Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23874

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنِي الشَّعْبِيُّ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ قُلْتُ الْجَزُورُ وَالْبَقَرَةُ تُجْزِئُ عَنْ سَبْعَةٍ قَالَ قَالَ يَا شَعْبِيُّ وَلَهَا سَبْعَةُ أَنْفُسٍ قَالَ قُلْتُ إِنَّ أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ يَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَنَّ الْجَزُورَ وَالْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ قَالَ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ لِرَجُلٍ أَكَذَاكَ يَا فُلَانُ قَالَ نَعَمْ قَالَ مَا شَعَرْتَ بِهَذَا

امام شعبی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ایک مرتبہ پوچھا کہ کیا ایک اونٹ اور ایک گائے سات آدمیوں کی طرف سے کافی ہوسکتی ہے ؟ انہوں نے فرمایا شعبی ! کیا اس کی سات جانیں ہوتی ہیں ؟ میں نے عرض کیا کہ دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تو یہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سات آدمیوں کی طرف سے ایک گائے اور ایک اونٹ مقرر فرمایا ہے اس پر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی سے پوچھا اے فلاں ! کیا بات اسی طرح ہے ؟ اس نے کہا جی ہاں ! تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا مجھے اس کا پتہ نہیں چل سکا۔

قُلْتُ إِنَّ أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ يَزْعُمُونَ ← يَا شَعْبِيُّ وَلَهَا سَبْعَةُ أَنْفُسٍ ← سَبْعَةٍ» ← سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ قُلْتُ الْجَزُورُ وَالْبَقَرَةُ تُجْزِئُ ← الشَّعْبِيِّ، ← مُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23874

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23875

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ أَنَّ خَالَتَهُ أُخْتَ مَسْعُودِ ابْنِ الْعَجْمَاءِ حَدَّثَتْهُ أَنَّ أَبَاهَا قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَخْزُومِيَّةِ الَّتِي سَرَقَتْ قَطِيفَةً يُفْدِيهَا يَعْنِي بِأَرْبَعِينَ أُوقِيَّةً فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأَنْ تُطَهَّرَ خَيْرٌ لَهَا فَأَمَرَ بِهَا فَقُطِعَتْ يَدُهَا وَهِيَ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَسَدِ

مسعود بن عجماء رضی اللہ عنہ کی ہمشیرہ کہتی ہیں کہ ان کے والد نے اس مخزومی عورت کے متعلق " جس نے چوری کا ارتکاب کیا تھا " نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ ہم اس کے فدیئے میں چالیس اوقیہ پیش کرنے کے لئے تیار ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے حق میں بہتر یہی ہے کہ یہ پاک ہو جائے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا اس عورت کا تعلق بنو عبد الاشہل یا بنو اسد سے تھا۔

محمد بن طلحة بن يزيد بن ركانة ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يزيد يعني ابن أبي حبيب ← لَيْثٌ، ← يُونُسَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23875

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23876

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْمَعَافِرِيُّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي غِفَارٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ لَمْ يَحْلِقْ عَانَتَهُ وَيُقَلِّمْ أَظْفَارَهُ وَيَجُزَّ شَارِبَهُ فَلَيْسَ مِنَّا

ایک غفاری صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے زیر ناف بال نہ کاٹے ناخن نہ تراشے اور مونچھیں نہ کاٹے تو وہ ہم میں سے نہیں ہے۔

رجل من بنى غفار ← يَزِيدَ بْنِ عَمْرٍو الْمَعَافِرِيِّ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← حَسَنٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23876

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23877

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْعَدَنِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَائِشَةَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَلَّكُمْ تَقْرَءُونَ وَالْإِمَامُ يَقْرَأُ قَالَهَا ثَلَاثًا قَالُوا إِنَّا لَنَفْعَلُ ذَلِكَ قَالَ فَلَا تَفْعَلُوا إِلَّا أَنْ يَقْرَأَ أَحَدُكُمْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا شاید تم لوگ امام کی قرأت کے دوران قرأت کرتے ہو؟ دو تین مرتبہ یہ سوال دہرایا تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم واقعی ہم ایسا کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہ کیا کرو الاّ یہ کہ تم میں سے کوئی سورت فاتحہ پڑھنا چاہے ۔

رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ اَبِیْ عَائِشَۃَ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْعَدَنِيُّ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23877

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23878

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ حَدَّثَنَا مَنْ كَانَ يُقْرِئُنَا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ كَانُوا يَقْتَرِئُونَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ آيَاتٍ فَلَا يَأْخُذُونَ فِي الْعَشْرِ الْأُخْرَى حَتَّى يَعْلَمُوا مَا فِي هَذِهِ مِنْ الْعِلْمِ وَالْعَمَلِ قَالُوا فَعَلِمْنَا الْعِلْمَ وَالْعَمَلَ

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دس دس آیات پڑھتے تھے اور اگلی دس آیات اس وقت تک نہیں پڑھتے تھے جب تک کہ پہلی دس آیات میں علم و عمل سے متعلق چیزیں اچھی طرح سیکھ نہ لیتے یوں ہم نے علم وعمل کو حاصل کیا ہے۔

مَنْ كَانَ يُقْرِئُنَا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← عَطَاءٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23878

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23879

حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ حَرْبِ بْنِ هِلَالٍ الثَّقَفِيِّ عَنْ أَبِي أُمِّهِ رَجُلٍ مِنْ تَغْلِبَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ عُشُورٌ إِنَّمَا الْعُشُورُ عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى

ابو امیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ٹیکس تو یہود و نصاری پر ہوتا ہے مسلمانوں پر کوئی ٹیکس نہیں ہے۔

لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ عُشُورٌ إِنَّمَا الْعُشُورُ عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي أُمِّهِ رَجُلٍ مِنْ تَغْلِبَ أَنَّهُ ← حَرْبِ بْنِ هِلال الثقفى ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← جَرِيرٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23879

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23880

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كُنْتُ أَقُولُ فِي أَوْلَادِ الْمُشْرِكِينَ هُمْ مِنْهُمْ فَحَدَّثَنِي رَجُلٌ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَقِيتُهُ فَحَدَّثَنِي عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ رَبُّهُمْ أَعْلَمُ بِهِمْ هُوَ خَلَقَهُمْ وَهُوَ أَعْلَمُ بِهِمْ وَبِمَا كَانُوا عَامِلِينَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک وقت تک میں اس بات کا قائل تھا کہ مسلمانوں کی اولاد مسلمانوں کے ساتھ ہوگی اور مشرکین کی اولاد مشرکین کے ساتھ ہوگی حتیٰ کہ فلاں آدمی نے مجھ سے فلاں کے حوالے سے یہ حدیث بیان کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کی اولاد کے متعلق پوچھا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ زیادہ بہتر جانتا ہے کہ وہ کیا عمل کرنے والے تھے (پھر میں ایک اور آدمی سے ملا اور اس نے بھی مجھے یہی بات بتائی تب میں اپنی رائے سے پیچھے ہٹ گیا)

«رَبُّهُمْ أَعْلَمُ بِهِمْ هُوَ خَلَقَهُمْ، وَهُوَ أَعْلَمُ بِهِمْ، وَبِمَا كَانُوا عَامِلِينَ» ← النَّبِیِّ اَنَّہٗ ← رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ فَلَقِيتُهُ فَحَدَّثَنِي، ← كُنْتُ أَقُولُ فِي أَوْلَادِ الْمُشْرِكِينَ هُمْ مِنْهُمْ فَحَدَّثَنِي رَجُلٌ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23880

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23881

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنِي حَجَّاجٌ الصَّوَّافُ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنِ الْحَضْرَمِيِّ بْنِ لَاحِقٍ عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ الْقَمْلَةَ فِي ثَوْبِهِ فَلْيَصُرَّهَا وَلَا يُلْقِيهَا فِي الْمَسْجِدِ

ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں سے کسی شخص کو اپنے کپڑوں میں کوئی جوں دکھائی دے تو اسے چاہئے کہ اسے باہر لے جائے مسجد میں نہ ڈالے ۔

رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ ← الْحَضْرَمِيِّ بْنِ لَاحِقٍ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← حَجَّاجٌ الصَّوَّافُ ← إِسْمَاعِيلُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23881

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23882

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ سَمِعْنَاهُ مِنَ الْأَعْمَشِ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَسَارٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْلَا أَشُقُّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ مَعَ كُلِّ صَلَاةٍ

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا خیال نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے ساتھ مسواک کرنے کا حکم دیتا۔

لَوْلَا أَشُقُّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ مَعَ كُلِّ صَلَاةٍ ← النَّبِيِّ ← رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَسَارٍ، ← سَمِعْنَاهُ مِنَ الْأَعْمَشِ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23882

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23883

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ مِنْ بَعْدِكُمْ أَوْ إِنَّ مِنْ وَرَائِكُمْ الْكَذَّابَ الْمُضِلَّ وَإِنَّ رَأْسَهُ مِنْ وَرَائِهِ حُبُكٌ حُبُكٌ وَإِنَّهُ سَيَقُولُ أَنَا رَبُّكُمْ فَمَنْ قَالَ كَذَبْتَ لَسْتَ رَبَّنَا وَلَكِنَّ اللَّهَ رَبُّنَا وَعَلَيْهِ تَوَكَّلْنَا وَإِلَيْهِ أَنَبْنَا وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ قَالَ فَلَا سَبِيلَ لَهُ عَلَيْهِ

ابوقلابہ کہتے ہیں کہ مدینہ منورہ میں میں نے ایک آدمی کو دیکھا جسے لوگوں نے اپنے حلقے میں گھیر رکھا تھا اور وہ کہہ رہا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (احادیث بیان کر رہا تھا ) تو ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تمہارے بعد ایک گمراہ کن کذاب آئے گا جس کے سر میں پیچھے سے راستے بنے ہوں گے اور وہ دعویٰ کرے گا کہ میں تمہارا رب ہوں سو جو شخص یہ کہہ دے کہ تو ہمارا رب نہیں ہے ہمارا رب تو اللہ ہے ہم اسی پر توکل کرتے اور رجوع کرتے ہیں اور ہم تیرے شر سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں تو دجال کو اس پر تسلط حاصل نہیں ہوگا۔

رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← إِسْمَاعِيلُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23883

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23884

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ قَالَ جَلَسْتُ إِلَى شَيْخٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسْجِدِ الْكُوفَةِ فَحَدَّثَنِي فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ تُوبُوا إِلَى اللَّهِ وَاسْتَغْفِرُوهُ فَإِنِّي أَتُوبُ إِلَى اللَّهِ وَأَسْتَغْفِرُهُ كُلَّ يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ فَقُلْتُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَغْفِرُكَ اثْنَتَانِ قَالَ هُوَ مَا أَقُولُ لَكَ

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے اے لوگو اپنے رب سے توبہ کرتے رہا کرو اور میں بھی ایک دن میں سو سو مرتبہ اس سے توبہ کرتا ہوں ، میں نے ان سے پوچھا کہ "اللہم انی استغفرک اور "اللہم انی اتوب الیک" یہ دو الگ الگ چیزیں ہیں یا ایک ہی ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک ہی ہیں ۔

رَسُولَ اللهِ أَوْ ← جَلَسْتُ إِلَى شَيْخٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ فِي مَسْجِدِ الْكُوفَةِ فَحَدَّثَنِي فَقَالَ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ← يُونُسَ ← إِسْمَاعِيلُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23884

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23885

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ خُطْبَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَسَطِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَلَا إِنَّ رَبَّكُمْ وَاحِدٌ وَإِنَّ أَبَاكُمْ وَاحِدٌ أَلَا لَا فَضْلَ لِعَرَبِيٍّ عَلَى أَعْجَمِيٍّ وَلَا لِعَجَمِيٍّ عَلَى عَرَبِيٍّ وَلَا لِأَحْمَرَ عَلَى أَسْوَدَ وَلَا أَسْوَدَ عَلَى أَحْمَرَ إِلَّا بِالتَّقْوَى أَبَلَّغْتُ قَالُوا بَلَّغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ أَيُّ يَوْمٍ هَذَا قَالُوا يَوْمٌ حَرَامٌ ثُمَّ قَالَ أَيُّ شَهْرٍ هَذَا قَالُوا شَهْرٌ حَرَامٌ قَالَ ثُمَّ قَالَ أَيُّ بَلَدٍ هَذَا قَالُوا بَلَدٌ حَرَامٌ قَالَ فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَ بَيْنَكُمْ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ قَالَ وَلَا أَدْرِي قَالَ أَوْ أَعْرَاضَكُمْ أَمْ لَا كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا أَبَلَّغْتُ قَالُوا بَلَّغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِيُبَلِّغْ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے ایام تشریق کے درمیانی دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ میں یہ فرماتے ہوئے سنا ہے لوگو! تمہارا رب ایک ہے اور تمہارا باپ بھی ایک ہے یاد رکھو! کسی عربی کو کسی عجمی پر کسی عجمی کو کسی عربی پر کسی سرخ کو سیاہ پر اور کسی سیاہ کو کسی سرخ پر" سوائے تقویٰ کے اور کسی وجہ سے فضیلت حاصل نہیں ہے کیا میں نے پیغام الہٰی پہنچا دیا؟ لوگوں نے کہا پہنچا دیا پھر فرمایا آج کون سا دن ہے ؟ لوگوں نے کہا حرمت والا دن فرمایا مہینہ کون سا ہے؟ لوگوں نے کہا حرمت والا مہینہ ، فرمایا شہر کون سا ہے ؟ لوگوں نے کہا حرمت والا شہر، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر اللہ نے تمہارے درمیان تمہارے خون اور مال کو اسی طرح حرمت والا بنا دیا ہے جیسے اس مہینے اور اس شہر میں آج کے دن کی حرمت ہے کیا میں نے پیغام الہٰی پہنچا دیا؟ لوگوں نے کہا پہنچا دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حاضرین کو چاہئے غائبین تک یہ پیغام پہنچا دیں ۔

يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَلَا ← خُطْبَةَ رَسُولِ اللَّهِ فِي وَسَطِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ ← مَنْ ← أَبِي نَضْرَةَ ← سَعِیْدٍ الْجُرَیْرِیِّ، ← إِسْمَاعِيلُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23885

chevron_left Previous
1…626627628…684
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter