Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24150

قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ : مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ أَنَّهُ قَالَ جَاءَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فِي بَنِي مُعَاوِيَةَ قَرْيَةٍ مِنْ قُرَى الْأَنْصَارِ فَقَالَ لِي هَلْ تَدْرِي أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَسْجِدِكُمْ هَذَا فَقُلْتُ نَعَمْ فَأَشَرْتُ لَهُ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنْهُ فَقَالَ هَلْ تَدْرِي مَا الثَّلَاثُ الَّتِي دَعَا بِهِنَّ فِيهِ فَقُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَأَخْبِرْنِي بِهِمْ فَقُلْتُ دَعَا بِأَنْ لَا يُظْهِرَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ غَيْرِهِمْ وَلَا يُهْلِكَهُمْ بِالسِّنِينَ فَأُعْطِيَهُمَا وَدَعَا بِأَنْ لَا يَجْعَلَ بَأْسَهُمْ بَيْنَهُمْ فَمَنَعَنِيهَا قَالَ صَدَقْتَ فَلَا يَزَالُ الْهَرْجُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ

حضرت جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہمارے پاس بنو معاویہ میں ایک مرتبہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ آئے جوانصار کی ایک بستی ہے اور مجھ سے فرمایا کیا تمہیں معلوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہاری اس مسجد میں کہاں نماز پڑھی تھی؟ میں نے کہا جی ہاں ! اور مسجد کے ایک کونے کی طرف اشارہ کر دیا پھر انہوں نے فرمایا کیا تمہیں معلوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جن تین چیزوں کی دعا یہاں مانگی تھی وہ کیا ہیں ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ! انہوں نے فرمایا بتاؤ وہ کیا ہیں؟ میں نے عرض کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا فرمائی تھی کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں پر کسی بیرونی دشمن کو مسلط نہ کرے اور انہیں قحط سالی سے ہلاک نہ کرے یہ دونوں دعائیں قبول ہوگئیں ۔ اور تیسری دعا یہ فرمائی کہ ان کی جنگ آپس میں نہ ہونے لگے لیکن اللہ نے یہ دعا قبول نہیں فرمائی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم نے صحیح بیان کیا قیامت تک اسی طرح قتل و غارت گری ہوتی رہے گی ۔

جابر بن عتيك ← عبد الله بن عبد الله بن جابر بن عتيك، ← عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ مَالِكٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24150

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24151

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ أَنَّ ابْنَ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ الْغَيْرَةِ مَا يُحِبُّ اللَّهُ وَمِنْهَا مَا يُبْغِضُ اللَّهُ وَمِنْ الْخُيَلَاءِ مَا يُحِبُّ اللَّهُ وَمِنْهَا مَا يُبْغِضُ اللَّهُ فَالْغَيْرَةُ الَّتِي يُحِبُّ اللَّهُ الْغَيْرَةُ فِي الرِّيبَةِ وَالْغَيْرَةُ الَّتِي يُبْغِضُ اللَّهُ الْغَيْرَةُ فِي غَيْرِ رِيبَةٍ وَالْخُيَلَاءُ الَّتِي يُحِبُّ اللَّهُ اخْتِيَالُ الْعَبْدِ بِنَفْسِهِ لِلَّهِ عِنْدَ الْقِتَالِ وَاخْتِيَالُهُ بِالصَّدَقَةِ وَالْخُيَلَاءُ الَّتِي يُبْغِضُ اللَّهُ الْخُيَلَاءُ فِي الْفَخْرِ وَالْكِبْرِ أَوْ كَالَّذِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت جابربن عتیک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا غیرت کی بعض قسمیں ایسی ہیں جو اللہ کو محبوب ہیں اور بعض ایسی ہیں جو اللہ کو مبغوض ہیں اسی طرح تکبر کی بعض قسمیں ایسی ہیں جو اللہ کو محبوب ہیں اور بعض ایسی ہیں جو مبغوض ہیں چنانچہ وہ غیرت جو اللہ کو محبوب ہے وہ ان چیزوں میں ہوتی ہے جن میں کوئی شخص کا پہلو موجود ہو اور مبغوض وہ ہے جس میں شک کا کوئی پہلو موجود نہ ہو اور وہ تکبر جو اللہ کو محبوب ہے وہ یہ ہے کہ انسان اللہ کی رضا کے لئے قتال کے وقت اپنے آپ کو نمایاں کرے اور صدقات و خیرات میں نمایاں کرے ( اور مبغوض وہ ہے جوصرف فخر یا بغاوت کے لئے ہو)

أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ أَنَّ ابْنَ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْحَجَّاجُ بْنُ أَبَى عُثْمَانَ ← إِسْمَاعِيلُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24151

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24152

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى عَنْ جَبْرِ بْنِ عَتِيكٍ عَنْ عَمِّهِ قَالَ دَخَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَيِّتٍ مِنْ الْأَنْصَارِ وَأَهْلُهُ يَبْكُونَ فَقُلْتُ أَتَبْكُونَ وَهَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعْهُنَّ يَبْكِينَ مَا دَامَ عِنْدَهُنَّ فَإِذَا وَجَبَتْ فَلَا يَبْكِينَ فَقَالَ جَبْرٌ فَحَدَّثْتُ بِهِ عُمَرَ بْنَ حُمَيْدٍ الْقُرَشِيَّ فَقَالَ لِي مَاذَا وَجَبَتْ قَالَ إِذَا أُدْخِلَ قَبْرَهُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ انصار کی ایک میت پر پہنچا اس کے اہل خانہ اس پر رو رہے تھے میں نے ان سے کہا کہ تم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں رو رہے ہو؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں چھوڑ دو جب تک یہ ان کے پاس ہے یہ اس پر رو لیں گے اور جب اسے قبر میں دفن کر دیا جائے گا تو پھر نہیں روئیں گے۔

عَمِّہٖ ← جَبْر بنِ عَتِيك ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عِيسَی ← اِسْرَائِیْلُ ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24152

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24153

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبَانُ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ عَنِ ابْنِ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ مِنْ الْغَيْرَةِ مَا يُحِبُّ اللَّهُ وَمِنْهَا مَا يُبْغِضُ اللَّهُ وَإِنَّ مِنْ الْخُيَلَاءِ مَا يُحِبُّ اللَّهُ وَمِنْهَا مَا يُبْغِضُ اللَّهُ وَأَمَّا الْغَيْرَةُ الَّتِي يُحِبُّ اللَّهُ فَالْغَيْرَةُ الَّتِي فِي الرِّيبَةِ وَأَمَّا الْغَيْرَةُ الَّتِي يُبْغِضُ اللَّهُ فَالْغَيْرَةُ فِي غَيْرِ الرِّيبَةِ وَأَمَّا الْخُيَلَاءُ الَّتِي يُحِبُّ اللَّهُ فَاخْتِيَالُ الرَّجُلِ بِنَفْسِهِ عِنْدَ الْقِتَالِ وَاخْتِيَالُهُ عِنْدَ الصَّدَقَةِ وَالْخُيَلَاءُ الَّتِي يُبْغِضُ اللَّهُ فَاخْتِيَالُ الرَّجُلِ فِي الْفَخْرِ وَالْبَغْيِ

حضرت جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا غیرت کی بعض قسمیں ایسی ہیں جو اللہ کو محبوب ہیں اور بعض ایسی ہیں جو اللہ کو مبغوض ہیں اسی طرح تکبر کی بعض قسمیں ایسی ہیں جو اللہ کو محبوب ہیں اور بعض ایسی ہیں جو مبغوض ہیں چنانچہ وہ غیرت جو اللہ کو محبوب ہے وہ ان چیزوں میں ہوتی ہے جن میں کوئی شخص کا پہلو موجود ہو اور مبغوض وہ ہے جس میں شک کا کوئی پہلو موجود نہ ہو اور وہ تکبر جو اللہ کو محبوب ہے وہ یہ ہے کہ انسان اللہ کی رضا کے لئے قتال کے وقت اپنے آپ کو نمایاں کرے اور صدقات و خیرات میں نمایاں کرے (اور مبغوض وہ ہے جوصرف فخر یا بغاوت کے لئے ہو)

أَبِيهِ ← ابْنُ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← أَبَانُ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24153

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24154

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ عَنْ عَتِيكِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَتِيكٍ فَهُوَ جَدُّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو أُمِّهِ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَتِيكٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ ثَابِتٍ لَمَّا مَاتَ قَالَتْ ابْنَتُهُ وَاللَّهِ إِنْ كُنْتُ لَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ شَهِيدًا أَمَا إِنَّكَ كُنْتَ قَدْ قَضَيْتَ جِهَازَكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَوْقَعَ أَجْرَهُ عَلَى قَدْرِ نِيَّتِهِ وَمَا تَعُدُّونَ الشَّهَادَةَ قَالُوا قَتْلٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشَّهَادَةُ سَبْعٌ سِوَى الْقَتْلِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ الْمَطْعُونُ شَهِيدٌ وَالْغَرِقُ شَهِيدٌ وَصَاحِبُ ذَاتِ الْجَنْبِ شَهِيدٌ وَالْمَبْطُونُ شَهِيدٌ وَصَاحِبُ الْحَرْقِ شَهِيدٌ وَالَّذِي يَمُوتُ تَحْتَ الْهَدْمِ شَهِيدٌ وَالْمَرْأَةُ تَمُوتُ بِجُمْعٍ شَهِيدَةٌ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب حضرت عبداللہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو ان کی بیٹی کہنے لگی بخدا! مجھے امید ہے کہ آپ شہداء میں شامل ہوں گے کیونکہ آپ نے اپنی تیاری مکمل کر رکھی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے ان کی نیت کے مطابق ان کا اجر طے کر دیا ہے تم لوگ " شہادت " کس چیز کو سمجھتے ہو؟ لوگوں نے عرض کیا کہ اللہ کے راستہ میں مارے جانے کو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے راستہ میں مارے جانے کے علاوہ بھی شہادت کی سات قسمیں ہیں چنانچہ طاعون میں مرنے والا شہید ہے ، سمندر میں غرق ہو کر مرنے والا شہید ہے ذات الجنب کی بیماری میں مرنے والا شہید ہے پیٹ کی بیماری میں مرنے والا شہید ہے آگ میں جل کر مرنے والا شہید ہے عمارت کے نیچے دب کر مرنے والا شہید ہے اور حالت نفاس میں مرنے والا عورت شہید ہے ۔

عَتِيكِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَتِيكٍ فَهُوَ جَدُّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو أُمِّهِ ← عبد الله بن عبد الله بن جابر بن عتيك، ← مَالِكٍ، ← رَوْحٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24154

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24155

حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ مُرَّةَ الْحَنَفِيُّ أَبُو مُرَّةَ حَدَّثَنَا نَفِيسٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَابِرٍ الْعَبْدِيِّ قَالَ كُنْتُ فِي الْوَفْدِ الَّذِي أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ قَالَ وَلَسْتُ مِنْهُمْ وَإِنَّمَا كُنْتُ مَعَ أَبِي قَالَ فَنَهَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الشُّرْبِ فِي الْأَوْعِيَةِ الَّتِي سَمِعْتُمْ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ وَالْمُزَفَّتِ

حضرت عبداللہ بن جابر عبدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے والے وفد عبدالقیس میں میں بھی شامل تھا میرا تعلق اس قبیلے سے نہیں تھا بلکہ میں اپنے والد صاحب کے ہمراہ آیا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان برتنوں میں کچھ بھی پینے سے منع فرمایا تھا جن کے متعلق تم سن چکے ہو یعنی دباء "حنتم" نقیر اور مزفت۔

الشُّرْبِ فِي الْأَوْعِيَةِ الَّتِي سَمِعْتُمْ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ وَالْمُزَفَّتِ ← فَنَهَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ ← وَلَسْتُ مِنْهُمْ وَإِنَّمَا كُنْتُ مَعَ أَبِي ← كُنْتُ فِي الْوَفْدِ الَّذِي أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَابِرٍ الْعَبْدِيِّ ← نَفِيسٌ ← الْحَارِثُ بْنُ مُرَّةَ الْحَنَفِيُّ أَبُو مُرَّةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24155

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24156

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ عُثْمَانَ الْبَتِّيِّ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ أَبَوَيْهِ اخْتَصَمَا فِيهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَحَدُهُمَا مُسْلِمٌ وَالْآخَرُ كَافِرٌ فَخَيَّرَهُ فَتَوَجَّهَ إِلَى الْكَافِرِ مِنْهُمَا فَقَالَ اللَّهُمَّ اهْدِهِ فَتَوَجَّهَ إِلَى الْمُسْلِمِ فَقَضَى لَهُ بِهِ

حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے والدین ان کے متعلق اپنا مقدمہ لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے میرے والدین میں سے ایک مسلمان تھا اور دوسرا کافر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کافر کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا اے اللہ ! اسے ہدایت عطا فرما اور مسلمان کی طرف متوجہ ہو کر میرے متعلق فیصلہ اس کے حق میں کر دیا۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ سَلَمَةَ، ← عُثْمَانَ الْبَتِّيِّ ← إِسْمَاعِيلُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24156

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24157

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ أَبُو عَمْرٍو الْبَتِّيِّ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ سَلَمَةَ أَنَّ جَدَّهُ أَسْلَمَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ تُسْلِمْ جَدَّتُهُ وَلَهُ مِنْهَا ابْنٌ فَاخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ شِئْتُمَا خَيَّرْتُمَا الْغُلَامَ قَالَ وَأَجْلَسَ الْأَبَ فِي نَاحِيَةٍ وَالْأُمَّ نَاحِيَةً فَخَيَّرَهُ فَانْطَلَقَ نَحْوَ أُمِّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ اهْدِهِ قَالَ فَرَجَعَ إِلَى أَبِيهِ

عبدالحمید بن سلمہ کہتے ہیں کہ ان کے دادا دور نبوت ہی میں مسلمان ہوگئے تھے لیکن ان کی دادی نے اسلام قبول نہیں کیا تھا دادا کا دادی سے ایک بیٹا تھا وہ دونوں اس کا مقدمہ لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم دونوں اگر مناسب سمجھو تو اپنے بیٹے کو اختیار دے دو (وہ جس کے پاس جانا چاہے چلاجائے) پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کونے میں باپ کو بٹھایا اور دوسرے کونے میں ماں کو اور بچے کو اختیار دے دیا وہ بچہ ماں کی طرف چلنے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ اے اللہ ! اس بچے کو ہدایت عطا فرما چنانچہ وہ اپنے باپ کی طرف لوٹ آیا۔

عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ سَلَمَةَ، ← عثمان أبو عمرو البتي ← هُشَيْمٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24157

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24158

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي رَافِعِ بْنِ سِنَانٍ أَنَّهُ أَسْلَمَ وَأَبَتْ امْرَأَتُهُ أَنْ تُسْلِمَ فَأَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ ابْنَتِي وَهِيَ فَطِيمٌ أَوْ شَبَهُهُ وَقَالَ رَافِعٌ ابْنَتِي فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْعُدْ نَاحِيَةً وَقَالَ لَهَا اقْعُدِي نَاحِيَةً فَأَقْعَدَ الصَّبِيَّةَ بَيْنَهُمَا ثُمَّ قَالَ ادْعُوَاهَا فَمَالَتْ إِلَى أُمِّهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ اهْدِهَا فَمَالَتْ إِلَى أَبِيهَا فَأَخَذَهَا

عبدالحمید بن سلمہ کہتے ہیں کہ ان کے دادا دور نبوت ہی میں مسلمان ہوگئے تھے لیکن ان کی دادی نے اسلام قبول نہیں کیا تھا دادا کا دادی سے ایک بیٹا تھا وہ دونوں اس کا مقدمہ لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم دونوں اگر مناسب سمجھو تو اپنے بیٹے کو اختیار دے دو (وہ جس کے پاس جانا چاہے چلاجائے) پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کونے میں باپ کو بٹھایا اور دوسرے کونے میں ماں کو اور بچے کو اختیار دے دیا وہ بچہ ماں کی طرف چلنے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ اے اللہ ! اس بچے کو ہدایت عطا فرما چنانچہ وہ اپنے باپ کی طرف لوٹ آیا۔

النبي -:"اللهم اهدها". فمالت إلى أبيها، فأخذها ← ادْعُوَاهَا فَمَالَتْ إِلَى أُمِّهَا ← لَهَا: «اقْعُدِي نَاحِيَةً»، فَأَقْعَدَ الصِّبْيَةَ بَيْنَهُمَا ثُمَّ ← لَهُ النَّبِيُّ اقْعُدْ نَاحِيَةً ← رَافِعٌ ابْنَتِي ← ابْنَتِي وَهِيَ فَطِيمٌ أَوْ شَبَهُهُ ← جَدِّي رَافِعِ بْنِ سِنَانٍ أَنَّهُ أَسْلَمَ وَأَبَتْ امْرَأَتُهُ أَنْ تُسْلِمَ فَأَتَتْ النَّبِيَّ ← أَبِي ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24158

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24159

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَنْبَأَنَا عُثْمَانُ الْبَتِّيُّ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ نَقْرَةِ الْغُرَابِ وَعَنْ فَرْشَةِ السَّبُعِ وَأَنْ يُوطِنَ الرَّجُلُ مَقَامَهُ فِي الصَّلَاةِ كَمَا يُوطِنُ الْبَعِيرُ

حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں کوے کی طرح ٹھونگیں مارنے سے درندوں کی طرح اپنے بازو سجدے میں بچھانے سے اور نماز کے لئے ایک ہی جگہ متعین کر لینے سے منع فرمایا ہے جیسے اونٹ اپنی جگہ متعین کر لیتا ہے ۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ سَلَمَةَ، ← عُثْمَانَ الْبَتِّيِّ ← إِسْمَاعِيلُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24159

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24160

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ عَنْ عُثْمَانَ الْبَتِّيِّ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ جَدَّهُ أَسْلَمَ وَأَبَتْ امْرَأَتُهُ أَنْ تُسْلِمَ فَجَاءَ بِابْنٍ لَهُ صَغِيرٍ لَمْ يَبْلُغْ قَالَ فَأَجْلَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَبَ هَاهُنَا وَالْأُمَّ هَاهُنَا ثُمَّ خَيَّرَهُ وَقَالَ اللَّهُمَّ اهْدِهِ فَذَهَبَ إِلَى أَبِيهِ

عبدالحمید بن سلمہ کہتے ہیں کہ ان کے دادا دور نبوت ہی میں مسلمان ہوگئے تھے لیکن ان کی دادی نے اسلام قبول نہیں کیا تھا دادا کا دادی سے ایک بیٹا تھا وہ دونوں اس کا مقدمہ لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم دونوں اگر مناسب سمجھو تو اپنے بیٹے کو اختیار دے دو (وہ جس کے پاس جانا چاہے چلاجائے) پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کونے میں باپ کو بٹھایا اور دوسرے کونے میں ماں کو اور بچے کو اختیار دے دیا وہ بچہ ماں کی طرف چلنے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ اے اللہ ! اس بچے کو ہدایت عطا فرما چنانچہ وہ اپنے باپ کی طرف لوٹ آیا۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَبْدِ الْحَمِيدِ الْأَنْصَارِيِّ، ← عُثْمَانَ الْبَتِّيِّ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24160

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24161

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ عَنْ قَيْسِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يُصَلِّي بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ رَكْعَتَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَلَاةُ الصُّبْحِ مَرَّتَيْنِ فَقَالَ الرَّجُلُ إِنِّي لَمْ أَكُنْ صَلَّيْتُ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا فَصَلَّيْتُهُمَا الْآنَ قَالَ فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت قیس بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آدمی کو نماز فجر کی بعد دو رکعتیں پڑھتے ہوئے دیکھا تو فرمایا کیا فجر کی نماز دو مرتبہ ہوتی ہے؟ اس شخص نے عرض کیا کہ میں فجر سے پہلے کی دو سنتیں نہیں پڑھ سکا تھا وہ میں نے اب پڑھی ہیں اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے۔

فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ ← الرَّجُلُ: إِنِّي لَمْ أَكُنْ صَلَّيْتُ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا فَصَلَّيْتُهُمَا الْآنَ ← رَسُولُ اللهِ أَصَلاَةُ الصُّبْحِ مَرَّتَيْنِ ← رَأَى النَّبِيُّ رَجُلاً يُصَلِّي بَعْدَ صَلاَةِ الصُّبْحِ رَكْعَتَيْنِ ← قيس بن عمرو ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ ← سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ ← ابْنِ نُمَيْرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24161

chevron_left Previous
1…649650651…684
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter