Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24186

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ مُحَمَّدٌ فَحَدَّثَنِي أَبِي عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي مَازِنٍ عَنْ أَبِي دَاوُدَ الْمَازِنِيِّ وَكَانَ شَهِدَ بَدْرًا قَالَ قَالَ إِنِّي لَأَتْبَعُ رَجُلًا مِنْ الْمُشْرِكِينَ لِأَضْرِبَهُ إِذْ وَقَعَ رَأْسُهُ قَبْلَ أَنْ يَصِلَ إِلَيْهِ سَيْفِي فَعَرَفْتُ أَنَّهُ قَدْ قَتَلَهُ غَيْرِي

حضرت ابوداؤد مازنی رضی اللہ عنہ جو غزوہ بدر کے شرکاء میں سے ہیں کہتے ہیں کہ میں قریش کے ایک آدمی کے پیچھے چلا تاکہ اس پر حملہ کروں لیکن قبل اس کے کہ میری تلوار اس تک پہنچتی اس کا سر خود ہی گر گیا میں سمجھ گیا کہ اسے کسی اور نے مجھ سے پہلے قتل کر دیا ہے۔

أَبِي دَاوُدَ الْمَازِنِيِّ وَكَانَ شَهِدَ بَدْرًا ← رَجُلٍ مِنْ بَنِي مَازِنٍ ← أَبِي ← مُحَمَّدٍ ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24186

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24187

حَدَّثَنَا يُونُسُ وَسُرَيْجٌ قَالَ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ سَاعَةً فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قُلْتُ وَاللَّهِ لَوْ جِئْتُ أَبَا سَعِيدٍ فَسَأَلْتُهُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ثُمَّ خَرَجْتُ مِنْ عِنْدِهِ فَدَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ فَسَأَلْتُ عَنْهَا فَقَالَ خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَأُهْبِطَ إِلَى الْأَرْضِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَقَبَضَهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَفِيهِ تَقُومُ السَّاعَةُ فَهِيَ آخِرُ سَاعَةٍ وَقَالَ سُرَيْجٌ فَهِيَ آخِرُ سَاعَتِهِ فَقُلْتُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي صَلَاةٍ وَلَيْسَتْ بِسَاعَةِ صَلَاةٍ قَالَ أَوَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مُنْتَظِرُ الصَّلَاةِ فِي صَلَاةٍ قُلْتُ بَلَى هِيَ وَاللَّهِ هِيَ

ابوسلمہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہم سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بیان کرتے تھے کہ جمعہ میں ایک ساعت آتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی اور کہا کہ میں نے سوچا واللہ اگر میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو ان سے یہ سوال ضرور پوچھوں گا چنانچہ میں وہاں سے نکلا اور حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے یہاں حاضر ہوا اور ان سے اس کے متعلق پوچھا انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جمعہ کے دن حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اس دن انہیں زمین پر اتارا گیا اسی دن ان کی روح قبض ہوئی اسی دن قیامت قائم ہوگی لہٰذا یہ آخری ساعت ہوئی میں نے عرض کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ ساعت نماز کے وقت ہوتی ہے اور عصر کے بعد نماز کا وقت نہیں ہوتا؟ انہوں نے فرمایا کیا تمہیں یہ بات معلوم نہیں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز کا انتظار کرنے والا نماز میں ہی شمار ہوتا ہے ؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں واللہ وہی ہے۔

الْحَدِيثَ قُلْتُ وَاللَّهِ لَوْ جِئْتُ أَبَا سَعِيدٍ فَسَأَلْتُهُ ← إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ سَاعَةً ← كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ، ← فُلَيْحٌ، ← يُونُسُ وَسُرَيْجٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24187

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24188

حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ خُنَيْسٍ الْغِفَارِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ مَا بَيْنَ كَدَاءٍ وَأُحُدٍ حَرَامٌ حَرَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا كُنْتُ لِأَقْطَعَ بِهِ شَجَرَةً وَلَا أَقْتُلَ بِهِ طَائِرًا

حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اس جگہ یعنی کداء سے لے کر احد تک کی جگہ " حرم " ہے جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حرم قرار دیا ہے لہٰذا میں یہاں کوئی درخت کاٹ سکتا ہوں اور نہ کسی پرندے کو مار سکتا ہوں ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلاَمٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ خُنَيْسٍ الْغِفَارِيِّ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَحْيَى، ← الْفُضَيْلُ -يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ-، ← حُسَيْنٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24188

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24189

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ عَنْ أَبِي النَّضْرِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ قُلْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ إِنَّا نَجِدُ فِي كِتَابِ اللَّهِ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ سَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ فَيَسْأَلَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ مَا سَأَلَهُ فَأَشَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بَعْضُ سَاعَةٍ قَالَ فَقُلْتُ صَدَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو النَّضْرِ قَالَ أَبُو سَلَمَةَ سَأَلْتُهُ أَيَّةَ سَاعَةٍ هِيَ قَالَ آخِرُ سَاعَاتِ النَّهَارِ فَقُلْتُ إِنَّهَا لَيْسَتْ بِسَاعَةِ صَلَاةٍ فَقَالَ بَلَى إِنَّ الْعَبْدَ الْمُسْلِمَ فِي صَلَاتِهِ إِذَا صَلَّى ثُمَّ قَعَدَ فِي مُصَلَّاهُ لَا يَحْبِسُهُ إِلَّا انْتِظَارُ الصَّلَاةِ

حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں میں نے کہا کہ ہم کتاب اللہ میں یہ پاتے ہیں کہ جمعہ کے دن ایک گھڑی ایسی آتی ہے کہ اگر وہ بندہ مسلم کو مل جائے اور وہ نماز پڑھ رہا ہو تو وہ اللہ سے جو سوال بھی کرے گا اسے وہ ضرور عطا فرمائے گا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ سے فرمایا کہ وہ ساعت بہت مختصر ہوتی ہے میں نے عرض کیا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا۔ ابوسلمہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ وہ ساعت کون سی ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ دن کی آخری ساعت میں نے عرض کیا کہ کیا وہ نماز کی ساعت نہیں ہوتی ؟ انہوں نے فرمایا کیوں نہیں بندہ مسلم جب نماز پڑھ کر اسی جگہ پر بیٹھ کر اگلی نماز کا انتظار کرتا ہے تو وہ نماز ہی میں شمارہوتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو میرا نام عبداللہ بن سلام نہیں تھا میرا نام عبداللہ بن سلام تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھا ہے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلاَمٍ ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← أَبِي النَّضْرِ ← الضَّحَّاكُ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24189

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24190

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَعْلَي أَبُو مُحَيَّاةَ التَّيْمِيُّ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ حَدَّثَنِي ابْنُ أَخِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ اسْمِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ فَسَمَّانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ

حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے دوران سفر کچھ لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال پوچھا کہ یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم سب سے افضل عمل کون سا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ پر ایمان لانا، اللہ کے راستہ میں جہاد کرنا اور حج مبرور، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی میں سے کسی کو یہ نداء کرتے ہوئے سنا کہ گواہی دیتا ہوں اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم، اللہ کے رسول ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں بھی اس کی گواہی دیتا ہوں اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ جو شخص بھی اس کی گواہی دے گا وہ شرک سے بری ہو جائے گا۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلاَمٍ ← ابْنِ أَخِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← يَحْيَى بْنُ يَعْلَي أَبُو مُحَيَّاةَ التَّيْمِيُّ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24190

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24191

حَدَّثَنَا ھَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَھْبٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی ھِلَالٍ اَنَّ یَحْیَی بْنَ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ حَدَّثَہُ عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللہِ عَنْ یُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ سَلَامٍ عَنْ اَبِیہِ قَالَ بَیْنَمَا نَحْنُ نَسِیرُ مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِذْ سَمِعَ الْقَوْمَ وَھُمْ یَقُولُونَ أَیُّّ الْاَعْمَالِ أَفْضَلُ یَا رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِیمَانٌ بِاللہِ وَرَسُولِہِ وَجِھَادٌ فِی سَبِیلِ اللہِ وَحَجٌّ مَبْرُورٌ ثُمَّ سَمِعَ نِدَاءً فِی الْوَادِی یَقُولُ اَشْھَدُ اَنْ لَا اِلَہَ إِلَّا اللہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَاَنَا اَشْھَدُ وَاَشْھَدُ اَنْ لَا یَشْھَدَ بِھَا اَحَدٌ إِلَّا بَرِیءَ مِنْ الشَّرْکِ قَالَ عَبْدِ اللہِ وَسَمِعْتُہُ اَنَا مِنْ ھَارُونَ

حضرت عبد اللہ بن سلامؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبیﷺ کے ساتھ سفر میں تھے ، دوران سفر کچھ لوگوں نے نبیﷺ سے یہ سوال پوچھا کہ یا رسول اللہ ! سب سے افضل عمل کون سا ہے ؟ نبیﷺ نے فرمایا کہ اللہ پر ایمان لانا ‘ راہ خدا میں جہاد کرنا اور حج سبروز ، پھر نبیﷺ نے وادی میں سےکسی کو یہ نداء کرتے ہوئے سنا کہ میں گواہی دیتا ہوں ، اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں نبیﷺ نے فرمایا میں بھی اس کی گواہی دیتا ہوں اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ جو شخص بھی اس کی گمراہی دے گا وہ شرک سے بری ہو جائے گا۔

الْقَوْمَ وَهُمْ يَقُولُونَ: أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ ← بَيْنَمَا نَحْنُ نَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ إِذْ ← أَبِيهِ ← يُوسُفَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلامٍ ← عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← هَارُونُ بن معروف

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24191

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24192

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عَوْفٍ حَدَّثَنَا زُرَارَةُ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ ح

حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو لوگ جوق در جوق ان کی خدمت میں حاضر ہونے لگے میں بھی ان میں شامل ہوگیا میں نے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روئے انور کو دیکھا تو میں سمجھ گیا کہ یہ کسی جھوٹے آدمی کا چہرہ نہیں ہو سکتا اور وہ سب سے پہلا کلام جو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا وہ یہ تھا کہ سلام کو پھیلاؤ، صلہ رحمی کرو اور جس وقت لوگ سو رہے ہوں تم نماز پڑھو اس طرح سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلاَمٍ ← زُرَارَةَ ← عَوْفٌ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24192

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24193

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَوْفٌ عَنْ زُرَارَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ انْجَفَلَ النَّاسُ عَلَيْهِ فَكُنْتُ فِيمَنْ انْجَفَلَ فَلَمَّا تَبَيَّنْتُ وَجْهَهُ عَرَفْتُ أَنَّ وَجْهَهُ لَيْسَ بِوَجْهِ كَذَّابٍ فَكَانَ أَوَّلُ شَيْءٍ سَمِعْتُهُ يَقُولُ أَفْشُوا السَّلَامَ وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ وَصِلُوا الْأَرْحَامَ وَصَلُّوا وَالنَّاسُ نِيَامٌ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ

حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو لوگ جوق در جوق ان کی خدمت میں حاضر ہونے لگے میں بھی ان میں شامل ہوگیا میں نے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روئے انور کو دیکھا تو میں سمجھ گیا کہ یہ کسی جھوٹے آدمی کا چہرہ نہیں ہو سکتا اور وہ سب سے پہلا کلام جو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا وہ یہ تھا کہ سلام کو پھیلاؤ، صلہ رحمی کرو اور جس وقت لوگ سو رہے ہوں تم نماز پڑھو اس طرح سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلاَمٍ ← زُرَارَةَ ← عَوْفٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← و،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24193

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24194

قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ ثُمَّ لَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ قَدْ عَلِمْتُ أَيَّةَ سَاعَةٍ هِيَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَقُلْتُ لَهُ فَأَخْبِرْنِي وَلَا تَضِنَّ عَلَيَّ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ هِيَ آخِرُ سَاعَةٍ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ كَيْفَ تَكُونُ آخِرَ سَاعَةٍ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُصَادِفُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ يُصَلِّي وَتِلْكَ سَاعَةٌ لَا يُصَلَّى فِيهَا قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ جَلَسَ مَجْلِسًا يَنْتَظِرُ فِيهِ الصَّلَاةَ فَهُوَ فِي الصَّلَاةِ حَتَّى يُصَلِّيَ فَقُلْتُ بَلَى قَالَ فَهُوَ ذَاكَ

ابوسلمہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہم سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بیان کرتے تھے کہ جمعہ میں ایک ساعت آتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی اور کہا کہ میں نے سوچا واللہ اگر میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو ان سے یہ سوال ضرور پوچھوں گا چنانچہ میں وہاں سے نکلا اور حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے یہاں حاضر ہوا اور ان سے اس کے متعلق پوچھا انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جمعہ کے دن حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اس دن انہیں زمین پر اتارا گیا اسی دن ان کی روح قبض ہوئی اسی دن قیامت قائم ہوگی لہٰذا یہ آخری ساعت ہوئی میں نے عرض کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ ساعت نماز کے وقت ہوتی ہے اور عصر کے بعد نماز کا وقت نہیں ہوتا؟ انہوں نے فرمایا کیا تمہیں یہ بات معلوم نہیں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز کا انتظار کرنے والا نماز میں ہی شمار ہوتا ہے ؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں واللہ وہی ہے۔

أَبُو هُرَيْرَةَ كَيْفَ تَكُونُ آخِرَ سَاعَةٍ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَقَدْ ← عَبْدُ اللَّهِ هِيَ آخِرُ سَاعَةٍ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ ← أَبُو هُرَيْرَةَ فَقُلْتُ لَهُ فَأَخْبِرْنِي وَلَا تَضِنَّ عَلَيَّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ قَدْ عَلِمْتُ أَيَّةَ سَاعَةٍ هِيَ ← ثُمَّ لَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ثُمَّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ ← عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَالِكٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24194

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24195

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ فَلَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ فَحَدَّثْتُهُ حَدِيثِي وَحَدِيثَ كَعْبٍ فِي قَوْلِهِ فِي كُلِّ سَنَةٍ قَالَ كَذَبَ كَعْبٌ هُوَ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كُلِّ يَوْمِ جُمُعَةٍ قُلْتُ إِنَّهُ قَدْ رَجَعَ قَالَ أَمَا وَالَّذِي نَفْسُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ بِيَدِهِ إِنِّي لَأَعْرِفُ تِلْكَ السَّاعَةَ قَالَ قُلْتُ يَا عَبْدَ اللَّهِ فَأَخْبِرْنِي بِهَا قَالَ هِيَ آخِرُ سَاعَةٍ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ قَالَ قُلْتُ قَالَ لَا يُوَافِقُ مُؤْمِنٌ وَهُوَ يُصَلِّي قَالَ أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ انْتَظَرَ صَلَاةً فَهُوَ فِي صَلَاةٍ حَتَّى يُصَلِّيَ قُلْتُ بَلَى قَالَ فَهُوَ كَذَلِكَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں کوہ طور کی طرف روانہ ہوا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر انہوں نے مکمل حدیث ذکر کی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد میری ملاقات حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو میں نے انہیں کعب کے ساتھ اپنی نشست کے متعلق بتایا اور جمعہ کے دن کے حوالے سے اپنی بیان کردہ حدیث بھی بتائی اور کہا کہ کعب کہنے لگے ایسا سال بھر میں صرف ایک مرتبہ ہوتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے فرمایا کعب سے غلطی ہوئی ایسا ہر جمعہ میں ہوتا ہے حضرت ابن سلام رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں عبداللہ بن سلام کی جان ہے میں وہ گھڑی جانتا ہوں میں نے ان سے کہا کہ اے عبداللہ ! مجھے بھی اس کے متعلق بتا دیجئے انہوں نے فرمایا وہ جمعہ کے دن کی آخری ساعت ہوتی ہے میں نے کہا کہ دوران نماز تو وہ کسی شخص کو نہیں مل سکتی (کیونکہ اس وقت ممنوع ہوتے ہیں) انہوں نے فرمایا کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص نماز کا انتظار کرتا رہتا ہے وہ نماز پڑھنے تک نماز ہی میں شمار ہوتا ہے؟ میں نے کہا کیوں نہیں، انہوں نے فرمایا پھر وہ یہی ہے۔

كَذَبَ كَعْبٌ هُوَ كَمَا ← فَلَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ فَحَدَّثْتُهُ حَدِيثِي وَحَدِيثَ كَعْبٍ فِي قَوْلِهِ فِي كُلِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24195

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24196

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ عَبَّادٍ قَالَ كُنْتُ فِي الْمَسْجِدِ فَجَاءَ رَجُلٌ فِي وَجْهِهِ أَثَرٌ مِنْ خُشُوعٍ فَدَخَلَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَأَوْجَزَ فِيهَا فَقَالَ الْقَوْمُ هَذَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَلَمَّا خَرَجَ اتَّبَعْتُهُ حَتَّى دَخَلَ مَنْزِلَهُ فَدَخَلْتُ مَعَهُ فَحَدَّثْتُهُ فَلَمَّا اسْتَأْنَسَ قُلْتُ لَهُ إِنَّ الْقَوْمَ لَمَّا دَخَلْتَ قَبْلُ الْمَسْجِدَ قَالُوا كَذَا وَكَذَا قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ مَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَقُولَ مَا لَا يَعْلَمُ وَسَأُحَدِّثُكَ لِمَ إِنِّي رَأَيْتُ رُؤْيَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَصَصْتُهَا عَلَيْهِ رَأَيْتُ كَأَنِّي فِي رَوْضَةٍ خَضْرَاءَ قَالَ ابْنُ عَوْنٍ فَذَكَرَ مِنْ خُضْرَتِهَا وَسَعَتِهَا وَسْطُهَا عَمُودُ حَدِيدٍ أَسْفَلُهُ فِي الْأَرْضِ وَأَعْلَاهُ فِي السَّمَاءِ فِي أَعْلَاهُ عُرْوَةٌ فَقِيلَ لِيَ اصْعَدْ عَلَيْهِ فَقُلْتُ لَا أَسْتَطِيعُ فَجَاءَنِي مِنْصَفٌ قَالَ ابْنُ عَوْنٍ هُوَ الْوَصِيفُ فَرَفَعَ ثِيَابِي مِنْ خَلْفِي فَقَالَ اصْعَدْ عَلَيْهِ فَصَعِدْتُ حَتَّى أَخَذْتُ بِالْعُرْوَةِ فَقَالَ اسْتَمْسِكْ بِالْعُرْوَةِ فَاسْتَيْقَظْتُ وَإِنَّهَا لَفِي يَدِي قَالَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَصَصْتُهَا عَلَيْهِ فَقَالَ أَمَّا الرَّوْضَةُ فَرَوْضَةُ الْإِسْلَامِ وَأَمَّا الْعَمُودُ فَعَمُودُ الْإِسْلَامِ وَأَمَّا الْعُرْوَةُ فَهِيَ الْعُرْوَةُ الْوُثْقَى أَنْتَ عَلَى الْإِسْلَامِ حَتَّى تَمُوتَ قَالَ وَهُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ

قیس بن عباد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مسجد میں تھا کہ ایک آدمی آیا جس کے چہرے پر خشوع کے آثار واضح تھے اس نے مختصر طور پر دو رکعتیں پڑھیں لوگ کہنے لگے کہ یہ شخص اہل جنت میں سے ہے جب وہ چلا گیا تو میں بھی اس کے پیچھے روانہ ہوگیا حتیٰ کہ وہ آدمی اپنے گھر میں داخل ہو گیا میں بھی اس کے ساتھ اس کے گھر میں چلا گیا اور اس سے باتیں کرتا رہا جب وہ مجھ سے مانوس ہوگیا تو میں نے اس سے کہا کہ جب آپ مسجد میں داخل ہوئے تھے تو لوگوں نے آپ کے متعلق اس اس طرح کہا تھا اس نے کہا سبحان اللہ! انسان کو ایسی بات نہیں کہنی چاہئے جو وہ جانتا نہ ہو اور میں تمہیں اس کی وجہ بتاتا ہوں ۔ میں نے عہد نبوت میں ایک خواب دیکھا تھا جو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیان کر دیا اس خواب میں میں نے دیکھا کہ میں ایک سرسبزوشاداب باغ میں ہوں جس کے درمیان میں لوہے کا ایک ستون ہے جس کا نچلا سرا زمین میں ہے اور اوپر والا سرا آسمان میں ہے اور اس کے اوپر ایک رسی ہے مجھے کسی نے کہا کہ اس پر چڑھ جاؤ میں نے کہا کہ اب چڑھو میں اس پر چڑھنے لگا حتیٰ کہ اس رسی کو پکڑ لیا اس نے مجھ سے کہا کہ اس رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھنا میں جب بیدار ہوا تو یوں محسوس ہوا کہ وہ رسی اب تک میرے ہاتھ میں ہے پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ خواب بیان کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ باغ اسلام کا تھا ستون اسلام کا تھا اور وہ رسی مضبوط رسی تھی جس کا مطلب یہ ہے کہ تم مسلمان ہو اور موت تک اس پر قائم رہو گے قیس کہتے ہیں کہ پھر معلوم ہوا کہ وہ حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ تھے۔

قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ ← مُحَمَّدٍ ← ابْنِ عَوْنٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24196

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24197

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ تَذَاكَرْنَا أَيُّكُمْ يَأْتِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَسْأَلَهُ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى فَلَمْ يَقُمْ أَحَدٌ مِنَّا فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا فَجَمَعَنَا فَقَرَأَ عَلَيْنَا هَذِهِ السُّورَةَ يَعْنِي سُورَةَ الصَّفِّ كُلَّهَا

حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ مذاکرہ کر رہے تھے کہ تم میں سے کون آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ سوال کرے گا کہ اللہ کی نظروں میں سب سے پسندیدہ عمل کون سا ہے ؟ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہیبت کی وجہ سے ہم میں سے کوئی کھڑا نہ ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قاصد بھیج کر ایک ایک کر کے ہم سب کو اپنے پاس جمع کر لیا اور ہمارے سامنے سورت صف مکمل تلاوت فرمائی۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلاَمٍ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24197

chevron_left Previous
1…652653654…684
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter