Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17727

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَمِّهِ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الضَّالَّةِ مِنْ الْإِبِلِ تَغْشَى حِيَاضِي قَدْ لُطْتُهَا لِإِبِلِي هَلْ لِي مِنْ أَجْرٍ فِي شَأْنِ مَا أَسْقِيهَا قَالَ نَعَمْ فِي كُلِّ ذَاتِ كَبِدٍ حَرَّاءَ أَجْرٌ

حضرت سراقہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ان بھٹکے ہوئے اونٹوں کا مسئلہ پوچھا جو میرے حوض پر آئیں تو کیا مجھے ان کو پانی پلانے پر اجروثواب ملے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! ہر تر جگر رکھنے والے میں اجروثواب ہے۔

سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ← عمه سراقه بن مالك بن جعشم ← أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17727

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17728

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِيُّ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ بَلَغَنِي عَنْ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ الْمُدْلِجِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ يَا سُرَاقَةُ أَلَا أُخْبِرُكَ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَهْلِ النَّارِ قَالَ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَمَّا أَهْلُ النَّارِ فَكُلُّ جَعْظَرِيٍّ جَوَّاظٍ مُسْتَكْبِرٍ وَأَمَّا أَهْلُ الْجَنَّةِ الضُّعَفَاءُ الْمَغْلُوبُونَ

حضرت سراقہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سراقہ! کیا میں تمہیں اہل جنت اور اہل جہنم کے بارے نہ بتاؤں ؟ عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہنمی تو ہر وہ شخص ہوگا جو سخت دل، تند خو اور متکبر ہو اور جنتی وہ لوگ ہوں گے جو کمزور اور مغلوب ہوں ۔

سُرَاقَةَ بْنِ مَالِکِ بْنِ جُعْشُمٍ الْمُدْلِجِيِّ ← بلغني ← أَبِي ← مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17728

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17729

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ بَلَغَنِي عَنْ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكٍ يَقُولُ أَنَّهُ حَدَّثَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ يَا سُرَاقَةُ أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى أَعْظَمِ الصَّدَقَةِ أَوْ مِنْ أَعْظَمِ الصَّدَقَةِ قَالَ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ابْنَتُكَ مَرْدُودَةٌ إِلَيْكَ لَيْسَ لَهَا كَاسِبٌ غَيْرَكَ

حضرت سراقہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا سراقہ! کیا میں تمہیں سب سے عظیم صدقہ نہ بتاؤں ؟ عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری وہ بیٹی جو اپنے شوہر کی وفات یا طلاق کی وجہ سے تمہارے پاس واپس جائے اور تمہارے علاوہ اس کا کوئی کمانے والا نہ ہو۔

أَنَّهُ حَدَّثَ ← سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكٍ ← بلغني ← أَبِي ← مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17729

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17730

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ وَحَدَّثَ ابْنُ شِهَابٍ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مَالِكٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ سُرَاقَةَ بْنَ جُعْشُمٍ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجَعِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ قَالَ فَطَفِقْتُ أَسْأَلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى مَا أَذْكُرُ مَا أَسْأَلُهُ عَنْهُ فَقَالَ اذْكُرْهُ قَالَ وَكَانَ مِمَّا سَأَلْتُهُ عَنْهُ أَنْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ الضَّالَّةُ تَغْشَى حِيَاضِي وَقَدْ مَلَأْتُهَا مَاءً لِإِبِلِي فَهَلْ لِي مِنْ أَجْرٍ أَنْ أَسْقِيَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ فِي سَقْيِ كُلِّ كَبِدٍ حَرَّاءَ أَجْرٌ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ

حضرت سراقہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض الوفات میں حاضر خدمت ہوا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوالات پوچھنا شروع کر دیئے، حتی کہ میرے پاس سوالات ختم ہو گئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کچھ اور یاد کر لو، ان سوالات میں سے ایک سوال میں نے یہ بھی پوچھا تھا کہ یا رسول اللہ! وہ بھٹکے ہوئے اونٹ جو میرے حوض پر آئیں تو کیا مجھے ان کو پانی پلانے پر اجروثواب ملے گا؟ جبکہ میں نے وہ پانی اپنے اونٹوں کے لئے بھرا ہو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! ہر تر جگر رکھنے والے میں اجروثواب ہے۔

صَالِحٍ وَحَدَّثَ ابْنُ شِهَابٍ ← أَبِي ← يَعْقُوبُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17730

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17731

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجَعِهِ فَقَالَ أَرَأَيْتَ الضَّالَّةَ تَرِدُ عَلَى حَوْضِ إِبِلِي هَلْ لِي أَجْرٌ أَنْ أَسْقِيَهَا فَقَالَ نَعَمْ فِي الْكَبِدِ الْحَرَّاءِ أَجْرٌ

حضرت سراقہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض الوفات میں حاضر خدمت ہوا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوالات پوچھنا شروع کر دیئے، حتی کہ میرے پاس سوالات ختم ہو گئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کچھ اور یاد کرلو، ان سوالات میں سے ایک سوال میں نے یہ بھی پوچھا تھا کہ یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) وہ بھٹکے ہوئے اونٹ جو میرے حوض پر آئیں تو کیا مجھے ان کو پانی پلانے پر اجروثواب ملے گا؟ جبکہ میں نے وہ پانی اپنے اونٹوں کے لئے بھرا ہو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! ہر تر جگر رکھنے والے میں اجروثواب ہے۔

نَعَمْ فِي الْكَبِدِ الْحَرَّاءِ أَجْرٌ ← أَرَأَيْتَ الضَّالَّةَ تَرِدُ عَلَى حَوْضِ إِبِلِي هَلْ لِي أَجْرٌ أَنْ أَسْقِيَهَا ← سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ فِي وَجَعِهِ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17731

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17732

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ عُمْرَتَنَا هَذِهِ أَلِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِلْأَبَدِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَلْ لِلْأَبَدِ

حضرت سراقہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) یہ بتائیے! کیا سفر حج میں عمرہ کا یہ حکم صرف ہمارے لئے ہے یا ہمیشہ کے لئے ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہمیشہ کے لئے ہے۔

سُرَاقَةَ بْنِ مَالِکِ بْنِ جُعْشُمٍ أَنَّهُ ← طَاوْسٍ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17732

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17733

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ قَالَ سَمِعْتُ طَاوُسًا يُحَدِّثُ عَنْ سُرَاقَةَ بْنِ جُعْشُمٍ الْكِنَانِيِّ وَلَمْ يَسْمَعْهُ مِنْهُ كَذَا فِي الْحَدِيثِ أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ عُمْرَتُنَا هَذِهِ لِعَامِنَا هَذَا أَوْ لِلْأَبَدِ قَالَ لِلْأَبَدِ

حضرت سراقہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ! یہ بتائیے! کیا سفر حج میں عمرہ کا یہ حکم صرف ہمارے لئے ہے یا ہمیشہ کے لئے ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہمیشہ کے لئے ہے۔

طَاوُسًا ← عَبْد الْمَلِكِ؛ ← شُعْبَةُ، ← حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17733

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17734

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَالِكٍ الْمُدْلِجِيُّ وَهُوَ ابْنُ أَخِي سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ سُرَاقَةَ يَقُولُ جَاءَنَا رُسُلُ كُفَّارِ قُرَيْشٍ يَجْعَلُونَ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دِيَةَ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا لِمَنْ قَتَلَهُمَا أَوْ أَسَرَهُمَا فَبَيْنَا أَنَا جَالِسٌ فِي مَجْلِسٍ مِنْ مَجَالِسِ قَوْمِي بَنِي مُدْلِجٍ أَقْبَلَ رَجُلٌ مِنْهُمْ حَتَّى قَامَ عَلَيْنَا فَقَالَ يَا سُرَاقَةُ إِنِّي رَأَيْتُ آنِفًا أَسْوَدَةً بِالسَّاحِلِ إِنِّي أُرَاهَا مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَهُ قَالَ سُرَاقَةُ فَعَرَفْتُ أَنَّهُمْ هُمْ فَقُلْتُ إِنَّهُمْ لَيْسُوا بِهِمْ وَلَكِنْ رَأَيْتَ فُلَانًا وَفُلَانًا انْطَلَقَ آنِفًا قَالَ ثُمَّ لَبِثْتُ فِي الْمَجْلِسِ سَاعَةً حَتَّى قُمْتُ فَدَخَلْتُ بَيْتِي فَأَمَرْتُ جَارِيَتِي أَنْ تُخْرِجَ لِي فَرَسِي وَهِيَ مِنْ وَرَاءِ أَكَمَةٍ فَتَحْبِسَهَا عَلَيَّ وَأَخَذْتُ رُمْحِي فَخَرَجْتُ بِهِ مِنْ ظَهْرِ الْبَيْتِ فَخَطَطْتُ بِرُمْحِي الْأَرْضَ وَخَفَضْتُ عَالِيَةَ الرُّمْحِ حَتَّى أَتَيْتُ فَرَسِي فَرَكِبْتُهَا فَرَفَعْتُهَا تَقَرَّبُ بِي حَتَّى رَأَيْتُ أَسْوَدَتَهُمَا فَلَمَّا دَنَوْتُ مِنْهُمْ حَيْثُ يُسْمِعُهُمْ الصَّوْتُ عَثَرَتْ بِي فَرَسِي فَخَرَرْتُ عَنْهَا فَقُمْتُ فَأَهْوَيْتُ بِيَدَيَّ إِلَى كِنَانَتِي فَاسْتَخْرَجْتُ مِنْهَا الْأَزْلَامَ فَاسْتَقْسَمْتُ بِهَا أَضُرُّهُمْ أَمْ لَا فَخَرَجَ الَّذِي أَكْرَهُ أَنْ لَا أَضُرَّهُمْ فَرَكِبْتُ فَرَسِي وَعَصَيْتُ الْأَزْلَامَ فَرَفَعْتُهَا تَقَرَّبُ بِي حَتَّى إِذَا دَنَوْتُ مِنْهُمْ عَثَرَتْ بِي فَرَسِي فَخَرَرْتُ عَنْهَا فَقُمْتُ فَأَهْوَيْتُ بِيَدَيَّ إِلَى كِنَانَتِي فَأَخْرَجْتُ الْأَزْلَامَ فَاسْتَقْسَمْتُ بِهَا فَخَرَجَ الَّذِي أَكْرَهُ أَنْ لَا أَضُرَّهُمْ فَعَصَيْتُ الْأَزْلَامَ وَرَكِبْتُ فَرَسِي فَرَفَعْتُهَا تَقَرَّبُ بِي حَتَّى إِذَا سَمِعْتُ قِرَاءَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ لَا يَلْتَفِتُ وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُكْثِرُ الِالْتِفَاتَ سَاخَتْ يَدَا فَرَسِي فِي الْأَرْضِ حَتَّى بَلَغَتْ الرُّكْبَتَيْنِ فَخَرَرْتُ عَنْهَا فَزَجَرْتُهَا وَنَهَضْتُ فَلَمْ تَكَدْ تُخْرِجُ يَدَيْهَا فَلَمَّا اسْتَوَتْ قَائِمَةً إِذْ لَا أَثَرَ بِهَا عُثَانٌ سَاطِعٌ فِي السَّمَاءِ مِثْلُ الدُّخَانِ قَالَ مَعْمَرٌ قُلْتُ لِأَبِي عَمْرِو بْنِ الْعَلَاءِ مَا الْعُثَانُ فَسَكَتَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ هُوَ الدُّخَانُ مِنْ غَيْرِ نَارٍ قَالَ الزُّهْرِيُّ فِي حَدِيثِهِ فَاسْتَقْسَمْتُ بِالْأَزْلَامِ فَخَرَجَ الَّذِي أَكْرَهُ أَنْ لَا أَضُرَّهُمْ فَنَادَيْتُهُمَا بِالْأَمَانِ فَوَقَفُوا فَرَكِبْتُ فَرَسِي حَتَّى جِئْتُهُمْ فَوَقَعَ فِي نَفْسِي حِينَ لَقِيتُ مَا لَقِيتُ مِنْ الْحَبْسِ عَنْهُمْ أَنَّهُ سَيَظْهَرُ أَمْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ لَهُ إِنَّ قَوْمَكَ قَدْ جَعَلُوا فِيكَ الدِّيَةَ وَأَخْبَرْتُهُمْ مِنْ أَخْبَارِ سَفَرِهِمْ وَمَا يُرِيدُ النَّاسُ بِهِمْ وَعَرَضْتُ عَلَيْهِمْ الزَّادَ وَالْمَتَاعَ فَلَمْ يَرْزَآنِي شَيْئًا وَلَمْ يَسْأَلَانِي إِلَّا أَنْ أَخْفِ عَنَّا فَسَأَلْتُهُ أَنْ يَكْتُبَ لِي كِتَابَ مُوَادَعَةٍ آمَنُ بِهِ فَأَمَرَ عَامِرَ بْنَ فُهَيْرَةَ فَكَتَبَ لِي فِي رُقْعَةٍ مِنْ أَدِيمٍ ثُمَّ مَضَى

حضرت سراقہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے (میرے قبول اسلام سے پہلے ہجرت کے موقع پر) کفار قریش کے کچھ قاصد ہمارے پاس آئے اور بتایا کہ قریش نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو شہید یا قید کرنے والے کے لئے پوری پوری دیت (سو اونٹوں) کا اعلان کیا ہے، ابھی میں اپنی قوم بنو مدلج کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی آیا اور ہمارے پاس کھڑے ہو کر کہنے لگا اے سراقہ! میں نے ابھی ساحل کی طرف کچھ لوگوں کو جاتے ہوئے دیکھا ہے، میرا خیال ہے کہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھی ہیں ، سراقہ کہتے ہیں کہ میں سمجھ گیا یہ وہی لوگ ہیں لیکن میں نے ان سے کہہ دیا کہ یہ وہ لوگ نہیں ہیں ، تم نے فلاں فلاں شخص کو دیکھا ہوگا جو ابھی ابھی یہاں سے گذر کر گئے ہیں ۔ پھر میں تھوڑی دیر تک اس مجلس میں بیٹھا رہا، اس کے بعد میں کھڑا ہوا اور گھر چلا گیا اور اپنی باندی کو حکم دیا کہ ٹیلے کے پیچھے میرا گھوڑا لے جائے اور میرا انتظار کرے، پھر میں نے اپنا نیزہ سنبھالا اور گھر سے نکل پڑا، میں اپنے نیزے سے زمین پر لکیر کھینچتا چلا جا رہا تھا کہ اپنے گھوڑے کے پاس پہنچ گیا، میں اس پر سوار ہوا اور اسے سرپٹ دوڑا دیا، میں ان کے اتنا قریب پہنچ گیا کہ ان کا جسم مجھے نظر آنے لگا۔ جب میں ان دونوں کے اتنا قریب ہوا کہ ان کی آواز سنی جا سکتی تھی تو میرا گھوڑا ٹھوکر کھا کر گر پڑا اور میں بھی اس سے نیچے آپڑا، میں زمین سے اٹھا اور اپنے ترکش سے تیر نکالے اور فال نکالنے لگا کہ انہیں نقصان پہنچاؤں یا نہیں ؟ فال میں وہ تیر نکل آیا جو مجھے ناپسد تھا یعنی انہیں نقصان نہ پہنچاؤں ، لیکن میں نے تیر کی بات کو ہوا میں اڑا دیا اور دوبارہ گھوڑے پر سوار ہوگیا، لیکن دوسری مرتبہ پھر اسی طرح ہوا، تیسری مرتبہ جب میں قریب پہنچا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت سنائی دینے لگی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم دائیں بائیں نہیں دیکھ رہے تھے لیکن حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ بار بار ادھر ادھر دیکھتے تھے تو میرے گھوڑے کے اگلے دونوں پاؤں گھٹنوں تک زمین میں دھنس گئے اور میں گر پڑا۔ میں نے ڈانٹ کر اپنے گھوڑے کو اٹھایا، وہ اٹھ تو گیا لیکن اس کے پاؤں باہر نہیں نکل سکے، اور جب وہ سیدھا کھڑا ہوا تو وہاں سے دھوئیں کا ایک بادل آسمان تک چھا گیا، میں نے ایک مرتبہ پھر تیروں سے فال نکالی تو حسب سابق وہی تیر نکلا جو مجھے ناپسند تھا، یعنی انہیں نقصان نہ پہنچاؤں ، چنانچہ میں نے ان دونوں کو آواز دے کر اپنی طرف سے اطمینان دلایا، اور وہ رک گئے میں اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر ان کے پاس پہنچ گیا۔ جب میرے ساتھ یہ معاملہ پیش آیا تو اسی وقت میرے دل میں یہ بات جاگزیں ہوگئی تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دین غالب آکر رہے گا، چنانچہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ آپ کی قوم نے آپ کے لئے دیت کا اعلان کر دیا ہے، اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے سفر پر نکل پڑنے اور لوگوں کی جاسوسی کے متعلق سب کچھ بتا دیا، پھر میں نے انہیں زاد راہ اور سامان سفر کی پیشکش کی، لیکن انہوں نے مجھ سے کچھ نہیں لیا اور مجھ سے یہی مطالبہ کیا کہ میں ان کے متعلق ان تمام حالات کو مخفی رکھوں ، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ میرے لئے پروانہ امن لکھ دیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عامر بن فہیرہ کو حکم دیا اور انہوں نے چمڑے کے ایک رقعے میں میرے لئے پروانہ امن لکھ دیا اور پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم آگے روانہ ہوگئے۔

عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَالِكٍ الْمُدْلِجِيُّ وَهُوَ ابْنُ أَخِي سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17734

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17735

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَا أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ عَنْ ابْنِ مَسْعَدَةَ صَاحِبِ الْجَيْشِ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنِّي قَدْ بَدَّنْتُ فَمَنْ فَاتَهُ رُكُوعِي أَدْرَكَهُ فِي بُطْءِ قِيَامِي وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ فِي بَطِيءِ قِيَامِي

حضرت ابن مسعدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اب میرا جسم بھاری ہوگیا ہے، اس لئے جس شخص سے میرا رکوع فوت ہوجائے، وہ اسے میرے قیام کے درمیان وقفے میں پالے گا۔

عَبْدُ الرَّزَّاقِ فِي بَطِيءِ قِيَامِي ← إِنِّي قَدْ بَدَّنْتُ فَمَنْ فَاتَهُ رُكُوعِي أَدْرَكَهُ فِي بُطْءِ قِيَامِي ← النَّبِيِّ ← ابْنِ مَسْعَدَةَ صَاحِبِ الْجَيْشِ ← عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17735

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17736

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لَهُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ دَخَلَ عَلَيْهِ أَصْحَابُهُ يَعُودُونَهُ وَهُوَ يَبْكِي فَقَالُوا لَهُ مَا يُبْكِيكَ أَلَمْ يَقُلْ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُذْ مِنْ شَارِبِكَ ثُمَّ أَقِرَّهُ حَتَّى تَلْقَانِي قَالَ بَلَى وَلَكِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَبَضَ بِيَمِينِهِ قَبْضَةً وَأُخْرَى بِالْيَدِ الْأُخْرَى وَقَالَ هَذِهِ لِهَذِهِ وَهَذِهِ لِهَذِهِ وَلَا أُبَالِي فَلَا أَدْرِي فِي أَيِّ الْقَبْضَتَيْنِ أَنَا

ابو نضرہ کہتے ہیں کہ ایک صحابی رضی اللہ عنہ جن کا نام ابو عبداللہ لیا جاتا تھا، کے پاس ان کے کچھ ساتھی عیادت کے لئے آئے تو دیکھا کہ وہ رو رہے ہیں ، انہوں نے رونے کی وجہ پوچھی اور کہنے لگے کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ سے یہ نہیں فرمایا تھا کہ مونچھیں تراشو، پھر مستقل ایسا کرتے رہو یہاں تک کہ مجھ سے آملو؟ انہوں نے کہا کہ کیوں نہیں ، لیکن میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دائیں ہاتھ سے ایک مٹھی بھر کر مٹی اٹھائی اور دوسرے ہاتھ سے دوسری مٹھی بھری، اور فرمایا یہ مٹھی ان جنتیوں کی ہے، اور یہ مٹھی ان جہنمیوں کی ہے اور مجھے کوئی پرواہ نہیں ، اب مجھے معلوم نہیں کہ میں کس مٹھی میں تھا۔

أَبِي نَضْرَةَ ← الْجُرَيْرِيِّ، ← حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ← عَبْدُ الصَّمَدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17736

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17737

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ قَالَ مَرِضَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَصْحَابُهُ يَعُودُونَهُ فَبَكَى فَقِيلَ لَهُ مَا يُبْكِيكَ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ أَلَمْ يَقُلْ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُذْ مِنْ شَارِبِكَ ثُمَّ أَقِرَّهُ حَتَّى تَلْقَانِي قَالَ بَلَى وَلَكِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَبَضَ قَبْضَةً بِيَمِينِهِ وَقَالَ هَذِهِ لِهَذِهِ وَلَا أُبَالِي وَقَبَضَ قَبْضَةً أُخْرَى بِيَدِهِ الْأُخْرَى جَلَّ وَعَلَا فَقَالَ هَذِهِ لِهَذِهِ وَلَا أُبَالِي فَلَا أَدْرِي فِي أَيِّ الْقَبْضَتَيْنِ أَنَا

ابو نضرہ کہتے ہیں کہ ایک صحابی رضی اللہ عنہ جن کا نام ابو عبداللہ لیا جاتا تھا، کے پاس ان کے کچھ ساتھی عیادت کے لئے آئے تو دیکھا کہ وہ رو رہے ہیں ، انہوں نے رونے کی وجہ پوچھی اور کہنے لگے کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ سے یہ نہیں فرمایا تھا کہ مونچھیں تراشو، پھر مستقل ایسا کرتے رہو یہاں تک کہ مجھ سے آملو؟ انہوں نے کہا کہ کیوں نہیں ، لیکن میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دائیں ہاتھ سے ایک مٹھی بھر کر مٹی اٹھائی اور دوسرے ہاتھ سے دوسری مٹھی بھری، اور فرمایا یہ مٹھی ان جنتیوں کی ہے، اور یہ مٹھی ان جہنمیوں کی ہے اور مجھے کوئی پرواہ نہیں ، اب مجھے معلوم نہیں کہ میں کس مٹھی میں تھا۔

أَبِي نَضْرَةَ ← سَعِیْدٍ الْجُرَیْرِیِّ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17737

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17738

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ عَنْ أَبِيهِ أَوْ عَنْ عَمِّهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ إِذَا كَانَ الطَّاعُونُ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا عَنْهَا وَإِذَا كَانَ بِأَرْضٍ وَلَسْتُمْ بِهَا فَلَا تَقْرَبُوهَا

عکرمہ بن خالد رضی اللہ عنہ کے دادا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک کے موقع پر ارشاد فرمایا جب کسی علاقے میں طاعون کی وباء پھیل پڑے اور تم وہاں پہلے سے موجود ہو تو اب وہاں سے نہ نکلو اور اگر تمہاری غیر موجودگی میں یہ وباء پھیلے تو تم اس علاقے میں مت جاؤ۔

جَدِّهِ، ← عَمِّہٖ ← أَبِيهِ أَوْ ← عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ، ← حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ← عَبْدُ الصَّمَدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17738

chevron_left Previous
1…666768…111
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter