۂ نبوت میں طائف میں یہ فرماتے ہوئے سنا ہے لوگو! عنقریب تم اہل جنت اور اہل جہنم یا اچھو ں اور بروں میں امتیاز کر سکو گے ، ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ! وہ کیسے ؟ نبیﷺ نے فرمایا کہ لوگوں کی اچھی اور بری تعریف کے ذریعے کیونکہ تم لوگ ایک دوسرے کے متعلق زمین میں اللہ کے گواہ ہو۔

أَبِيهِ ← أبي بكر بن أبي زهير ← أمية بن صفوان ← نَافِعُ بْنُ عُمَرَ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24280

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24281

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدْ اللهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ عَمِّهِ : أَنَّ كَعْبَ بْنَ الأَشْرَفِ كَانَ يَهْجُو النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ أَنْ يَبْعَثَ إِلَيْهِ خَمْسَةَ نَفَرٍ ، فَأَتَوْهُ وَهُوَ فِي مَجْلِسِ قَوْمِهِ فِي الْعَوَالِي ، فَلَمَّا رَآهُمْ ذُعِرَ مِنْهُمْ وَقَالَ : مَا جَاءَ بِكُمْ ؟ قَالُوا : جِئْنَا إِلَيْكَ لِحَاجَةٍ . قَالَ : فَلْيَدْنُ إِلَيًّ بَعْضُكُمْ فَلْيُحَدِّثْنِي بِحَاجَتِهِ . فَدَنَا مِنْهُ بَعْضُهُمْ ، فَقَالُوا : جِئْنَاكَ لِنَبِيعَكَ أَدْرُعًا لَنَا . قَالَ : وَاللَّهِ إِنْ فَعَلْتُمْ ، لَقَدْ جُهِدْتُمْ مُنْذُ نَزَلَ هَذَا الرَّجُلُ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ ، أَوْ قَالَ : بِكُمْ ، فَوَاعَدُوهُ أَنْ يَأْتُوهُ بَعْدَ هَدْأَةٍ مِنَ اللَّيْلِ ، قَالَ فَجَاؤُوهُ ، فَقَامَ إِلَيْهِمْ ، فَقَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ : مَا جَاءَكَ هَؤُلاَءِ فِي هَذِهِ السَّاعَةِ لِشَيْءٍ مِمَّا تُحِبُّ . قَالَ : إِنَّهُمْ قَدْ حَدَّثُونِي بِحَاجَتِهِمْ . فَلَمَّا دَنَا مِنْهُمْ ، اعْتَنَقَهُ أَبُو عَبْسٍ ، وَعَلاَهُ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ بِالسَّيْفِ ، وَطَعَنَهُ فِي خَاصِرَتِهِ ، فَقَتَلُوهُ ، فَلَمَّا أَصْبَحْتِ الْيَهُودُ ، غَدَوْا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَوا : قُتِلَ سَيِّدُنَا غِيلَةً . فَذَكَرَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا كَانَ يَهْجُوهُ فِي أَشْعَارِهِ ، وَمَا كَانَ يُؤْذِيهِ ، ثُمَّ دَعَاهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَنْ يَكْتُبَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ كِتَابًا . قَالَ : فَكَانَ ذَلِكَ الْكِتَابُ مَعَ عَلِيٍّ.

عبداللہ بن کعب کی اپنے چچا سے روایت ہے کہ کعب بن اشرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کے اشعار کہا کرتا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ کہ اس کی طرف پانچ آدمیوں کی ایک جماعت بھیجیں ، وہ لوگ کعب کے پاس پہنچے وہ مقام " عوالی " میں اپنی قوم کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا انہیں دیکھ کر گھبرا گیا اور ان سے کہنے لگا کہ تم کیوں آئے ہو؟ انہوں نے بتایا کہ ہم تمہارے پاس ایک ضرورت سے آئے ہیں کعب نے کہا کہ پھر تم میں سے ایک آدمی میرے قریب آجائے اور اپنی ضرورت بیان کرے چنانچہ ایک آدمی نے آگے بڑھ کر اس سے کہا کہ ہم تمہیں اپنی زرہیں بیچنے کے لئے آئے ہیں اس نے کہا واقعی تم یہ کرنے پر مجبور ہوگئے جب سے یہ آدمی تمہارے پاس آیا ہے تم اس وقت سے مشقت میں پڑ گئے ہو بہر کیف انہوں نے اس سے یہ طے کر لیا کہ وہ رات کا کچھ حصہ گذرنے کے بعد اس کے پاس آئیں گے۔ چنانچہ رات ہونے پر جب وہ لوگ کعب کے پاس پہنچے تو کعب ان سے ملنے کے لئے نکلا اس کی بیوی نے اس سے کہا کہ یہ لوگ اس وقت کوئی اچھا ارادہ لے کر نہیں آئے کعب نے کہا کہ انہوں نے میرے سامنے اپنی ضرورت بیان کر دی تھی جب وہ ان کے قریب پہنچا تو ابو عبس رضی اللہ عنہ نے اس کو گردن سے پکڑا اور محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ اس پر تلوار لے کر چڑھ گئے اور اس کی کوکھ میں نیزہ مار کر اسے قتل کر دیا صبح ہوئی تو یہودی لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ ہمارے سردار کو دھوکے سے کسی نے قتل کر دیا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں وہ تمام اشعار یاد دلائے جن سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرتا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذاء دیتا تھا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دعوت دی کہ اپنے اور ان کے درمیان ایک معاہدہ لکھ لیں راوی کہتے ہیں کہ وہ دستاویز حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس تھی ۔

عَمِّہٖ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24281

chevron_left Previous
1…659660661…684
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter