Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23850

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جِنَازَةٍ فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَى الْقَبْرِ قَعَدَ عَلَى شَفَتِهِ فَجَعَلَ يَرُدُّ بَصَرَهُ فِيهِ ثُمَّ قَالَ يُضْغَطُ الْمُؤْمِنُ فِيهِ ضَغْطَةً تَزُولُ مِنْهَا حَمَائِلُهُ وَيُمْلَأُ عَلَى الْكَافِرِ نَارًا ثُمَّ قَالَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِشَرِّ عِبَادِ اللَّهِ الْفَظُّ الْمُسْتَكْبِرُ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ عِبَادِ اللَّهِ الضَّعِيفُ الْمُسْتَضْعَفُ ذُو الطِّمْرَيْنِ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّ اللَّهُ قَسَمَهُ

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کسی جنازے میں تھے جب ہم قبر کے قریب پہنچے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے کنارے بیٹھ کر بار بار اس میں دیکھنے لگے پھر فرمایا کہ مسلمان کو قبر میں ایک مرتبہ بھینچا جاتا ہے جس سے اس کے سارے بوجھ دور ہو جاتے ہیں اور کافر پر آگ کو بھر دیا جاتا ہے پھر فرمایا کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ اللہ کا بدترین بندہ کون ہے؟ ہر تندخو اور متکبر۔ کیا میں تمہیں اللہ کے بہترین بندوں کے متعلق نہ بتاؤں ؟ ہر وہ کمزور آدمی جسے دبایا جاتا ہو ، پرانی چادروں والا ہو، لیکن ہو ایسا کہ اگر اللہ کے نام پر کسی کام کی قسم کھالے تو وہ اللہ اس کی قسم کو ضرور پورا کر دے۔

حُذَيْفَةَ ← أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ ← مُوسَى بْنُ دَاوُدَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23850

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23851

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ عَنْ حُصَيْنٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ يُحَدِّثُ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى التَّهَجُّدِ يَشُوصُ فَاهُ بِالسِّوَاكِ

حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیدار ہوتے تو سب سے پہلے مسواک فرماتے تھے۔

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ إِذَا قَامَ إِلَى التَّهَجُّدِ يَشُوصُ فَاهُ بِالسِّوَاكِ ← حُذَيْفَةَ ← أَبَا وَائِلٍ، ← حُصَيْنٍ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23851

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23852

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ قَالَ بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ أَمُوتُ وَأَحْيَا وَإِذَا اسْتَيْقَظَ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَمَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت جب اپنے بستر پر آتے تو یوں کہتے اے اللہ ! ہم تیرے ہی نام سے جیتے مرتے ہیں اور جب بیدار ہوتے تو یوں فرماتے " اس اللہ کا شکر جس نے ہمیں مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا اور اسی کے یہاں جمع ہونا ہے۔ "

الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانًا بَعْدَمَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ ← بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ أَمُوتُ وَأَحْيَا وَإِذَا اسْتَيْقَظَ ← کَانَ النَّبِيُّ إِذَا أَوَی إِلَی فِرَاشِهِ ← حُذَيْفَةَ ← رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23852

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23853

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ وَأَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ كَانَ أَبُو إِدْرِيسَ عَائِذُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخَوْلَانِيُّ يَقُولُ سَمِعْتُ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانٍِ يَقُولُ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُ بِكُلِّ فِتْنَةٍ وَهِيَ كَائِنَةٌ فِيمَا بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ وَمَا بِي أَنْ يَكُونَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسَرَّ إِلَيَّ فِي ذَلِكَ شَيْئًا لَمْ يُحَدِّثْ غَيْرِي بِهِ وَلَكِنْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَهُوَ يُحَدِّثُ مَجْلِسًا أَنَا فِيهِمْ عَنْ الْفِتَنِ قَالَ وَهُوَ يَعُدُّهَا مِنْهُنَّ ثَلَاثٌ لَا يَكَدْنَ يَذَرْنَ شَيْئًا وَمِنْهُنَّ فِتَنٌ كَرِيَاحِ الصَّيْفِ مِنْهَا صِغَارٌ وَمِنْهَا كِبَارٌ قَالَ حُذَيْفَةُ فَذَهَبَ أُولَئِكَ الرَّهْطُ كُلُّهُمْ غَيْرِي

حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بخدا! میں اب سے لے کر قیامت تک ہونے والے تمام فتنوں کے متعلق تمام لوگوں سے زیادہ جانتا ہوں ایسا تو نہیں تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خصوصیت کے ساتھ کوئی بات مجھے بتائی ہو جو میرے علاوہ کسی اور کو نہ بتائی ہو البتہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس مجلس میں یہ باتیں بیان فرمائی تھیں میں اس میں موجود تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فتنوں کے متعلق سوالات پوچھے جا رہے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں شمار کروا رہے تھے ان میں تین فتنے ایسے ہیں جو کسی چیز کو نہیں چھوڑیں گے ان میں سے کچھ گرمیوں کی ہواؤں جیسے ہوں گے کچھ چھوٹے ہوں گے اور کچھ بڑے حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے علاوہ اس مجلس کے تمام شرکاء دنیا سے رخصت ہوگئے ہیں ۔

حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ ← كَانَ أَبُو إِدْرِيسَ عَائِذُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخَوْلَانِيُّ ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبٌ، ← أَبُو الْيَمَانِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23853

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23854

حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ مِنْ اللَّيْلِ يَشُوصُ فَاهُ بِالسِّوَاكِ

حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیدار ہوتے تو سب سے پہلے مسواک فرماتے تھے۔

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ، إِذَا قَامَ مِنَ الليل يشوص فاه بالسواك"1. ← حُذَيْفَةَ ← أَبِي وَائِلٍ ← مَنْصُورٌ، ← عبيدة بن حميد

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23854

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23855

حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ سَلَّامٍ حَدَّثَنَا الْأَجْلَحُ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ قَالَ سَمِعْتُ حُذَيْفَةَ يَقُولُ ضَرَبَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْثَالًا وَاحِدًا وَثَلَاثَةً وَخَمْسَةً وَسَبْعَةً وَتِسْعَةً وَأَحَدَ عَشَرَ قَالَ فَضَرَبَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا مَثَلًا وَتَرَكَ سَائِرَهَا قَالَ إِنَّ قَوْمًا كَانُوا أَهْلَ ضَعْفٍ وَمَسْكَنَةٍ قَاتَلَهُمْ أَهْلُ تَجَبُّرٍ وَعَدَدٍ فَأَظْهَرَ اللَّهُ أَهْلَ الضَّعْفِ عَلَيْهِمْ فَعَمَدُوا إِلَى عَدُوِّهِمْ فَاسْتَعْمَلُوهُمْ وَسَلَّطُوهُمْ فَأَسْخَطُوا اللَّهَ عَلَيْهِمْ إِلَى يَوْمِ يَلْقَوْنَهُ

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے ایک ، تین ، پانچ ، سات ، نو اور گیارہ ضرب الامثال بیان فرمائی ہیں ، جن میں سے کچھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت بیان فرما دیں اور باقی چھوڑ دیں اور فرمایا کہ ایک قوم تھی جس کے لوگ کمزور اور مسکین تھے ان سے ایک طاقتور اور کثیر تعداد والی قوم نے قتال کیا تو اللہ نے ان کمزوروں کو غلبہ عطا فرما دیا اور وہ لوگ اپنے دشمن کی طرف بڑھے ان پر اپنے حکمران مقرر کئے اور ان پر تسلط جمایا اور ان پر اللہ کی ناراضگی کا سبب بن گئے تاآنکہ وہ اللہ سے جاملے۔

فَضَرَبَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ مِنْهَا مَثَلًا وَتَرَكَ سَائِرَهَا ← ضَرَبَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ أَمْثَالًا وَاحِدًا وَثَلَاثَةً وَخَمْسَةً وَسَبْعَةً وَتِسْعَةً وَأَحَدَ عَشَرَ ← حُذَيْفَةَ ← رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ← قَيْسِ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ ← الأَجْلَحِ، ← مُصْعَبُ بْنُ سَلَّامٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23855

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23856

حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ سَلَّامٍ حَدَّثَنَا الْأَجْلَحُ عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ قَالَ جَلَسْتُ إِلَى حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ وَإِلَى أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ أَحَدُهُمَا لِلْآخَرِ حَدِّثْ مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا بَلْ حَدِّثْ أَنْتَ فَحَدَّثَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ وَصَدَّقَهُ الْآخَرُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يُؤْتَى بِرَجُلٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَقُولُ اللَّهُ انْظُرُوا فِي عَمَلِهِ فَيَقُولُ رَبِّ مَا كُنْتُ أَعْمَلُ خَيْرًا غَيْرَ أَنَّهُ كَانَ لِي مَالٌ وَكُنْتُ أُخَالِطُ النَّاسَ فَمَنْ كَانَ مُوسِرًا يَسَّرْتُ عَلَيْهِ وَمَنْ كَانَ مُعْسِرًا أَنْظَرْتُهُ إِلَى مَيْسَرَةٍ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنَا أَحَقُّ مَنْ يَسَّرَ فَغَفَرَ لَهُ فَقَالَ صَدَقْتَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ هَذَا

ربعی بن حراش کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ اور ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو حدیثیں سن رکھی ہیں وہ ہمیں بھی سنائیے چنانچہ ان میں سے ایک نے یہ حدیث سنائی اور دوسرے نے ان کی تصدیق کی کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کے دن ایک آدمی کو لایا جائے گا اللہ تعالی فرمائے گا اس کے اعمال دیکھو وہ کہے گا کہ پروردگار! میں کوئی نیک کام نہیں کرتا تھا البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میرے پاس مال تھا اور میں لوگوں سے مل کر تجارت کرتا تھا جس کے پاس کشادگی ہوتی میں اس پر آسانی کر دیتا اور جو تنگدست ہوتا میں اسے سہولت تک مہلت دے دیتا تھا اللہ تعالیٰ فرمائے گا سہولت دینے کا میں زیادہ حق دار ہوں چنانچہ اس کی بخشش ہوگئی دوسرے صحابی نے ان کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ میں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح فرماتے ہوئے سنا ہے۔

رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ← نُعَیْمِ بْنِ اَبِیْ ھِنْدَ، ← الأَجْلَحِ، ← مُصْعَبُ بْنُ سَلَّامٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23856

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23857

ثُمَّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يُؤْتَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِرَجُلٍ قَدْ قَالَ لِأَهْلِهِ إِذَا أَنَا مُتُّ فَأَحْرِقُونِي ثُمَّ اطْحَنُونِي ثُمَّ اسْتَقْبِلُوا بِي رِيحًا عَاصِفًا فَاذْرُونِي فَيَجْمَعُهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَقُولُ لَهُ لِمَ فَعَلْتَ قَالَ مِنْ خَشْيَتِكَ قَالَ فَيَغْفِرُ لَهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهُ

پھر فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کے دن ایک آدمی کو لایا جائے گا جس نے مرتے وقت اپنے گھر والوں سے کہا کہ جب میں مر جاؤں تو مجھے آگ میں جلا دینا پھر میری راکھ کو پیس لینا پھر جس دن تیز آندھی چل رہی ہو اس دن میری راکھ کو ہوا میں بکھیر دیناجب وہ مرگیا تو اس کے اہل خانہ نے اسی طرح کیا اللہ نے اسے اپنے قبضہ قدرت میں جمع کر لیا اور اس سے پوچھا کہ تجھے یہ کام کرنے پر کس نے مجبور کیا ؟ اس نے کہا تیرے خوف نے اللہ نے فرمایا میں نے تجھے معاف کر دیا، دوسرے صحابی نے اس پر بھی ان کی تائید کی ۔

ثُمَّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23857

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23858

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زِيَادٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ كُنْتُ مَعَ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ بِالْمَدَائِنِ فَاسْتَسْقَى فَأَتَاهُ دِهْقَانٌ بِإِنَاءٍ فَرَمَاهُ بِهِ مَا يَأْلُو أَنْ يُصِيبَ بِهِ وَجْهَهُ ثُمَّ قَالَ لَوْلَا أَنِّي تَقَدَّمْتُ إِلَيْهِ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ لَمْ أَفْعَلْ بِه هَذَا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا أَنْ نَشْرَبَ فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَأَنْ نَلْبَسَ الْحَرِيرَ وَالدِّيبَاجَ قَالَ هُوَ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَلَنَا فِي الْآخِرَةِ هَذَا آخِرُ حَدِيثِ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ

عبدالرحمن بن ابی لیلی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک دیہات کی طرف نکلا انہوں نے پانی منگوایا تو ایک کسان چاندی کے برتن میں پانی لے کر آیا حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے وہ برتن اس کے منہ پر دے مارا ہم نے ایک دوسرے کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا کیونکہ اگر ہم ان سے پوچھتے تو وہ کبھی اس کے متعلق ہم سے بیان نہ کرتے چنانچہ ہم خاموش رہے کچھ دیر بعد انہوں نے خود ہی فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ میں نے یہ برتن اس کے چہرے پر کیوں مارا؟ ہم نے عرض کیا نہیں فرمایا کہ میں نے اسے پہلے بھی منع کیا تھا (لیکن یہ باز نہیں آیا) پھر انہوں نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سونے چاندی کے برتن میں کچھ نہ پیا کرو ریشم و دیبا مت پہنا کرو کیونکہ یہ چیزیں دنیا میں کافروں کے لئے ہیں اور آخرت میں تمہارے لئے ہیں ۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← يزِيد بن زِيَاد ← عَلِي بْنُ عَاصِمٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23858

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23859

سَمِعْتُهُ وَحْدِي حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جِنَازَةِ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ وَأَنَا غُلَامٌ مَعَ أَبِي فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حُفْرَةِ الْقَبْرِ فَجَعَلَ يُوصِي الْحَافِرَ وَيَقُولُ أَوْسِعْ مِنْ قِبَلِ الرَّأْسِ وَأَوْسِعْ مِنْ قِبَلِ الرِّجْلَيْنِ لَرُبَّ عَذْقٍ لَهُ فِي الْجَنَّةِ

ایک انصاری صحابی سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم ، صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک انصاری کے جنازے میں نکلے میں اس وقت نو عمر تھا اور اپنے والد کے ساتھ تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قبر کے کنارے بیٹھ گئے اور قبر کھودنے والے کو تلقین کرنے لگے کہ سر کی جانب سے اسے کشادہ کرو اور پاؤں کی جانب سے اسے کشادہ کرو اس کے لئے جنت میں بہت سے خوشے ہیں ۔

غُلَامٌ مَعَ أَبِي فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ عَلَى حُفْرَةِ الْقَبْرِ فَجَعَلَ يُوصِي الْحَافِرَ ← خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ فِي جِنَازَةِ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ ← رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ ← أَبِيهِ ← عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ← وَحْدِي

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23859

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23860

حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّالَانِيُّ عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ الْأَوْدِيِّ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا اجْتَمَعَ الدَّاعِيَانِ فَأَجِبْ أَقْرَبَهُمَا بَابًا فَإِنَّ أَقْرَبَهُمَا بَابًا أَقْرَبُهُمَا جِوَارًا فَإِذَا سَبَقَ أَحَدُهُمَا فَأَجِبْ الَّذِي سَبَقَ

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب ایک ہی وقت میں دو آدمی تمہیں دعوت دیں تو جس کا دروازہ زیادہ قریب ہو اس کی دعوت قبول کرلو کیونکہ جس کا دروازہ زیادہ قریب ہوگا اس کا پڑوس زیادہ قریب ہوگا اور اگر ان میں سے کوئی ایک پہلے دعوت دے دے تو پھر پہلے دینے والے کی دعوت کو قبول کرلو۔

رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← أبي العلاء الأودي ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّالَانِيِّ ← عَبْدُ السَّلامِ بْنُ حَرْبٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23860

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23861

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَالِكٍ عَنْ سُمَيٍّ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُئِيَ بِالْعَرْجِ وَهُوَ يَصُبُّ عَلَى رَأْسِهِ مَاءً وَهُوَ صَائِمٌ مِنْ الْحَرِّ أَوْ مِنْ الْعَطَشِ

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مقام عرج میں پیاس یا گرمی کی وجہ سے اپنے سر پر پانی ڈالتے ہوئے دیکھا گیا ۔

بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← أَبِی بکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← سُمَيٍّ ← مَالِكٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23861

chevron_left Previous
1…624625626…684
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter