Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Monday, Jumada I 9, 1448 AH · Oct 19, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23658

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ وَالدِّيبَاجِ وَآنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَقَالَ هُوَ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَلَنَا فِي الْآخِرَةِ

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم و دیبا پہننے سے اور سونے چاندی کے برتن استعمال کرنے سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ یہ چیزیں دنیا میں کافروں کے لئے ہیں اور آخرت میں ہمارے لئے ہیں ۔

«هُوَ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَلَنَا فِي الْآخِرَةِ» ← لُبْسِ الْحَرِيرِ وَالدِّيبَاجِ وَآنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← حُذَيْفَةَ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23658

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23659

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ حَبِيبِ بْنِ سُلَيْمٍ الْعَبْسِيِّ عَنْ بِلَالِ بْنِ يَحْيَى الْعَبْسِيِّ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ النَّعْيِ

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کے مرنے کا چیخ وپکار کے ساتھ اعلان کرنے سے منع فرمایا ہے۔

النَّعْيِ. ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← حُذَيْفَةَ ← بِلاَلِ بْنِ يَحْيَى الْعَبْسِيِّ ← حَبِيبِ بْنِ سُلَيْمٍ الْعَبْسِيِّ ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23659

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23660

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ قَالَ بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ أَمُوتُ وَأَحْيَا وَإِذَا اسْتَيْقَظَ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَمَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت جب اپنے بستر پر آتے تو یوں کہتے اے اللہ ! ہم تیرے ہی نام سے جیتے مرتے ہیں اور جب بیدار ہوتے تو یوں فرماتے " اس اللہ کا شکر جس نے ہمیں مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا اور اسی کے یہاں جمع ہونا ہے۔ "

الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانًا بَعْدَمَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ ← بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ أَمُوتُ وَأَحْيَا وَإِذَا اسْتَيْقَظَ ← كَانَ رَسُولُ اللَّهِ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ ← حُذَيْفَةَ ← رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23660

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23661

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ جَاءَ السَّيِّدُ وَالْعَاقِبُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْعَثْ مَعَنَا أَمِينَكَ وَقَالَ وَكِيعٌ مَرَّةً أَمِينًا قَالَ سَأَبْعَثُ مَعَكُمْ أَمِينًا حَقَّ أَمِينٍ قَالَ فَتَشَرَّفَ لَهَا النَّاسُ فَبَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نجران سے ایک مرتبہ عاقب اور سید نامی دو آدمی آئے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگے یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم آپ ہمارے ساتھ کسی امانت دار آدمی کو بھیج دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہارے ساتھ ایسے امانت دار آدمی کو بھیجوں گا جو واقعی امین کہلانے کا حق دار ہوگا یہ سن کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سر اٹھا اٹھا کر دیکھنے لگے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کو ان کے ساتھ بھیج دیا۔

جَاءَ السَّيِّدُ وَالْعَاقِبُ إِلَى النَّبِيِّ فَقَالَا ← حُذَيْفَةَ ← صِلَۃَ بْنَ زُفَرَ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23661

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23662

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ قَالَ حَدَّثَنِي مَنْ لَمْ يَكْذِبْنِي يَعْنِي حُذَيْفَةَ قَالَ لَقِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام وَهُوَ عِنْدَ أَحْجَارِ الْمِرَاءِ فَقَالَ إِنَّ أُمَّتَكَ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ فَمَنْ قَرَأَ مِنْهُمْ عَلَى حَرْفٍ فَلْيَقْرَأْ كَمَا عَلِمَ وَلَا يَرْجِعْ عَنْهُ قَالَ أَبِي وَقَالَ ابْنُ مَهْدِيٍّ إِنَّ مِنْ أُمَّتِكَ الضَّعِيفَ فَمَنْ قَرَأَ عَلَى حَرْفٍ فَلَا يَتَحَوَّلْ مِنْهُ إِلَى غَيْرِهِ رَغْبَةً عَنْهُ

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبرائیل امین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کے لئے آئے اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم احجارالمراء نامی جگہ میں تھے اور عرض کیا کہ آپ کی امت کے لوگ قرآن کریم کو سات حروف پر پڑھ سکتے ہیں ان میں سے جو شخص کسی خاص قرأت کے مطابق اسے پڑھنا چاہے تواسی طرح پڑھے جیسے اسے سکھایا گیا ہو اور اس سے رجوع نہ کرے ۔

لَقِيَ النَّبِيَّ جِبْرِيلُ وَهُوَ عِنْدَ أَحْجَارِ الْمِرَاءِ ← مَنْ لَمْ يَكْذِبْنِي يَعْنِي حُذَيْفَةَ ← رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23662

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23663

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقَامًا فَمَا تَرَكَ شَيْئًا يَكُونُ بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ إِلَّا ذَكَرَهُ فِي مَقَامِهِ ذَلِكَ حَفِظَهُ مَنْ حَفِظَهُ وَنَسِيَهُ مَنْ نَسِيَهُ قَالَ حُذَيْفَةُ فَإِنِّي لَأَرَى أَشْيَاءَ قَدْ كُنْتُ نُسِّيتُهَا فَأَعْرِفُهَا كَمَا يَعْرِفُ الرَّجُلُ وَجْهَ الرَّجُلِ قَدْ كَانَ غَائِبًا عَنْهُ يَرَاهُ فَيَعْرِفُهُ وَقَالَ وَكِيعٌ مَرَّةً فَرَآهُ فَعَرَفَهُ

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور قیامت تک پیش آنے والا کوئی واقعہ ایسا نہ چھوڑا جو اسی جگہ کھڑے کھڑے بیان نہ کر دیا ہو جس نے اسے یاد رکھا سو یاد رکھا اور جو بھول گیا سو بھول گیا اور میں بہت سی ایسی چیزیں دیکھتا ہوں جو میں بھول چکا ہوتا ہوں لیکن پھر انہیں دیکھ کر پہچان لیتا ہوں جیسے کوئی آدمی غائب ہو اور دوسرا آدمی اسے دیکھ کر اسے اس کے چہرے سے ہی پہچان لیتا ہے ۔

حُذَيْفَةَ ← أَبِي وَائِلٍ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23663

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23664

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ شَيْخٍ يُقَالُ لَهُ هِلَالٌ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى عَنْ مَسْحِ الْحَصَى فَقَالَ وَاحِدَةً أَوْ دَعْ

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہر چیز کے متعلق سوال پوچھا ہے حتیٰ کہ کنکریوں کو دوران نماز برابر کرنے کا مسئلہ بھی پوچھا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ اسے برابر کرلو ورنہ چھوڑ دو۔

مَسْحِ الْحَصَى فَقَالَ وَاحِدَةً أَوْ دَعْ. ← كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى ← سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ← حُذَيْفَةَ ← شَيْخٍ يُقَالَ لَهُ هِلاَلٌ ← ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23664

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23665

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ مَوْلًى لِرِبْعِيٍّ عَنْ رِبْعِيٍّ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُلُوسًا فَقَالَ إِنِّي لَا أَدْرِي مَا قَدْرُ بَقَائِي فِيكُمْ فَاقْتَدُوا بِاللَّذَيْنِ مِنْ بَعْدِي وَأَشَارَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَتَمَسَّكُوا بِعَهْدِ عَمَّارٍ وَمَا حَدَّثَكُمْ ابْنُ مَسْعُودٍ فَصَدِّقُوهُ

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نہیں جانتا کہ میں تمہارے درمیان کتنا عرصہ رہوں گا اس لئے ان دو آدمیوں کی پیروی کرنا جو میرے بعد ہوں گے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ و عمر رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا اور عمار کے طریقے کو مضبوطی سے تھامو اور ابن مسعود تم سے جو بات بیان کریں اس کی تصدیق کیا کرو۔

كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ جُلُوسًا ← حُذَيْفَةَ ← رِبْعِيٍّ ← مَوْلًى لِرِبْعِيٍّ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23665

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23666

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا أَبُو الْعُمَيْسِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُتْبَةَ عَنِ ابْنٍ لِحُذَيْفَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا دَعَا لِرَجُلٍ أَصَابَتْهُ وَأَصَابَتْ وَلَدَهُ وَوَلَدَ وَلَدِهِ

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی شخص کے لئے دعا فرماتے تھے تو اس دعاء کے اثرات اسے اس کی اولاد کو اور اس کے پوتوں تک کو پہنچتے تھے ۔

أَبِيهِ ← ابن لحذيفة ← أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُتْبَةَ ← أَبُو الْعُمَيْسِ، ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23666

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23667

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا رَزِينُ بْنُ حَبِيبٍ الْجُهَنِيُّ عَنْ أَبِي الرُّقَادِ الْعَبْسِيِّ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ إِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَصِيرُ بِهَا مُنَافِقًا وَإِنِّي لَأَسْمَعُهَا مِنْ أَحَدِكُمْ الْيَوْمَ فِي الْمَجْلِسِ عَشْرَ مَرَّاتٍ

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں بعض اوقات انسان کوئی جملہ بولتا تھا اور اس کی وجہ سے منافق ہوجاتا تھا اور اب ایک ایک مجلس میں اس طرح کے دسیوں کلمات میں روزانہ سنتا ہوں ۔

حُذَيْفَةَ ← أَبِي الرُّقَادِ الْعَبْسِيِّ ← رَزِينُ بْنُ حَبِيبٍ الْجُهَنِيُّ ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23667

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23668

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ سَعْدُ بْنُ طَارِقٍ حَدَّثَنَا رِبْعِيُّ بْنُ حِرَاشٍ عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأَنَا أَعْلَمُ بِمَا مَعَ الدَّجَّالِ مِنْ الدِّجَّالِ مَعَهُ نَهْرَانِ يَجْرِيَانِ أَحَدُهُمَا رَأْيَ الْعَيْنِ مَاءٌ أَبْيَضُ وَالْآخَرُ رَأْيَ الْعَيْنِ نَارٌ تَأَجَّجُ فَإِنْ أَدْرَكَنَّ وَاحِدًا مِنْكُمْ فَلْيَأْتِ النَّهَرَ الَّذِي يَرَاهُ نَارًا فَلْيُغْمِضْ ثُمَّ لِيُطَأْطِئْ رَأْسَهُ فَلْيَشْرَبْ فَإِنَّهُ مَاءٌ بَارِدٌ وَإِنَّ الدَّجَّالَ مَمْسُوحُ الْعَيْنِ الْيُسْرَى عَلَيْهَا ظَفَرَةٌ غَلِيظَةٌ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ كَاتِبٌ وَغَيْرُ كَاتِبٍ

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں یہ بات دجال سے بھی زیادہ جانتا ہوں کہ اس کے ساتھ کیا ہوگا اس کے ساتھ بہتی ہوئی دو نہریں ہوں گی جن میں سے ایک دیکھنے میں سفید پانی کی ہوگی اور دوسری دیکھنے میں بھڑکتی ہوگی اگر تم میں سے کوئی شخص اس دور کو پائے تو اس نہر میں داخل ہو جائے جو اسے آگ نظر آرہی ہو اس میں غوطہ زنی کرے پھر سر جھکا کر اس کا پانی پی لے کیونکہ وہ ٹھنڈا پانی ہوگا اور دجال کی بائیں آنکھ کسی نے پونچھ دی ہوگی اس پر ایک موٹا ناخنہ ہوگا اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان " کافر " لکھا ہوگا جسے ہر کاتب وغیرکاتب مسلمان پڑھ لے گا۔

حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ ← رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ← أَبُو مَالِكٍ الأَشْجَعِيُّ سَعْدُ بْنُ طَارِقٍ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23668

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23669

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّهُ قَدِمَ مِنْ عِنْدِ عُمَرَ قَالَ لَمَّا جَلَسْنَا إِلَيْهِ أَمْسِ سَأَلَ أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّكُمْ سَمِعَ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْفِتَنِ فَقَالُوا نَحْنُ سَمِعْنَاهُ قَالَ لَعَلَّكُمْ تَعْنُونَ فِتْنَةَ الرَّجُلِ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ قَالُوا أَجَلْ قَالَ لَسْتُ عَنْ تِلْكَ أَسْأَلُ تِلْكَ يُكَفِّرُهَا الصَّلَاةُ وَالصِّيَامُ وَالصَّدَقَةُ وَلَكِنْ أَيُّكُمْ سَمِعَ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْفِتَنِ الَّتِي تَمُوجُ مَوْجَ الْبَحْرِ قَالَ فَأَمْسَكَ الْقَوْمُ وَظَنَنْتُ أَنَّهُ إِيَّايَ يُرِيدُ قُلْتُ أَنَا قَالَ لِي أَنْتَ لِلَّهِ أَبُوكَ قَالَ قُلْتُ تُعْرَضُ الْفِتَنُ عَلَى الْقُلُوبِ عَرْضَ الْحَصِيرِ فَأَيُّ قَلْبٍ أَنْكَرَهَا نُكِتَتْ فِيهِ نُكْتَةٌ بَيْضَاءُ وَأَيُّ قَلْبٍ أُشْرِبَهَا نُكِتَتْ فِيهِ نُكْتَةٌ سَوْدَاءُ حَتَّى يَصِيرَ الْقَلْبُ عَلَى قَلْبَيْنِ أَبْيَضَ مِثْلِ الصَّفَا لَا يَضُرُّهُ فِتْنَةٌ مَا دَامَتْ السَّمَوَاتُ وَالْأَرْضُ وَالْآخَرِ أَسْوَدَ مُرْبَدٍّ كَالْكُوزِ مُخْجِيًا وَأَمَالَ كَفَّهُ لَا يَعْرِفُ مَعْرُوفًا وَلَا يُنْكِرُ مُنْكَرًا إِلَّا مَا أُشْرِبَ مِنْ هَوَاهُ

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس سے آئے ان کا کہنا ہے کل گذشتہ جب ہم ان کے پاس بیٹھے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے انہوں نے پوچھا کہ آپ لوگوں میں سے کس نے فتنوں کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد سنا ہے ؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کہنے لگے کہ ہم سب ہی نے سنا ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا شاید تم وہ فتنہ سمجھ رہے ہو جو آدمی کے اہل خانہ اور مال سے متعلق ہوتا ہے ؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا جی ہاں ! حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں تم سے اس کے متعلق نہیں پوچھ رہا اس کا کفارہ تو نماز روزہ اور صدقہ بن جاتے ہیں ان فتنوں کے بارے تم میں سے کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد سنا ہے جو سمندر کی موجوں کی طرح پھیل جائیں گے؟ اس پر لوگ خاموش ہوگئے اور میں سمجھ گیا کہ اس کا جواب وہ مجھ سے معلوم کرنا چاہتے ہیں چنانچہ میں نے عرض کیا کہ میں نے وہ ارشاد سنا ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا یقینا تم نے ہی سنا ہوگا میں نے عرض کیا کہ دلوں کے سامنے فتنوں کو اس طرح پیش کیا جائے گا جیسے چٹائی کو پیش کیا جائے جو دل ان سے نامانوس ہوگا اس پر ایک سفید نقطہ پڑجائے گا اور جو دل اس کی طرف مائل ہوجائے گا اس پر ایک کالا دھبہ پڑجائے گا حتیٰ کہ دلوں کی دو صورتیں ہوجائیں گی ایک تو ایسا سفید جیسے چاندی اسے کوئی فتنہ " جب تک آسمان و زمین رہیں گے " نقصان نہ پہنچا سکے گا اور دوسرا ایسا کالا سیاہ جیسے کوئی شخص کٹورے کو اوندھا دے اور ہتھیلی پھیلا دے ایسا شخص کسی نیکی کو نیکی اور کسی گناہ کو گناہ نہیں سمجھے گا سوائے اسی چیز کے جس کی طرف اس کی خواہش کا میلان ہو۔ ی

لِي أَنْتَ لِلَّهِ أَبُوكَ ← فَأَمْسَكَ الْقَوْمُ وَظَنَنْتُ أَنَّهُ إِيَّايَ يُرِيدُ قُلْتُ ← قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ فِي الْفِتَنِ الَّتِي تَمُوجُ مَوْجَ الْبَحْرِ ← تِلْكَ أَسْأَلُ تِلْكَ يُكَفِّرُهَا الصَّلَاةُ وَالصِّيَامُ وَالصَّدَقَةُ وَلَكِنْ أَيُّكُمْ ← لست ← أَجَلْ ← لَعَلَّكُمْ تَعْنُونَ فِتْنَةَ الرَّجُلِ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ ← نَحْنُ سَمِعْنَاهُ ← قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ فِي الْفِتَنِ ← لَمَّا جَلَسْنَا إِلَيْهِ أَمْسِ سَأَلَ أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ أَيُّكُمْ ← حُذَيْفَةَ أَنَّهُ قَدِمَ مِنْ عِنْدِ عُمَرَ ← رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ← أَبُو مَالِکٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23669

chevron_left Previous
1…608609610…684
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter