Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17991

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ قَالَ أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ فَذَكَرَهُ

حضرت مالک بن صعصعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ میں بیت اللہ کے قریب سونے اور جاگنے کے درمیان تھا کہ تین میں سے ایک آدمی دو آدمیوں کے درمیان آگے آیا، پھر میرے پاس سونے کا ایک طشت لایا گیا جو حکمت اور ایمان سے بھرپور تھا، اس نے سینے سے لے کر پیٹ تک میرا جسم چاک کیا اور دل کو آب زم زم سے دھویا، اور اسے حکمت و ایمان سے لبریز کر دیا گیا، پھر میرے پاس ایک جانور لایا گیا جو خچر سے چھوٹا اور گدھے سے بڑا تھا جس کا ایک قدم منتہائے نظر پر پڑتا تھا، اور میں حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ روانہ ہوگیا۔ ہم آسمان دنیا پر پہنچے، پوچھا گیا کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا جبریل! پوچھا گیا کہ آپ کے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے بتایا محمد صلی اللہ علیہ وسلم! پوچھا گیا کہ کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا جی ہاں ! فرشتوں نے کہا خوش آمدید! ایک بہترین آنے والا آیا، وہاں میں حضرت آدم علیہ السلام کے پاس پہنچا اور انہیں سلام کیا، انہوں نے فرمایا خوش آمدید ہو بیٹے کو اور نبی کو خوش آمدید، ایک بہترین آنے والا آیا۔ دوسرے آسمان پر بھی یہی سوال وجواب ہوئے اور وہاں حضرت یحیی وعیسی علیہ السلام سے ملاقات ہوئی، انہوں نے بھی بیٹے کی بجائے بھائی کہا، تیسرے آسمان پر بھی یہی سوال وجواب ہوئے اور وہاں حضرت یوسف علیہ السلام سے ملاقات ہوئی، انہوں نے بھی بیٹے کی بجائے بھائی کہا، چوتھے آسمان پر بھی یہی سوال وجواب ہوئے اور وہاں حضرت ادریس علیہ السام سے ملاقات ہوئی، انہوں نے بھی بھائی کہا، پانچویں آسمان پر بھی یہی سوال وجواب ہوئے اور وہاں حضرت ہارون علیہ السلام سے ملاقات ہوئی، انہوں بھی بھائی کہا، چھٹے آسمان پر بھی یہی سوال وجواب ہوئے اور وہاں حضرت موسی علیہ السلام سے ملاقات ہوئی انہوں نے بھی بھائی کہا، جب میں حضرت موسی علیہ السلام سے مل کر آگے بڑھا تو وہ رونے لگے پوچھا گیا کہ آپ کیوں رو رہے ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ پروردگار! یہ نوجوان جسے آپ نے میرے بعد مبعوث فرمایا: اس کی امت میری امت سے زیادہ تعداد میں جنت میں داخل ہوگی، پھر ہم ساتویں آسمان پر پہنچے اور وہاں بھی یہی سوال جواب ہوئے، وہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ملاقات ہوئی اور میں نے انہیں سلام کیا تو انہوں نے فرمایا خوش آمدید ہو بیٹے کو اور نبی کو۔ پھر میرے سامنے بیت المعمور کو پیش کیا گیا، میں نے جبرائیل علیہ السلام سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں بتایا کہ یہ بیت المعمور ہے، اس میں روزانہ ستر ہزار فرشتے نماز پڑھتے ہیں اور جب ایک مرتبہ باہر آجاتے ہیں تو دوبارہ کبھی داخل ہونے کی نوبت نہیں آتی، پھر میرے سامنے سدرۃ المنتہی کو پیش کیا گیا، اس کے بیر ہجر کے مٹکوں جیسے تھے اور اس کے پتے ہاتھی کے کانوں کے برابر تھے، اور اس کی جڑ میں چار نہریں جاری تھیں جن میں دو نہریں باطنی اور دو ظاہری تھیں ، میں نے جبرائیل علیہ السلام سے ان کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا باطنی نہریں تو جنت میں ہیں اور ظاہری نیل اور فرات ہیں ۔ پھر میرے سامنے ایک برتن شراب کا اور ایک برتن دودھ کا پیش کیا گیا اور ایک برتن شہد کا، میں نے دودھ والا برتن لے لیا، تو حضرت جبرائیل علیہ السلام کہنے لگے کہ یہی فطرت صحیحہ ہے جس پر آپ اور آپ کی امت ہے۔ پھر مجھ پر پچاس نمازیں فرض قرار دی گئیں ، میں حضرت موسی علیہ السلام کے پاس سے گذرا تو وہ کہنے لگے کہ کیا معاملہ ہوا؟ میں نے بتایا کہ مجھ پر پچاس نمازیں فرض کی گئی ہیں ، حضرت موسی علیہ السلام نے فرمایا کہ میں لوگوں کی طبیعت سے اچھی طرح واقف ہوں ، میں نے بنی اسرائیل کو خوب اچھی طرح آزمایا تھا، آپ کی امت اس کی طاقت نہیں رکھے گی، اس لئے آپ اپنے رب کے پاس واپس جائیے اور ان سے درخواست کیجئے کہ اس کی تعداد میں کمی کر دیں، چنانچہ میں اپنے رب کے پاس واپس آیا اور ان سے تخفیف کی درخواست کی تو پروردگار نے ان کی تعداد چالیس مقرر کر دی، پھر دوبارہ حضرت موسی علیہ السلام کے پاس سے گذر ہوا تو یہی سوال جواب ہوئے اور دس نمازیں مزید کم ہوگئیں ، اسی طرح دس دس کم ہوتے ہوتے آخری مرتبہ پانچ کم ہوئیں اور صرف پانچ نمازیں رہ گئیں ، اس مرتبہ بھی حضرت موسی علیہ السلام نے تخفیف کرانے کا مشورہ دیا لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب مجھے اپنے رب سے شرم آتی ہے کہ کتنی مرتبہ اس کے پاس جاؤں ، اسی اثناء میں آواز آئی کہ میں نے اپنا فریضہ مقرر کر دیا، اور اپنے بندوں سے تخفیف کردی، اور میں ایک نیکی کا بدلہ دس گنا عطا کروں گا۔گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے معمولی فرق کے ساتھ بھی مروی ہے۔

مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ فَذَكَرَهُ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17991

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17992

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي الْعَطَّارَ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى عَنْ أَبِي زَيْدٍ مَوْلَى ثَعْلَبَةَ عَنْ مَعْقِلِ بْنِ أَبِي مَعْقِلٍ الْأَسَدِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَتَيْنِ بِبَوْلٍ أَوْ غَائِطٍ

حضرت معقل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پیشاب پائخانہ کرتے وقت قبلہ رخ ہو کر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے۔

مَعْقِلِ بْنِ أَبِي مَعْقِلٍ الْأَسَدِيِّ ← أبي زيد مولى ثعلبة ← عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، ← دَاودُ يَعْنِي الْعَطَّارَ، ← أَبُو النَّضْرِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17992

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17993

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ هِشَامٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ مَعْقِلِ بْنِ أَبِي مَعْقِلٍ الْأَسَدِيِّ قَالَ أَرَادَتْ أُمِّي الْحَجَّ وَكَانَ جَمَلُهَا أَعْجَفَ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اعْتَمِرِي فِي رَمَضَانَ فَإِنَّ عُمْرَةً فِي رَمَضَانَ كَحَجَّةٍ

حضرت معقل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میری والدہ نے حج کا ارادہ کیا لیکن ان کا اونٹ بہت کمزور تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جب یہ بات ذکر کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم رمضان میں عمرہ کر لو، کیونکہ رمضان میں عمرہ کرنا حج کی طرح ہے۔

اعْتَمِرِي فِي رَمَضَانَ فَإِنَّ عُمْرَةً فِي رَمَضَانَ كَحَجَّةٍ ← ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ ← أَرَادَتْ أُمِّي الْحَجَّ وَكَانَ جَمَلُهَا أَعْجَفَ ← مَعْقِلِ بْنِ أَبِي مَعْقِلٍ الْأَسَدِيِّ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← هِشَامٍ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17993

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17994

حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى عَنْ أَبِي زَيْدٍ عَنْ مَعْقِلِ بْنِ أَبِي مَعْقِلٍ الْأَسَدِيِّ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُسْتَقْبَلَ الْقِبْلَتَانِ بِغَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ

حضرت معقل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب پائخانہ کرتے وقت قبلہ رخ ہو کر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے۔

نَهَى رَسُولُ اللَّهِ أَنْ تُسْتَقْبَلَ الْقِبْلَتَانِ بِغَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ ← مَعْقِلِ بْنِ أَبِي مَعْقِلٍ الْأَسَدِيِّ ← أَبِي زَيْدٍ ← عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، ← وُهَيْبٌ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17994

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17995

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى عَنْ أَبِي زَيْدٍ عَنْ مَعْقِلِ بْنِ أَبِي مَعْقِلٍ أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمَّ مَعْقِلٍ فَاتَهَا الْحَجُّ مَعَكَ قَالَ فَخَرَجَتْ حِينَ فَاتَهَا الْحَجُّ مَعَكَ قَالَ فَلْتَعْتَمِرْ فِي رَمَضَانَ فَإِنَّ عُمْرَةً فِي رَمَضَانَ كَحَجَّةٍ

حضرت معقل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) میری والدi سے آپ کی معیت میں حج چھوٹ گیا ہے جس کا انہیں بہت دکھ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم رمضان میں عمرہ کر لو، کیونکہ رمضان میں عمرہ کرنا حج کی طرح ہے۔

مَعْقِلِ بْنِ أَبِي مَعْقِلٍ أَنَّهُ ← أَبِي زَيْدٍ ← عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، ← وُهَيْبٌ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17995

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17996

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا حَرِيزٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ بُسْرِ بْنِ جَحَّاشٍ الْقُرَشِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَصَقَ يَوْمًا فِي كَفِّهِ فَوَضَعَ عَلَيْهَا أُصْبُعَهُ ثُمَّ قَالَ قَالَ اللَّهُ ابْنَ آدَمَ أَنَّى تُعْجِزُنِي وَقَدْ خَلَقْتُكَ مِنْ مِثْلِ هَذِهِ حَتَّى إِذَا سَوَّيْتُكَ وَعَدَلْتُكَ مَشَيْتَ بَيْنَ بُرْدَيْنِ وَلِلْأَرْضِ مِنْكَ وَئِيدٌ فَجَمَعْتَ وَمَنَعْتَ حَتَّى إِذَا بَلَغَتْ التَّرَاقِيَ قُلْتَ أَتَصَدَّقُ وَأَنَّى أَوَانُ الصَّدَقَةِ

حضرت بسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ پر تھوکا اور اس پر انگلی رکھ کر فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ابن آدم! تو مجھے کس طرح عاجز کرسکتا ہے جبکہ میں نے تجھے اس جیسی چیز سے پیدا کیا ہے؟ جب میں نے تجھے برابر اور معتدل بنا دیا تو تو دو چادروں کے درمیان چلنے لگا اور زمین پر تیری چاپ سنائی دینے لگی، تو جمع کر کے روک کر رکھتا رہا، جب روح نکل کر ہنسلی کی ہڈی میں پہنچی تو کہتا ہے کہ میں یہ چیز صدقہ کرتا ہوں ، لیکن اب صدقہ کرنے کا وقت کہاں رہا؟

بسر بن جحاش القرشي ← جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَيْسَرَةَ ← حَرِيزٌ ← أَبُو النَّضْرِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17996

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17997

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَ ثَنَا حَرِيزٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ بُسْرِ بْنِ جَحَّاشٍ الْقُرَشِيِّ قَالَ بَزَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى كَفِّهِ فَقَالَ ابْنَ آدَمَ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ

حضرت بسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ پر تھوکا اور اس پر انگلی رکھ کر فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ابن آدم! تو مجھے کس طرح عاجز کرسکتا ہے جبکہ میں نے تجھے اس جیسی چیز سے پیدا کیا ہے؟ جب میں نے تجھے برابر اور معتدل بنا دیا تو تو دو چادروں کے درمیان چلنے لگا اور زمین پر تیری چاپ سنائی دینے لگی، تو جمع کر کے روک کر رکھتا رہا، جب روح نکل کر ہنسلی کی ہڈی میں پہنچی تو کہتا ہے کہ میں یہ چیز صدقہ کرتا ہوں ، لیکن اب صدقہ کرنے کا وقت کہاں رہا؟

بَزَقَ النَّبِيُّ عَلَى كَفِّهِ فَقَالَ ابْنَ آدَمَ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ ← بسر بن جحاش القرشي ← جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَيْسَرَةَ ← حَرِيزٌ ← حَسَنُ بْنُ مُوسَی

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17997

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17998

حَدَّثَنَاه أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا حَرِيزٌ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَيْسَرَةَ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ بُسْرِ بْنِ جَحَّاشٍ الْقُرَشِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَصَقَ يَوْمًا فِي يَدِهِ فَوَضَعَ عَلَيْهَا أُصْبُعَهُ ثُمَّ قَالَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بَنِي آدَمَ أَنَّى تُعْجِزُنِي وَقَدْ خَلَقْتُكَ مِنْ مِثْلِ هَذِهِ حَتَّى إِذَا سَوَّيْتُكَ وَعَدَلْتُكَ مَشَيْتَ بَيْنَ بُرْدَيْنِ وَلِلْأَرْضِ مِنْكَ وَئِيدٌ فَجَمَعْتَ وَمَنَعْتَ حَتَّى إِذَا بَلَغَتْ التَّرَاقِيَ قُلْتَ أَتَصَدَّقُ وَأَنَّى أَوَانُ الصَّدَقَةِ

حضرت بسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ پر تھوکا اور اس پر انگلی رکھ کر فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ابن آدم! تو مجھے کس طرح عاجز کرسکتا ہے جبکہ میں نے تجھے اس جیسی چیز سے پیدا کیا ہے؟ جب میں نے تجھے برابر اور معتدل بنا دیا تو تو دو چادروں کے درمیان چلنے لگا اور زمین پر تیری چاپ سنائی دینے لگی، تو جمع کر کے روک کر رکھتا رہا، جب روح نکل کر ہنسلی کی ہڈی میں پہنچی تو کہتا ہے کہ میں یہ چیز صدقہ کرتا ہوں ، لیکن اب صدقہ کرنے کا وقت کہاں رہا؟

بسر بن جحاش القرشي ← جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَيْسَرَةَ ← حَرِيزٌ ← أَبُو الْمُغِيرَةِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17998

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17999

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ ثَنَا حَرِيزٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَيْسَرَةَ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ بُسْرِ بْنِ جَحَّاشٍ الْقُرَشِيِّ فَذَكَرَهُ وَلَمْ يَقُلْ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَقَالَ وَأَنَّى أَوَانُ الصَّدَقَةِ

حضرت بسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ پر تھوکا اور اس پر انگلی رکھ کر فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ابن آدم! تو مجھے کس طرح عاجز کرسکتا ہے جبکہ میں نے تجھے اس جیسی چیز سے پیدا کیا ہے؟ جب میں نے تجھے برابر اور معتدل بنا دیا تو تو دو چادروں کے درمیان چلنے لگا اور زمین پر تیری چاپ سنائی دینے لگی، تو جمع کر کے روک کر رکھتا رہا، جب روح نکل کر ہنسلی کی ہڈی میں پہنچی تو کہتا ہے کہ میں یہ چیز صدقہ کرتا ہوں ، لیکن اب صدقہ کرنے کا وقت کہاں رہا؟

اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَقَالَ وَأَنَّى أَوَانُ الصَّدَقَةِ ← بُسْرِ بْنِ جَحَّاشٍ الْقُرَشِيِّ فَذَكَرَهُ وَلَمْ يَقُلْ ← جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَيْسَرَةَ ← حَرِيزٌ ← أَبُو الْيَمَانِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17999

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18000

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ كَثِيرٍ عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطٍ عَنْ أَبِيهِ وَافِدِ بَنِي الْمُنْفِقِ وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ الْمُنْتَفِقِ أَنَّهُ انْطَلَقَ هُوَ وَصَاحِبٌ لَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَجِدَاهُ فَأَطْعَمَتْهُمَا عَائِشَةُ تَمْرًا وَعَصِيدَةً فَلَمْ نَلْبَثْ أَنْ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَقَلَّعُ يَتَكَفَّأُ فَقَالَ أَطْعَمْتِهِمَا قُلْنَا نَعَمْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَسْأَلُكَ عَنْ الصَّلَاةِ قَالَ أَسْبِغْ الْوُضُوءَ وَخَلِّلْ الْأَصَابِعَ وَإِذَا اسْتَنْشَقْتَ فَأَبْلِغْ إِلَّا أَنْ تَكُونَ صَائِمًا قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لِي امْرَأَةٌ فَذَكَرَ مِنْ بَذَائِهَا قَالَ طَلِّقْهَا قُلْتُ إِنَّ لَهَا صُحْبَةً وَوَلَدًا قَالَ مُرْهَا أَوْ قُلْ لَهَا فَإِنْ يَكُنْ فِيهَا خَيْرٌ فَسَتَفْعَلْ وَلَا تَضْرِبْ ظَعِينَتَكَ ضَرْبَكَ أُمَيَّتَكَ فَبَيْنَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ دَفَعَ الرَّاعِي الْغَنَمَ فِي الْمُرَاحِ عَلَى يَدِهِ سَخْلَةٌ فَقَالَ أَوَلَّدْتَ قَالَ نَعَمْ قَالَ مَاذَا قَالَ بَهْمَةً قَالَ اذْبَحْ مَكَانَهَا شَاةً ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيَّ فَقَالَ لَا تَحْسَبَنَّ وَلَمْ يَقُلْ لَا يَحْسَبَنَّ أَنَّ مَا ذَبَحْنَاهَا مِنْ أَجْلِكَ لَنَا غَنَمٌ مِائَةٌ لَا نُحِبُّ أَنْ تَزِيدَ عَلَيْهَا فَإِذَا وَلَّدَ الرَّاعِي بَهْمَةً أَمَرْنَاهُ فَذَبَحَ مَكَانَهَا شَاةً

حضرت لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اپنے ایک ساتھی کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نہ ملے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں کھجوریں کھلائیں اور گھی آٹا ملا کر ہمارے لئے کھانا تیار کیا، اسی اثناء میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی جھک کر چلتے ہوئے تشریف لے آئے اور فرمایا تم نے کچھ کھایا بھی ہے؟ ہم نے عرض کیا جی یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) اسی دوران بکریوں کے باڑے میں سے ایک چرواہے نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بکری کا ایک بچہ پیش کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم پوچھا کیا بکری نے بچہ دیا ہے؟ اس نے کہا جی ہاں ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر ایک بکری ذبح کرو اور ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا یہ نہ سمجھنا کہ ہم نے صرف تمہاری وجہ سے اسے ذبح کیا ہے، بلکہ بات یہ ہے کہ ہمارا بکریوں کا ریوڑ ہے، جب بکریوں کی تعداد سو تک پہنچ جاتی ہے تو ہم اس میں سے ایک ذبح کر لیتے ہیں ، ہم نہیں چاہتے کہ ان کی تعداد سو سے زیادہ ہو، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) مجھے وضو کے متعلق بتائیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب وضو کیا کرو تو خوب اچھی طرح کیا کرو اور انگلیوں کا خلال بھی کیا کرو، اور جب تم ناک میں پانی ڈالا کرو تو خوب مبالغہ کیا کرو، الاّ یہ کہ تم روزے سے ہو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) میری بیوی بڑی زبان دراز اور بے ہودہ گوہ ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے طلاق دے دو، میں نے کہا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) وہ کافی عرصے میرے یہاں ہے اور اس سے میری اولاد بھی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر اسے اپنے پاس رکھ کر سمجھاتے رہو، اگر اس میں کوئی خیر ہوئی تو وہ تمہاری بات مان لے گی، لیکن اپنی بیوی کو اپنی باندی کی طرح نہ مارنا۔

عَبْدُ الرَّزَّاقِ الْمُنْتَفِقِ ← أَبِيهِ وَافِدِ بَنِي الْمُنْفِقِ ← عَاصِمِ بْنِ لَقِيطٍ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ كَثِيرٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18000

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18001

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا بُرْدَةَ قَالَ سَمِعْتُ الْأَغَرَّ رُجْلًا مِنْ جُهَيْنَةَ يُحَدِّثُ ابْنَ عُمَرَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ تُوبُوا إِلَى رَبِّكُمْ فَإِنِّي أَتُوبُ إِلَيْهِ فِي الْيَوْمِ مِائَةَ مَرَّةٍ

حضرت اغر مزنی رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث بیان کی کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اے لوگو! اپنے رب سے توبہ کرتے رہا کرو اور میں بھی ایک دن میں سو سو مرتبہ اس سے توبہ کرتا ہوں ۔

رَسُولِ اللَّهِ ← ابْنِ عُمَرَ:أَنَّہُ ← اْلَٔاغَرَٔ۔رَجُلاَ ِمنْ جُھَیْنَۃَ ← أَبَا بُرْدَةَ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18001

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18002

حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ عَنِ الْأَغَرِّ الْمُزَنِيِّ قَالَ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ لَيُغَنُّ عَلَى قَلْبِي فَإِنِّي أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ فِي الْيَوْمِ مِائَةَ مَرَّةٍ

حضرت اغر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بعض اوقات میرے دل پر بھی غبار چھا جاتا ہے اور میں روزانہ سو مرتبہ اللہ سے استغفار کرتا ہوں ۔

وكانت له صحبة ← الْأَغَرِّ الْمُزَنِيِّ ← أَبُو بُرْدَةَ ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ -يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ-، ← يُونُسَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18002

chevron_left Previous
1…888990…111
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter