Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24114

حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ سَلْمَانَ قَالَ قَالَ الْمُشْرِكُونَ إِنَّ هَذَا لَيُعَلِّمُكُمْ حَتَّى إِنَّهُ لَيُعَلِّمُكُمْ الْخِرَاءَةَ قَالَ قُلْتُ لَئِنْ قُلْتُمْ ذَاكَ لَقَدْ نَهَانَا أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ أَوْ نَسْتَدْبِرَهَا أَوْ نَسْتَنْجِيَ بِأَيْمَانِنَا أَوْ يَكْتَفِيَ أَحَدُنَا بِدُونِ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ أَوْ يَسْتَنْجِيَ أَحَدُنَا بِرَجِيعٍ أَوْ عَظْمٍ

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ مشرکین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کامذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ تمہارے پیغمبر تمہیں قضائے حاجت تک کا طریقہ سکھاتے ہیں، حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہاں ! وہ ہمیں حکم دیتے ہیں کہ ہم قبلہ کی جانب اس وقت رخ نہ کیا کریں دائیں ہاتھ سے استنجاء نہ کیا کریں اور تین پتھروں سے کم پر اکتفاء نہ کریں جن میں لید ہو اور نہ ہڈی ۔

الْمُشْرِكُونَ إِنَّ هَذَا لَيُعَلِّمُكُمْ حَتَّى إِنَّهُ لَيُعَلِّمُكُمْ الْخِرَاءَةَ ← سَلْمَانَ ← عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← ابْنُ فُضَيْلٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24114

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24115

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ سَلْمَانَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيَسْتَحِي أَنْ يَبْسُطَ الْعَبْدُ إِلَيْهِ يَدَيْهِ يَسْأَلُهُ خَيْرًا فَيَرُدَّهُمَا خَائِبَتَيْنِ

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو اس بات سے حیاء آتی ہے کہ اس کا کوئی بندہ اس کے سامنے ہاتھ پھیلا کر کوئی سوال کرے اور وہ انہیں خالی لوٹا دے۔

سَلْمَانَ ← أَبِي عُثْمَانَ ← سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24115

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24116

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا رَجُلٌ فِي مَجْلِسِ عَمْرِو بْنِ عُبَيْدٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عُثْمَانَ يُحَدِّثُ بِهَذَا عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَزِيدُ سَمُّوهُ لِي قَالُوا هُوَ جَعْفَرُ بْنُ مَيْمُونٍ قَالَ عَبْد اللَّهِ قَالَ أَبِي يَعْنِي جَعْفَرَ صَاحِبَ الْأَنْمَاطِ

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو اس بات سے حیاء آتی ہے کہ اس کا کوئی بندہ اس کے سامنے ہاتھ پھیلا کر کوئی سوال کرے اور وہ انہیں خالی لوٹا دے۔

أَبِي يَعْنِي جَعْفَرَ صَاحِبَ الْأَنْمَاطِ ← عَبْدُ اللَّهِ ← هُوَ جَعْفَرُ بْنُ مَيْمُونٍ ← يَزِيدُ سَمُّوهُ لِي ← النَّبِيِّ ← سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ ← بِهَذَا. ← أَبَا عُثْمَانَ ← رَجُلٌ فِي مَجْلِسِ عَمْرِو بْنِ عُبَيْدٍ أَنَّهُ ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24116

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24117

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ قَالَ كُنَّا مَعَ سَلْمَانَ تَحْتَ شَجَرَةٍ فَأَخَذَ غُصْنًا مِنْهَا فَنَفَضَهُ فَتَسَاقَطَ وَرَقُهُ فَقَالَ أَلَا تَسْأَلُونِي عَمَّا صَنَعْتُ فَقُلْنَا أَخْبِرْنَا فَقَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ظِلِّ شَجَرَةٍ فَأَخَذَ غُصْنًا مِنْهَا فَنَفَضَهُ فَتَسَاقَطَ وَرَقُهُ فَقَالَ أَلَا تَسْأَلُونِي عَمَّا صَنَعْتُ فَقُلْنَا أَخْبِرْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ إِنَّ الْعَبْدَ الْمُسْلِمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ تَحَاتَّتْ عَنْهُ خَطَايَاهُ كَمَا تَحَاتَّ وَرَقُ هَذِهِ الشَّجَرَةِ

ابو عثمان کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک درخت کے نیچے تھا انہوں نے اس کی ایک خشک ٹہنی کو پکڑ کر اسے ہلایا تو اس کے پتے گرنے لگے پھر انہوں نے فرمایا کہ اے ابو عثمان ! تم مجھ سے یہ کیوں نہیں پوچھتے کہ میں نے ایسا کیوں کیا؟ میں نے کہا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا؟ انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک درخت کے نیچے تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ بھی اسی طرح کیا تھا اور یہی سوال جواب ہوئے تھے جس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جب کوئی مسلمان خوب اچھی طرح وضو کرے اور پانچوں نمازیں پڑھے تو اس کے گناہ اسی طرح جھڑ جاتے ہیں جیسے یہ پتے جھڑ رہے ہیں۔

أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24117

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24118

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْفُرَاتِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ مَوْلَى زَيْدِ بْنِ صُوحَانَ الْعَبْدِيِّ قَالَ كُنْتُ مَعَ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ فَرَأَى رَجُلًا قَدْ أَحْدَثَ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَنْزِعَ خُفَّيْهِ فَأَمَرَهُ سَلْمَانُ أَنْ يَمْسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ وَعَلَى عِمَامَتِهِ وَيَمْسَحَ بِنَاصِيَتِهِ وَقَالَ سَلْمَانُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ عَلَى خُفَّيْهِ وَعَلَى خِمَارِهِ

ابومسلم رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا انہوں نے دیکھا کہ ایک آدمی کو حدث لاحق ہوا اور وہ اپنے موزے اتارنا چاہتا ہے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے اسے حکم دیا کہ موزوں اور عمامہ پر مسح کرے اور اپنی پیشانی کے بقدر مسح کرے اور فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے موزوں اور اوڑھنی (عمامے ) پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

أبي مسلم مولى زيد بن صوحان العبدي ← اَبِیْ شُرَیْحٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، ← دَاوُدُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْفُرَاتِ ← عَبْدُ الصَّمَدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24118

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24119

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ مُغِيرَةَ عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ قَرْثَعٍ الضَّبِّيِّ عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ قَالَ قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَدْرِي مَا يَوْمُ الْجُمُعَةِ قُلْتُ هُوَ الْيَوْمُ الَّذِي جَمَعَ اللَّهُ فِيهِ أَبَاكُمْ قَالَ لَكِنِّي أَدْرِي مَا يَوْمُ الْجُمُعَةِ لَا يَتَطَهَّرُ الرَّجُلُ فَيُحْسِنُ طُهُورَهُ ثُمَّ يَأْتِي الْجُمُعَةَ فَيُنْصِتُ حَتَّى يَقْضِيَ الْإِمَامُ صَلَاتَهُ إِلَّا كَانَ كَفَّارَةً لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الْمُقْبِلَةِ مَا اجْتُنِبَتْ الْمَقْتَلَةُ

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے حسب استطاعت پاکیزگی حاصل کرے، تیل لگائے اپنے گھر کی خوشبو لگائے پھر مسجد کی طرف روانہ ہو تو کسی دو آدمیوں کے درمیان تفرق پیدا نہ کرے حسب استطاعت نماز پڑھے جب امام گفتگو کر رہا ہو تو خاموشی اختیار کرے تو اگلے جمعہ تک اس کے سارے گناہ معاف ہو جاتے ہیں ، جب تک کہ لڑائی سے بچتا رہے۔

سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ ← قَرْثَعٍ الضَّبِّيِّ، ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← أَبِي مَعْشَرٍ، ← مُغِيرَةَ، ← هُشَيْمٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24119

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24120

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ قِيلَ لِسَلْمَانَ قَدْ عَلَّمَكُمْ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّ شَيْءٍ حَتَّى الْخِرَاءَةِ قَالَ أَجَلْ نَهَانَا أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ بِغَائِطٍ أَوْ بِبَوْلٍ أَوْ أَنْ نَسْتَنْجِيَ بِالْيَمِينِ أَوْ أَنْ يَسْتَنْجِيَ أَحَدُنَا بِأَقَلَّ مِنْ ثَلَاثِ أَحْجَارٍ أَوْ أَنْ يَسْتَنْجِيَ بِرَجِيعٍ أَوْ بِعَظْمٍذ

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ مشرکین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ تمہارے پیغمبر تمہیں قضائے حاجت تک کا طریقہ سکھاتے ہیں ، حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہاں ! وہ ہمیں حکم دیتے ہیں کہ ہم قبلہ کی جانب اس وقت رخ نہ کیا کریں دائیں ہاتھ سے استنجاء نہ کیا کریں اور تین پتھروں سے کم پر اکتفاء نہ کریں جن میں لید ہو اور نہ ہڈی ۔

قِيلَ لِسَلْمَانَ، قَدْ عَلَّمَكُمْ نَبِيُّكُمْ كُلَّ شَيْءٍ حَتَّى الْخَرَاءَةَ؟ ← عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24120

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24121

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ سَلْمَانَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ مِائَةَ رَحْمَةٍ فَمِنْهَا رَحْمَةٌ يَتَرَاحَمُ بِهَا الْخَلْقُ فَبِهَا تَعْطِفُ الْوُحُوشُ عَلَى أَوْلَادِهَا وَأَخَّرَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے سو رحمتیں پیدا کی ہیں جن میں سے ایک رحمت وہ ہے کہ جس کے ذریعے مخلوق ایک دوسرے پر رحم کرتی ہے اور وحشی جانور تک اپنی اولاد پر ترس کھاتے ہیں اور ننانوے رحمتیں قیامت کے دن کے لئے مؤخر کر دی ہیں ۔

النَّبِيِّ ← سَلْمَانَ ← أَبِي عُثْمَانَ ← سُلَیْمَانَ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24121

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24122

حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ أَخْبَرَنِي مِسْعَرٌ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي قُرَّةَ الْكِنْدِيِّ قَالَ عَرَضَ أَبِي عَلَى سَلْمَانَ أُخْتَهُ فَأَبَى وَتَزَوَّجَ مَوْلَاةً لَهُ يُقَالُ لَهَا بُقَيْرَةُ قَالَ فَبَلَغَ أَبَا قُرَّةَ أَنَّهُ كَانَ بَيْنَ سَلْمَانَ وَحُذَيْفَةَ شَيْءٌ فَأَتَاهُ يَطْلُبُهُ فَأُخْبِرَ أَنَّهُ فِي مَبْقَلَةٍ لَهُ فَتَوَجَّهَ إِلَيْهِ فَلَقِيَهُ مَعَهُ زَبِيلٌ فِيهِ بَقْلٌ قَدْ أَدْخَلَ عَصَاهُ فِي عُرْوَةِ الزَّبِيلِ وَهُوَ عَلَى عَاتِقِهِ قَالَ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ مَا كَانَ بَيْنَكَ وَبَيْنَ حُذَيْفَةَ قَالَ يَقُولُ سَلْمَانُ وَكَانَ الْإِنْسَانُ عَجُولًا فَانْطَلَقَا حَتَّى أَتَيَا دَارَ سَلْمَانَ فَدَخَلَ سَلْمَانُ الدَّارَ فَقَالَ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ ثُمَّ أَذِنَ فَإِذَا نَمَطٌ مَوْضُوعٌ عَلَى بَابٍ وَعِنْدَ رَأْسِهِ لَبِنَاتٌ وَإِذَا قُرْطَانِ فَقَالَ اجْلِسْ عَلَى فِرَاشِ مَوْلَاتِكَ الَّذِي تُمَهِّدُ لِنَفْسِهَا قَالَ ثُمَّ أَنْشَأَ يُحَدِّثُهُ قَالَ إِنَّ حُذَيْفَةَ كَانَ يُحَدِّثُ بِأَشْيَاءَ يَقُولُهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَضَبِهِ لِأَقْوَامٍ فَأُسْأَلُ عَنْهَا فَأَقُولُ حُذَيْفَةُ أَعْلَمُ بِمَا يَقُولُ وَأَكْرَهُ أَنْ يَكُونَ ضَغَائِنُ بَيْنَ أَقْوَامٍ فَأُتِيَ حُذَيْفَةُ فَقِيلَ لَهُ إِنَّ سَلْمَانَ لَا يُصَدِّقُكَ وَلَا يُكَذِّبُكَ بِمَا تَقُولُ فَجَاءَنِي حُذَيْفَةُ فَقَالَ يَا سَلْمَانُ ابْنَ أُمِّ سَلْمَانَ قُلْتُ يَا حُذَيْفَةُ ابْنَ أُمِّ حُذَيْفَةَ لَتَنْتَهِيَنَّ أَوْ لَأَكْتُبَنَّ إِلَى عُمَرَ فَلَمَّا خَوَّفْتُهُ بِعُمَرَ تَرَكَنِي وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ وَلَدِ آدَمَ أَنَا فَأَيُّمَا عَبْدٍ مُؤْمِنٍ لَعَنْتُهُ لَعْنَةً أَوْ سَبَبْتُهُ سَبَّةً فِي غَيْرِ كُنْهِهِ فَاجْعَلْهَا عَلَيْهِ صَلَاةً

عمرو بن ابی قرہ کندی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میرے والد نے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے سامنے اپنی بہن سے نکاح کی پیشکش کی لیکن انہوں نے انکار کر دیا اور ان کی آزاد کردہ باندی " جس کا نام بقیرہ تھا" سے نکاح کر لیا پھر ابو قرہ کو معلوم ہوا کہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ اور حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے درمیان کچھ رنجش ہے تو وہ انہیں تلاش کرتے ہوئے آئے معلوم ہوا کہ وہ اپنی سبزیوں کے پاس ہیں ابوقرہ ادھر روانہ ہوگئے راستے میں حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوگئی جن کے ساتھ ایک ٹوکری بھی سبزی سے بھری ہوئی تھی انہوں نے اپنی لاٹھی اس ٹوکری کی رسی میں داخل کر کے اسے اپنے کندھے پر رکھا ہوا تھا میں نے ان سے عرض کیا کہ اے ابو عبداللہ ! کیا آپ کے اور حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے درمیان کوئی رنجش ہے ؟ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی " انسان بڑا جلد باز ہے " اور وہ دونوں چلتے رہے حتیٰ کہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے گھر پہنچ گئے۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ گھر کے اندرچلے گئے اور سلام کیا پھر ابوقرہ کو اندر آنے کی اجازت دی وہاں دروازے کے پاس ایک چادر پڑھی ہوئی تھی سرہانے کچھ اینٹیں رکھی ہوئی تھیں اور دو بالیاں پڑی ہوئی تھیں حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اپنی باندی کے بستر پر بیٹھ جاؤ جس نے اپنے آپ کو تیار کر لیا تھا انہوں نے بات کا آغاز اور فرمایا کہ حذیفہ بہت ساری ایسی چیزیں بیان کرتے ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غصے کی حالت میں کچھ لوگوں سے کہہ دیتے تھے لوگ مجھ سے اس کے متعلق پوچھتے تو میں ان سے کہہ دیتا کہ حذیفہ ہی زیادہ جانتے ہیں کہ وہ کیا کہتے ہیں میں لوگوں کے درمیان نفرت بڑھانے کو اچھا نہیں سمجھتا لوگ حذیفہ کے پاس جاتے اور ان سے کہتے کہ سلمان آپ کی تصدیق کرتے ہیں اور نہ ہی تکذیب ، تو ایک مرتبہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ اے ام سلمان کے بیٹے سلمان ! میں نے بھی کہہ دیا ہے کہ اے ام حذیفہ کے بیٹھے حذیفہ ! تم باز آجاؤ ورنہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خط لکھوں گا جب میں نے انہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا خوف دلایا تو انہوں نے مجھے چھوڑ دیا حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میں بھی اولاد آدم میں سے ہوں سو جس بندہ مؤمن پر میں نے لعنت ملامت کی ہو یا اس کے حق میں سخت سست کہا ہو تو اے اللہ ! اسے اس کے حق میں باعث رحمت بنا دے۔ ی

فَبَلَغَ أَبَا قُرَّةَ ← عَرَضَ أَبِي عَلَى سَلْمَانَ أُخْتَهُ فَأَبَى وَتَزَوَّجَ مَوْلَاةً لَهُ يُقَالُ لَهَا بُقَيْرَةُ ← عَمْرِو بْنِ أَبِي قُرَّةَ الْكِنْدِيِّ ← عُمَرُ بْنُ قَيْسٍ، ← مِسْعَرٍ، ← أَبُو أُسَامَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24122

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24123

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ حَدَّثَنِي سَلْمَانُ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِطَعَامٍ وَأَنَا مَمْلُوكٌ فَقُلْتُ هَذِهِ صَدَقَةٌ فَأَمَرَ أَصْحَابَهُ فَأَكَلُوا وَلَمْ يَأْكُلْ ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِطَعَامٍ فَقُلْتُ هَذِهِ هَدِيَّةٌ أَهْدَيْتُهَا لَكَ أُكْرِمُكَ بِهَا فَإِنِّي رَأَيْتُكَ لَا تَأْكُلُ الصَّدَقَةَ فَأَمَرَ أَصْحَابَهُ فَأَكَلُوا وَأَكَلَ مَعَهُمْ

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اپنے دور غلامی میں ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا لے کر حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یہ صدقہ ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں کو حکم دیا اور انہوں نے اسے کھا لیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود نہ کھایا دوبارہ میں کھانا لے کر حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یہ ہدیہ ہے جو میں آپ کے احترام میں آپ کے لئے لایا ہوں کیونکہ میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ آپ صدقہ نہیں کھاتے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں کو حکم دیا اور انہوں نے بھی اسے کھایا اور ان کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسے کھایا۔

أَتَيْتُ النَّبِيَّ بِطَعَامٍ ← سَلْمَانَ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ← عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يَحْيَی بْنُ زَکَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24123

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24124

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ آلِ أَبِي قُرَّةَ عَنْ سَلْمَانَ قَالَ كُنْتُ اسْتَأْذَنْتُ مَوْلَاتِي فِي ذَلِكَ فَطَيَّبَتْ لِي فَاحْتَطَبْتُ حَطَبًا فَبِعْتُهُ فَاشْتَرَيْتُ ذَلِكَ الطَّعَامَ

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اس سلسلے میں میں اپنی مالکن سے اجازت لیتا تھا وہ دلی خوشی کے ساتھ مجھے اجازت دے دیتی میں لکڑیاں کاٹتا انہیں بیچتا اور وہ کھانا خریدا کرتا تھا۔

سَلْمَانَ ← آلِ أَبِي قُرَّةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبِي ← يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24124

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24125

حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِيُّ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي الْفُرَاتِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ مَوْلَى زَيْدِ بْنِ صُوحَانَ الْعَبْدِيِّ قَالَ كُنْتُ مَعَ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ فَرَأَى رَجُلًا قَدْ أَحْدَثَ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَنْزِعَ خُفَّيْهِ لِلْوُضُوءِ فَأَمَرَهُ سَلْمَانُ أَنْ يَمْسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ وَعَلَى عِمَامَتِهِ وَيَمْسَحَ بِنَاصِيَتِهِ وَقَالَ سَلْمَانُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ وَعَلَى خِمَارِهِ

ابومسلم رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے ساتھ انہوں نے دیکھا کہ ایک آدمی کو حدث لاحق ہوا اور وہ اپنے موزے اتارنا چاہتا ہے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے اسے حکم دیا کہ موزوں اور عمامہ پر مسح کرے اور اپنی پیشانی کے بقدر مسح کرے اور فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے موزوں اور اوڑھنی (عمامے ) پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

أبي مسلم مولى زيد بن صوحان العبدي ← اَبِیْ شُرَیْحٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، ← دَاوٗدَ بْنِ اَبِیْ الْفُرَاتِ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِيُّ وَعَفَّانُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24125

chevron_left Previous
1…646647648…684
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter