Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23898

حَدَّثَنَا الْمُقْرِيُّ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ حَدَّثَنِي بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ حَدَّثَنَا أَبُو رُهْمٍ السَّمَعِيُّ أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ جَاءَ يَعْبُدُ اللَّهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَيُقِيمُ الصَّلَاةَ وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ وَيَصُومُ رَمَضَانَ وَيَجْتَنِبُ الْكَبَائِرَ فَإِنَّ لَهُ الْجَنَّةَ وَسَأَلُوهُ مَا الْكَبَائِرُ قَالَ الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ وَقَتْلُ النَّفْسِ الْمُسْلِمَةِ وَفِرَارٌ يَوِمَ الزَّحْفِ

حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اس حال میں آئے کہ اللہ کی عبادت کرتا ہو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، نماز قائم کرتا ہو، زکوۃ ادا کرتا ہو ماہ رمضان کے روزے رکھتا ہو اور کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرتا ہو تو اس کے لئے جنت ہے لوگوں نے پوچھا کہ " کبیرہ گناہوں " سے کیا مراد ہے ؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا کسی مسلمان کو قتل کرنا اور میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کرنا۔

أَبُو رُهْمٍ السَّمَعِيُّ أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، ← بَقِيَّةُ ← حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ← الْمُقْرِئُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23898

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23899

حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ زُرْعَةَ عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ أَنَّ أَبَا رُهْمٍ السَّمَعِيَّ كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ إِنَّ كُلَّ صَلَاةٍ تَحُطُّ مَا بَيْنَ يَدَيْهَا مِنْ خَطِيئَةٍ

حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نماز ان گناہوں کو مٹا دیتی ہے جو اس سے پہلے ہوتے ہیں ۔

أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ ← شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ أَنَّ أَبَا رُهْمٍ السَّمَعِيَّ كَانَ ← ضَمْضَمِ بْنِ زُرْعَةَ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23899

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23900

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ هُبَيْرَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ قَالَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَصْعَةٍ فِيهَا بَصَلٌ فَقَالَ كُلُوا وَأَبَى أَنْ يَأْكُلَ وَقَالَ إِنِّي لَسْتُ كَمِثْلِكُمْذ

حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک پیالہ لایا گیا جس میں پیاز تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا کہ اسے تم کھالو اور خود کھانے سے انکار کر دیا اور فرمایا میں تمہاری طرح نہیں ہوں ۔

إِنِّي لَسْتُ كَمِثْلِكُمْذ ← كُلُوا وَأَبَى أَنْ يَأْكُلَ ← أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ بِقَصْعَةٍ فِيهَا بَصَلٌ ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ ← ابن هبيرة ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← حَسَنٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23900

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23901

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو قَبِيلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَاشِرٍ مِنْ بَنِي سَرِيعٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا رُهْمٍ قَاصَّ أَهْلِ الشَّامِ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ ذَاتَ يَوْمٍ إِلَيْهِمْ فَقَالَ لَهُمْ إِنَّ رَبَّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ خَيَّرَنِي بَيْنَ سَبْعِينَ أَلْفًا يَدْخَلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَبَيْنَ الْخَبِيئَةِ عِنْدَهُ لِأُمَّتِي فَقَالَ لَهُ بَعْضُ أَصْحَابِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُخَبِّئُ ذَلِكَ رَبُّكَ عَزَّ وَجَلَّ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ خَرَجَ وَهُوَ يُكَبِّرُ فَقَالَ إِنَّ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ زَادَنِي مَعَ كُلِّ أَلْفٍ سَبْعِينَ أَلْفًا وَالْخَبِيئَةُ عِنْدَهُ قَالَ أَبُو رُهْمٍ يَا أَبَا أَيُّوبَ وَمَا تَظُنُّ خَبِيئَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلَهُ النَّاسُ بِأَفْوَاهِهِمْ فَقَالُوا وَمَا أَنْتَ وَخَبِيئَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَبُو أَيُّوبَ دَعُوا الرَّجُلَ عَنْكُمْ أُخْبِرْكُمْ عَنْ خَبِيئَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا أَظُنُّ بَلْ كَالْمُسْتَيْقِنِ إِنَّ خَبِيئَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقُولَ رَبِّ مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ مُصَدِّقًا لِسَانَهُ قَلْبُهُ أَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ

حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے پاس تشریف لائے تو فرمایا تمہارے رب نے مجھے دو باتوں کا اختیار دیا ہے یا تو ستر ہزار آدمی جنت میں بلا حساب کتاب مکمل معافی کے ساتھی داخل ہو جائیں یا میں اپنی امت کے متعلق اپنا حق محفوظ کر لوں کسی صحابی رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم کیا اللہ کے یہاں کسی بات کو محفوظ کیا جاسکتا ہے اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اندرچلے گئے تھوڑی دیربعد" اللہ اکبر " کہتے ہوئے باہر آئے اور فرمایا میرے پروردگار نے ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار کا وعدہ فرمایا ہے اور اس کے یہاں میرا حق بھی محفوظ ہے۔ راوی حدیث ابورہم نے حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اے ابوایوب آپ کے خیال میں نبی علیہ السلام کا وہ محفوظ حق کیا ہے ؟ یہ سن کر لوگوں نے انہیں کھا جانے والی نظروں سے دیکھا اور کہنے لگے کہ تمہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس محفوظ حق سے کیا غرض ہے ؟ حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے چھوڑ دو میں تمہیں اپنے اندازے بلکہ یقین کے مطابق بتاتا ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ محفوظ حق یہ ہے کہ پروردگار! جو شخص بھی اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں اور اس کا دل اس کی زبان کی تصدیق کرتا ہو تو اسے جنت میں داخلہ عطا فرما۔

أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ، ← أَبَا رُهْمٍ قَاصَّ أَهْلِ الشَّامِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَاشِرٍ مِنْ بَنِي سَرِيعٍ ← أَبُو قَبِيلٍ ← عبد الله بن لهيعة ← حَسَنُ بْنُ مُوسَی

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23901

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23902

حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ أَخْبَرَنَا بَقِيَّةُ عَنْ بَحِيرٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ أَنَّ أَبَا رُهْمٍ السَّمَعِيَّ حَدَّثَهُمْ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ عَبَدَ اللَّهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَصَامَ رَمَضَانَ وَاجْتَنَبَ الْكَبَائِرَ فَلَهُ الْجَنَّةُ أَوْ دَخَلَ الْجَنَّةَ فَسَأَلَهُ مَا الْكَبَائِرُ فَقَالَ الشِّرْكُ بِاللَّهِ وَقَتْلُ نَفْسٍ مُسْلِمَةٍ وَالْفِرَارُ يَوْمَ الزَّحْفِ

حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اس حال میں آئے کہ اللہ کی عبادت کرتا ہو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، نماز قائم کرتا ہو، زکوۃ ادا کرتا ہو ماہ رمضان کے روزے رکھتا ہو اور کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرتا ہو تو اس کے لئے جنت ہے لوگوں نے پوچھا کہ " کبیرہ گناہوں " سے کیا مراد ہے ؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا کسی مسلمان کو قتل کرنا اور میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کرنا۔

أَبِي أَيُّوبَ، ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ أَنَّ أَبَا رُهْمٍ السَّمَعِيَّ ← بَحِيرٍ ← بَقِيَّةُ ← زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23902

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23903

حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ أَخْبَرَنَا بَقِيَّةُ عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ اقْتَرَعَتْ الْأَنْصَارُ أَيُّهُمْ يُؤْوِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَعَهُمْ أَبُو أَيُّوبَ فَآوَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ إِذَا أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامٌ أُهْدِيَ لِأَبِي أَيُّوبَ قَالَ فَدَخَلَ أَبُو أَيُّوبَ يَوْمًا فَإِذَا قَصْعَةٌ فِيهَا بَصَلٌ فَقَالَ مَا هَذَا فَقَالُوا أَرْسَلَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَاطَّلَعَ أَبُو أَيُّوبَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا مَنَعَكَ مِنْ هَذِهِ الْقَصْعَةِ قَالَ رَأَيْتُ فِيهَا بَصَلًا قَالَ وَلَا يَحِلُّ لَنَا الْبَصَلُ قَالَ بَلَى فَكُلُوهُ وَلَكِنْ يَغْشَانِي مَا لَا يَغْشَاكُمْ وَقَالَ حَيْوَةُ إِنَّهُ يَغْشَانِي مَا لَا يَغْشَاكُمْ

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو انصار نے اس بات پر قرعہ اندازی کی کہ ان میں سے کس کے یہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فروکش ہوں گے وہ قرعہ حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ کے نام نکل آیا اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھرلے گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ جب کوئی چیز ہدیہ میں آتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ کو بھی بھجواتے تھے چنانچہ ایک دن حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ اپنے گھر آئے تو ایک پیالہ نظر آیا جس میں پیاز تھا پوچھا کہ یہ کیا ہے ؟ اہل خانہ نے بتایا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھجوایا ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے تو اس پیالے کو ہاتھ بھی نہیں لگایا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اس میں پیاز نظر آئی تھی انہوں نے پوچھا کہ کیا ہمارے لئے پیاز حلال نہیں ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں ، تم اسے کھایا کرو البتہ میرے پاس وہ آتے ہیں جو تمہارے پاس نہیں آتے (جبریل امین اور دیگر فرشتے علیہم السلام )

أَبِي أَيُّوبَ، ← جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، ← بَقِيَّةُ ← زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23903

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23904

حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ حَدَّثَنِي بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كِيلُوا طَعَامَكُمْ يُبَارَكْ لَكُمْ فِيهِ

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنا غلہ ناپ کر لین دین کیا کرو تمہارے لئے اس میں برکت ڈال دی جائے گی ۔

اَبِیْ اَیُّوْبَ الْاَنْصَارِیِّ ← الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ، ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، ← بَقِيَّةُ ← حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23904

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23905

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ عَنْ بَحِيرٍ فَذَكَرَ مِثْلَهُ

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنا غلہ ناپ کر لین دین کیا کرو تمہارے لئے اس میں برکت ڈال دی جائے گی ۔

بَحِيرٍ فَذَكَرَ مِثْلَهُ ← بَقِيَّةُ ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ مُحَمَّدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23905

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23906

حَدَّثَنَا هَيْثَمٌ يَعْنِي ابْنَ خَارِجَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِيلُوا طَعَامَكُمْ يُبَارَكْ لَكُمْ فِيهِ

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنا غلہ ناپ کر لین دین کیا کرو تمہارے لئے اس میں برکت ڈال دی جائے گی ۔

اَبِیْ اَیُّوْبَ الْاَنْصَارِیِّ ← الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ، ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، ← ابْنُ عَيَّاشٍ ← هَيْثَمٌ يَعْنِي ابْنَ خَارِجَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23906

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23907

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قاضی جب فیصلہ کرتا ہے تو اللہ کی تائید اس کے ساتھ ہوتی ہے اور قاسم جب کوئی چیز تقسیم کرتا ہے تو اللہ کی تائید اس کے ساتھ ہوتی ہے۔

أَبِي أَيُّوبَ، ← عَمْرِو بْنِ الْأَسْوَدِ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23907

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23908

قَالَ وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ حَدَّثَهُ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدُ اللَّهِ مَعَ الْقَاضِي حِينَ يَقْضِي وَيَدُ اللَّهِ مَعَ الْقَاسِمِ حِينَ يَقْسِمُ

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قاضی جب فیصلہ کرتا ہے تو اللہ کی تائید اس کے ساتھ ہوتی ہے اور قاسم جب کوئی چیز تقسیم کرتا ہے تو اللہ کی تائید اس کے ساتھ ہوتی ہے۔

أَبِي أَيُّوبَ، ← عَمْرِو بْنِ الْأَسْوَدِ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ ← وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23908

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23909

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا رِشْدِينُ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ بُكَيْرٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَهُمْ أَنَّهُمْ ذَكَرُوا يَوْمًا مَا يُنْتَبَذُ فِيهِ فَتَنَازَعُوا فِي الْقَرْعِ فَمَرَّ بِهِمْ أَبُو أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيُّ فَأَرْسَلُوا إِلَيْهِ إِنْسَانًا فَقَالَ يَا أَبَا أَيُّوبَ الْقَرْعُ يُنْتَبَذُ فِيهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ كُلِّ مُزَفَّتٍ يُنْتَبَذُ فِيهِ فَرَدَّ عَلَيْهِ الْقَرْعَ فَرَدَّ أَبَا أَيُّوبَ مِثْلَ قَوْلِهِ الْأَوَّلِ

ابواسحق کہتے ہیں کہ ایک دن لوگ اس بات کامذاکرہ کرنے لگے کہ کن برتنوں میں نبیذ بنائی جاسکتی ہے دوران گفتگو کدو کے برتن میں نبیذ سے متعلق اختلاف رائے ہوگیا اتفاقاً وہاں سے حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کا گذر ہوا تو انہوں نے ایک آدمی بھیج کر اس کے متعلق دریافت کیا کہ اے ابوایوب ! کدو کے برتن میں نبیذ کا کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر اس برتن میں نبیذ پینے یا بنانے سے منع فرمایا ہے جسے لک لگی ہوئی ہو سائل نے کدو کے متعلق پوچھا تو انہوں نے پھر یہی جواب دیا۔

أبي إسحاق مولى بني هاشم ← بُكَيْرٍ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← رشدين ← يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23909

chevron_left Previous
1…628629630…684
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter