Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17799

حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ حَدَّثَنِي بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا يُجَرُّ عَلَى وَجْهِهِ مِنْ يَوْمِ وُلِدَ إِلَى يَوْمِ يَمُوتُ هَرَمًا فِي مَرْضَاةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَحَقَّرَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

حضرت عتبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کسی آدمی کو اس کی پیدائش کے دن سے بڑھاپے میں اس کی موت تک ایک ایک لمحہ رضاء الٰہی میں صرف کرنے کا موقع دے دیا جائے تب بھی قیامت کے دن وہ اسے کم تر اور حقیر سمجھے گا۔

عتبة بن عبد ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، ← بَقِيَّةُ ← حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17799

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17800

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عُمَيْرَةَ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النِّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ أَنَّ عَبْدًا خَرَّ عَلَى وَجْهِهِ مِنْ يَوْمِ وُلِدَ إِلَى أَنْ يَمُوتَ هَرَمًا فِي طَاعَةِ اللَّهِ لَحَقَّرَهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ وَلَوَدَّ أَنَّهُ يُرَدُّ إِلَى الدُّنْيَا كَيْمَا يَزْدَادَ مِنْ الْأَجْرِ وَالثَّوَابِ

حضرت عتبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کسی آدمی کو اس کی پیدائش کے دن سے بڑھاپے میں اس کی موت تک ایک ایک لمحہ رضاء الٰہی میں صرف کرنے کا موقع دے دیا جائے تب بھی قیامت کے دن وہ اسے کم تر اور حقیر سمجھے گا اور اس کی تمنا ہوگی کہ اسے دوبارہ دنیا میں بھیج دیا جائے تاکہ اسے مزید اجروثواب مل سکے۔

مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عُمَيْرَةَ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النِّبِيِّ ← جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، ← عَبْدُ اللَّهِ -يَعْنِي ابْن الْمُبَارَكِ- ← عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17800

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17801

حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ زُرْعَةَ عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ السُّلَمِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَأْتِي الشُّهَدَاءُ وَالْمُتَوَفَّوْنَ بِالطَّاعُونِ فَيَقُولُ أَصْحَابُ الطَّاعُونِ نَحْنُ شُهَدَاءُ فَيُقَالُ انْظُرُوا فَإِنْ كَانَتْ جِرَاحُهُمْ كَجِرَاحِ الشُّهَدَاءِ تَسِيلُ دَمًا رِيحَ الْمِسْكِ فَهُمْ شُهَدَاءُ فَيَجِدُونَهُمْ كَذَلِكَ

حضرت عتبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا طاعون کی وباء میں مرنے والے اور شہداء آئیں گے، طاعون والے کہیں گے کہ ہم شہید ہیں ، پروردگار فرمائے گا کہ ان کے زخم دیکھو اگر ان کے زخم شہداء کے زخموں کی طرح مہک رہے ہوں تو یہ شہداء میں شمار ہو کر ان کے ساتھ ہوں گے، جب دیکھا جائے گا تو ان کے زخم شہداء کے زخموں کے مشابہہ ہوں گے۔

يَأْتِي الشُّهَدَاءُ وَالْمُتَوَفَّوْنَ بِالطَّاعُونِ ← النَّبِيِّ ← عُتْبَةَ بْنَ عَبْدٍ السُّلَمِيَّ، ← شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ ← ضَمْضَمِ بْنِ زُرْعَةَ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17801

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17802

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ قَالَ حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنِي أَبُو حُمَيْدٍ الرُّعَيْنِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي يَزِيدُ ذُو مِصْرَ قَالَ أَتَيْتُ عُتْبَةَ بْنَ عَبْدٍ السُّلَمِيَّ فَقُلْتُ يَا أَبَا الْوَلِيدِ إِنِّي خَرَجْتُ أَلْتَمِسُ الضَّحَايَا فَلَمْ أَجِدْ شَيْئًا يُعْجِبُنِي غَيْرَ ثَرْمَاءَ فَمَا تَقُولُ قَالَ أَلَا جِئْتَنِي بِهَا قُلْتُ سُبْحَانَ اللَّهِ تَجُوزُ عَنْكَ وَلَا تَجُوزُ عَنِّي قَالَ نَعَمْ إِنَّكَ تَشُكُّ وَلَا أَشُكُّ إِنَّمَا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُصْفَرَّةِ وَالْمُسْتَأْصَلَةِ قَرْنُهَا مِنْ أَصْلِهَا وَالْبَخْقَاءِ وَالْمُشَيَّعَةِ وَالْمُصْفَرَّةُ الَّتِي تُسْتَأْصَلُ أُذُنُهَا حَتَّى يَبْدُوَ صِمَاخُهَا وَالْمُسْتَأْصَلَةُ قَرْنُهَا مِنْ أَصْلِهِ وَالْبَخْقَاءُ الَّتِي تَبْخَقُّ عَيْنُهَا وَالْمُشَيَّعَةُ الَّتِي لَا تَتْبَعُ الْغَنَمَ عَجَفًا وَضَعْفًا وَعَجْزًا وَالْكَسْرَاءُ الَّتِي لَا تُنْقِي قَالَ أَبِي

یزید ذو مصر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عتبہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا اے ابو الولید! میں قربانی کے جانور کی تلاش میں نکلا، مجھے کوئی جانور نہیں ملا، صرف ایک جانور مل رہا تھا لیکن اس کا دانت ٹوٹا ہوا تھا، آپ کی کیا رائے ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ تم اسے میرے پاس کیوں نہ لے آئے؟ میں نے کہا سبحان اللہ! آپ کی طرف سے اس کی قربانی ہو جائے گی اور میری طرف سے نہیں ہوگی؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! اس لئے کہ تمہیں شک ہے اور مجھے کوئی شک نہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف مصفرہ، جڑ سے اکھڑے ہوئے سینگ دار، بخقاء۔ مشیعہ اور کسراء سے منع فرمایا ہے۔ مصفرہ سے مراد وہ جانور ہے جس کا کان جڑ سے کٹا ہوا ہو اور اس کا سوراخ نطر آرہا ہو، بخقاء سے مراد وہ جانور ہے جس کی آنکھ کانی ہو، مشیعہ سے مراد وہ جانور ہے جو کمزوری اور لاچاری کی وجہ سے بکریوں کے ساتھ نہ چل سکے اور کسراء سے مراد وہ جانور ہے جس کی ہڈی ٹوٹی ہو اور وہ سیدھی نہ چل سکے۔

يزيد ذو مصر ← أَبُو حُمَيْدٍ الرُّعَيْنِيُّ، ← ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17802

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17803

و حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ جَنَابٍ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ

یزید ذو مصر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عتبہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا اے ابو الولید! میں قربانی کے جانور کی تلاش میں نکلا، مجھے کوئی جانور نہیں ملا، صرف ایک جانور مل رہا تھا لیکن اس کا دانت ٹوٹا ہوا تھا، آپ کی کیا رائے ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ تم اسے میرے پاس کیوں نہ لے آئے؟ میں نے کہا سبحان اللہ! آپ کی طرف سے اس کی قربانی ہو جائے گی اور میری طرف سے نہیں ہوگی؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! اس لئے کہ تمہیں شک ہے اور مجھے کوئی شک نہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف مصفرہ، جڑ سے اکھڑے ہوئے سینگ دار، بخقاء۔ مشیعہ اور کسراء سے منع فرمایا ہے۔ مصفرہ سے مراد وہ جانور ہے جس کا کان جڑ سے کٹا ہوا ہو اور اس کا سوراخ نطر آرہا ہو، بخقاء سے مراد وہ جانور ہے جس کی آنکھ کانی ہو، مشیعہ سے مراد وہ جانور ہے جو کمزوری اور لاچاری کی وجہ سے بکریوں کے ساتھ نہ چل سکے اور کسراء سے مراد وہ جانور ہے جس کی ہڈی ٹوٹی ہو اور وہ سیدھی نہ چل سکے۔

عِيسَى بْنُ يُونُسَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ ← أحمد بن جناب ← و،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17803

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17804

حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ زُرْعَةَ عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْخِلَافَةُ فِي قُرَيْشٍ وَالْحُكْمُ فِي الْأَنْصَارِ وَالدَّعْوَةُ فِي الْحَبَشَةِ وَالْهِجْرَةُ فِي الْمُسْلِمِينَ وَالْمُهَاجِرِينَ بَعْدُ

حضرت عتبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا خلافت قریش میں رہے گی، حکم انصار میں رہے گا، دعوت حبشہ میں رہے گی اور ہجرت عام مسلمانوں میں رہے گی اور اس کے بعد بھی مہاجرین ہوں گے۔

عتبة بن عبد ← كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ ← شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ ← ضَمْضَمِ بْنِ زُرْعَةَ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17804

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17805

حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ أَوْ حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَهُ قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ زَيْدٍ الْجَوْزَجَانِيُّ قَالَ رُحْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ فَلَقِيَنِي عُتْبَةُ بْنُ عَبْدٍ الْمَازِنِيُّ فَقَالَ لِي أَيْنَ تُرِيدُ فَقُلْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ فَقَالَ أَبْشِرْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ عَبْدٍ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ إِلَى غُدُوٍّ أَوْ رَوَاحٍ إِلَى الْمَسْجِدِ إِلَّا كَانَتْ خُطَاهُ خَطْوَةً كَفَّارَةً وَخَطْوَةً دَرَجَةً

یزید بن زید رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ شام کے وقت میں مسجد کی طرف روانہ ہو، راستے میں حضرت عتبہ مازنی رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوگئی، انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ کہاں جا رہے ہو؟ میں نے کہا کہ مسجد جا رہا ہوں ، فرمایا خوشخبری قبول کرو، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص صبح یا شام کو اپنے گھر سے مسجد کے لئے نکلتا ہے، تو اس کا ایک قدم کفار اور دوسرا قدم ایک درجہ بلندی کا سبب بنتا ہے۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبْشِرْ فَإِنِّي ← لِي أَيْنَ تُرِيدُ فَقُلْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ ← رُحْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ فَلَقِيَنِي عُتْبَةُ بْنُ عَبْدٍ الْمَازِنِيُّ ← يَزِيدُ بْنُ زَيْدٍ الْجَوْزَجَانِيُّ ← من سمعه ← مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ أَوْ ← بَقِيَّةُ ← حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17805

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17806

حَدَّثَنَا هَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ عَقِيلِ بْنِ مُدْرِكٍ السُّلَمِيِّ عَنْ لُقْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الْوَصَابِيِّ عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ السُّلَمِيِّ قَالَ اسْتَكْسَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَسَانِي خَيْشَتَيْنِ فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي أَلْبِسُهُمَا وَأَنَا مِنْ أَكْسَى أَصْحَابِي

حضرت عتبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پہننے کے لئے کپڑے مانگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کتان کے دو کپڑے پہنائے، جب میں نے انہیں زیب تن کیا تو مجھے محسوس ہوا کہ میں نے تمام صحابہ رضی اللہ عنہم میں سب سے زیادہ عمدہ کپڑے پہن رکھے ہیں ۔

اسْتَكْسَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ فَكَسَانِي خَيْشَتَيْنِ فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي أَلْبِسُهُمَا وَأَنَا مِنْ أَكْسَى أَصْحَابِي ← عُتْبَةَ بْنَ عَبْدٍ السُّلَمِيَّ، ← لُقْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الْوَصَّابِيِّ، ← عَقِيلُ بْنُ مُدْرِكٍ السُّلَمِيُّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← هَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17806

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17807

حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ يَعْنِي الْفَزَارِيَّ عَنْ صَفْوَانَ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ السُّلَمِيِّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَتْلُ ثَلَاثَةٌ رَجُلٌ مُؤْمِنٌ قَاتَلَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى إِذَا لَقِيَ الْعَدُوَّ قَاتَلَهُمْ حَتَّى يُقْتَلَ فَذَلِكَ الشَّهِيدُ الْمُفْتَخِرُ فِي خَيْمَةِ اللَّهِ تَحْتَ عَرْشِهِ لَا يَفْضُلُهُ النَّبِيُّونَ إِلَّا بِدَرَجَةِ النُّبُوَّةِ وَرَجُلٌ مُؤْمِنٌ قَرَفَ عَلَى نَفْسِهِ مِنْ الذُّنُوبِ وَالْخَطَايَا جَاهَدَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى إِذَا لَقِيَ الْعَدُوَّ قَاتَلَ حَتَّى يُقْتَلَ مُحِيَتْ ذُنُوبُهُ وَخَطَايَاهُ إِنَّ السَّيْفَ مَحَّاءُ الْخَطَايَا وَأُدْخِلَ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ شَاءَ فَإِنَّ لَهَا ثَمَانِيَةَ أَبْوَابٍ وَلِجَهَنَّمَ سَبْعَةَ أَبْوَابٍ وَبَعْضُهَا أَفْضَلُ مِنْ بَعْضٍ وَرَجُلٌ مُنَافِقٌ جَاهَدَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ حَتَّى إِذَا لَقِيَ الْعَدُوَّ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى يُقْتَلَ فَإِنَّ ذَلِكَ فِي النَّارِ السَّيْفُ لَا يَمْحُو النِّفَاقَ

حضرت عتبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قتل تین قسم کا ہوتا ہے، ایک وہ مسلمان آدمی جو اپنی جان ومال کے ساتھ اللہ کی راہ میں قتال کرتا ہے، جب دشمن سے آمنا سامنا ہوتا ہے تو وہ لڑتے ہوئے مارا جاتا ہے، یہ تو وہ شہید ہوگا جو عرش الٰہی کے نیچے اللہ کے خیمے میں فخر کرتا ہوگا اور انبیاء کو اس پر صرف درجہ نبوت کی وجہ سے فضیلت ہوگی، دوسرا وہ مسلمان آدمی جس کے نفس پر گناہوں اور لغزشوں کی گٹھڑی لدی ہوئی ہو، وہ اپنی جان اور مال کے ساتھ اللہ کے راستہ میں جہاد کرتا ہے، جب دشمن سے آمنا سامنا ہوتا ہے تو وہ لڑتے ہوئے مارا جاتا ہے، یہ شخص اس لئے گناہوں اور لغزشوں سے پاک صاف ہو جائے گا کیونکہ تلوار گناہوں کو مٹا دیتی ہے اور اسے جنت کے ہر دروازے میں سے داخل ہونے کا اختیار دے دیا جائے گا کہ جنت کے آٹھ اور جہنم کے سات دروازے ہیں جن میں سے بعض دوسروں کی نسبت زیادہ افضل ہیں اور تیسرا وہ منافق آدمی جو اپنی جان و مال کے ساتھ اللہ کے راستہ میں جہاد کرتا ہے، جب دشمن سے آمنا سامنا ہوتا ہے تو وہ لڑتے ہوئے مارا جاتا ہے، یہ شخص جہنم میں جائے گا کیونکہ تلوار نفاق کو نہیں مٹاتی۔

عُتْبَةَ بْنَ عَبْدِ السُّلَمِيِّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← أَبِي الْمُثَنَّی ← صَفْوَانَ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو، ← أَبُو إِسْحَاقَ يَعْنِي الْفَزَارِيَّ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17807

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17808

حَدَّثَنَا يَعْمَرُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو أَنَّ أَبَا الْمُثَنَّى الْأُمْلُوكِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ عُتْبَةَ بْنَ عَبْدٍ السُّلَمِيَّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْقَتْلُ ثَلَاثَةٌ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ

حضرت عتبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قتل تین قسم کا ہوتا ہے، ایک وہ مسلمان آدمی جو اپنی جان ومال کے ساتھ اللہ کی راہ میں قتال کرتا ہے، جب دشمن سے آمنا سامنا ہوتا ہے تو وہ لڑتے ہوئے مارا جاتا ہے، یہ تو وہ شہید ہوگا جو عرش الٰہی کے نیچے اللہ کے خیمے میں فخر کرتا ہوگا اور انبیاء کو اس پر صرف درجہ نبوت کی وجہ سے فضیلت ہوگی، دوسرا وہ مسلمان آدمی جس کے نفس پر گناہوں اور لغزشوں کی گٹھڑی لدی ہوئی ہو، وہ اپنی جان اور مال کے ساتھ اللہ کے راستہ میں جہاد کرتا ہے، جب دشمن سے آمنا سامنا ہوتا ہے تو وہ لڑتے ہوئے مارا جاتا ہے، یہ شخص اس لئے گناہوں اور لغزشوں سے پاک صاف ہو جائے گا کیونکہ تلوار گناہوں کو مٹا دیتی ہے اور اسے جنت کے ہر دروازے میں سے داخل ہونے کا اختیار دے دیا جائے گا کہ جنت کے آٹھ اور جہنم کے سات دروازے ہیں جن میں سے بعض دوسروں کی نسبت زیادہ افضل ہیں اور تیسرا وہ منافق آدمی جو اپنی جان و مال کے ساتھ اللہ کے راستہ میں جہاد کرتا ہے، جب دشمن سے آمنا سامنا ہوتا ہے تو وہ لڑتے ہوئے مارا جاتا ہے، یہ شخص جہنم میں جائے گا کیونکہ تلوار نفاق کو نہیں مٹاتی۔

الْقَتْلُ ثَلَاثَةٌ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ ← رَسُولِ اللَّهِ ← عُتْبَةَ بْنَ عَبْدِ السُّلَمِيِّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← أَنَّهُ ← صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو أَنَّ أَبَا الْمُثَنَّى الْأُمْلُوكِيَّ ← عَبْدُ اللَّهِ ← يَعْمَرُ بْنُ بِشْرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17808

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17809

حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ زُرْعَةَ عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ كَانَ عُتْبَةُ يَقُولُ عِرْبَاضٌ خَيْرٌ مِنِّي وَعِرْبَاضٌ يَقُولُ عُتْبَةُ خَيْرٌ مِنِّي سَبَقَنِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَنَةٍ

حضرت عتبہ رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ عرباض رضی اللہ عنہ مجھ سے بہتر ہیں اور حضرت عرباض رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ عتبہ مجھ سے بہتر ہیں یہ مجھ سے ایک سال پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے۔

عُتْبَةُ خَيْرٌ مِنِّي سَبَقَنِي إِلَى النَّبِيِّ بِسَنَةٍ ← عِرْبَاضٌ خَيْرٌ مِنِّي وَعِرْبَاضٌ ← كَانَ عُتْبَةُ ← شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ ← ضَمْضَمِ بْنِ زُرْعَةَ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17809

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17810

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سَوَّارٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ قَتَادَةَ السُّلَمِيِّ أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ آدَمَ ثُمَّ أَخَذَ الْخَلْقَ مِنْ ظَهْرِهِ وَقَالَ هَؤُلَاءِ فِي الْجَنَّةِ وَلَا أُبَالِي وَهَؤُلَاءِ فِي النَّارِ وَلَا أُبَالِي قَالَ فَقَالَ قَائِلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَعَلَى مَاذَا نَعْمَلُ قَالَ عَلَى مَوَاقِعِ الْقَدَرِ

حضرت عبدالرحمن بن قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا، پھر ان کی پشت سے ان کی اولاد اور ساری مخلوق کو نکال کر فرمایا یہ لوگ جنت میں جائیں گے اور مجھے کوئی پرواہ نہیں اور یہ لوگ جہنم میں جائیں گے اور مجھے کوئی پرواہ نہیں ، کسی شخص نے پوچھا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) پھر ہم عمل کس بنیاد پر کریں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مواقع تقدیر کی بنیاد پر۔

قَائِلٌ ← هَؤُلَاءِ فِي الْجَنَّةِ وَلَا أُبَالِي وَهَؤُلَاءِ فِي النَّارِ وَلَا أُبَالِي" ← إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ آدَمَ ثُمَّ أَخَذَ الْخَلْقَ مِنْ ظَهْرِهِ ← رَسُولِ اللَّهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ قَتَادَةَ السُّلَمِيِّ أَنَّهُ ← رَاشِدُ بْنُ سَعْدٍ، ← مُعَاوِيَةَ، ← ليث يعني ابن سعد ← الْحَسَنُ بْنُ سَوَّارٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17810

chevron_left Previous
1…727374…111
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter