Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17979

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ قَالَ ثَنَا الْفَرَجُ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَإِنْ اجْتَهَدْتَ فَأَصَبْتَ الْقَضَاءَ فَلَكَ عَشَرَةُ أُجُورٍ وَإِنْ اجْتَهَدْتَ فَأَخْطَأْتَ فَلَكَ أَجْرٌ وَاحِدٌ

حضرت عمرو بن عاص سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو آدمی اپنا جھگڑا لے کر آئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرو رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اے عمرو! ان کے درمیان تم فیصلہ کرو، انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے زیادہ آپ اس کے حقدار ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے عمرو! ان کے درمیان تم فیصلہ کرو، انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے زیادہ آپ اس کے حقدار ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے باوجود میں تمہیں یہی حکم دیتا ہوں ، انہوں نے کہا کہ اگر میں ان کے درمیان فیصلہ کر دوں تو مجھے کیا ثواب ملے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم نے ان کے درمیان فیصلہ کیا اور صحیح کیا تو تمہیں دس نیکیاں ملیں گی اور اگر تم نے محنت تو کی لیکن فیصلہ میں غلطی ہوگئی تو تمہیں ایک نیکی ملے گی۔

النَّبِيِّ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّهُ ← عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، ← الْفَرَجُ ← هَاشِمٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17979

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17980

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَا ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْخَطْمِيِّ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ كُنَّا مَعَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فِي حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِمَرِّ الظَّهْرَانِ فَإِذَا امْرَأَةٌ فِي هَوْدَجِهَا قَدْ وَضَعَتْ يَدَهَا عَلَى هَوْدَجِهَا قَالَ فَمَالَ فَدَخَلَ الشِّعْبَ فَدَخَلْنَا مَعَهُ فَقَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَكَانِ فَإِذَا نَحْنُ بِغِرْبَانٍ كَثِيرَةٍ فِيهَا غُرَابٌ أَعْصَمُ أَحْمَرُ الْمِنْقَارِ وَالرِّجْلَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ النِّسَاءِ إِلَّا مِثْلُ هَذَا الْغُرَابِ فِي هَذِهِ الْغِرْبَانِ قَالَ حَسَنٌ فَإِذَا امْرَأَةٌ فِي يَدَيْهَا حَبَائِرُهَا وَخَوَاتِيمُهَا قَدْ وَضَعَتْ يَدَيْهَا وَلَمْ يَقُلْ حَسَنٌ بِمَرِّ الظَّهْرَانِ

عمارہ بن خزیمہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حج یا عمرہ کے سفر میں حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، وہ کہنے لگے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ اسی جگہ پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیکھو! تمہیں کچھ دکھائی دے رہا ہے؟ ہم نے عرض کیا کہ چند کوے نظر آرہے ہیں ، جن میں ایک سفید کوا بھی ہے جس کی چونچ اور دونوں پاؤں سرخ رنگ کے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنت میں صرف وہی عورتیں داخل ہو سکیں گی جو کووں کی اس جماعت میں اس کوے کی طرح ہوں گی۔

عُمَارَۃَ بْنِ خُزَیْمَۃَ بْنِ ثَابِتِ ← أَبِي جَعْفَرٍ الْخَطْمِيِّ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَحَسْنُ بْنُ مُوسَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17980

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17981

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ ابْنِ شِمَاسَةَ أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ قَالَ لَمَّا أَلْقَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي قَلْبِي الْإِسْلَامَ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُبَايِعَنِي فَبَسَطَ يَدَهُ إِلَيَّ فَقُلْتُ لَا أُبَايِعُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ حَتَّى تَغْفِرَ لِي مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِي قَالَ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَمْرُو أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْهِجْرَةَ تَجُبُّ مَا قَبْلَهَا مِنْ الذُّنُوبِ يَا عَمْرُو أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْإِسْلَامَ يَجُبُّ مَا كَانَ قَبْلَهُ مِنْ الذُّنُوبِ

حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جب اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں اسلام کی حقانیت پیدا فرما دی تو میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں بیعت کے لئے حاضر ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک میری جانب بڑھایا، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم میں اس وقت تک آپ سے بیعت نہیں کروں گا جب تک آپ میری گذشتہ لغزشات کو معاف نہیں کر دیتے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عمرو! کیا تم نہیں جانتے کہ ہجرت اپنے سے پہلے کے تمام گناہ مٹا دیتی ہے؟ اے عمرو! کیا تم نہیں جانتے کہ اسلام اپنے سے پہلے کے تمام گناہوں کو مٹا دیتا ہے! ۔

أَتَيْتُ النَّبِيَّ لِيُبَايِعَنِي فَبَسَطَ يَدَهُ إِلَيَّ فَقُلْتُ لَا أُبَايِعُكَ ← لَمَّا أَلْقَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي قَلْبِي الْإِسْلَامَ ← ابْنِ شِمَاسَةَ أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17981

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17982

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ زَعَمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ قَالَ أَشَجُّ بْنُ عَصَرٍ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ فِيكَ خُلَّتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قُلْتُ مَا هُمَا قَالَ الْحِلْمُ وَالْحَيَاءُ قُلْتُ أَقَدِيمًا كَانَ فِيَّ أَمْ حَدِيثًا قَالَ بَلْ قَدِيمًا قُلْتُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَبَلَنِي عَلَى خُلَّتَيْنِ يُحِبُّهُمَا

حضرت اشج بن عصر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تمہارے اندر دو خصلتیں ایسی ہیں جو اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہیں ، میں نے پوچھا وہ کون سی خصلتیں ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حلم اور حیا، میں نے پوچھا کہ یہ عادتیں مجھ میں شروع سے تھیں یا بعد میں پیدا ہوئی ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شروع سے ہیں ، میں نے شکر الٰہی ادا کرتے ہوئے کہا اس اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے اپنی دو پسندیدہ خصلتوں پر پیدا کیا۔

لِي رَسُولُ اللَّهِ ← أَشَجُّ بْنُ عَصَرٍ: ← زَعَمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ، ← يُونُسَ ← إِسْمَاعِيلُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17982

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17983

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا عَوْفٌ حَدَّثَنِي أَبُو الْقَمُوصِ زَيْدُ بْنُ عَلِيٍّ قَالَ حَدَّثَنِي أَحَدُ الْوَفْدِ الَّذِينَ وَفَدُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ قَالَ وَأَهْدَيْنَا لَهُ فِيمَا يُهْدَى نَوْطًا أَوْ قِرْبَةً مِنْ تَعْضُوضٍ أَوْ بَرْنِيٍّ فَقَالَ مَا هَذَا قُلْنَا هَذِهِ هَدِيَّةٌ قَالَ وَأَحْسِبُهُ نَظَرَ إِلَى تَمْرَةٍ مِنْهَا فَأَعَادَهَا مَكَانَهَا وَقَالَ أَبْلِغُوهَا آلَ مُحَمَّدٍ قَالَ فَسَأَلَهُ الْقَوْمُ عَنْ أَشْيَاءَ حَتَّى سَأَلُوهُ عَنْ الشَّرَابِ فَقَالَ لَا تَشْرَبُوا فِي دُبَّاءٍ وَلَا حَنْتَمٍ وَلَا نَقِيرٍ وَلَا مُزَفَّتٍ اشْرَبُوا فِي الْحَلَالِ الْمُوكَى عَلَيْهِ فَقَالَ لَهُ قَائِلُنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا يُدْرِيكَ مَا الدُّبَّاءُ وَالْحَنْتَمُ وَالنَّقِيرُ وَالْمُزَفَّتُ قَالَ أَنَا لَا أَدْرِي مَا هِيَهْ أَيُّ هَجَرٍ أَعَزُّ قُلْنَا الْمُشَقَّرُ قَالَ فَوَاللَّهِ لَقَدْ دَخَلْتُهَا وَأَخَذْتُ إِقْلِيدَهَا قَالَ وَكُنْتُ قَدْ نَسِيتُ مِنْ حَدِيثِهِ شَيْئًا فَأَذْكَرَنِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي جَرْوَةَ قَالَ وَقَفْتُ عَلَى عَيْنِ الزَّارَةِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِعَبْدِ الْقَيْسِ إِذْ أَسْلَمُوا طَائِعِينَ غَيْرَ كَارِهِينَ غَيْرَ خَزَايَا وَلَا مَوْتُورِينَ إِذْ بَعْضُ قَوْمِنَا لَا يُسْلِمُونَ حَتَّى يُخْزَوْا وَيُوتَرُوا قَالَ وَابْتَهَلَ وَجْهُهُ هَاهُنَا مِنْ الْقِبْلَةِ يَعْنِي عَنْ يَمِينِ الْقِبْلَةِ حَتَّى اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ ثُمَّ يَدْعُو لِعَبْدِ الْقَيْسِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ خَيْرَ أَهْلِ الْمَشْرِقِ عَبْدُ الْقَيْسِ

بنو عبدالقیس کے وفد میں شریک ایک صاحب بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ہدایا میں تعضوض یا برنی کھجوروں کی ایک ٹوکری بھی لے کر آئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ کیا ہے؟ ہم نے بتایا کہ یہ ہدیہ ہے، غالباً نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ایک کھجور نکال کر دیکھی پھر واپس رکھ کر فرمایا کہ یہ ٹوکری آل محمد کو پہنچا دو۔ لوگوں نے اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مختلف سوالات پوچھے تھے، جن میں سے ایک سوال پینے کے برتنوں سے متعلق بھی تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دباء، حنتم، نقیر اور مزفت میں پانی یا نبیذ مت پیو، اس حلال برتن میں پیا کرو جس کا منہ بندھا ہوا ہو، ہم میں سے ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ کو معلوم ہے کہ دباء حنتم نقیر اور مزفت کیا ہوتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے خوب اچھی طرح معلوم ہیں کہ وہ کیسے برتن ہوتے ہیں ، یہ بتاؤ کہ ہجر کا کون سا علاقہ سب سے زیادہ معزز ہے؟ ہم نے کہا شقر، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بخدا! میں اس میں داخل ہوا ہوں اور اس کی کنجی بھی پکڑی ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں اس حدیث کا کچھ حصہ بھول گیا تھا، بعد میں عبیداللہ بن ابی جروہ نے یاد دلایا کہ میں عین زارہ پر کھڑا ہوا تھا، پھر فرمایا اے اللہ! عبدالقیس کی مغفرت فرما کہ یہ رضا مندی سے کسی کے جبر کے بغیر مسلمان ہوگئے ہیں ، اب یہ شرمندہ ہوں گے اور نہ ہی ہلاک، جبکہ ہماری قوم کے کچھ لوگ اس وقت تک مسلمان نہیں ہوتے جب تک رسوا اور ہلاک نہ ہو جائیں پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چہرے کا رخ موڑتے ہوئے قبلہ کی جانب کیا اور فرمایا اہل مشرق میں سب سے بہترین لوگ بنو عبدالقیس ہیں ۔

أَبُو الْقَمُوصِ زَيْدُ بْنُ عَلِيٍّ، ← عَوْفٌ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17983

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17984

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَوْفٌ عَنْ أَبِي الْقَمُوصِ قَالَ حَدَّثَنِي أَحَدُ الْوَفْدِ الَّذِينَ وَفَدُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنْ لَا يَكُنْ قَالَ قَيْسَ بْنَ النُّعْمَانِ فَإِنِّي أُنْسِيتُ اسْمَهُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ وَابْتَهَلَ حَتَّى اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ ثُمَّ يَدْعُو لِعَبْدِ الْقَيْسِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ خَيْرَ أَهْلِ الْمَشْرِقِ نِسَاءً عَبْدُ الْقَيْسِ

بنو عبدالقیس کے وفد میں شریک ایک صاحب بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ہدایا میں تعضوض یا برنی کھجوروں کی ایک ٹوکری بھی لے کر آئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ کیا ہے؟ ہم نے بتایا کہ یہ ہدیہ ہے، غالباً نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ایک کھجور نکال کر دیکھی پھر واپس رکھ کر فرمایا کہ یہ ٹوکری آل محمد کو پہنچا دو۔ لوگوں نے اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مختلف سوالات پوچھے تھے، جن میں سے ایک سوال پینے کے برتنوں سے متعلق بھی تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دباء، حنتم، نقیر اور مزفت میں پانی یا نبیذ مت پیو، اس حلال برتن میں پیا کرو جس کا منہ بندھا ہوا ہو، ہم میں سے ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ کو معلوم ہے کہ دباء حنتم نقیر اور مزفت کیا ہوتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے خوب اچھی طرح معلوم ہیں کہ وہ کیسے برتن ہوتے ہیں ، یہ بتاؤ کہ ہجر کا کون سا علاقہ سب سے زیادہ معزز ہے؟ ہم نے کہا شقر، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بخدا! میں اس میں داخل ہوا ہوں اور اس کی کنجی بھی پکڑی ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں اس حدیث کا کچھ حصہ بھول گیا تھا، بعد میں عبیداللہ بن ابی جروہ نے یاد دلایا کہ میں عین زارہ پر کھڑا ہوا تھا، پھر فرمایا اے اللہ! عبدالقیس کی مغفرت فرما کہ یہ رضا مندی سے کسی کے جبر کے بغیر مسلمان ہوگئے ہیں ، اب یہ شرمندہ ہوں گے اور نہ ہی ہلاک، جبکہ ہماری قوم کے کچھ لوگ اس وقت تک مسلمان نہیں ہوتے جب تک رسوا اور ہلاک نہ ہو جائیں پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چہرے کا رخ موڑتے ہوئے قبلہ کی جانب کیا اور فرمایا اہل مشرق میں سب سے بہترین لوگ بنو عبدالقیس ہیں ۔

إِنَّ خَيْرَ أَهْلِ الْمَشْرِقِ نِسَاءً عَبْدُ الْقَيْسِ ← وَابْتَهَلَ حَتَّى اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ ثُمَّ يَدْعُو لِعَبْدِ الْقَيْسِ ثُمَّ ← قَيْسَ بْنَ النُّعْمَانِ فَإِنِّي أُنْسِيتُ اسْمَهُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ← أَحَدُ الْوَفْدِ الَّذِينَ وَفَدُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ فَإِنْ لَا يَكُنْ ← أَبِي الْقَمُوصِ ← عَوْفٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17984

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17985

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَصَرِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا شِهَابُ بْنُ عَبَّادٍ أَنَّهُ سَمِعَ بَعْضَ وَفْدِ عَبْدِ الْقَيْسِ وَهُوَ يَقُولُ قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاشْتَدَّ فَرَحُهُمْ بِنَا فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَى الْقَوْمِ أَوْسَعُوا لَنَا فَقَعَدْنَا فَرَحَّبَ بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدَعَا لَنَا ثُمَّ نَظَرَ إِلَيْنَا فَقَالَ مَنْ سَيِّدُكُمْ وَزَعِيمُكُمْ فَأَشَرْنَا جَمِيعًا إِلَى الْمُنْذِرِ بْنِ عَائِذٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهَذَا الْأَشَجُّ فَكَانَ أَوَّلَ يَوْمٍ وُضِعَ عَلَيْهِ هَذَا الِاسْمُ لِضَرْبَةٍ بِوَجْهِهِ بِحَافِرِ حِمَارٍ فَقُلْنَا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَتَخَلَّفَ بَعْدَ الْقَوْمِ فَعَقَلَ رَوَاحِلَهُمْ وَضَمَّ مَتَاعَهُمْ ثُمَّ أَخْرَجَ عَيْبَتَهُ فَأَلْقَى عَنْهُ ثِيَابَ السَّفَرِ وَلَبِسَ مِنْ صَالِحِ ثِيَابِهِ ثُمَّ أَقْبَلَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ بَسَطَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِجْلَهُ وَاتَّكَأَ فَلَمَّا دَنَا مِنْهُ الْأَشَجُّ أَوْسَعَ الْقَوْمُ لَهُ وَقَالُوا هَاهُنَا يَا أَشَجُّ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتَوَى قَاعِدًا وَقَبَضَ رِجْلَهُ هَاهُنَا يَا أَشَجُّ فَقَعَدَ عَنْ يَمِينِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتَوَى قَاعِدًا فَرَحَّبَ بِهِ وَأَلْطَفَهُ ثُمَّ سَأَلَ عَنْ بِلَادِهِ وَسَمَّى لَهُ قَرْيَةَ الصَّفَا وَالْمُشَقَّرِ وَغَيْرَ ذَلِكَ مِنْ قُرَى هَجَرَ فَقَالَ بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ لَأَنْتَ أَعْلَمُ بِأَسْمَاءِ قُرَانَا مِنَّا فَقَالَ إِنِّي قَدْ وَطِئْتُ بِلَادَكُمْ وَفُسِحَ لِي فِيهَا قَالَ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى الْأَنْصَارِ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَكْرِمُوا إِخْوَانَكُمْ فَإِنَّهُمْ أَشْبَاهُكُمْ فِي الْإِسْلَامِ وَأَشْبَهُ شَيْءٍ بِكُمْ شِعَارًا وَأَبْشَارًا أَسْلَمُوا طَائِعِينَ غَيْرَ مُكْرَهِينَ وَلَا مَوْتُورِينَ إِذْ أَبَى قَوْمٌ أَنْ يُسْلِمُوا حَتَّى قُتِلُوا فَلَمَّا أَنْ قَالَ كَيْفَ رَأَيْتُمْ كَرَامَةَ إِخْوَانِكُمْ لَكُمْ وَضِيَافَتَهُمْ إِيَّاكُمْ قَالُوا خَيْرَ إِخْوَانٍ أَلَانُوا فَرْشَنَا وَأَطَابُوا مَطْعَمَنَا وَبَاتُوا وَأَصْبَحُوا يُعَلِّمُونَنَا كِتَابَ رَبِّنَا وَسُنَّةَ نَبِيِّنَا فَأُعْجِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفَرِحَ بِهَا ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا رَجُلًا رَجُلًا يَعْرِضُنَا عَلَى مَا تَعَلَّمْنَا وَعَلِمْنَا فَمِنَّا مَنْ تَعَلَّمَ التَّحِيَّاتِ وَأُمَّ الْكِتَابِ وَالسُّورَةَ وَالسُّورَتَيْنِ وَالسُّنَّةَ وَالسُّنَّتَيْنِ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ هَلْ مَعَكُمْ مِنْ أَزْوَادِكُمْ شَيْءٌ فَفَرِحَ الْقَوْمُ بِذَلِكَ وَابْتَدَرُوا رِحَالَهُمْ فَأَقْبَلَ كُلُّ رَجُلٍ مَعَهُ صُبْرَةٌ مِنْ تَمْرٍ فَوَضَعَهَا عَلَى نِطْعٍ بَيْنَ يَدَيْهِ وَأَوْمَأَ بِجَرِيدَةٍ فِي يَدِهِ كَانَ يَخْتَصِرُ بِهَا فَوْقَ الذِّرَاعِ وَدُونَ الذِّرَاعَيْنِ فَقَالَ أَتُسَمُّونَ هَذَا التَّعْضُوضَ قُلْنَا نَعَمْ ثُمَّ أَوْمَأَ إِلَى صُبْرَةٍ أُخْرَى فَقَالَ أَتُسَمُّونَ هَذَا الصَّرَفَانَ قُلْنَا نَعَمْ ثُمَّ أَوْمَأَ إِلَى صُبْرَةٍ فَقَالَ أَتُسَمُّونَ هَذَا الْبَرْنِيَّ فَقُلْنَا نَعَمْ قَالَ أَمَا إِنَّهُ خَيْرُ تَمْرِكُمْ وَأَنْفَعُهُ لَكُمْ قَالَ فَرَجَعْنَا مِنْ وِفَادَتِنَا تِلْكَ فَأَكْثَرْنَا الْغَرْزَ مِنْهُ وَعَظُمَتْ رَغْبَتُنَا فِيهِ حَتَّى صَارَ عُظْمَ نَخْلِنَا وَتَمْرِنَا الْبَرْنِيُّ قَالَ فَقَالَ الْأَشَجُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَرْضَنَا أَرْضٌ ثَقِيلَةٌ وَخِمَةٌ وَإِنَّا إِذَا لَمْ نَشْرَبْ هَذِهِ الْأَشْرِبَةَ هِيجَتْ أَلْوَانُنَا وَعَظُمَتْ بُطُونُنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَشْرَبُوا فِي الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ وَلْيَشْرَبْ أَحَدُكُمْ فِي سِقَائِهِ يُلَاثُ عَلَى فِيهِ فَقَالَ لَهُ الْأَشَجُّ بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ رَخِّصْ لَنَا فِي هَذِهِ فَأَوْمَأَ بِكَفَّيْهِ وَقَالَ يَا أَشَجُّ إِنْ رَخَّصْتُ لَكُمْ فِي مِثْلِ هَذِهِ وَقَالَ بِكَفَّيْهِ هَكَذَا شَرِبْتَهُ فِي مِثْلِ هَذِهِ وَفَرَّجَ يَدَيْهِ وَبَسَطَهَا يَعْنِي أَعْظَمَ مِنْهَا حَتَّى إِذَا ثَمِلَ أَحَدُكُمْ مِنْ شَرَابِهِ قَامَ إِلَى ابْنِ عَمِّهِ فَهَزَرَ سَاقَهُ بِالسَّيْفِ وَكَانَ فِي الْوَفْدِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَصَرٍ يُقَالُ لَهُ الْحَارِثُ قَدْ هُزِرَتْ سَاقُهُ فِي شُرْبٍ لَهُمْ فِي بَيْتٍ تَمَثَّلَهُ مِنْ الشِّعْرِ فِي امْرَأَةٍ مِنْهُمْ فَقَامَ بَعْضُ أَهْلِ ذَلِكَ الْبَيْتِ فَهَزَرَ سَاقَهُ بِالسَّيْفِ قَالَ فَقَالَ الْحَارِثُ لَمَّا سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلْتُ أُسْدِلُ ثَوْبِي لِأُغَطِّيَ الضَّرْبَةَ بِسَاقِي وَقَدْ أَبْدَاهَا اللَّهُ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

وفد عبدالقیس کے کچھ لوگ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ ہی نہیں رہا، جب ہم لوگوں کے پاس گئے تو انہوں نے ہمارے لئے جگہ کشادہ کردی، ہم لوگ وہاں جا کر بیٹھ گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خوش آمدید کہا، ہمیں دعائیں دیں ، اور ہماری طرف دیکھ کر فرمایا کہ تمہارا سردار کون ہے؟ ہم سب نے منذر بن عائذ کی طرف اشارہ کر دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا یہی اشج ہیں ؟ اصل میں ان کے چہرے پر گدھے کے کھر کی چوٹ کا نشان تھا، یہ پہلا دن تھا جب ان کا یہ نام پڑا، ہم نے عرض کیا! جی یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) اس کے بعد کچھ لوگ جو پیچھے رہ گئے تھے، انہوں نے اپنی سواریوں کو باندھا، سامان سمیٹا، پراگندگی کو دور کیا، سفر کے کپڑے اتارے، عمدہ کپڑے زیب تن کئے ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مبارک پاؤں پھیلا کر پیچھے ٹیک لگائی ہوئی تھی، جب اشج قریب پہنچے تو لوگوں نے ان کے لئے جگہ کشادہ کی اور کہا کہ اے اشج! یہاں تشریف لائیے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور پاؤں سمیٹ لئے اور فرمایا اشج! یہاں آؤ، چنانچہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں جانب جا کر بیٹھ گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خوش آمدید کہا، اور ان کے ساتھ لطف وکرم سے پیش آئے، اور ان کے شہروں کے متعلق دریافت فرمایا اور ایک ایک بستی مثلا صفا، مشقر وغیرہ دیگر بستیوں کے نام لیے، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، آپ کو تو ہماری بستویں کے نام ہم سے بھی زیادہ اچھی طرح معلوم ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہارے علاقوں میں گیا ہوا ہوں اور وہاں میرے ساتھ کشادگی کا معاملہ رہا ہے۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا اے گروہ انصار! اپنے بھائیوں کا اکرام کرو، کہ یہ اسلام میں تمہاے مشابہہ ہیں ، ملاقات اور خوشخبری میں تمہارے سب سے زیادہ مشابہہ ہیں ، یہ لوگ اپنی رغبت سے بلا کسی جبر واکرام یا ظلم کے اس وقت اسلام لائے ہیں جبکہ دوسرے لوگوں نے اسلام لانے سے انکار کر دیا اور قتل ہوگئے۔ اگلے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ تم نے اپنے بھائیوں کا اکرام اور میزبانی کا طریقہ کیسا پایا؟ انہوں نے جواب دیا کہ یہ لوگ بہترین بھائی ثابت ہوئے ہیں ، انہوں نے ہمیں نرم گرم بستر مہیا کئے ، بہترین کھانا کھلایا اور صبح وشام ہمیں اپنے رب کی کتاب اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سکھاتے رہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر بہت خوش ہوئے، پھر ہم سب کی طرف فردا فردا متوجہ ہوئے اور ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے وہ چیزیں پیش کیں جو ہم نے سیکھی تھیں ، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ہمیں کچھ باتیں سکھائیں ، ہم میں سے بعض لوگ وہ بھی تھے جنہوں نے التحیات، سورت فاتحہ، ایک دو سورتیں اور کچھ سنتیں سیکھی تھیں ۔ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ کیا تم لوگوں کے پاس زاد راہ ہے؟ لوگ خوشی سے اپنے اپنے خیموں کی طرف دوڑے اور ہر آدمی اپنے ساتھ کھجوروں کی تھیلی لے آیا، اور لا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک دستر خوان پر رکھ دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے جو چھڑی پکڑی ہوئی تھی اور کبھی کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اپنی کوکھ میں چبھاتے تھے جو ایک گز سے لمبی اور دو گز سے چھوٹی تھی سے اشارہ کر کے فرمایا کیا تم اسے تعضوض کہتے ہو؟ ہم نے عرض کیا جی ہاں ! پھر دوسری تھیلی کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کیا تم اسے برنی کہتے ہو؟ ہم نے عرض کیا جی ہاں ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ سب سے زیادہ بہترین اور فائدہ مند کھجور ہے۔ ہم اپنا وہ کھانا لے کر واپس آئے تو ہم نے سوچا کہ اب سب سے زیادہ اسے اگائیں گے اور اس سلسلے میں ہماری رغبت میں اضافہ ہوگیا، حتی کہ ہمارے اکثر باغات میں برنی کھجور لگنے لگی، اسی دوران اشج کہنے لگے یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) ہمارا علاقہ بنجر اور شور علاقہ ہے، اگر ہم یہ مشروبات پئیں تو ہمارے رنگ بدل جائیں اور پیٹ بڑھ جائیں ؟ حنتم اور نقیر کچھ نہ پیا کرو، بلکہ تمہیں اپنے مشکیزے سے پینا چاہئے۔ اشج کہنے لگے یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، ہمیں اتنی مقدار کی (دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں سے اشارہ کر کے کہا) اجازت دے دیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ نے بھی اپنے ہاتھوں کی ہتھیلیوں سے اشارہ کر کے فرمایا اگر میں تمہیں اتنی مقدار کی اجازت دے دوں تو تم اتنی مقدار پینے لگو گے، یہ کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھوں کو کشادہ کیا، مطلب یہ تھا کہ اس مقدار سے آگے نکل جاؤ گے، حتی کہ جب تم میں سے کوئی شخص نشے سے مدہوش ہوجائے تو اپنے ہی چچا زاد کی طرف بڑھ کر تلوار سے اس کی پنڈلی کاٹ دے گا۔ دراصل اس وفد میں ایک آدمی بھی تھا، جس کا تعلق بنو عصر سے تھا اور اس کا نام حارث تھا، اس کی پنڈلی ایسے ہی ایک موقع پر کٹ گئی تھی جبکہ انہوں نے ایک گھر میں اپنے ہی قبیلے کی ایک عورت کے متعلق اشعار کہتے ہوئے شراب پی تھی۔ اور اسی دوران اہل خانہ میں سے ایک شخص نے نشے سے مدہوش ہو کر اس کی پنڈلی کاٹ ڈالی تھی، حارث کا کہنا ہے کہ جب میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے یہ جملہ سنا تو میں اپنی پنڈلی پر کپڑا ڈال کر اسے چھپانے کی کوشش کرنے لگا جسے اللہ نے ظاہر کر دیا تھا۔

شِهَابُ بْنُ عَبَّادٍ ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَصَرِيُّ، ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17985

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17986

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعُمَرِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو سَهْلٍ عَوْفُ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ عَنْ زَيْدٍ أَبِي الْقَمُوصِ عَنْ وَفْدِ عَبْدِ الْقَيْسِ أَنَّهُمْ سَمِعُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُمَّ اجْعَلْنَا مِنْ عِبَادِكَ الْمُنْتَخَبِينَ الْغُرِّ الْمُحَجَّلِينَ الْوَفْدِ الْمُتَقَبَّلِينَ قَالَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا عِبَادُ اللَّهِ الْمُنْتَخَبُونَ قَالَ عِبَادُ اللَّهِ الصَّالِحُونَ قَالُوا فَمَا الْغُرُّ الْمُحَجَّلُونَ قَالَ الَّذِينَ يَبْيَضُّ مِنْهُمْ مَوَاضِعُ الطُّهُورِ قَالُوا فَمَا الْوَفْدُ الْمُتَقَبَّلُونَ قَالَ وَفْدٌ يَفِدُونَ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ مَعَ نَبِيِّهِمْ إِلَى رَبِّهِمْ عَزَّ وَجَلَّ

وفد عبدالقیس کے لوگ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اے اللہ! ہمیں اپنے منتخب غیر محجل اور وفد متقبل میں شمار فرما، لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے منتخب بندوں سے کیا مراد ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے نیک بندے مراد ہیں ، لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) غیر محجل بندوں سے کیا مراد ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جن کے اعضاء وضو چمک رہے ہوں گے، لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) وفد متقبل کے بندوں سے کیا مراد ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس امت کے وہ لوگ جو اپنے نبی کے ساتھ اللہ کی بارگاہ میں وفد کی صورت میں حاضر ہوں گے۔

فَقَالُوا ← اللَّهُمَّ اجْعَلْنَا مِنْ عِبَادِكَ الْمُنْتَخَبِينَ الْغُرِّ الْمُحَجَّلِينَ الْوَفْدِ الْمُتَقَبَّلِينَ ← وَفْدِ عَبْدِ الْقَيْسِ أَنَّهُمْ سَمِعُوا رَسُولَ اللَّهِ ← زَيْدٍ أَبِي الْقَمُوصِ ← أَبُو سَهْلٍ عَوْفُ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعُمَرِيُّ، ← أَبُو النَّضْرِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17986

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17987

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَا أَنَا عِنْدَ الْبَيْتِ بَيْنَ النَّائِمِ وَالْيَقْظَانِ إِذْ أَقْبَلَ أَحَدُ الثَّلَاثَةِ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ فَأُتِيتُ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ مَلَأَهُ حِكْمَةً وَإِيمَانًا فَشُقَّ مِنْ النَّحْرِ إِلَى مَرَاقِي الْبَطْنِ فَغُسِلَ الْقَلْبُ بِمَاءِ زَمْزَمَ ثُمَّ مُلِئَ حِكْمَةً وَإِيمَانًا ثُمَّ أُتِيتُ بِدَابَّةٍ دُونَ الْبَغْلِ وَفَوْقَ الْحِمَارِ ثُمَّ انْطَلَقْتُ مَعَ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام فَأَتَيْنَا السَّمَاءَ الدُّنْيَا قِيلَ مَنْ هَذَا قَالَ جِبْرِيلُ قِيلَ وَمَنْ مَعَكَ قَالَ مُحَمَّدٌ قِيلَ وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ قَالَ نَعَمْ قِيلَ مَرْحَبًا بِهِ وَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ فَأَتَيْتُ عَلَى آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَام فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ مَرْحَبًا بِكَ مِنْ ابْنٍ وَنَبِيٍّ ثُمَّ أَتَيْنَا السَّمَاءَ الثَّانِيَةَ قِيلَ مَنْ هَذَا قِيلَ جِبْرِيلُ قِيلَ وَمَنْ مَعَكَ قَالَ مُحَمَّدٌ فَمِثْلُ ذَلِكَ فَأَتَيْتُ عَلَى يَحْيَى وَعِيسَى عَلَيْهِمَا السَّلَام فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِمَا فَقَالَا مَرْحَبًا بِكَ مِنْ أَخٍ وَنَبِيٍّ ثُمَّ أَتَيْنَا السَّمَاءَ الثَّالِثَةَ فَمِثْلُ ذَلِكَ فَأَتَيْتُ عَلَى يُوسُفَ عَلَيْهِ السَّلَام فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ مَرْحَبًا بِكَ مِنْ أَخٍ وَنَبِيٍّ ثُمَّ أَتَيْنَا السَّمَاءَ الرَّابِعَةَ فَمِثْلُ ذَلِكَ فَأَتَيْتُ عَلَى إِدْرِيسَ عَلَيْهِ السَّلَام فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ مَرْحَبًا بِكَ مِنْ أَخٍ وَنَبِيٍّ ثُمَّ أَتَيْنَا السَّمَاءَ الْخَامِسَةَ فَمِثْلُ ذَلِكَ فَأَتَيْتُ عَلَى هَارُونَ عَلَيْهِ السَّلَام فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ مَرْحَبًا بِكَ مِنْ أَخٍ وَنَبِيٍّ ثُمَّ أَتَيْنَا السَّمَاءَ السَّادِسَةَ فَمِثْلُ ذَلِكَ ثُمَّ أَتَيْتُ عَلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ مَرْحَبًا بِكَ مِنْ أَخٍ وَنَبِيٍّ فَلَمَّا جَاوَزْتُهُ بَكَى قِيلَ مَا أَبْكَاكَ قَالَ يَا رَبِّ هَذَا الْغُلَامُ الَّذِي بَعَثْتَهُ بَعْدِي يَدْخُلُ مِنْ أُمَّتِهِ الْجَنَّةَ أَكْثَرُ وَأَفْضَلُ مِمَّا يَدْخُلُ مِنْ أُمَّتِي ثُمَّ أَتَيْنَا السَّمَاءَ السَّابِعَةَ فَمِثْلُ ذَلِكَ فَأَتَيْتُ عَلَى إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ مَرْحَبًا بِكَ مِنْ ابْنٍ وَنَبِيٍّ قَالَ ثُمَّ رُفِعَ إِلَيَّ الْبَيْتُ الْمَعْمُورُ فَسَأَلْتُ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام فَقَالَ هَذَا الْبَيْتُ الْمَعْمُورُ يُصَلِّي فِيهِ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ إِذَا خَرَجُوا مِنْهُ لَمْ يَعُودُوا فِيهِ آخِرَ مَا عَلَيْهِمْ قَالَ ثُمَّ رُفِعَتْ إِلَيَّ سِدْرَةُ الْمُنْتَهَى فَإِذَا نَبْقُهَا مِثْلُ قِلَالِ هَجَرَ وَإِذَا وَرَقُهَا مِثْلُ آذَانِ الْفِيَلَةِ وَإِذَا فِي أَصْلِهَا أَرْبَعَةُ أَنْهَارٍ نَهَرَانِ بَاطِنَانِ وَنَهَرَانِ ظَاهِرَانِ فَسَأَلْتُ جِبْرِيلَ فَقَالَ أَمَّا الْبَاطِنَانِ فَفِي الْجَنَّةِ وَأَمَّا الظَّاهِرَانِ فَالْفُرَاتُ وَالنِّيلُ قَالَ ثُمَّ فُرِضَتْ عَلَيَّ خَمْسُونَ صَلَاةً فَأَتَيْتُ عَلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام فَقَالَ مَا صَنَعْتَ قُلْتُ فُرِضَتْ عَلَيَّ خَمْسُونَ صَلَاةً فَقَالَ إِنِّي أَعْلَمُ بِالنَّاسِ مِنْكَ إِنِّي عَالَجْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَشَدَّ الْمُعَالَجَةِ وَإِنَّ أُمَّتَكَ لَنْ يُطِيقُوا ذَلِكَ فَارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ أَنْ يُخَفِّفَ عَنْكَ قَالَ فَرَجَعْتُ إِلَى رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَسَأَلْتُهُ أَنْ يُخَفِّفَ عَنِّي فَجَعَلَهَا أَرْبَعِينَ ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى مُوسَى فَأَتَيْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ مَا صَنَعْتَ قُلْتُ جَعَلَهَا أَرْبَعِينَ فَقَالَ لِي مِثْلَ مَقَالَتِهِ الْأُولَى فَرَجَعْتُ إِلَى رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَجَعَلَهَا ثَلَاثِينَ فَأَتَيْتُ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ لِي مِثْلَ مَقَالَتِهِ الْأُولَى فَرَجَعْتُ إِلَى رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَجَعَلَهَا عِشْرِينَ ثُمَّ عَشْرَةً ثُمَّ خَمْسَةً فَأَتَيْتُ عَلَى مُوسَى فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ لِي مِثْلَ مَقَالَتِهِ الْأُولَى فَقُلْتُ إِنِّي أَسْتَحِي مِنْ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ مِنْ كَمْ أَرْجِعُ إِلَيْهِ فَنُودِيَ أَنْ قَدْ أَمْضَيْتُ فَرِيضَتِي وَخَفَّفْتُ عَنْ عِبَادِي وَأَجْزِي بِالْحَسَنَةِ عَشْرَ أَمْثَالِهَا

حضرت مالک بن صعصعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ میں بیت اللہ کے قریب سونے اور جاگنے کے درمیان تھا کہ تین میں سے ایک آدمی دو آدمیوں کے درمیان آگے آیا، پھر میرے پاس سونے کا ایک طشت لایا گیا جو حکمت اور ایمان سے بھرپور تھا، اس نے سینے سے لے کر پیٹ تک میرا جسم چاک کیا اور دل کو آب زم زم سے دھویا، اور اسے حکمت وایمان سے لبریز کر دیا گیا، پھر میرے پاس ایک جانور لایا گیا جو خچر سے چھوٹا اور گدھے سے بڑا تھا اور میں حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ روانہ ہوگیا۔ ہم آسمان دنیا پر پہنچے، پوچھا گیا کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا جبریل! پوچھا گیا کہ آپ کے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے بتایا محمد صلی اللہ علیہ وسلم! پوچھا گیا کہ کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا جی ہاں ! فرشتوں نے کہا خوش آمدید! ایک بہترین آنے والا آیا، وہاں میں حضرت آدم علیہ السلام کے پاس پہنچا اور انہیں سلام کیا، انہوں نے فرمایا خوش آمدید ہو بیٹے کو اور نبی کو خوش آمدید، ایک بہترین آنے والا آیا۔ دوسرے آسمان پر بھی یہی سوال وجواب ہوئے اور وہاں حضرت یحیی وعیسی علیہ السلام سے ملاقات ہوئی، انہوں نے بھی بیٹے کی بجائے بھائی کہا، تیسرے آسمان پر بھی یہی سوال وجواب ہوئے اور وہاں حضرت یوسف علیہ السلام سے ملاقات ہوئی، انہوں نے بھی بیٹے کی بجائے بھائی کہا، چوتھے آسمان پر بھی یہی سوال وجواب ہوئے اور وہاں حضرت ادریس علیہ السام سے ملاقات ہوئی، انہوں نے بھی بھائی کہا، پانچویں آسمان پر بھی یہی سوال وجواب ہوئے اور وہاں حضرت ہارون علیہ السلام سے ملاقات ہوئی، انہوں بھی بھائی کہا، چھٹے آسمان پر بھی یہی سوال وجواب ہوئے اور وہاں حضرت موسی علیہ السلام سے ملاقات ہوئی انہوں نے بھی بھائی کہا، جب میں حضرت موسی علیہ السلام سے مل کر آگے بڑھا تو وہ رونے لگے پوچھا گیا کہ آپ کیوں رو رہے ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ پروردگار! یہ نوجوان جسے آپ نے میرے بعد مبعوث فرمایا: اس کی امت میری امت سے زیادہ تعداد میں جنت میں داخل ہوگی، پھر ہم ساتویں آسمان پر پہنچے اور وہاں بھی یہی سوال جواب ہوئے، وہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ملاقات ہوئی اور میں نے انہیں سلام کیا تو انہوں نے فرمایا خوش آمدید ہو بیٹے کو اور نبی کو۔ پھر میرے سامنے بیت المعمور کو پیش کیا گیا، میں نے جبرائیل علیہ السلام سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں بتایا کہ یہ بیت المعمور ہے، اس میں روزانہ ستر ہزار فرشتے نماز پڑھتے ہیں اور جب ایک مرتبہ باہر آجاتے ہیں تو دوبارہ کبھی داخل ہونے کی نوبت نہیں آتی، پھر میرے سامنے سدرۃ المنتہی کو پیش کیا گیا، اس کے بیر ہجر کے مٹکوں جیسے تھے اور اس کے پتے ہاتھی کے کانوں کے برابر تھے، اور اس کی جڑ میں چار نہریں جاری تھیں جن میں دو نہریں باطنی اور دو ظاہری تھیں ، میں نے جبرائیل علیہ السلام سے ان کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا باطنی نہریں تو جنت میں ہیں اور ظاہری نیل اور فرات ہیں ۔ پھر مجھ سے پچاس نمازیں فرض قرار دی گئیں ، میں حضرت موسی علیہ السلام کے پاس سے گذرا تو وہ کہنے لگے کہ کیا معاملہ ہوا؟ میں نے بتایا کہ مجھ پر پچاس نمازیں فرض کی گئی ہیں ، حضرت موسی علیہ السلام نے فرمایا کہ میں لوگوں کی طبیعت سے اچھی طرح واقف ہوں ، میں نے بنی اسرائیل کو خوب اچھی طرح آزمایا تھا، آپ کی امت اس کی طاقت نہیں رکھے گی، اس لئے آپ اپنے رب کے پاس واپس جائیے اور ان سے درخواست کیجئے کہ اس تعداد میں کمی کر دیں، چنانچہ میں اپنے رب کے پاس واپس آیا اور ان سے تخفیف کی درخواست کی تو پروردگار نے ان کی تعداد چالیس مقرر کردی، پھر دوبارہ حضرت موسی علیہ السلام کے پاس سے گذر ہوا تو یہی سوال جواب ہوئے اور دس نمازیں مزید کم ہوگئیں ، اسی طرح دس دس کم ہوتے ہوتے آخری مرتبہ پانچ کم ہوئیں اور صرف پانچ نمازیں رہ گئیں ، اس مرتبہ بھی حضرت موسی علیہ السلام نے تخفیف کرانے کا مشورہ دیا لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب مجھے اپنے رب سے شرم آتی ہے کہ کتنی مرتبہ اس کے پاس جاؤں ، اسی اثناء میں آواز آئی کہ میں نے اپنا فریضہ مقرر کر دیا، اور اپنے بندوں سے تخفیف کردی، اور میں ایک نیکی کا بدلہ دس گنا عطا کروں گا۔

مَالِکِ بْنِ صَعْصَعَةَ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17987

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17988

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ مَالِكَ بْنَ صَعْصَعَةَ حَدَّثَهُمْ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَمَا أَنَا عِنْدَ الْكَعْبَةِ بَيْنَ النَّائِمِ وَالْيَقْظَانِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ ثُمَّ انْطَلَقْنَا إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فَقِيلَ مَنْ هَذَا قَالَ جِبْرِيلُ قِيلَ وَمَنْ مَعَكَ قَالَ مُحَمَّدٌ قِيلَ أَوَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ قَالَ نَعَمْ فَفُتِحَ لَهُ قَالُوا مَرْحَبًا بِهِ وَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ فَأَتَيْنَا عَلَى إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالَ جِبْرِيلُ هَذَا أَبُوكَ إِبْرَاهِيمُ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ مَرْحَبًا بِالِابْنِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ ثُمَّ رُفِعَتْ لِي سِدْرَةُ الْمُنْتَهَى فَإِذَا وَرَقُهَا مِثْلُ آذَانِ الْفُيُولِ وَإِذَا نَبْقُهَا مِثْلُ قِلَالِ هَجَرَ وَإِذَا أَرْبَعَةُ أَنْهَارٍ يَخْرُجْنَ مِنْ أَصْلِهَا نَهَرَانِ ظَاهِرَانِ وَنَهَرَانِ بَاطِنَانِ فَقُلْتُ مَا هَذَا يَا جِبْرِيلُ قَالَ أَمَّا النَّهْرَانِ الظَّاهِرَانِ فَالنِّيلُ وَالْفُرَاتُ وَأَمَّا الْبَاطِنَانِ فَنَهَرَانِ فِي الْجَنَّةِ قَالَ فَأُتِيتُ بِإِنَاءَيْنِ أَحَدُهُمَا خَمْرٌ وَالْآخَرُ لَبَنٌ قَالَ فَأَخَذْتُ اللَّبَنَ فَقَالَ جِبْرِيلُ أَصَبْتَ الْفِطْرَةَ

حضرت مالک بن صعصعہ رضی اللہ عنہ سے رموی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ میں بیت اللہ کے قریب سونے اور جاگنے کے درمیان تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی اور کہا ہم ساتویں آسمان پر پہنچے، پوچھا گیا کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا جبریل! پوچھا گیا کہ آپ کے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے بتایا محمد صلی اللہ علیہ وسلم، پوچھا گیا کہ کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا جی ہاں ! فرشتوں نے کہا خوش آمدید، ایک بہترین آنے والا آیا، وہاں میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس پہنچا اور انہیں سلام کیا، انہوں نے فرمایا خوش آمدید ہو بیٹے کو اور نبی کو خوش آمدید، ایک بہترین آنے والا آیا، پھر میرے سامنے سدرۃ المنتہی کو پیش کیا گیا، اس کے بیر ہجر کے مٹکوں جیسے تھے اور اس کے پتے ہاتھی کے کانوں کے برابر تھے، اور اس کی جڑ میں چار نہریں جاری تھیں جن میں سے دو نہریں باطنی اور دو ظاہری تھیں ، میں نے جبرائیل علیہ السلام سے ان کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ باطنی نہریں تو جنت میں ہیں اور ظاہری نہریں نیل اور فرات ہیں ۔ پھر میرے پاس دو برتن لائے گئے جن میں سے ایک شراب کا تھا اور دوسرا دودھ کا، میں نے دودھ والا برتن پکڑ لیا، تو حضرت جبرائیل علیہ السلام کہنے لگے کہ آپ فطرت سلیمہ تک پہنچ گئے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← شَيْبَانَ ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17988

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17989

حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ مَالِكَ بْنَ صَعْصَعَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُمْ عَنْ لَيْلَةِ أُسْرِيَ بِهِ قَالَ بَيْنَا أَنَا فِي الْحَطِيمِ وَرُبَّمَا قَالَ قَتَادَةُ فِي الْحِجْرِ مُضْطَجِعٌ إِذْ أَتَانِي آتٍ فَجَعَلَ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ الْأَوْسَطِ بَيْنَ الثَّلَاثَةِ قَالَ فَأَتَانِي فَقَدَّ وَسَمِعْتُ قَتَادَةَ يَقُولُ فَشَقَّ مَا بَيْنَ هَذِهِ إِلَى هَذِهِ قَالَ قَتَادَةُ فَقُلْتُ لِلْجَارُودِ وَهُوَ إِلَى جَنْبِي مَا يَعْنِي قَالَ مِنْ ثُغْرَةِ نَحْرِهِ إِلَى شِعْرَتِهِ وَقَدْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ مِنْ قَصَّتِهِ إِلَى شِعْرَتِهِ قَالَ فَاسْتُخْرِجَ قَلْبِي فَأُتِيتُ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ مَمْلُوءَةٍ إِيمَانًا وَحِكْمَةً فَغُسِلَ قَلْبِي ثُمَّ حُشِيَ ثُمَّ أُعِيدَ ثُمَّ أُتِيتُ بِدَابَّةٍ دُونَ الْبَغْلِ وَفَوْقَ الْحِمَارِ أَبْيَضَ قَالَ فَقَالَ الْجَارُودُ هُوَ الْبُرَاقُ يَا أَبَا حَمْزَةَ قَالَ نَعَمْ يَقَعُ خَطْوُهُ عِنْدَ أَقْصَى طَرْفِهِ قَالَ فَحُمِلْتُ عَلَيْهِ فَانْطَلَقَ بِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام حَتَّى أَتَى بِيَ السَّمَاءَ الدُّنْيَا فَاسْتَفْتَحَ فَقِيلَ مَنْ هَذَا قَالَ جِبْرِيلُ قِيلَ وَمَنْ مَعَكَ قَالَ مُحَمَّدٌ قِيلَ أَوَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ قَالَ نَعَمْ قِيلَ مَرْحَبًا بِهِ وَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ قَالَ فَفُتِحَ فَلَمَّا خَلَصْتُ فَإِذَا فِيهَا آدَمُ عَلَيْهِ السَّلَام فَقَالَ هَذَا أَبُوكَ آدَمُ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ السَّلَامَ ثُمَّ قَالَ مَرْحَبًا بِالِابْنِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ قَالَ ثُمَّ صَعِدَ حَتَّى أَتَى السَّمَاءَ الثَّانِيَةَ فَاسْتَفْتَحَ فَقِيلَ مَنْ هَذَا قَالَ جِبْرِيلُ قِيلَ وَمَنْ مَعَكَ قَالَ مُحَمَّدٌ قِيلَ أَوَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ قَالَ نَعَمْ قِيلَ مَرْحَبًا بِهِ وَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ قَالَ فَفُتِحَ فَلَمَّا خَلَصْتُ فَإِذَا يَحْيَى وَعِيسَى وَهُمَا ابْنَا الْخَالَةِ فَقَالَ هَذَا يَحْيَى وَعِيسَى فَسَلِّمْ عَلَيْهِمَا قَالَ فَسَلَّمْتُ فَرَدَّا السَّلَامَ ثُمَّ قَالَا مَرْحَبًا بِالْأَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ قَالَ ثُمَّ صَعِدَ حَتَّى أَتَى السَّمَاءَ الثَّالِثَةَ فَاسْتَفْتَحَ فَقِيلَ مَنْ هَذَا قَالَ جِبْرِيلُ قِيلَ وَمَنْ مَعَكَ قَالَ مُحَمَّدٌ أَوَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ قَالَ نَعَمْ قِيلَ مَرْحَبًا بِهِ وَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ قَالَ فَفُتِحَ فَلَمَّا خَلَصْتُ فَإِذَا يُوسُفُ عَلَيْهِ السَّلَام قَالَ هَذَا يُوسُفُ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ قَالَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ السَّلَامَ وَقَالَ مَرْحَبًا بِالْأَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ ثُمَّ صَعِدَ حَتَّى أَتَى السَّمَاءَ الرَّابِعَةَ فَاسْتَفْتَحَ فَقِيلَ مَنْ هَذَا قَالَ جِبْرِيلُ قِيلَ مَنْ مَعَكَ قَالَ مُحَمَّدٌ قِيلَ وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ قَالَ نَعَمْ قِيلَ مَرْحَبًا بِهِ وَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ قَالَ فَفُتِحَ فَلَمَّا خَلَصْتُ قَالَ فَإِذَا إِدْرِيسُ عَلَيْهِ السَّلَام قَالَ هَذَا إِدْرِيسُ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ قَالَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ السَّلَامَ ثُمَّ قَالَ مَرْحَبًا بِالْأَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ قَالَ ثُمَّ صَعِدَ حَتَّى أَتَى السَّمَاءَ الْخَامِسَةَ فَاسْتَفْتَحَ فَقِيلَ مَنْ هَذَا قَالَ جِبْرِيلُ قِيلَ وَمَنْ مَعَكَ قَالَ مُحَمَّدٌ قِيلَ أَوَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ قَالَ نَعَمْ قِيلَ مَرْحَبًا بِهِ وَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ قَالَ فَفُتِحَ فَلَمَّا خَلَصْتُ فَإِذَا هَارُونُ عَلَيْهِ السَّلَام قَالَ هَذَا هَارُونُ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ قَالَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ قَالَ فَرَدَّ السَّلَامَ ثُمَّ قَالَ مَرْحَبًا بِالْأَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ قَالَ ثُمَّ صَعِدَ حَتَّى أَتَى السَّمَاءَ السَّادِسَةَ فَاسْتَفْتَحَ قِيلَ مَنْ هَذَا قَالَ جِبْرِيلُ قِيلَ وَمَنْ مَعَكَ قَالَ مُحَمَّدٌ قِيلَ أَوَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ قَالَ نَعَمْ قِيلَ مَرْحَبًا بِهِ وَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ فَفُتِحَ فَلَمَّا خَلَصْتُ فَإِذَا أَنَا بِمُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام قَالَ هَذَا مُوسَى فَسَلِّمْ عَلَيْهِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ السَّلَامَ ثُمَّ قَالَ مَرْحَبًا بِالْأَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ قَالَ فَلَمَّا تَجَاوَزْتُ بَكَى قِيلَ لَهُ مَا يُبْكِيكَ قَالَ أَبْكِي لِأَنَّ غُلَامًا بُعِثَ بَعْدِي ثُمَّ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِهِ أَكْثَرُ مِمَّا يَدْخُلُهَا مِنْ أُمَّتِي قَالَ ثُمَّ صَعِدَ حَتَّى أَتَى السَّمَاءَ السَّابِعَةَ فَاسْتَفْتَحَ قِيلَ مَنْ هَذَا قَالَ جِبْرِيلُ قِيلَ وَمَنْ مَعَكَ قَالَ مُحَمَّدٌ قِيلَ أَوَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ قَالَ نَعَمْ قِيلَ مَرْحَبًا بِهِ وَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ قَالَ فَفُتِحَ فَلَمَّا خَلَصْتُ فَإِذَا إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام فَقَالَ هَذَا إِبْرَاهِيمُ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ السَّلَامَ ثُمَّ قَالَ مَرْحَبًا بِالِابْنِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ قَالَ ثُمَّ رُفِعَتْ إِلَيَّ سِدْرَةُ الْمُنْتَهَى فَإِذَا نَبْقُهَا مِثْلُ قِلَالِ هَجَرَ وَإِذَا وَرَقُهَا مِثْلُ آذَانِ الْفِيَلَةِ فَقَالَ هَذِهِ سِدْرَةُ الْمُنْتَهَى قَالَ وَإِذَا أَرْبَعَةُ أَنْهَارٍ نَهَرَانِ بَاطِنَانِ وَنَهَرَانِ ظَاهِرَانِ فَقُلْتُ مَا هَذَا يَا جِبْرِيلُ قَالَ أَمَّا الْبَاطِنَانِ فَنَهَرَانِ فِي الْجَنَّةِ وَأَمَّا الظَّاهِرَانِ فَالنِّيلُ وَالْفُرَاتُ قَالَ ثُمَّ رُفِعَ إِلَيَّ الْبَيْتُ الْمَعْمُورُ قَالَ قَتَادَةُ وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ رَأَى الْبَيْتَ الْمَعْمُورَ يَدْخُلُهُ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ ثُمَّ لَا يَعُودُونَ إِلَيْهِ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى حَدِيثِ أَنَسٍ قَالَ ثُمَّ أُتِيتُ بِإِنَاءٍ مِنْ خَمْرٍ وَإِنَاءٍ مِنْ لَبَنٍ وَإِنَاءٍ مِنْ عَسَلٍ قَالَ فَأَخَذْتُ اللَّبَنَ قَالَ هَذِهِ الْفِطْرَةُ أَنْتَ عَلَيْهَا وَأُمَّتُكَ قَالَ ثُمَّ فُرِضَتْ الصَّلَاةُ خَمْسِينَ صَلَاةً كُلَّ يَوْمٍ قَالَ فَرَجَعْتُ فَمَرَرْتُ عَلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام فَقَالَ بِمَاذَا أُمِرْتَ قَالَ أُمِرْتُ بِخَمْسِينَ صَلَاةً كُلَّ يَوْمٍ قَالَ إِنَّ أُمَّتَكَ لَا تَسْتَطِيعُ لِخَمْسِينَ صَلَاةً وَإِنِّي قَدْ خَبَرْتُ النَّاسَ قَبْلَكَ وَعَالَجْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَشَدَّ الْمُعَالَجَةِ فَارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ التَّخْفِيفَ لِأُمَّتِكَ قَالَ فَرَجَعْتُ فَوَضَعَ عَنِّي عَشْرًا قَالَ فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى فَقَالَ بِمَا أُمِرْتَ قُلْتُ بِأَرْبَعِينَ صَلَاةً كُلَّ يَوْمٍ قَالَ إِنَّ أُمَّتَكَ لَا تَسْتَطِيعُ أَرْبَعِينَ صَلَاةً كُلَّ يَوْمٍ وَإِنِّي قَدْ خَبَرْتُ النَّاسَ قَبْلَكَ وَعَالَجْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَشَدَّ الْمُعَالَجَةِ فَارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ التَّخْفِيفَ لِأُمَّتِكَ قَالَ فَرَجَعْتُ فَوَضَعَ عَنِّي عَشْرًا أُخْرَى فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى فَقَالَ لِي بِمَا أُمِرْتَ قُلْتُ أُمِرْتُ بِثَلَاثِينَ صَلَاةً كُلَّ يَوْمٍ قَالَ إِنَّ أُمَّتَكَ لَا تَسْتَطِيعُ لِثَلَاثِينَ صَلَاةً كُلَّ يَوْمٍ وَإِنِّي قَدْ خَبَرْتُ النَّاسَ قَبْلَكَ وَعَالَجْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَشَدَّ الْمُعَالَجَةِ فَارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ التَّخْفِيفَ لِأُمَّتِكَ قَالَ فَرَجَعْتُ فَوَضَعَ عَنِّي عَشْرًا أُخْرَى فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى فَقَالَ لِي بِمَا أُمِرْتَ قُلْتُ بِعِشْرِينَ صَلَاةً كُلَّ يَوْمٍ فَقَالَ إِنَّ أُمَّتَكَ لَا تَسْتَطِيعُ لِعِشْرِينَ صَلَاةً كُلَّ يَوْمٍ وَإِنِّي قَدْ خَبَرْتُ النَّاسَ قَبْلَكَ وَعَالَجْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَشَدَّ الْمُعَالَجَةِ فَارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ التَّخْفِيفَ لِأُمَّتِكَ قَالَ فَرَجَعْتُ فَأُمِرْتُ بِعَشْرِ صَلَوَاتٍ كُلَّ يَوْمٍ فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى فَقَالَ بِمَا أُمِرْتَ قُلْتُ بِعَشْرِ صَلَوَاتٍ كُلَّ يَوْمٍ فَقَالَ إِنَّ أُمَّتَكَ لَا تَسْتَطِيعُ لِعَشْرِ صَلَوَاتٍ كُلَّ يَوْمٍ فَإِنِّي قَدْ خَبَرْتُ النَّاسَ قَبْلَكَ وَعَالَجْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَشَدَّ الْمُعَالَجَةِ فَارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ التَّخْفِيفَ لِأُمَّتِكَ قَالَ فَرَجَعْتُ فَأُمِرْتُ بِخَمْسِ صَلَوَاتٍ كُلَّ يَوْمٍ فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى فَقَالَ بِمَا أُمِرْتَ قُلْتُ أُمِرْتُ بِخَمْسِ صَلَوَاتٍ كُلَّ يَوْمٍ فَقَالَ إِنَّ أُمَّتَكَ لَا تَسْتَطِيعُ لِخَمْسِ صَلَوَاتٍ كُلَّ يَوْمٍ وَإِنِّي قَدْ خَبَرْتُ النَّاسَ قَبْلَكَ وَعَالَجْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَشَدَّ الْمُعَالَجَةِ فَارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ التَّخْفِيفَ لِأُمَّتِكَ قَالَ قُلْتُ قَدْ سَأَلْتُ رَبِّي حَتَّى اسْتَحْيَيْتُ مِنْهُ وَلَكِنْ أَرْضَى وَأُسَلِّمُ فَلَمَّا نَفَذْتُ نَادَى مُنَادٍ قَدْ أَمْضَيْتُ فَرِيضَتِي وَخَفَّفْتُ عَنْ عِبَادِي حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ بْنِ دِعَامَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ بَيْنَمَا أَنَا عِنْدَ الْكَعْبَةِ بَيْنَ النَّائِمِ وَالْيَقْظَانِ فَسَمِعْتُ قَائِلًا يَقُولُ أَحَدُ الثَّلَاثَةِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ ثُمَّ رُفِعَ لَنَا الْبَيْتُ الْمَعْمُورُ يَدْخُلُهُ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ إِذَا خَرَجُوا مِنْهُ لَمْ يَعُودُوا فِيهِ آخِرَ مَا عَلَيْهِمْ قَالَ ثُمَّ رُفِعَتْ إِلَيَّ سِدْرَةُ الْمُنْتَهَى فَإِذَا وَرَقُهَا مِثْلُ آذَانِ الْفِيَلَةِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ فَقُلْتُ لَقَدْ اخْتَلَفْتُ إِلَى رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى اسْتَحْيَيْتُ لَا وَلَكِنْ أَرْضَى وَأُسَلِّمُ قَالَ فَلَمَّا جَاوَزْتُهُ نُودِيتُ أَنِّي قَدْ خَفَّفْتُ عَلَى عِبَادِي وَأَمْضَيْتُ فَرَائِضِي وَجَعَلْتُ لِكُلِّ حَسَنَةٍ عَشْرَ أَمْثَالِهَا

حضرت مالک بن صعصعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ میں بیت اللہ کے قریب سونے اور جاگنے کے درمیان تھا کہ تین میں سے ایک آدمی دو آدمیوں کے درمیان آگے آیا، پھر میرے پاس سونے کا ایک طشت لایا گیا جو حکمت اور ایمان سے بھرپور تھا، اس نے سینے سے لے کر پیٹ تک میرا جسم چاک کیا اور دل کو آب زم زم سے دھویا، اور اسے حکمت و ایمان سے لبریز کر دیا گیا، پھر میرے پاس ایک جانور لایا گیا جو خچر سے چھوٹا اور گدھے سے بڑا تھا جس کا ایک قدم منتہائے نظر پر پڑتا تھا، اور میں حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ روانہ ہوگیا۔ ہم آسمان دنیا پر پہنچے، پوچھا گیا کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا جبریل! پوچھا گیا کہ آپ کے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے بتایا محمد صلی اللہ علیہ وسلم! پوچھا گیا کہ کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا جی ہاں ! فرشتوں نے کہا خوش آمدید! ایک بہترین آنے والا آیا، وہاں میں حضرت آدم علیہ السلام کے پاس پہنچا اور انہیں سلام کیا، انہوں نے فرمایا خوش آمدید ہو بیٹے کو اور نبی کو خوش آمدید، ایک بہترین آنے والا آیا۔ دوسرے آسمان پر بھی یہی سوال وجواب ہوئے اور وہاں حضرت یحیی وعیسی علیہ السلام سے ملاقات ہوئی، انہوں نے بھی بیٹے کی بجائے بھائی کہا، تیسرے آسمان پر بھی یہی سوال وجواب ہوئے اور وہاں حضرت یوسف علیہ السلام سے ملاقات ہوئی، انہوں نے بھی بیٹے کی بجائے بھائی کہا، چوتھے آسمان پر بھی یہی سوال وجواب ہوئے اور وہاں حضرت ادریس علیہ السام سے ملاقات ہوئی، انہوں نے بھی بھائی کہا، پانچویں آسمان پر بھی یہی سوال وجواب ہوئے اور وہاں حضرت ہارون علیہ السلام سے ملاقات ہوئی، انہوں بھی بھائی کہا، چھٹے آسمان پر بھی یہی سوال وجواب ہوئے اور وہاں حضرت موسی علیہ السلام سے ملاقات ہوئی انہوں نے بھی بھائی کہا، جب میں حضرت موسی علیہ السلام سے مل کر آگے بڑھا تو وہ رونے لگے پوچھا گیا کہ آپ کیوں رو رہے ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ پروردگار! یہ نوجوان جسے آپ نے میرے بعد مبعوث فرمایا: اس کی امت میری امت سے زیادہ تعداد میں جنت میں داخل ہوگی، پھر ہم ساتویں آسمان پر پہنچے اور وہاں بھی یہی سوال جواب ہوئے، وہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ملاقات ہوئی اور میں نے انہیں سلام کیا تو انہوں نے فرمایا خوش آمدید ہو بیٹے کو اور نبی کو۔ پھر میرے سامنے بیت المعمور کو پیش کیا گیا، میں نے جبرائیل علیہ السلام سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں بتایا کہ یہ بیت المعمور ہے، اس میں روزانہ ستر ہزار فرشتے نماز پڑھتے ہیں اور جب ایک مرتبہ باہر آجاتے ہیں تو دوبارہ کبھی داخل ہونے کی نوبت نہیں آتی، پھر میرے سامنے سدرۃ المنتہی کو پیش کیا گیا، اس کے بیر ہجر کے مٹکوں جیسے تھے اور اس کے پتے ہاتھی کے کانوں کے برابر تھے، اور اس کی جڑ میں چار نہریں جاری تھیں جن میں دو نہریں باطنی اور دو ظاہری تھیں ، میں نے جبرائیل علیہ السلام سے ان کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا باطنی نہریں تو جنت میں ہیں اور ظاہری نیل اور فرات ہیں ۔ پھر میرے سامنے ایک برتن شراب کا اور ایک برتن دودھ کا پیش کیا گیا اور ایک برتن شہد کا، میں نے دودھ والا برتن لے لیا، تو حضرت جبرائیل علیہ السلام کہنے لگے کہ یہی فطرت صحیحہ ہے جس پر آپ اور آپ کی امت ہے۔ پھر مجھ پر پچاس نمازیں فرض قرار دی گئیں ، میں حضرت موسی علیہ السلام کے پاس سے گذرا تو وہ کہنے لگے کہ کیا معاملہ ہوا؟ میں نے بتایا کہ مجھ پر پچاس نمازیں فرض کی گئی ہیں ، حضرت موسی علیہ السلام نے فرمایا کہ میں لوگوں کی طبیعت سے اچھی طرح واقف ہوں ، میں نے بنی اسرائیل کو خوب اچھی طرح آزمایا تھا، آپ کی امت اس کی طاقت نہیں رکھے گی، اس لئے آپ اپنے رب کے پاس واپس جائیے اور ان سے درخواست کیجئے کہ اس کی تعداد میں کمی کر دیں، چنانچہ میں اپنے رب کے پاس واپس آیا اور ان سے تخفیف کی درخواست کی تو پروردگار نے ان کی تعداد چالیس مقرر کر دی، پھر دوبارہ حضرت موسی علیہ السلام کے پاس سے گذر ہوا تو یہی سوال جواب ہوئے اور دس نمازیں مزید کم ہوگئیں ، اسی طرح دس دس کم ہوتے ہوتے آخری مرتبہ پانچ کم ہوئیں اور صرف پانچ نمازیں رہ گئیں ، اس مرتبہ بھی حضرت موسی علیہ السلام نے تخفیف کرانے کا مشورہ دیا لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب مجھے اپنے رب سے شرم آتی ہے کہ کتنی مرتبہ اس کے پاس جاؤں ، اسی اثناء میں آواز آئی کہ میں نے اپنا فریضہ مقرر کر دیا، اور اپنے بندوں سے تخفیف کردی، اور میں ایک نیکی کا بدلہ دس گنا عطا کروں گا۔گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے معمولی فرق کے ساتھ بھی مروی ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17989

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17990

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ بْنِ دِعَامَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ بَيْنَمَا أَنَا عِنْدَ الْكَعْبَةِ بَيْنَ النَّائِمِ وَالْيَقْظَانِ فَسَمِعْتُ قَائِلًا يَقُولُ أَحَدُ الثَّلَاثَةِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ ثُمَّ رُفِعَ لَنَا الْبَيْتُ الْمَعْمُورُ يَدْخُلُهُ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ إِذَا خَرَجُوا مِنْهُ لَمْ يَعُودُوا فِيهِ آخِرَ مَا عَلَيْهِمْ قَالَ ثُمَّ رُفِعَتْ إِلَيَّ سِدْرَةُ الْمُنْتَهَى فَإِذَا وَرَقُهَا مِثْلُ آذَانِ الْفِيَلَةِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ فَقُلْتُ لَقَدْ اخْتَلَفْتُ إِلَى رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى اسْتَحْيَيْتُ لَا وَلَكِنْ أَرْضَى وَأُسَلِّمُ قَالَ فَلَمَّا جَاوَزْتُهُ نُودِيتُ أَنِّي قَدْ خَفَّفْتُ عَلَى عِبَادِي وَأَمْضَيْتُ فَرَائِضِي وَجَعَلْتُ لِكُلِّ حَسَنَةٍ عَشْرَ أَمْثَالِهَا

حضرت مالک بن صعصعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ میں بیت اللہ کے قریب سونے اور جاگنے کے درمیان تھا کہ تین میں سے ایک آدمی دو آدمیوں کے درمیان آگے آیا، پھر میرے پاس سونے کا ایک طشت لایا گیا جو حکمت اور ایمان سے بھرپور تھا، اس نے سینے سے لے کر پیٹ تک میرا جسم چاک کیا اور دل کو آب زم زم سے دھویا، اور اسے حکمت و ایمان سے لبریز کر دیا گیا، پھر میرے پاس ایک جانور لایا گیا جو خچر سے چھوٹا اور گدھے سے بڑا تھا جس کا ایک قدم منتہائے نظر پر پڑتا تھا، اور میں حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ روانہ ہوگیا۔ ہم آسمان دنیا پر پہنچے، پوچھا گیا کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا جبریل! پوچھا گیا کہ آپ کے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے بتایا محمد صلی اللہ علیہ وسلم! پوچھا گیا کہ کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا جی ہاں ! فرشتوں نے کہا خوش آمدید! ایک بہترین آنے والا آیا، وہاں میں حضرت آدم علیہ السلام کے پاس پہنچا اور انہیں سلام کیا، انہوں نے فرمایا خوش آمدید ہو بیٹے کو اور نبی کو خوش آمدید، ایک بہترین آنے والا آیا۔ دوسرے آسمان پر بھی یہی سوال وجواب ہوئے اور وہاں حضرت یحیی وعیسی علیہ السلام سے ملاقات ہوئی، انہوں نے بھی بیٹے کی بجائے بھائی کہا، تیسرے آسمان پر بھی یہی سوال وجواب ہوئے اور وہاں حضرت یوسف علیہ السلام سے ملاقات ہوئی، انہوں نے بھی بیٹے کی بجائے بھائی کہا، چوتھے آسمان پر بھی یہی سوال وجواب ہوئے اور وہاں حضرت ادریس علیہ السام سے ملاقات ہوئی، انہوں نے بھی بھائی کہا، پانچویں آسمان پر بھی یہی سوال وجواب ہوئے اور وہاں حضرت ہارون علیہ السلام سے ملاقات ہوئی، انہوں بھی بھائی کہا، چھٹے آسمان پر بھی یہی سوال وجواب ہوئے اور وہاں حضرت موسی علیہ السلام سے ملاقات ہوئی انہوں نے بھی بھائی کہا، جب میں حضرت موسی علیہ السلام سے مل کر آگے بڑھا تو وہ رونے لگے پوچھا گیا کہ آپ کیوں رو رہے ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ پروردگار! یہ نوجوان جسے آپ نے میرے بعد مبعوث فرمایا: اس کی امت میری امت سے زیادہ تعداد میں جنت میں داخل ہوگی، پھر ہم ساتویں آسمان پر پہنچے اور وہاں بھی یہی سوال جواب ہوئے، وہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ملاقات ہوئی اور میں نے انہیں سلام کیا تو انہوں نے فرمایا خوش آمدید ہو بیٹے کو اور نبی کو۔ پھر میرے سامنے بیت المعمور کو پیش کیا گیا، میں نے جبرائیل علیہ السلام سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں بتایا کہ یہ بیت المعمور ہے، اس میں روزانہ ستر ہزار فرشتے نماز پڑھتے ہیں اور جب ایک مرتبہ باہر آجاتے ہیں تو دوبارہ کبھی داخل ہونے کی نوبت نہیں آتی، پھر میرے سامنے سدرۃ المنتہی کو پیش کیا گیا، اس کے بیر ہجر کے مٹکوں جیسے تھے اور اس کے پتے ہاتھی کے کانوں کے برابر تھے، اور اس کی جڑ میں چار نہریں جاری تھیں جن میں دو نہریں باطنی اور دو ظاہری تھیں ، میں نے جبرائیل علیہ السلام سے ان کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا باطنی نہریں تو جنت میں ہیں اور ظاہری نیل اور فرات ہیں ۔ پھر میرے سامنے ایک برتن شراب کا اور ایک برتن دودھ کا پیش کیا گیا اور ایک برتن شہد کا، میں نے دودھ والا برتن لے لیا، تو حضرت جبرائیل علیہ السلام کہنے لگے کہ یہی فطرت صحیحہ ہے جس پر آپ اور آپ کی امت ہے۔ پھر مجھ پر پچاس نمازیں فرض قرار دی گئیں ، میں حضرت موسی علیہ السلام کے پاس سے گذرا تو وہ کہنے لگے کہ کیا معاملہ ہوا؟ میں نے بتایا کہ مجھ پر پچاس نمازیں فرض کی گئی ہیں ، حضرت موسی علیہ السلام نے فرمایا کہ میں لوگوں کی طبیعت سے اچھی طرح واقف ہوں ، میں نے بنی اسرائیل کو خوب اچھی طرح آزمایا تھا، آپ کی امت اس کی طاقت نہیں رکھے گی، اس لئے آپ اپنے رب کے پاس واپس جائیے اور ان سے درخواست کیجئے کہ اس کی تعداد میں کمی کر دیں، چنانچہ میں اپنے رب کے پاس واپس آیا اور ان سے تخفیف کی درخواست کی تو پروردگار نے ان کی تعداد چالیس مقرر کر دی، پھر دوبارہ حضرت موسی علیہ السلام کے پاس سے گذر ہوا تو یہی سوال جواب ہوئے اور دس نمازیں مزید کم ہوگئیں ، اسی طرح دس دس کم ہوتے ہوتے آخری مرتبہ پانچ کم ہوئیں اور صرف پانچ نمازیں رہ گئیں ، اس مرتبہ بھی حضرت موسی علیہ السلام نے تخفیف کرانے کا مشورہ دیا لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب مجھے اپنے رب سے شرم آتی ہے کہ کتنی مرتبہ اس کے پاس جاؤں ، اسی اثناء میں آواز آئی کہ میں نے اپنا فریضہ مقرر کر دیا، اور اپنے بندوں سے تخفیف کردی، اور میں ایک نیکی کا بدلہ دس گنا عطا کروں گا۔گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے معمولی فرق کے ساتھ بھی مروی ہے۔

مَالِکِ بْنِ صَعْصَعَةَ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ بْنِ دِعَامَةَ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17990

chevron_left Previous
1…878889…111
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter