Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Monday, Jumada I 9, 1448 AH · Oct 19, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23574

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا لَيْثٌ حَدَّثَنَا عُقَيْلٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ إِنْسَانٍ مِنْ الْأَنْصَارِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْقَسَامَةَ كَانَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ قَسَامَةُ الدَّمِ فَأَقَرَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَا كَانَتْ عَلَيْهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَقَضَى بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أُنَاسٍ مِنْ الْأَنْصَارِ مِنْ بَنِي حَارِثَةَ فِي دَمٍ ادَّعَوْهُ عَلَى الْيَهُودِ

ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ زمانہ جاہلیت میں قتل کے حوالے سے " قسامت " کا رواج تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے زمانہ جاہلیت کے طریقے پر ہی برقرار رکھا اور چند انصاری حضرات کے معاملے میں " جن کا تعلق بنوحارثہ سے تھا اور انہوں نے یہودیوں کے خلاف دعویٰ کیا تھا " نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فیصلہ فرمایا تھا۔

أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← عَقِیلٍ ← لَيْثٌ، ← حجاج،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23574

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23575

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ الْقَعْقَاعِ يُحَدِّثُ رَجُلًا مِنْ بَنِي حَنْظَلَةَ قَالَ رَمَقَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي فَجَعَلَ يَقُولُ فِي صَلَاتِهِ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي وَوَسِّعْ لِي ذَاتِي وَبَارِكْ لِي فِيمَا رَزَقْتَنِي

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہہ رہے تھے کہ اے اللہ میرے گناہ کو معاف فرما، مجھے ذاتی کشادگی عطاء فرما اور میرے رزق میں برکت عطا فرما۔

رَمَقَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ وَهُوَ يُصَلِّي فَجَعَلَ ← رَجُلًا مِنْ بَنِي حَنْظَلَةَ ← عُبَيْدَ بْنَ الْقَعْقَاعِ ← سَعِیْدٍ الْجُرَیْرِیِّ، ← شُعْبَةُ، ← حجاج،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23575

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23576

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ قَالَ قُلْتُ لِجُنْدُبٍ إِنِّي قَدْ بَايَعْتُ هَؤُلَاءِ يَعْنِي ابْنَ الزُّبَيْرِ وَهُمْ يُرِيدُونَ أَنْ أَخْرُجَ مَعَهُمْ إِلَى الشَّامِ فَقَالَ أَمْسِكْ عَلَيْكَ فَقُلْتُ إِنَّهُمْ يَأْبَوْنَ فَقَالَ افْتَدِ بِمَالِكَ قَالَ قُلْتُ إِنَّهُمْ يَأْبَوْنَ إِلَّا أَنْ أَضْرِبَ مَعَهُمْ بِالسَّيْفِ فَقَالَ جُنْدُبٌ حَدَّثَنِي فُلَانٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَجِيءُ الْمَقْتُولُ بِقَاتِلِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَقُولُ يَا رَبِّ سَلْ هَذَا فِيمَ قَتَلَنِي قَالَ شُعْبَةُ وَأَحْسِبُهُ قَالَ فَيَقُولُ عَلَامَ قَتَلْتَهُ قَالَ فَيَقُولُ قَتَلْتُهُ عَلَى مُلْكِ فُلَانٍ قَالَ فَقَالَ جُنْدُبٌ فَاتَّقِهَا

ابو عمران رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے جندب سے کہا کہ میں نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی بیعت کرلی ہے یہ لوگ چاہتے ہیں کہ میں بھی ان کے ساتھ شام چلوں جندب نے کہا مت جاؤ میں نے کہا کہ وہ مجھے ایسا کرنے نہیں دیتے ، انہوں نے کہا کہ مالی فدیہ دے کر بچ جاؤ میں نے کہا کہ وہ اس کے علاوہ کوئی اور بات ماننے کے لئے تیار نہیں کہ میں ان کے ساتھ چل کر تلوار کے جوہر دکھاؤں اس پر جندب کہنے لگے کہ فلاں آدمی نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن مقتول اپنے قاتل کو لے کر بارگاہ الٰہی میں حاضر ہو کر عرض کرے گا پروردگار! اس سے پوچھ کہ اس نے مجھے کس وجہ سے قتل کیا تھا ؟چنانچہ اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا کہ تونے کس بناء پر اسے قتل کیا تھا ؟ وہ عرض کرے گا کہ فلاں شخص کی حکومت کی وجہ سے ، اس لئے تم اس سے بچو۔

قُلْتُ لِجُنْدُبٍ إِنِّي قَدْ بَايَعْتُ هَؤُلَاءِ يَعْنِي ابْنَ الزُّبَيْرِ وَهُمْ يُرِيدُونَ ← أَبِي عِمْرَانَ، ← شُعْبَةُ، ← حجاج،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23576

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23577

حَدَّثَنَا أَبُو نُوحٍ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ سُمَيٍّ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْكُبُ عَلَى رَأْسِهِ الْمَاءَ بِالسُّقْيَا إِمَّا مِنْ الْحَرِّ وَإِمَّا مِنْ الْعَطَشِ وَهُوَ صَائِمٌ ثُمَّ لَمْ يَزَلْ صَائِمًا حَتَّى أَتَى كَدِيدًا ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَأَفْطَرَ وَأَفْطَرَ النَّاسُ وَهُوَ عَامُ الْفَتْحِ

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مقام عرج میں پیاس یا گرمی کی وجہ سے اپنے سر پر پانی ڈالتے ہوئے دیکھا اور مسلسل روزہ رکھتے رہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام کدید پہنچ کر پانی کا پیالہ منگوایا اور اسے نوش فرما لیا اور لوگوں نے بھی روزہ افطار کر لیا یہ فتح مکہ کا سال تھا۔

رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← أَبِي بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، ← سُمَيٍّ ← مَالِكٍ، ← أَبُو نُوحٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23577

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23578

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ سُمَيٍّ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَامَ فِي سَفَرِهِ عَامَ الْفَتْحِ وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ بِالْإِفْطَارِ وَقَالَ إِنَّكُمْ تَلْقَوْنَ عَدُوَّكُمْ فَتَقَوَّوْا فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَامُوا لِصِيَامِكَ فَلَمَّا أَتَى الْكَدِيدَ أَفْطَرَ قَالَ الَّذِي حَدَّثَنِي فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُبُّ الْمَاءَ عَلَى رَأْسِهِ مِنْ الْحَرِّ وَهُوَ صَائِمٌ

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ترک صیام کا حکم دیتے ہوئے فرمایا کہ اپنے دشمن کے لئے قوت حاصل کرو لیکن خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھ لیا راوی کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مقام عرج میں پیاس یا گرمی کی وجہ سے اپنے سر پر پانی ڈالتے ہوئے دیکھا اسی دوران کسی شخص نے بتایا کہ یا رسول اللہ ! (صلی اللہ علیہ وسلم) جب لوگوں نے آپ کو روزہ رکھے ہوئے دیکھا تو کچھ لوگوں نے روزہ رکھ لیا چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام کدید پہنچ کر پانی کا پیالہ منگوایا اور اسے نوش فرمالیا اور لوگوں نے بھی روزہ افطار کرلیا ۔

رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← أَبِي بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ ← سُمَيٍّ ← مَالِكٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23578

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23579

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ أَشْعَثَ قَالَ وَحَدَّثَنِي شَيْخٌ مِنْ بَنِي مَالِكِ بْنِ كِنَانَةَ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسُوقِ ذِي الْمَجَازِ يَتَخَلَّلُهَا يَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ قُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ تُفْلِحُوا قَالَ وَأَبُو جَهْلٍ يَحْثِي عَلَيْهِ التُّرَابَ وَيَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ لَا يَغُرَّنَّكُمْ هَذَا عَنْ دِينِكُمْ فَإِنَّمَا يُرِيدُ لِتَتْرُكُوا آلِهَتَكُمْ وَلِتَتْرُكُوا اللَّاتَ وَالْعُزَّى قَالَ وَمَا يَلْتَفِتُ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْنَا انْعَتْ لَنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَ بُرْدَيْنِ أَحْمَرَيْنِ مَرْبُوعٌ كَثِيرُ اللَّحْمِ حَسَنُ الْوَجْهِ شَدِيدُ سَوَادِ الشَّعْرِ أَبْيَضُ شَدِيدُ الْبَيَاضِ سَابِغُ الشَّعْرِ

بنومالک بن کنانہ کے ایک شیخ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ذوالمجاز نامی بازار میں چکر لگاتے ہوئے دیکھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے لوگو! لا الہ اللہ کا اقرار کرلو تم کامیاب ہو جاؤ گے اور ابوجہل مٹی اچھالتے ہوئے کہتا جاتا تھا لوگو! یہ تمہیں تمہارے دین سے بہکا نہ دے یہ چاہتا ہے کہ تم اپنے معبودوں کو اور لات وعزیٰ کو چھوڑ دو لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف توجہ نہ فرماتے تھے ہم نے ان سے کہا کہ ہمارے سامنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ بیان کیجئے انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سرخ چادریں زیب تن فرما رکھی تھیں درمیانہ قد تھا جسم گوشت سے بھر پور تھاچہرہ نہایت حسین وجمیل تھا بال انتہائی کالے سیاہ تھے انتہائی اجلی سفید رنگت تھی اور گھنے بال تھے۔

قلنا انعت لنا رسول الله ← وما يلتفت إليه رسول الله ← دِينِكُمْ فَإِنَّمَا يُرِيدُ لِتَتْرُكُوا آلِهَتَكُمْ وَلِتَتْرُكُوا اللَّاتَ وَالْعُزَّى ← يا أيها الناس لا يغرنكم هذا ← وَأَبُو جَهْلٍ يَحْثِي عَلَيْهِ التُّرَابَ ← يَا أَيُّهَا النَّاسُ قُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ تُفْلِحُوا ← رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ بِسُوقِ ذِي الْمَجَازِ يَتَخَلَّلُهَا ← شيخ من بني مالك بن كنانة ← أَشْعَثَ، ← شَيْبَانَ ← أَبُو النَّضْرِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23579

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23580

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ أَشْعَثَ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي خِلَافَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ لَا يَمُوتُ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ حَتَّى يُسْتَخْلَفَ قُلْنَا مِنْ أَيْنَ تَعْلَمُ ذَلِكَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ رَأَيْتُ اللَّيْلَةَ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّ ثَلَاثَةً مِنْ أَصْحَابِي وُزِنُوا فَوُزِنَ أَبُو بَكْرٍ فَوَزَنَ ثُمَّ وُزِنَ عُمَرُ فَوَزَنَ ثُمَّ وُزِنَ عُثْمَانُ فَنَقَصَ وَهُوَ صَالِحٌ

اسود بن ہلال اپنی قوم کے ایک آدمی سے نقل کرتے ہیں کہ جو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں کہا کرتا تھا حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اس وقت تک فوت نہیں ہوں گے جب تک خلیفہ نہیں بن جاتے ہم اس سے پوچھتے کہ تمہیں یہ بات کہاں سے معلوم ہوئی ؟ تو وہ جواب دیتا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مرتبہ یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ آج رات میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے تین صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا وزن کیا گیا ہے چنانچہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا وزن کیا گیا تو ان کا پلڑا جھک گیا پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا وزن کیا گیا تو ان کا پلڑا بھی جھک گیا پھر حضرت عثمان کا وزن کیا گیا تو ہمارے ساتھی کا وزن کم رہا اور وہ نیک آدمی ہے۔

رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ أَنَّهُ كَانَ ← الأَسْوَدِ بْنِ هِلاَلٍ ← أَشْعَثَ، ← شَيْبَانَ ← أَبُو النَّضْرِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23580

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23581

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنْ مُهَاجِرٍ أَبِي الْحَسَنِ عَنْ شَيْخٍ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَمَرَّ بِرَجُلٍ يَقْرَأُ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ فَقَالَ أَمَّا هَذَا فَقَدْ بَرِئَ مِنْ الشِّرْكِ قَالَ وَإِذَا آخَرُ يَقْرَأُ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ

ایک شیخ سے " جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پایا ہے " مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر پر نکلا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر ایک آدمی پر ہوا جو سورت کافرون کی تلاوت کر رہا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تو شرک سے بری ہوگیا پھر دوسرے آدمی کو دیکھا وہ سورت اخلاص کی تلاوت کر رہا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی برکت سے اس کے لئے جنت واجب ہوگئی ۔

النَّبِيُّ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ ← وَإِذَا آخَرُ يَقْرَأُ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ← أَمَّا هَذَا فَقَدْ بَرِئَ مِنْ الشِّرْكِ ← خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ فِي سَفَرٍ فَمَرَّ بِرَجُلٍ يَقْرَأُ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ← شَيْخٍ أَدْرَكَ النَّبِيَّ ← مُهَاجِرٍ أَبِي الْحَسَنِ ← الْمَسْعُودِيِّ ← أَبُو النَّضْرِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23581

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23582

حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ حُمْرَانَ بْنِ أَعْيَنَ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَنْ فُلَانِ ابْنِ جَارِيَةَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَخَاكُمْ النَّجَاشِيَّ قَدْ مَاتَ فَصَلُّوا عَلَيْهِ

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن فرمایا کہ آج تمہارے بھائی (شاہ حبشہ نجاشی ) کا انتقال ہوگیا ہے آؤ صفیں باندھو اور ان کی نماز جنازہ پڑھو۔

فُلَانِ ابْنِ جَارِيَةَ الْأَنْصَارِيِّ ← أَبِي الطُّفَيْلِ، ← حُمْرَانَ بْنِ أَعْيَنَ، ← سُفْيَانَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23582

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23583

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنِ ابْنَةِ كُرْدُمَةَ عَنْ أَبِيهَا أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ ثَلَاثَةً مِنْ إِبِلِي قَالَ إِنْ كَانَ عَلَى جَمْعٍ مِنْ جَمْعِ الْجَاهِلِيَّةِ أَوْ عَلَى عِيدٍ مِنْ عِيدِ الْجَاهِلِيَّةِ أَوْ عَلَى وَثَنٍ فَلَا وَإِنْ كَانَ عَلَى غَيْرِ ذَلِكَ فَاقْضِ نَذْرَكَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عَلَى أُمِّ هَذِهِ الْجَارِيَةِ مَشْيًا أَفَتَمْشِي عَنْهَا قَالَ نَعَمْ

حضرت کروم بن سفیان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس منت کا حکم پوچھا جو انہوں نے زمانہ جاہلیت میں مانی تھی ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تم نے وہ منت کسی بت یا پتھر کے لئے مانی تھی ؟ انہوں نے کہا نہیں بلکہ اللہ کے لئے مانی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر تم نے اللہ کے لئے جو منت مانی تھی اسے پورا کرو بوانہ نامی جگہ پر جانور ذبح کر دو اور اپنی منت پوری کرلو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم اس بچی کی والدہ نے پیدل چلنے کی منت مانی تھی کیا یہ بچی اس کی طرف سے چل سکتی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں !

إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ ثَلَاثَةً مِنْ إِبِلِي ← أَبِيهَا، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ ← ابْنَةِ كَرْدَمَةَ، ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23583

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23584

حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ التَّنُوخِيِّ حَدَّثَنَا مَوْلًى لِيَزِيدَ بْنِ نِمْرَانَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ نِمْرَانَ قَالَ لَقِيتُ رَجُلًا مُقْعَدًا بِتَبُوكَ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ مَرَرْتُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَتَانٍ أَوْ حِمَارٍ فَقَالَ قَطَعَ عَلَيْنَا صَلَاتَنَا قَطَعَ اللَّهُ أَثَرَهُ فَأُقْعِدَ

یزید بن نمران کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میری ملاقات ایک اپاہج آدمی سے ہوئی میں نے اس سے اس کی وجہ پوچھی تو اس نے جواب دیا کہ ایک مرتبہ میں اپنے گدھے پر سوار ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے گذر گیا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس نے ہماری نماز توڑی اللہ اس کے پاؤں توڑ دے اس وقت سے میں اپاہج ہوگیا۔

قَطَعَ عَلَيْنَا صَلَاتَنَا قَطَعَ اللَّهُ أَثَرَهُ فَأُقْعِدَ ← مَرَرْتُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ عَلَى أَتَانٍ أَوْ حِمَارٍ ← لَقِيتُ رَجُلًا مُقْعَدًا بِتَبُوكَ فَسَأَلْتُهُ ← يَزِيدَ بْنِ نِمْرَانَ ← مولى ليزيد بن نمران ← سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ التَّنُوخِيُّ، ← أَبُو عَاصِمٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23584

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23585

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ عَنْ لَيْثٍ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ قَالَ قَالَ حَدَّثَنِي الْأَنْصَارِيُّ صَاحِبُ بُدْنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَعَثَهُ قَالَ رَجَعْتُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَأْمُرُنِي بِمَا عَطِبَ مِنْهَا قَالَ انْحَرْهَا ثُمَّ اصْبُغْ نَعْلَهَا فِي دَمِهَا ثُمَّ ضَعْهَا عَلَى صَفْحَتِهَا أَوْ عَلَى جَنْبِهَا وَلَا تَأْكُلْ مِنْهَا أَنْتَ وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ رِفْقَتِكَ

ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی دیکھ بھال پر مامور تھے " کہتے ہیں ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کہیں بھیجا میں کچھ دور جا کر واپس آگیا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم اگر کوئی اونٹ مرنے والا ہو جائے تو آپ کیا حکم دیتے ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے ذبح کر لینا پھر اس کے نعلوں کو خون میں تر بتر کر کے اس کی پیشانی یا پہلو پر رکھ دینا اور اس میں سے تم کھانا اور نہ ہی تمہارا کوئی رفیق کھائے ۔

الْأَنْصَارِيُّ صَاحِبُ بُدْنِ رَسُولِ اللَّهِ ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← لَيْثٌ، ← أبو معاوية يعني شيبان ← أَبُو النَّضْرِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23585

chevron_left Previous
1…601602603…684
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter