Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Monday, Jumada I 9, 1448 AH · Oct 19, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23550

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ عَمٍّ لَهُ أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ قُلْ لِي قَوْلًا يَنْفَعُنِي وَأَقْلِلْ لَعَلِّي أَعِيهِ قَالَ لَا تَغْضَبْ فَعَادَ لَهُ مِرَارًا كُلُّ ذَلِكَ يُرْجِعُ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا تَغْضَبْ

احنف بن قیس رحمتہ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ان کے چچا زاد بھائی نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) مجھے کوئی مختصر نصیحت فرمائیے شاید میری عقل میں آجائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا غصہ نہ کیا کرو، اس نے کئی مرتبہ اپنی درخواست دہرائی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر مرتبہ یہی جواب دیا کہ غصہ نہ کیا کرو۔

قُلْ لِي قَوْلًا يَنْفَعُنِي وَأَقْلِلْ لَعَلِّي أَعِيهِ ← عَمٍّ لَهُ أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ ← الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← زُهَيْرٍ ← أَبُو کَامِلٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23550

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23551

حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنِي وَالِدِي قَالَ غَدَوْتُ لِحَاجَةٍ فَإِذَا أَنَا بِجَمَاعَةٍ فِي السُّوقِ فَمِلْتُ إِلَيْهِمْ فَإِذَا رَجُلٌ يُحَدِّثُهُمْ وَصْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَصْفَ صِفَتِهِ قَالَ فَعَرَضْتُ لَهُ عَلَى قَارِعَةِ الطَّرِيقِ بَيْنَ عَرَفَاتٍ وَمِنًى فَرُفِعَ لِي فِي رَكْبٍ فَعَرَفْتُهُ بِالصِّفَةِ قَالَ فَهَتَفَ بِي رَجُلٌ يَا أَيُّهَا الرَّاكِبُ خَلِّ عَنْ وُجُوهِ الرِّكَابِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَرُوا الرَّاكِبَ فَأَرِبٌ مَا لَهُ قَالَ فَجِئْتُ حَتَّى أَخَذْتُ بِزِمَامِ النَّاقَةِ أَوْ خِطَامِهَا فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ حَدِّثْنِي أَوْ خَبِّرْنِي بِعَمَلٍ يُقَرِّبُنِي إِلَى الْجَنَّةِ وَيُبَاعِدُنِي مِنْ النَّارِ قَالَ أَوَذَلِكَ أَعْمَلَكَ أَوْ أَنْصَبَكَ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَاعْقِلْ إِذًا أَوْ افْهَمْ تَعْبُدُ اللَّهَ لَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ وَتَصُومُ رَمَضَانَ وَتَحُجُّ الْبَيْتَ وَتَأْتِي إِلَى النَّاسِ مَا تُحِبُّ أَنْ يُؤْتَى إِلَيْكَ وَتَكْرَهُ لِلنَّاسِ مَا تَكْرَهُ أَنْ يُؤْتَى إِلَيْكَ خَلِّ زِمَامَ النَّاقَةِ أَوْ خِطَامَهَا قَالَ أَبُو قَطَنٍ فَقُلْتُ لَهُ سَمِعْتَهُ مِنْهُ أَوْ سَمِعْتَ مِنْ الْمُغِيرَةِ قَالَ نَعَمْ

عبداللہ یشکری رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ جب کوفہ کی جامع مسجد پہلی مرتبہ تعمیر ہوئی تو میں وہاں گیا اس وقت وہاں کھجوروں کے درخت بھی تھے اور اس کی دیواریں ریت جیسی مٹی کی تھیں وہاں ایک صاحب یہ حدیث بیان کر رہے تھے کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حجۃ الوادع کی خبر ملی تو میں نے اپنے اونٹوں میں سے ایک سواری کے قابل اونٹ چھانٹ کر نکالا اور روانہ ہو گیا یہاں تک کہ عرفہ کے راستے میں ایک جگہ پہنچ کر بیٹھ گیاجب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے حلیہ کی وجہ سے پہچان لیا۔ اسی دوران ایک آدمی جو ان سے آگے تھا کہنے لگا کہ سواریوں کے راستے سے ہٹ جاؤ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہو سکتا ہے کہ اسے کوئی کام ہو، چنانچہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اتنا قریب ہوا کہ دونوں سواریوں کے سر ایک دوسرے کے قریب آگئے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیجئے جو مجھے جنت میں داخل کر دے اور جنہم سے نجات کا سبب بن جائے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واہ واہ ! میں نے خطبہ میں اختصار سے کام لیا تھا اور تم نے بہت عمدہ سوال کیا اگر تم سمجھ دار ہوئے تو تم صرف اللہ کی عبادت کرنا اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا، نماز قائم کرنا، زکوۃ ادا کرنا بیت اللہ کا حج کرنا، ماہ رمضان کے روزے رکھنا اب سواریوں کے لئے راستہ چھوڑ دو۔ ی

وَالِدِي ← الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← يُونُسَ ← أَبُو قَطَنٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23551

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23552

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو عِمْرَانَ قَالَ قُلْتُ لِجُنْدُبٍ إِنِّي بَايَعْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ عَلَى أَنْ أُقَاتِلَ أَهْلَ الشَّامِ قَالَ فَلَعَلَّكَ تُرِيدُ أَنْ تَقُولَ أَفْتَانِي جُنْدُبٌ أَوَأَفْتَانِي جُنْدَبٌ قَالَ قُلْتُ مَا أُرِيدُ ذَاكَ إِلَّا لِنَفْسِي قَالَ افْتَدِ بِمَالِكَ قُلْتُ إِنَّهُ لَا يُقْبَلُ مِنِّي قَالَ إِنِّي قَدْ كُنْتُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلَامًا حَزَوَّرًا وَإِنَّ فُلَانًا أَخْبَرَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَجِيءُ الْمَقْتُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُتَعَلِّقًا بِالْقَاتِلِ فَيَقُولُ يَا رَبِّ سَلْهُ فِيمَ قَتَلَنِي فَيَقُولُ فِي مُلْكِ فُلَانٍ فَاتَّقِ اللَّهَ لَا تَكُونُ ذَلِكَ الرَّجُلَ

ابوعمران رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے جندب سے کہا کہ میں نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے بیعت کرلی ہے ، یہ لوگ چاہتے ہیں کہ میں بھی ان کے ساتھ شام چلوں ، جندب نے کہا مت جاؤ میں نے کہا کہ وہ مجھے ایسا کرنے نہیں دیتے ، انہوں نے کہا کہ مالی فدیہ دے کر بچ جاؤ میں نے کہا کہ وہ اس کے علاوہ کوئی بات ماننے کے لئے تیار نہیں کہ میں ان کے ساتھ چل کر تلوار کے جوہر دکھاؤں ، اس پر جندب کہنے لگے کہ فلاں آدمی نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن مقتول اپنے قاتل کو لے کربارگاہ الٰہی میں حاضر ہو کر عرض کرے گا پروردگار! اس سے پوچھ کہ اس نے مجھے کس وجہ سے قتل کیا تھا ؟چنانچہ اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا کہ تونے کس بناء پر اسے قتل کیا تھا ؟ وہ عرض کرے گا کہ فلاں شخص کی حکومت کی وجہ سے اس لئے تم اس سے بچو۔

إِنِّي قَدْ كُنْتُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ غُلَامًا حَزَوَّرًا وَإِنَّ فُلَانًا ← افْتَدِ بِمَالِكَ قُلْتُ إِنَّهُ لَا يُقْبَلُ مِنِّي ← قُلْتُ مَا أُرِيدُ ذَاكَ إِلَّا لِنَفْسِي ← فَلَعَلَّكَ تُرِيدُ أَنْ تَقُولَ أَفْتَانِي جُنْدُبٌ أَوَأَفْتَانِي جُنْدَبٌ ← قُلْتُ لِجُنْدُبٍ إِنِّي بَايَعْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ عَلَى أَنْ أُقَاتِلَ أَهْلَ الشَّامِ ← أَبُو عِمْرَانَ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← بَهْزٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23552

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23553

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ الْمَخْزُومِيِّ عَنْ أَبِيهِ أَوْ عَمِّهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ إِذَا وَقَعَ الطَّاعُونُ بِأَرْضٍ وَلَسْتُمْ بِهَا فَلَا تَهْجُمُوا عَلَيْهَا وَإِذَا وَقَعَ بِهَا وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا مِنْهَا

عکرمہ بن خالد رضی اللہ عنہ کے دادا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک کے موقع پر ارشاد فرمایا جب کسی علاقے میں طاعون کی وباء پھیل پڑے اور تم وہاں پہلے سے موجود ہو تو اب وہاں سے نہ نکلو اور اگر تمہاری غیر موجودگی میں یہ وباء پھیلے تو تم اس علاقے میں مت جاؤ۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ أَوْ عَمِّهِ ← عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ الْمَخْزُومِيِّ، ← حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ← أَبُو کَامِلٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23553

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23554

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَنَّ عَمْرَو بْنَ أَوْسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَجُلًا مِنْ ثَقِيفٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ مُؤَذِّنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ مَطِيرٍ يَقُولُ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ

ایک شخص کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن نے بتایا کہ ایک دن بارش ہو رہی تھی ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے نداء لگائی کہ لوگو! اپنے خیموں میں ہی نماز پڑھ لو۔

حَيَّ عَلَی الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَی الْفَلَاحِ صَلُّوا فِي رِحَالِکُمْ ← مُؤَذِّنَ رَسُولِ اللَّهِ فِي يَوْمٍ مَطِيرٍ ← أَنَّهُ ← أَنَّ رَجُلًا مِنْ ثَقِيفٍ ← عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ أَوْسٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23554

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23555

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا لَيْثٌ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَبِي الْخَيْرِ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ حَدَّثَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَضْجَعَ أُضْحِيَّتَهُ لِيَذْبَحَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ أَعِنِّي عَلَى ضَحِيَّتِي فَأَعَانَهُ

ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کا جانور ذبح کرنے کے لئے پہلو کے بل لٹایا تو ایک آدمی سے فرمایا کہ قربانی میں میرا ہاتھ بٹاؤ، چنانچہ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ بٹایا۔

رَسُولُ اللَّهِ لِرَجُلٍ أَعِنِّي عَلَى ضَحِيَّتِي فَأَعَانَهُ ← رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ أَضْجَعَ أُضْحِيَّتَهُ لِيَذْبَحَهَا ← أبي الخير ان رجلا من الأنصار ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← لَيْثٌ، ← هَاشِمٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23555

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23556

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي يُوسُفُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ أَنَّ حَفْصَ بْنَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَعَمْرَو بْنَ حَنَّةَ أَخْبَرَاهُ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَعَنْ رِجَالٍ مِنْ الْأَنْصَارِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ وَالنَّبِيُّ فِي مَجْلِسٍ قَرِيبٍ مِنْ الْمَقَامِ فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي نَذَرْتُ لَئِنْ فَتَحَ اللَّهُ لِلنَّبِيِّ وَالْمُؤْمِنِينَ مَكَّةَ لَأُصَلِّيَنَّ فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ وَإِنِّي وَجَدْتُ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الشَّامِ هَاهُنَا فِي قُرَيْشٍ مُقْبِلًا مَعِي وَمُدْبِرًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَاهُنَا فَصَلِّ فَقَالَ الرَّجُلُ قَوْلَهُ هَذَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ كُلُّ ذَلِكَ يَقُولُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَاهُنَا فَصَلِّ ثُمَّ قَالَ الرَّابِعَةَ مَقَالَتَهُ هَذِهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اذْهَبْ فَصَلِّ فِيهِ فَوَالَّذِي بَعَثَ مُحَمَّدًا بِالْحَقِّ لَوْ صَلَّيْتَ هَاهُنَا لَقَضَى عَنْكَ ذَلِكَ كُلَّ صَلَاةٍ فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مقام ابراہیم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا اور کہنے لگا کہ اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں نے یہ منت مانی تھی کہ اگر اللہ نے آپ کو اور مسلمانوں کو مکہ مکرمہ پر فتح عطاء فرما دی تو میں بیت المقدس جا کر نماز پڑھوں گا مجھے شام کا ایک آدمی بھی مل گیا ہے جو یہاں قریش میں ہے وہ میرے ساتھ وہاں جائے گا اور واپس آئے گا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم وہ نماز یہیں پڑھ لو اس نے تین مرتبہ اپنی بات دہرائی ہر مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا کہ تم وہ نماز یہیں پڑھ لو، جب چوتھی مرتبہ ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جاؤ اور وہاں جا کر نماز پڑھ آؤ اس ذات کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا ہے اگر تم یہیں نماز پڑھ لیتے تو بیت المقدس کی تمام نمازیں یہاں ادا ہو جاتیں ۔

يُوسُفُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23556

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23557

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي يُوسُفُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ أَنَّ حَفْصَ بْنَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَعَمْرَو بْنَ حَنَّةَ أَخْبَرَاهُ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَهُ وَقَالَ هَاهُنَا فِي قُرَيْشٍ خَفِيرٌ لِي مُقْبِلًا وَمُدْبِرًا فَقَالَ هَاهُنَا فَصَلِّ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی اور کہا کہ تم وہ نماز یہیں پڑھ لو۔

يُوسُفُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23557

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23558

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْصِنِي قَالَ لَا تَغْضَبْ قَالَ قَالَ الرَّجُلُ فَفَكَّرْتُ حِينَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَالَ فَإِذَا الْغَضَبُ يَجْمَعُ الشَّرَّ كُلَّهُ

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) مجھے کوئی مختصر نصیحت فرمائیے شاید میری عقل میں آجائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا غصہ نہ کیا کرو، اس نے کئی مرتبہ اپنی درخواست دہرائی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر مرتبہ یہی جواب دیا کہ غصہ نہ کیا کرو۔

رَجُلٌ: ← رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23558

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23559

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُ النَّاسَ يُعْرَضُونَ عَلَيَّ وَعَلَيْهِمْ قُمُصٌ مِنْهَا مَا يَبْلُغُ الثَّدْيَ وَفِيهَا مَا يَبْلُغُ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ فَعُرِضَ عَلَيَّ عُمَرُ وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ يَجُرُّهُ قَالُوا فَمَا أَوَّلْتَ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الدِّينُ

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ میں سو رہا تھا تو میں نے خواب میں دیکھا کہ لوگ میرے سامنے پیش کئے جا رہے ہیں اور انہیں نے قمیضیں پہن رکھی ہیں لیکن کسی کی قمیض چھاتی تک اور کسی کی اس سے نیچے تک ہے جب حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ میرے پاس سے گذرے تو انہوں نے جو قمیض پہن رکھی تھی وہ زمین پر گھس رہی تھی ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا کہ یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم پھر آپ نے اس کی کیا تعبیر لی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دین۔

بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23559

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23560

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ وَعَلَى أَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ وَعَلَى أَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ قَالَ ابْنُ طَاوُسٍ وَكَانَ أَبِي يَقُولُ مِثْلَ ذَلِكَ

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے اے اللہ ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم ان کے اہل بیت یعنی ازواج مطہرات اور اولاد پر اپنی رحمتیں اسی طرح نازل فرما جیسے آل ابراہیم پر نازل فرمائیں بیشک تو قابل تعریف بزرگی والا ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم ان کے اہل بیت یعنی ازواج مطہرات اور اولاد پر اپنی برکتیں اسی طرح نازل فرما جیسے آل ابراہیم پر نازل فرمائیں بیشک تو قابل تعریف و بزرگی والا ہے۔

رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ← ابْنِ طَاوُسٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23560

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23561

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو الْقُرَشِيِّ حَدَّثَنِي مَنْ شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَ بِرَجْمِ رَجُلٍ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ فَلَمَّا أَصَابَتْهُ الْحِجَارَةُ فَرَّ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ فَهَلَّا تَرَكْتُمُوهُ

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کے متعلق حکم دیا کہ اسے مکہ اور مدینہ کے درمیان رجم کر دیا جائے جب اسے پتھر لگے تو وہ بھاگنے لگا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے اسے چھوڑ کیوں نہ دیا؟

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23561

chevron_left Previous
1…599600601…684
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter