Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23886

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ قَالَ كَانَ مَرْثَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ لَا يَجِيءُ إِلَى الْمَسْجِدِ إِلَّا وَمَعَهُ شَيْءٌ يَتَصَدَّقُ بِهِ قَالَ فَجَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ إِلَى الْمَسْجِدِ وَمَعَهُ بَصَلٌ فَقُلْتُ لَهُ أَبَا الْخَيْرِ مَا تُرِيدُ إِلَى هَذَا يُنْتِنُ عَلَيْكَ ثَوْبَكَ قَالَ يَا ابْنَ أَخِي إِنَّهُ وَاللَّهِ مَا كَانَ فِي مَنْزِلِي شَيْءٌ أَتَصَدَّقُ بِهِ غَيْرُهُ إِنَّهُ حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ظِلُّ الْمُؤْمِنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَدَقَتُهُ

یزید بن ابی حبیب کہتے ہیں کہ مرثد بن عبداللہ جب بھی مسجد آتے تو اپنے ساتھ صدقہ کرنے کے لئے کوئی چیز ضرور لاتے تھے ایک دن وہ مسجد میں آئے تو اپنے ساتھ پیاز لے کر آئے میں نے ان سے کہا اے ابوالخیر! یہ کیوں لے آئے ؟ اس سے تو آپ کے کپڑوں سے بدبو آنے لگے گی انہوں نے کہا بھتیجے! آج میرے گھر میں صدقہ کرنے کے لئے کچھ نہیں تھا اور مجھے ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے بتایا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن مسلمان کا سایہ اس کا صدقہ ہوگا۔

يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← إِسْمَاعِيلُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23886

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23887

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ عَنْ عَرْفَجَةَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ذَكَرَ رَمَضَانَ فَقَالَ تُفْتَحُ فِيهِ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ وَتُغْلَقُ فِيهِ أَبْوَابُ النَّارِ وَتُصَفَّدُ فِيهِ الشَّيَاطِينُ وَيُنَادِي فِيهِ مُنَادٍ كُلَّ لَيْلَةٍ يَا بَاغِيَ الْخَيْرِ هَلُمَّ وَيَا بَاغِيَ الشَّرِّ أَقْصِرْ حَتَّى يَنْقَضِيَ رَمَضَانُ

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ماہ رمضان میں آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور اس میں ہر سرکش شیطان کو پابند سلاسل کر دیا جاتا ہے اور ہر رات ایک منادی نداء لگاتا ہے کہ اسے خیر کے طالب ! آگے بڑھ اور اے شر کے طالب ! رک جا، یہاں تک کہ رمضان ختم ہو جائے۔

رَمَضَانَ ← رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ أَنَّهُ ← عَرْفَجَةَ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← إِسْمَاعِيلُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23887

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23888

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنِ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي صَخْرٍ الْعُقَيْلِيِّ حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنَ الْأَعْرَابِ قَالَ جَلَبْتُ جَلُوبَةً إِلَى الْمَدِينَةِ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنْ بَيْعَتِي قُلْتُ لَأَلْقَيَنَّ هَذَا الرَّجُلَ فَلَأَسْمَعَنَّ مِنْهُ قَالَ فَتَلَقَّانِي بَيْنَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ يَمْشُونَ فَتَبِعْتُهُمْ فِي أَقْفَائِهِمْ حَتَّى أَتَوْا عَلَى رَجُلٍ مِنْ الْيَهُودِ نَاشِرًا التَّوْرَاةَ يَقْرَؤُهَا يُعَزِّي بِهَا نَفْسَهُ عَلَى ابْنٍ لَهُ فِي الْمَوْتِ كَأَحْسَنِ الْفِتْيَانِ وَأَجْمَلِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْشُدُكَ بِالَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ هَلْ تَجِدُ فِي كِتَابِكَ ذَا صِفَتِي وَمَخْرَجِي فَقَالَ بِرَأْسِهِ هَكَذَا أَيْ لَا فَقَالَ ابْنُهُ إِنِّي وَالَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ إِنَّا لَنَجِدُ فِي كِتَابِنَا صِفَتَكَ وَمَخْرَجَكَ وَأَشْهَدُ أَنَّ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ أَقِيمُوا الْيَهُودَ عَنْ أَخِيكُمْ ثُمَّ وَلِيَ كَفَنَهُ وَحَنَّطَهُ وَصَلَّى عَلَيْهِ

ایک دیہاتی صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں میں ایک اونٹ مدینہ منور لے کر آیاجب میں اسے بیچ کر فارغ ہوگیا تو میں نے سوچا کہ اس آدمی سے ملتا ہوں اور اس کی باتیں سنتا ہوں چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے حضرت ابوبکروعمر رضی اللہ عنہما کے درمیان چلتے ہوئے ملے میں بھی ان کے پیچھے چلنے لگا حتیٰ کہ وہ تینوں ایک یہودی کے پاس پہنچے جو تورات کھولے اسے پڑھ رہا تھا اور اس کے ذریعے اپنے آپ کو تسلی دے رہا تھا کہ اس کا انتہائی حسین وجمیل جوان بیٹا قریب المرگ تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا میں تمہیں اس ذات کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس نے تورات کو نازل کیا ہے کہ کیا تم تورات میں میری یہی صفات اور بعثت کے یہی حالات پڑھتے ہو؟ اس نے اپنے سر سے نفی میں اشارہ کر دیا اس کے قریب المرگ بیٹے نے کہا ہاں ! اس ذات کی قسم جس نے تورات کو نازل کیا ہے ہم اپنی کتاب میں آپ کی یہی صفات اور بعثت کے یہی حالات پاتے ہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ آپ اللہ کے رسول ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے بھائی کے پاس سے ان یہودیوں کو اٹھا دو پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اس کے کفن دفن اور نماز جنازہ کا انتظام فرمایا۔

رَجُلٌ مِنَ الْأَعْرَابِ ← أَبِي صَخْرٍ الْعُقَيْلِيِّ ← الْجُرَيْرِيِّ، ← إِسْمَاعِيلُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23888

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23889

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ أَوْسٍ وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ مَرَّةً يَعْقُوبُ بْنُ أَوْسٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْفَتْحِ وَقَالَ مَرَّةً يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ فَقَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ صَدَقَ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ أَلَا إِنَّ كُلَّ مَأْثُرَةٍ تُعَدُّ وَتُدَّعَى وَدَمٍ وَمَالٍ تَحْتَ قَدَمَيَّ هَاتَيْنِ إِلَّا سِدَانَةَ الْبَيْتِ أَوْ سِقَايَةَ الْحَاجِّ أَلَا وَإِنَّ قَتِيلَ خَطَإِ الْعَمْدِ قَالَ خَالِدٌ أَوْ قَالَ قَتِيلُ الْخَطَإِ شِبْهِ الْعَمْدِ قَتِيلُ السَّوْطِ وَالْعَصَا مِائَةٌ مِنْ الْإِبِلِ مِنْهَا أَرْبَعُونَ فِي بُطُونِهَا أَوْلَادُهَا

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ، وہ اکیلا ہے ، اسی نے اپنے بندے کی مدد فرمائی اور اکیلے ہی تمام لشکروں کو شکت سے دو چار کر دیا یاد رکھو! زمانہ جاہلیت میں جو چیز بھی قابل فخر سمجھتی تھی اور ہر خون کا یا عام دعویٰ آج میرے ان دو قدموں کے نیچے ہے البتہ بیت اللہ کی کنجی اور حجاج کرام کو پانی پلانے کامنصب برقرار رہے گا یاد رکھو! ہر وہ شخص جو شبہ عمد کے طور پر کسی کوڑے ، لاٹھی یا پتھر سے ماراجائے اس میں دیت مغلظہ واجب ہوگی یعنی سو ایسے اونٹ جن میں چالیس حاملہ اونٹنیاں ہوں گی ۔

مَرَّةً يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ ← خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ زَمَنَ الْفَتْحِ ← رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← إِسْمَاعِيلُ مَرَّةً يَعْقُوبُ بْنُ أَوْسٍ ← عُقْبَةَ بْنِ أَوْسٍ، ← الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← إِسْمَاعِيلُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23889

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23890

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ عَنْ مُجَالِدٍ عَنْ عَامِرٍ عَنْ الْمُحَرِّرِ بْنِ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أُصِيبَ بِشَيْءٍ فِي جَسَدِهِ فَتَرَكَهُ لِلَّهِ كَانَ كَفَّارَةً لَهُ

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کے جسم کو کوئی تکلیف پہنچے اور وہ اللہ کے لئے اسے چھوڑ دے تو وہ اس کے لئے کفارہ بن جائے گی۔

مَنْ أُصِيبَ بِشَيْءٍ فِي جَسَدِهِ فَتَرَكَهُ لِلَّهِ كَانَ كَفَّارَةً لَهُ ← النَّبِيِّ ← رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← الْمُحْرَّر بْنُ أَبِي هُرَيْرَةَ ← عَامِرٍ، ← مجالد ← يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23890

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23891

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ هِشَامٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي إِبْرَاهِيمَ الَأَشْهَلِيِّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ أَتَاهُ فَحَدَّثَهُ أَوْ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْمَيِّتِ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا وَذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا وَصَغِيرِنَا وَكَبِيرِنَا

حضرت ابو ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز جنازہ پڑھتے تو یہ دعاء فرماتے تھے اے اللہ ! ہمارے زندہ اور فوت شدہ بڑوں اور بچوں ، مردوں اور عورتوں اور موجودہ غائب سب کی بخشش فرما۔

النَّبِيِّ ← أَنَّهُ ← أو ← أَبِيهِ أَنَّهُ أَتَاهُ ← أَبِي إِبْرَاهِيمَ الَأَشْهَلِيِّ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← هِشَامٍ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23891

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23892

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو غِفَارٍ حَدَّثَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ قَوْمِي أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ ثَلَاثَ مِرَارٍ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُحْسِنْ إِلَى جَارِهِ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَسْكُتْ

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اسے اللہ سے ڈرنا اور اپنے مہمان کا اکرام کرنا چاہئے اور جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اسے اللہ سے ڈرنا اور پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کرنا چاہئے اور جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اسے اللہ سے ڈرنا اور اچھی بات کہنی چاہئے یا پھر خاموش رہنا چاہئے۔

رَسُولِ اللَّهِ ← رَجُلٌ مِنْ قَوْمِي أَنَّهُ ← عَلْقَمَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ، ← أَبُو غِفَارٍ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23892

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23893

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ مُرَّةَ قَالَ حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى نَاقَةٍ حَمْرَاءَ مُخَضْرَمَةٍ فَقَالَ أَتَدْرُونَ أَيُّ يَوْمِكُمْ هَذَا قَالَ قُلْنَا يَوْمُ النَّحْرِ قَالَ صَدَقْتُمْ يَوْمُ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ أَتَدْرُونَ أَيُّ شَهْرٍ شَهْرُكُمْ هَذَا قُلْنَا ذُو الْحِجَّةِ قَالَ صَدَقْتُمْ شَهْرُ اللَّهِ الْأَصَمُّ أَتَدْرُونَ أَيُّ بَلَدٍ بَلَدُكُمْ هَذَا قَالَ قُلْنَا الْمَشْعَرُ الْحَرَامُ قَالَ صَدَقْتُمْ قَالَ فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا أَوْ قَالَ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا وَشَهْرِكُمْ هَذَا وَبَلَدِكُمْ هَذَا أَلَا وَإِنِّي فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ أَنْظُرُكُمْ وَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمْ الْأُمَمَ فَلَا تُسَوِّدُوا وَجْهِي أَلَا وَقَدْ رَأَيْتُمُونِي وَسَمِعْتُمْ مِنِّي وَسَتُسْأَلُونَ عَنِّي فَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ أَلَا وَإِنِّي مُسْتَنْقِذٌ رِجَالًا أَوْ إِنَاثًا وَمُسْتَنْقَذٌ مِنِّي آخَرُونَ فَأَقُولُ يَا رَبِّ أَصْحَابِي فَيُقَالُ إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سرخ رنگ کی اونٹنی پر ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ آج کون سا دن ہے ؟ ہم نے عرض کیا کہ یوم النحر فرمایا تم نے سچ کہا یہ حج اکبر کا دن ہے کیا تم جانتے ہو کہ یہ کون سا مہینہ ہے ؟ ہم نے عرض کیا ذی الحجہ فرمایا تم نے سچ کہا یہ شہر اصم ہے کیا تم جانتے ہو کہ یہ کون ساشہر ہے ؟ ہم نے عرض کیا مشعرحرام فرمایا تم نے سچ کہا تمہاری جان اور تمہارے مال تمہارے لئے اسی طرح حرمت والے ہیں جیسے اس شہر میں اس مہینے کے آج کے دن کی حرمت ہے یاد رکھو! حوض کوثر پر میں تمہارا انتظار کروں گا اور تمہیں دیکھوں گا اور تمہارے ذریعے دوسری امتوں پر اپنی کثرت ظاہر کروں گا لہٰذا میرے چہرے کو سیاہ نہ کرنا، تم نے مجھے دیکھا ہے اور میری باتیں سنی ہیں اور تم سے میرے متعلق پوچھا جائے گا جو شخص میری طرف جھوٹی نسبت کرے گا اسے چاہئے کہ جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنالے ، یاد رکھو! میں کچھ لوگوں کو چھڑا لوں گا اور بہت سے لوگ مجھ سے چھڑا لئے جائیں گے میں عرض کروں گا کہ پروردگار یہ میرے ساتھی ہیں تو مجھ سے کہا جائے گا کہ آپ نہیں جانتے انہوں نے آپ کے بعد کیا کیا چیزیں ایجاد کرلی تھیں ۔

رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← مُرَّۃُ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23893

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23894

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عِظْنِي وَأَوْجِزْ فَقَالَ إِذَا قُمْتَ فِي صَلَاتِكَ فَصَلِّ صَلَاةَ مُوَدِّعٍ وَلَا تَكَلَّمْ بِكَلَامٍ تَعْتَذِرُ مِنْهُ غَدًا وَاجْمَعْ الْإِيَاسَ مِمَّا فِي يَدَيْ النَّاسِ

حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ مجھے کوئی مختصر نصیحت فرما دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم اپنی نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہو تو اس طرح پڑھو جیسے رخصتی کی نماز پڑھ رہے ہو کوئی ایسی بات منہ سے مت نکالو جس پر کل کو تمہیں معذرت کرنی پڑے اور لوگوں کے پاس جو چیزیں ہیں ان سے آس ہٹا کر ایک طرف رکھ دو۔

عِظْنِي وَأَوْجِزْ. ← جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ ← اَبِیْ اَیُّوْبَ الْاَنْصَارِیِّ ← عثمان بن جبير ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ← عَلِي بْنُ عَاصِمٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23894

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23895

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَعَافِرِيُّ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ قَالَ كُنَّا فِي الْبَحْرِ وَعَلَيْنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَيْسٍ الْفَزَارِيُّ وَمَعَنَا أَبُو أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيُّ فَمَرَّ بِصَاحِبِ الْمَقَاسِمِ وَقَدْ أَقَامَ السَّبْيَ فَإِذَا امْرَأَةٌ تَبْكِي فَقَالَ مَا شَأْنُ هَذِهِ قَالُوا فَرَّقُوا بَيْنَهَا وَبَيْنَ وَلَدِهَا قَالَ فَأَخَذَ بِيَدِ وَلَدِهَا حَتَّى وَضَعَهُ فِي يَدِهَا فَانْطَلَقَ صَاحِبُ الْمَقَاسِمِ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ فَأَخْبَرَهُ فَأَرْسَلَ إِلَى أَبِي أَيُّوبَ فَقَالَ مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ وَالِدَةٍ وَوَلَدِهَا فَرَّقَ اللَّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْأَحِبَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

ابوعبدالرحمن حبلی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک مرتبہ سمندری سفر پر جا رہے تھے ہمارے امیر عبداللہ بن قیس خزاری تھے ہمارے ساتھ حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بھی تھے حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ تقسیم کنندہ کے پاس سے گذرے تو اس نے قیدیوں کو ایک جانب کھڑا کر رکھا تھا جن میں ایک عورت رو رہی تھی حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ اس عورت کا کیا مسئلہ ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ اسے اس کے بیٹے سے انہوں نے جدا کر دیا ہے حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے اس کے بیٹے کا ہاتھ پکڑا اور اس عورت کے ہاتھ میں دے دیا یہ دیکھ کر تقسیم کنندہ شخص عبداللہ بن قیس فزاری کے پاس چلا گیا اور انہیں یہ بات بتائی عبداللہ نے حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ کے پاس قاصد بھیج کر دریافت کیا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص ماں اور اس کی اولاد میں تفریق کرتا ہے قیامت کے دن اللہ اس کے اور اس کے پیاروں کے درمیان تفریق کر دے گا۔

أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ← حُیَیُّ بْنُ عَبْدِ اللہِ الْمَعَافِرِیُّ، ← عبد الله بن لهيعة ← حَسَنُ بْنُ مُوسَی

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23895

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23896

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَخِي أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ يَذْكُرُ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّهَا سَتُفْتَحُ عَلَيْكُمْ الْأَمْصَارُ وَسَيَضْرِبُونَ عَلَيْكُمْ بُعُوثًا يُنْكِرُ الرَّجُلُ مِنْكُمْ الْبَعْثَ فَيَتَخَلَّصُ مِنْ قَوْمِهِ وَيَعْرِضُ نَفْسَهُ عَلَى الْقَبَائِلِ يَقُولُ مَنْ أَكْفِيهِ بَعْثَ كَذَا وَكَذَا أَلَا وَذَلِكَ الْأَجِيرُ إِلَى آخِرِ قَطْرَةٍ مِنْ دَمِهِ

حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے عنقریب تمہارے لئے شہر مفتوح ہو جائیں گے اور تمہارے لشکر جمع کئے جائیں گے لیکن تم میں سے بعض لوگ بغیر اجرت کے لشکر کےساتھ جانے کو تیار نہ ہوں گے چنانچہ ایسا بھی ہوگا کہ ایک آدمی اپنی قوم سے نکل کر بھاگے گا اور دوسرے قبیلوں کے سامنے جا کر اپنے آپ کو پیش کر کے کہے گا ہے کوئی شخص کہ میں اتنے پیسوں کے عوض اس کی طرف میدان جہاد میں شامل ہو کر کفایت کروں ؟ یاد رکھو! ایسا شخص خون کے آخری قطرے تک مزدور رہے گا۔

أَبِي أَيُّوبَ، ← ابْنَ أَخِي أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ يَذْكُرُ ← يَحْيَى بْنِ جَابِرٍ ← أَبُو سَلَمَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، ← يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23896

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23897

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ هُو ابْنُ بَرِّيٍّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ الْخَوْلَانِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ سُلَيْمَانُ عَنْ يَحْيَى بْنِ جَابِرٍ الطَّائِيِّ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَخِي أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ كَتَبَ إِلَيْهِ أَبُو أَيُّوبَ يُخْبِرُهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَهُ

حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے عنقریب تمہارے لئے شہر مفتوح ہو جائیں گے اور تمہارے لشکر جمع کئے جائیں گے لیکن تم میں سے بعض لوگ بغیر اجرت کے لشکر کےساتھ جانے کو تیار نہ ہوں گے چنانچہ ایسا بھی ہوگا کہ ایک آدمی اپنی قوم سے نکل کر بھاگے گا اور دوسرے قبیلوں کے سامنے جا کر اپنے آپ کو پیش کر کے کہے گا ہے کوئی شخص کہ میں اتنے پیسوں کے عوض اس کی طرف میدان جہاد میں شامل ہو کر کفایت کروں ؟ یاد رکھو! ایسا شخص خون کے آخری قطرے تک مزدور رہے گا۔

رَسُولِ اللَّهِ فَذَكَرَهُ. ← إِلَيْهِ أَبُو أَيُّوبَ يُخْبِرُهُ أَنَّهُ ← ابْنُ أَخِي أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ ← يَحْيَی بْنِ جَابِرٍ الطَّائِيِّ ← أَبُو سَلَمَةَ سُلَيْمَانُ ← مُحَمَّدِ بْنِ حَرْبٍ الْخَوْلَانِيِّ ← عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ هُو ابْنُ بَرِّيٍّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23897

chevron_left Previous
1…627628629…684
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter