Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20669

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا عُيَيْنَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ ذَنْبٍ أَحْرَى أَنْ يُعَجِّلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الْعُقُوبَةَ لِصَاحِبِهِ فِي الدُّنْيَا مَعَ مَا يَدَّخِرُ لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ الْبَغْيِ وَقَطِيعَةِ الرَّحِمِ

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سرکشی اور قطع رحمی سے بڑھ کر کوئی ایسا گناہ نہیں ہے کہ آخرت کے عذاب کے ساتھ اس گناہ گار کو دنیا میں بھی فوری سزا دی جائے۔

أَبِي بَكْرَةَ ← أَبِيهِ ← عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← إِسْمَاعِيلُ

Hadith 20669

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20670

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَحْسَبُهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ شَهْرَانِ لَا يَنْقُصَانِ شَهْرَا عِيدِ رَمَضَانَ وَذِي الْحِجَّةِ

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عید کے دو مہینے یعنی رمضان اور ذی الحجہ ثواب کے اعتبار سے کم نہیں ہوتے۔

شَهْرَانِ لَا يَنْقُصَانِ شَهْرَا عِيدِ رَمَضَانَ وَذِي الْحِجَّةِ ← النَّبِيِّ ← أَحْسِبُهُ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرَةَ ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← إِسْمَاعِيلُ

Hadith 20670

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20671

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ خَرَجْتُ فِي جَنَازَةِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ فَجَعَلَ رِجَالٌ مِنْ أَهْلِهِ يَسْتَقْبِلُونَ الْجِنَازَةَ فَيَمْشُونَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ وَيَقُولُونَ رُوَيْدًا بَارَكَ اللَّهُ فِيكُمْ قَالَ فَلَحِقَنَا أَبُو بَكْرَةَ مِنْ طَرِيقِ المِرْبَدِ فَلَمَّا رَأَى أُولَئِكَ وَمَا يَصْنَعُونَ حَمَلَ عَلَيْهِمْ بِبَغْلَتِهِ وَأَهْوَى لَهُمْ بِالسَّوْطِ وَقَالَ خَلُّوا فَوَالَّذِي كَرَّمَ وَجْهَ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ رَأَيْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّا لَنَكَادُ أَنْ نَرْمُلَ بِهَا وَقَالَ يَحْيَى مَرَّةً لَقَدْ رَأَيْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

عیینہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں میں عبدالرحمن بن سمرہ کے جنازے میں شریک ہوا تھا ان کے اہل خانہ میں سے کچھ لوگوں نے اپنے چہرے کا رخ جنازہ کی طرف کرلیا اور اپنی ایڑیوں کے بل الٹے چلنے لگے اور وہ کہتے جا رہے تھے کہ آہستہ چلو اللہ تمہیں برکت دے مربد کے راستے میں حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بھی جنازے میں شامل ہوئے جب انہوں نے ان لوگوں کو اور ان کی اس حرکت کو دیکھا تو اپنے خچر کو ان کی طرف بڑھایا اور کوڑا لے کر لپکے اور فرمایا اس کا راستہ چھوڑ دو اس ذات کی قسم جس نے ابوقاسم کے چہرے کو معزز فرمایا میں نے اپنے آپ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دیکھا ہے کہ ہم جنازے کو لے کر تیزی کے ساتھ چلتے تھے۔

أَبِي ← عُيَيْنَةَ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Hadith 20671

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20672

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الدَّجَّالُ أَعْوَرُ بِعَيْنِ الشِّمَالِ بَيْنَ عَيْنَيْهِ مَكْتُوبٌ كَافِرٌ يَقْرَؤُهُ الْأُمِّيُّ وَالْكَاتِبُ

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دجال کی بائیں آنکھ کانی ہوگی اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوگا جسے ہر ان پڑھ اور پڑھا لکھا آدمی پڑھ لے گا۔

أَبِي بَكْرَةَ ← أَبِي ← عُيَيْنَةَ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Hadith 20672

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20673

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَنْ يُفْلِحَ قَوْمٌ أَسْنَدُوا أَمْرَهُمْ إِلَى امْرَأَةٍ

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ قوم کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی جو اپنے معاملات ایک عورت کے حوالے کردے۔

لَنْ يَفْلَحَ قَوْمٌ أَسْنَدُوا أَمْرَهُمْ إِلَى امْرَأَةٍ. ← النَّبِيِّ ← أَبِي بَكْرَةَ ← أَبِي ← عُيَيْنَةَ ← يَحْيَى

Hadith 20673

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20674

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَتَلَ مُعَاهَدًا فِي غَيْرِ كُنْهِهِ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ أَنْ يَجِدَ رِيحَهَا

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جو شخص کسی معاہد کو ناحق قتل کردے اللہ اس پر جنت کی مہک کو حرام قرار دے دیتا ہے۔

أَبِي بَكْرَةَ ← أَبِي ← عُيَيْنَةَ ← يَحْيَى

Hadith 20674

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20675

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُيَيْنَةَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ ذَكَرْتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ عِنْدَ أَبِي بَكْرَةَ فَقَالَ مَا أَنَا بِطَالِبِهَا إِلَّا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ بَعْدَ شَيْءٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ تِسْعٍ يَبْقَيْنَ أَوْ سَبْعٍ يَبْقَيْنَ أَوْ خَمْسٍ يَبْقَيْنَ أَوْ ثَلَاثٍ يَبْقَيْنَ أَوْ آخِرِ لَيْلَةٍ

عبدالرحمن کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کے سامنے شب قدر کا ذکر ہوا تو انہوں نے فرمایا کہ میں تو اسے صرف آخری عشرے میں تلاش کروں گا کیونکہ میں اس کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ فرماتے ہوئے سنا ہے میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ شب قدر کو رمضان کے آخری عشرے میں تلاش کیا کرو۔ ٢١ویں،٢٣ویں،٢٥ویں شب، یا٢٧ویں شب یا آخری رات میں۔

مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ← بِطَالِبِهَا إِلَّا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ بَعْدَ شَيْءٍ ← مَا ← ذُكِرَتْ لَيْلَةُ الْقَدْرِ عِنْدَ أَبِي بَكْرَةَ، ← أَبِي ← عُيَيْنَةَ ← يَحْيَى

Hadith 20675

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20676

حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا أَشْعَثُ عَنْ زِيَادٍ الْأَعْلَمِ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّهُ رَكَعَ دُونَ الصَّفِّ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَادَكَ اللَّهُ حِرْصًا وَلَا تَعُدْ

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مروی ہے کہ انہوں نے صف میں شامل ہونے سے پہلے ہی رکوع کرلیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا اللہ تمہاری دینی حرص میں اضافہ کرے آئندہ ایسا نہ کرنا۔

لَهُ النَّبِيُّ «زَادَكَ اللَّهُ حِرْصًا وَلَا تَعُدْ» ← أَبِي بَكْرَةَ، أَنَّهُ رَكَعَ دُونَ الصَّفِّ ← الْحَسَنِ، ← زِيَادٍ الْأَعْلَمِ، ← أَشْعَثَ، ← يَحْيَى

Hadith 20676

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20677

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مُهَلَّبِ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ إِنِّي قُمْتُ رَمَضَانَ كُلَّهُ وَصُمْتُهُ قَالَ فَلَا أَدْرِي أَكَرِهَ التَّزْكِيَةَ أَمْ لَا فَلَا بُدَّ مِنْ غَفْلَةٍ أَوْ رَقْدَةٍ

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی شخص یہ نہ کہے میں نے سارے رمضان قیام کیا اور روزے رکھتا رہا کیونکہ غفلت یا نیند آجانے سے کوئی چارہ کار بھی نہیں ہے۔ ہوسکتا ہے کسی دن سوتا رہ جائے۔

فَلَا أَدْرِي أَكَرِهَ التَّزْكِيَةَ أَمْ لَا فَلَا بُدَّ مِنْ غَفْلَةٍ أَوْ رَقْدَةٍ ← لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ إِنِّي قُمْتُ رَمَضَانَ كُلَّهُ وَصُمْتُهُ ← النَّبِيِّ ← أَبِي بَكْرَةَ ← الْحَسَنِ، ← مُهَلَّبِ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Hadith 20677

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20678

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا قُرَّةُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ وَعَنْ رَجُلٍ آخَرَ وَهُوَ فِي نَفْسِي أَفْضَلُ مِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ عَبْد اللَّهِ قَالَ غَيْرُ أَبِي عَنْ يَحْيَى فِي هَذَا الْحَدِيثِ أُفَضِّلُ فِي نَفْسِي حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ النَّاسَ بِمِنًى فَقَالَ أَلَا تَدْرُونَ أَيُّ يَوْمٍ هَذَا قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ فَقَالَ أَلَيْسَ بِيَوْمِ النَّحْرِ قُلْنَا نَعَمْ قَالَ أَيُّ بَلَدٍ هَذَا قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ أَلَيْسَ بِالْبَلْدَةِ قُلْنَا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ وَأَبْشَارَكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ قُلْنَا نَعَمْ قَالَ اللَّهُمَّ اشْهَدْ لِيُبَلِّغْ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ فَإِنَّهُ رُبَّ مُبَلِّغٍ يُبَلِّغُهُ مَنْ هُوَ أَوْعَى لَهُ مِنْهُ فَكَانَ كَذَلِكَ وَقَالَ لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ حَرْقِ ابْنِ الْحَضْرَمِيِّ حَرَّقَهُ جَارِيَةُ بْنُ قُدَامَةَ قَالَ أَشْرَفُوا عَلَى أَبِي بَكْرَةَ فَقَالُوا هَذَا أَبُو بَكْرَةَ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَحَدَّثَتْنِي أُمِّي أَنَّ أَبَا بَكْرَةَ قَالَ لَوْ دَخَلُوا عَلَيَّ مَا بَهَشْتُ إِلَيْهِمْ بِقَصَبَةٍ

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر منی میں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ بتاؤ کہ آج کون سا دن ہے؟ ہم نے عرض کی کہ اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ بہتر جانتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اتنی دیر خاموش رہے۔ کہ ہم یہ سمجھے کہ شاید نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کا دوسرا نام بتائیں گے لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا یہ یوم النحر نہیں ہے ہم نے عرض کیا کیوں نہیں پھر فرمایا یہ کون سا مہینہ ہے ہم نے عرض کی اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اتنی دیر خاموش رہے کہ ہم یہ شاید سمجھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کا دوسرا نام بتائیں گے لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا یہ ذی الحجہ کا مہینہ نہیں ہے ہم نے عرض کیا کیوں نہیں پھر فرمایا کہ یہ کون سا شہر ہے ہم نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم حسب سابق خاموش رہے پھر فرمایا کیا یہ شہر حرم نہیں ہے ہم نے عرض کیا کیوں نہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری جان اور مال اور عزت آبرو ایک دوسرے کے لئے اسی طرح قابل احترام ہے جیسا کہ اس شہر میں اس مہینے کے اس دن کی حرمت ہے اور عنقریب تم اپنے رب سے ملو گے اور وہ تم سے تمہارے اعمال کے متعلق پوچھے گا۔ یاد رکھو میرے بعد گمراہ نہ ہوجانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔ کیا میں نے پیغام الٰہی پہنچادیا تم میں سے جو موجود ہے وہ غائبین تک یہ پیغام پہنچادے کیونکہ بعض اوقات جسے پیغام پہنچایا جاتا ہے وہ سننے والے سے زیادہ محفوظ رکھتا ہے راوی کہتے ہیں کہ ایسا ہی ہوا۔ جس دن جاریہ بن قدامہ نے ابن حضرمی کو آگ میں جلایا تو وہ حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کی طرف بڑھے تو کہنے لگے یہ ہیں ابوبکرہ رضی اللہ عنہ ، راوی کہتے ہیں حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر یہ لوگ میرے پاس آئے تو میں لکڑی سے بھی ان پر حملہ نہ کروں۔

غَيْرُ أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي بَكْرَةَ ← رَجُلٍ آخَرَ وَهُوَ فِي نَفْسِي أَفْضَلُ مِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرَةَ ← مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ ← قُرَّۃَ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Hadith 20678

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20679

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ أَشْعَثَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهَؤُلَاءِ الرَّكْعَتَيْنِ وَهَؤُلَاءِ الرَّكْعَتَيْنِ فَكَانَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعًا وَلَهُمْ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کسوف میں ایک گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں پھر دوسرے گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں اس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تو چار رکعتیں ہوگئی اور لوگوں کی دو دو رکعتیں ہوگئی۔

أَبِي بَكْرَةَ ← الْحَسَنِ، ← أَشْعَثَ، ← يَحْيَى

Hadith 20679

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20680

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ الشَّحَّامُ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے بعد یہ دعا فرماتے تھے اے اللہ میں کفر، فقر، اور عذاب قبر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔

أَبِيهِ ← مُسْلِمِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، ← عُثْمَانَ الشَّحَّامِ، ← وَكِيعٌ،

Hadith 20680

chevron_left Previous
1234…684
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter