Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Monday, Jumada I 9, 1448 AH · Oct 19, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23586

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ سُحَيْمٍ عَنْ أُمِّهِ ابْنَةِ أَبِي الْحَكَمِ الْغِفَارِيِّ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الرَّجُلَ لَيَدْنُو مِنْ الْجَنَّةِ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلَّا قِيدُ ذِرَاعٍ فَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ فَيَتَبَاعَدُ مِنْهَا أَبْعَدَ مِنْ صَنْعَاءَ

بنت ابوالحکم رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بعض اوقات انسان جنت کے اتنا قریب پہنچ جاتا ہے کہ اس کے اور جنت کے درمیان صرف ایک گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے لیکن پھر وہ کوئی ایسی بات کہہ بیٹھتا ہے کہ اس کی وجہ سے وہ جنت سے اتنا دور چلا جاتا ہے کہ مثلاً مکہ مکرمہ کا صنعاء سے بھی زیادہ دور کا فاصلہ ہو۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أُمِّهِ ابْنَةِ أَبِي الْحَكَمِ الْغِفَارِيِّ ← سُلَيْمَانَ بْنِ سُحَيْمٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23586

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23587

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُعَاذٍ الْأَشْهَلِيِّ عَنْ جَدَّتِهِ أَنَّها قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا نِسَاءَ الْمُؤْمِنَاتِ لَا تَحْقِرَنَّ إِحْدَاكُنَّ لِجَارَتِهَا وَلَوْ كُرَاعُ شَاةٍ مُحْرَقٌ

ایک خاتون صحابیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے مومن عورتو! تم میں سے کوئی اپنی پڑوسن کی بھیجی ہوئی کسی چیز کو " خواہ وہ بکری کا جلا ہوا کھر ہی ہو " حقیر نہ سمجھے۔

جَدَّتِهِ أَنَّهَا ← عَمْرِو بْنِ مُعَاذٍ الْأَشْهَلِيِّ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← مَالِكٍ، ← رَوْحٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23587

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23588

حَدَّثَنَا رَوْحٌ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي حَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ رَجُلٍ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّمَا الطَّوَافُ صَلَاةٌ فَإِذَا طُفْتُمْ فَأَقِلُّوا الْكَلَامَ وَلَمْ يَرْفَعْهُ ابْنُ بَكْرٍ

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا طواف بھی نماز ہی کی طرح ہوتا ہے اس لئے جب تم طواف کیا کرو تو گفتگو کم کیا کرو۔

رجل أدْرك النَّبِي ← طَاوْسٍ ← حَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← رَوْحٌ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23588

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23589

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي يَرْبُوعَ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعْتُهُ وَهُوَ يُكَلِّمُ النَّاسَ يَقُولُ يَدُ الْمُعْطِي الْعُلْيَا أُمَّكَ وَأَبَاكَ وَأُخْتَكَ وَأَخَاكَ ثُمَّ أَدْنَاكَ أَدْنَاكَ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَؤُلَاءِ بَنُو ثَعْلَبَةَ بْنِ يَرْبُوعَ الَّذِينَ أَصَابُوا فُلَانًا قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا لَا تَجْنِي نَفْسٌ عَلَى أُخْرَى

بنو یربوع کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں سے گفتگو کے دوران یہ فرماتے ہوئے سنا کہ دینے والے کا ہاتھ اوپر ہوتا ہے اپنی ماں ، باپ بہن ، بھائی اور درجہ بدرجہ قریبی رشتہ داروں پر خرچ کیا کرو ایک آدمی نے عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم بنوثعلبہ بن یربوع ہیں انہوں نے فلاں آدمی کو قتل کر دیا ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی شخص کسی دوسرے کے جرم کا ذمہ دار نہیں ہوگا۔

يَدُ الْمُعْطِي الْعُلْيَا أُمَّكَ وَأَبَاكَ وَأُخْتَكَ وَأَخَاكَ ثُمَّ أَدْنَاكَ أَدْنَاكَ فَقَالَ رَجُلٌ ← أَتَيْتُ النَّبِيَّ فَسَمِعْتُهُ وَهُوَ يُكَلِّمُ النَّاسَ ← رَجُلٍ مِنْ بَنِي يَرْبُوعٍ ← أَبِيهِ ← الأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← يُونُسَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23589

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23590

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنِ الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمُرَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلُ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ صَلَاتُهُ فَإِنْ كَانَ أَتَمَّهَا كُتِبَتْ لَهُ تَامَّةً وَإِنْ لَمْ يَكُنْ أَتَمَّهَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ انْظُرُوا هَلْ تَجِدُونَ لِعَبْدِي مِنْ تَطَوُّعٍ فَتُكَمِّلُوا بِهَا فَرِيضَتَهُ ثُمَّ الزَّكَاةُ كَذَلِكَ ثُمَّ تُؤْخَذُ الْأَعْمَالُ عَلَى حَسَبِ ذَلِكَ

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سب سے پہلے جس چیز کا بندے سے حساب لیا جائے گا وہ اس کی نماز ہوگی اگر اس نے اسے مکمل اداء کیا ہوگا تو وہ مکمل لکھ دی جائیں گی ورنہ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ دیکھو! میرے بندے کے پاس کچھ نوافل ملتے ہیں ؟ کہ ان کے ذریعے فرائض کی تکمیل کر سکو اسی طرح زکوۃ کے معاملے میں بھی ہوگا اور دیگر اعمال کا حساب بھی ہوگا۔

رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← یَّحْیَی بْنِ یَعْمُرَ ← الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَسَنُ بْنُ مُوسَی

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23590

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23591

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْمُهَلَّبِ بْنِ أَبِي صُفْرَةَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا أُرَاهُمْ اللَّيْلَةَ إِلَّا سَيُبَيِّتُونَكُمْ فَإِنْ فَعَلُوا فَشِعَارُكُمْ حم لَا يُنْصَرُونَ

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے لگتا ہے کہ آج رات دشمن شب خون مارے گا اگر ایسا ہوا تو تمہارے اشعار "حم لاینصرون" کے الفاظ ہوں گے۔

مَا أُرَاهُمْ اللَّيْلَةَ إِلَّا سَيُبَيِّتُونَكُمْ فَإِنْ فَعَلُوا فَشِعَارُكُمْ حم لَا يُنْصَرُونَ ← النَّبِيِّ ← رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← الْمُهَلَّبَ بْنَ أَبِي صُفْرَةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شَرِيکٍ ← أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23591

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23592

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ أَوْ قَالَ أَنْتَ مُحَمَّدٌ فَقَالَ نَعَمْ قَالَ فَإِلَامَ تَدْعُو قَالَ أَدْعُو إِلَى اللَّهِ وَحْدَهُ مَنْ إِذَا كَانَ بِكَ ضُرٌّ فَدَعَوْتَهُ كَشَفَهُ عَنْكَ وَمَنْ إِذَا أَصَابَكَ عَامُ سَنَةٍ فَدَعَوْتَهُ أَنْبَتَ لَكَ وَمَنْ إِذَا كُنْتَ فِي أَرْضٍ قَفْرٍ فَأَضْلَلْتَ فَدَعَوْتَهُ رَدَّ عَلَيْكَ قَالَ فَأَسْلَمَ الرَّجُلُ ثُمَّ قَالَ أَوْصِنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ لَهُ لَا تَسُبَّنَّ شَيْئًا أَوْ قَالَ أَحَدًا شَكَّ الْحَكَمُ قَالَ فَمَا سَبَبْتُ شَيْئًا بَعِيرًا وَلَا شَاةً مُنْذُ أَوْصَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا تَزْهَدْ فِي الْمَعْرُوفِ وَلَوْ بِبَسْطِ وَجْهِكَ إِلَى أَخِيكَ وَأَنْتَ تُكَلِّمُهُ وَأَفْرِغْ مِنْ دَلْوِكَ فِي إِنَاءِ الْمُسْتَسْقِي وَاتَّزِرْ إِلَى نِصْفِ السَّاقِ فَإِنْ أَبَيْتَ فَإِلَى الْكَعْبَيْنِ وَإِيَّاكَ وَإِسْبَالَ الْإِزَارِ قَالَ فَإِنَّهَا مِنْ الْمَخِيلَةِ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ الْمَخِيلَةَ

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا کہ ایک آدمی آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے کہنے لگا کیا آپ ہی اللہ کے پیغمبر ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! اس نے پوچھا کہ آپ کن چیزوں کی دعوت دیتے ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اس اللہ کی طرف دعوت دیتا ہوں جو یکتا ہے یہ بتاؤ کہ وہ کون سی ہستی ہے کہ جب تم پر کوئی مصیبت آتی ہے اور تم اسے پکارتے ہو تو وہ تمہاری مصیبت دور کر دیتی ہے؟ وہ کون ہے کہ جب تم قحط سالی میں مبتلا ہوتے ہو اور اس سے دعاء کرتے ہو تو وہ پیداوار ظاہر کر دیتا ہے ؟ وہ کون ہے کہ جب تم کسی بیابان اور جنگل میں راستہ بھول جاؤ اور اس سے دعاء کرو تو وہ تمہیں واپس پہنچا دیتا ہے ؟ یہ سن کر وہ شخص مسلمان ہوگیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! (صلی اللہ علیہ وسلم) مجھے کوئی وصیت کیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی چیز کو گالی نہ دینا وہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد سے میں کبھی کسی اونٹ یا بکری تک کو گالی نہیں دی جب سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وصیت فرمائی اور نیکی سے بے رغبتی ظاہر نہ کرنا اگرچہ وہ بات کرتے ہوئے اپنے بھائی سے خندہ پیشانی کے ساتھ ملنا ہی ہو پانی مانگنے والے کے برتن میں اپنے ڈول سے پانی ڈال دینا اور تہبند نصف پنڈلی تک باندھنا اگر یہ نہیں کر سکتے تو ٹخنوں تک باندھ لینا لیکن تہبند کو لٹکنے سے بچانا کیونکہ یہ تکبر ہے اور اللہ کو تکبر پسند نہیں ہے۔ ی

رجل من قومه ← أَبِي تَمِيمَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← الْحَكَمُ بْنُ فُضَيْلٍ، ← أَبُو النَّضْرِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23592

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23593

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ مُهَاجِرٍ الصَّائِغِ عَنْ رَجُلٍ لَمْ يُسَمِّهِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلًا يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ فَقَالَ أَمَّا هَذَا فَقَدْ بَرِئَ مِنْ الشِّرْكِ وَسَمِعَ آخَرَ وَهُوَ يَقْرَأُ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فَقَالَ أَمَّا هَذَا فَقَدْ غُفِرَ لَهُ

ایک شیخ سے " جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پایا ہے " مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر پر نکلا تو نبی کریم کا گذر ایک آدمی پر ہوا جو سورت کافرون کی تلاوت کر رہا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تو شرک سے بری ہوگیا پھر دوسرے آدمی کو دیکھا وہ سورت اخلاص کی تلاوت کر رہا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی برکت سے اس کی بخشش ہوگی ۔

أما هَذَا فقد غفر لَهُ ← آخَرَ وَهُوَ يَقْرَأُ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ← أَمَّا هَذَا فَقَدْ بَرِئَ مِنْ الشِّرْكِ ← رَجُلًا يَعْنِي النَّبِيَّ يَقْرَأُ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ← رَجُلٍ لَمْ يُسَمِّهِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ أَنَّهُ ← مهاجر الصائغ ← شَرِيکٍ ← أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23593

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23594

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَوَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعْدًا أَوْ أَسْعَدَ بْنَ زُرَارَةَ فِي حَلْقِهِ مِنْ الذُّبْحَةِ وَقَالَ لَا أَدَعُ فِي نَفْسِي حَرَجًا مِنْ سَعْدٍ أَوْ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعدیا اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کو کسی زخم کی وجہ سے داغا اور فرمایا میں ان کے جس چیز میں صحت اور تندرستی محسوس کروں گا اس تدبیر کو ضرور اختیار کروں گا۔

كَوَى رَسُولُ اللَّهِ سَعْدًا أَوْ أَسْعَدَ بْنَ زُرَارَةَ فِي حَلْقِهِ مِنْ الذُّبْحَةِ ← بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← زُهَيْرٍ ← حَسَنٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23594

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23595

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ رِجَالًا يَتَحَدَّثُونَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا عُتِقَتْ الْأَمَةُ فَهِيَ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَطَأْهَا إِنْ شَاءَتْ فَارَقَتْهُ وَإِنْ وَطِئَهَا فَلَا خِيَارَ لَهَا وَلَا تَسْتَطِيعُ فِرَاقَهُ

چند صحابہ رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب کسی باندی کو آزادی کا پروانہ مل جائے تو اسے اختیار مل جاتا ہے بشرطیکہ اس نے اس کے ساتھ ہمبستری نہ کی ہو " کہ اگر چاہے تو اپنے شوہر سے جدائی اختیار کرلے اور اگر وہ اس سے ہمبستری کرچکا ہو تو پھر اسے یہ اختیار نہیں رہتا اور وہ اس سے جدا نہیں ہوسکتی۔

النَّبِيِّ ← رِجَالًا يَتَحَدَّثُونَ ← أَبِيهِ ← الْفَضْلِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23595

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23596

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ قَالُ سَمِعْتُ رِجَالًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَحَدَّثُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أُعْتِقَتْ الْأَمَةُ وَهِيَ تَحْتَ الْعَبْدِ فَأَمْرُهَا بِيَدِهَا فَإِنْ هِيَ أَقَرَّتْ حَتَّى يَطَأَهَا فَهِيَ امْرَأَتُهُ لَا تَسْتَطِيعُ فِرَاقَهُ

چند صحابہ رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب کسی باندی کو آزادی کا پروانہ مل جائے تو اسے اختیارمل جاتا ہے بشرطیکہ اس نے اس کے ساتھ ہمبستری نہ کی ہو " کہ اگر چاہے تو اپنے شوہر سے جدائی اختیار کرلے اور اگر وہ اس سے ہمبستری کر چکاہو تو پھر اسے یہ اختیار نہیں رہتا اور وہ اس سے جدا نہیں ہوسکتی۔

رِجَالًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ يَتَحَدَّثُونَ ← الْفَضْلِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← حَسَنٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23596

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23597

حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ جَابِرٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ اللَّجْلَاجِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِشٍ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَيْهِمْ ذَاتَ غَدَاةٍ وَهُوَ طَيِّبُ النَّفْسِ مُسْفِرُ الْوَجْهِ أَوْ مُشْرِقُ الْوَجْهِ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَرَاكَ طَيِّبَ النَّفْسِ مُسْفِرَ الْوَجْهِ أَوْ مُشْرِقَ الْوَجْهِ فَقَالَ مَا يَمْنَعُنِي وَأَتَانِي رَبِّي اللَّيْلَةَ فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ قُلْتُ لَبَّيْكَ رَبِّي وَسَعْدَيْكَ فَقَالَ فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى قُلْتُ لَا أَدْرِي أَيْ رَبِّ قَالَ ذَلِكَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا قَالَ فَوَضَعَ كَفَّهُ بَيْنَ كَتِفَيَّ فَوَجَدْتُ بَرْدَهَا بَيْنَ ثَدْيَيَّ حَتَّى تَجَلَّى لِي مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ وَكَذَلِكَ نُرِي إِبْرَاهِيمَ مَلَكُوتَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ الْآيَةَ قَالَ يَا مُحَمَّدُ فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى قَالَ قُلْتُ فِي الْكَفَّارَاتِ قَالَ وَمَا الْكَفَّارَاتُ قُلْتُ الْمَشْيُ عَلَى الْأَقْدَامِ إِلَى الْجَمَاعَاتِ وَالْجُلُوسُ فِي الْمَسَاجِدِ خِلَافَ الصَّلَوَاتِ وَإِبْلَاغُ الْوُضُوءِ فِي الْمَكَارِهِ قَالَ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ عَاشَ بِخَيْرٍ وَمَاتَ بِخَيْرٍ وَكَانَ مِنْ خَطِيئَتِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ وَمِنْ الدَّرَجَاتِ طَيِّبُ الْكَلَامِ وَبَذْلُ السَّلَامِ وَإِطْعَامُ الطَّعَامِ وَالصَّلَاةُ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ إِذَا صَلَّيْتَ فَقُلْ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الطَّيِّبَاتِ وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ وَأَنْ تَتُوبَ عَلَيَّ وَإِذَا أَرَدْتَ فِتْنَةً فِي النَّاسِ فَتَوَفَّنِي غَيْرَ مَفْتُونٍ

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت تشریف لائے تو بڑا خوشگوار موڈ تھا اور چہرے پر بشاشت کھیل رہی تھی ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کیفیت کا تذکرہ کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسا کیوں نہ ہو؟ جبکہ آج رات میرے پاس میرا رب انتہائی حسین صورت میں آیا اور فرمایا اے محمد! (صلی اللہ علیہ وسلم) میں نے عرض کیا لبیک ربی و سعدیک فرمایا ملا اعلیٰ کے فرشتے کس وجہ سے جھگڑ رہے ہیں ؟ میں نے عرض کیا پروردگار ! میں نہیں جانتا (دو تین مرتبہ یہ سوال جواب ہوا) پھر پروردگار نے اپنی ہتھیلیاں میرے کندھوں کے درمیان رکھ دیں جن کی ٹھنڈک میں نے اپنے سینے اور چھاتی میں محسوس کی حتیٰ کہ میرے سامنے آسمان و زمین کی ساری چیزیں نمایاں ہوگئیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے "و کذلک نری ابراہیم" والی آیت تلاوت فرمائی ۔ اس کے بعد اللہ نے پھر پوچھا کہ اے محمد! صلی اللہ علیہ وسلم ملا اعلیٰ کے فرشتے کس چیز کے بارے جھگڑ رہے ہیں ؟ میں نے عرض کیا کفارات کے بارے میں فرمایا کفارات سے کیا مراد ہے ؟ میں نے عرض کیا جمعہ کے لئے اپنے پاؤں سے چل کر جانا نماز کے بعد بھی مسجد میں بیٹھے رہنا مشقت کے باوجود وضو مکمل کرنا ارشاد ہوا کہ جو شخص یہ کام کر لے وہ خیر کی زندگی گذارے گا اور خیر کی موت مرے گا اور وہ اپنے گناہوں سے اس طرح پاک صاف ہو جائے گا جیسے اپنی پیدائش کے دن تھا۔ اور جو چیزیں بلند درجات کا سبب بنتی ہیں وہ بہترین کلام ، سلام کی اشاعت ، کھانا کھلانا اور رات کو جب لوگ سو رہے ہوں نماز پڑھنا ہے پھر فرمایا اے محمد! صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھا کرو تو یہ دعا کر لیا کرو کہ اے اللہ ! میں تجھ سے پاکیزہ چیزوں کا سوال کرتا ہوں منکرات سے بچنے کا، مسکینوں سے محبت کرنے کا اور یہ کہ تو میری طرف خصوصی توجہ فرما اور جب لوگوں میں کسی آزمائش کا ارادہ کرے تو مجھے فتنے میں مبتلا ہونے سے پہلے موت عطاء فرما دے۔

بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِشٍ ← خَالِدِ بْنِ اللَّجْلَاجِ ← يَزِيدَ بْنِ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ جَابِرٍ ← زُهَيْرٍ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ← أَبُو عَامِرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23597

chevron_left Previous
1…602603604…684
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter