Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17715

حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا حَفْصِ بْنَ عَمْرٍو أَوْ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصٍ الثَّقَفِيَّ قَالَ سَمِعْتُ يَعْلَى بْنَ مُرَّةَ الثَّقَفِيَّ قَالَ رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُخَلَّقًا فَقَالَ أَلَكَ امْرَأَةٌ قُلْتُ لَا قَالَ اغْسِلْهُ ثُمَّ اغْسِلْهُ ثُمَّ اغْسِلْهُ وَلَا تَعُدْ

حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ پر خلوق نامی خوشبو لگی ہوئی دیکھی تو پوچھا کہ کیا تمہاری شادی ہوئی ہے؟ میں نے عرض کیا نہیں ، فرمایا تو جا کر اسے تین مرتبہ دھو لو اور دوبارہ مت لگانا۔

اغْسِلْهُ ثُمَّ اغْسِلْهُ ثُمَّ اغْسِلْهُ وَلَا تَعُدْ ← رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ مُخَلَّقًا فَقَالَ أَلَكَ امْرَأَةٌ قُلْتُ لَا ← يَعْلَى بْنَ مُرَّةَ الثَّقَفِيَّ ← أَبَا حَفْصِ بْنَ عَمْرٍو أَوْ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصٍ الثَّقَفِيَّ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← شُعْبَةُ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17715

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17716

حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مَيْمُونِ بْنِ الرَّمَّاحِ عَنْ أَبِي سَهْلٍ كَثِيرِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيِّ عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْتَهَى إِلَى مَضِيقٍ هُوَ وَأَصْحَابُهُ وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ وَالسَّمَاءُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَالْبَلَّةُ مِنْ أَسْفَلَ مِنْهُمْ فَحَضَرَتْ الصَّلَاةُ فَأَمَرَ الْمُؤَذِّنَ فَأَذَّنَ وَأَقَامَ ثُمَّ تَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَاحِلَتِهِ فَصَلَّى بِهِمْ يُومِئُ إِيمَاءً يَجْعَلُ السُّجُودَ أَخْفَضَ مِنْ الرُّكُوعِ أَوْ يَجْعَلُ سُجُودَهُ أَخْفَضَ مِنْ رُكُوعِهِ

حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ ایک تنگ جگہ میں تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سواری پر سوار تھے، اوپر سے آسمان برس رہا تھا اور نیچے سے ساری زمین گیلی تھی، نماز کا وقت آگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مؤذن کو حکم دیا، اس نے اذان دی اور اقامت کہی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سواری کو آگے کر لیا اور اسی حالت میں اشارے کے ساتھ نماز پڑھا دی، اور سجدے کو رکوع کی نسبت زیادہ جھکتا ہوا کیا۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ ← أَبِي سَهْلٍ كَثِيرِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيِّ ← عُمَرُ بْنُ مَيْمُونِ بْنِ الرَّمَّاحِ ← سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17716

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17717

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ الْعَدَوِيِّ عَنْ خَالِدِ بْنِ عُمَيْرٍ رَجُلٍ مِنْهُمْ قَالَ سَمِعْتُ عُتْبَةَ بْنَ غَزْوَانَ يَقُولُ لَقَدْ رَأَيْتُنِي سَابِعَ سَبْعَةٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَنَا طَعَامٌ إِلَّا وَرَقُ الْخِبَّةِ حَتَّى قَرِحَتْ أَشْدَاقُنَا

حضرت عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے وہ وقت بھی دیکھا ہے جب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اسلام قبول کرنے والوں میں سات افراد کا ساتواں تھا، اس وقت ہمارے پاس سوائے ببول کے پتوں کے کھانے کے لئے کچھ نہیں ہوتا تھا جس کی وجہ سے ہمارے جبڑے چھل گئے تھے۔

عُتْبَةَ بْنِ غَزْوَانَ ← خَالِدِ بْنِ عُمَيْرٍ رَجُلٍ مِنْهُمْ ← حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ الْعَدَوِيِّ، ← قُرَّۃُ بْنُ خَالِدٍ ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17717

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17718

حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ يَعْنِي ابْنَ هِلَالٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ خَطَبَ عُتْبَةُ بْنُ غَزْوَانَ قَالَ بَهْزٌ وَقَالَ قَبْلَ هَذِهِ الْمَرَّةِ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ الدُّنْيَا قَدْ آذَنَتْ بِصَرْمٍ وَوَلَّتْ حَذَّاءَ وَلَمْ يَبْقَ مِنْهَا إِلَّا صُبَابَةٌ كَصُبَابَةِ الْإِنَاءِ يَتَصَابُّهَا صَاحِبُهَا وَإِنَّكُمْ مُنْتَقِلُونَ مِنْهَا إِلَى دَارٍ لَا زَوَالَ لَهَا فَانْتَقِلُوا بِخَيْرِ مَا بِحَضْرَتِكُمْ فَإِنَّهُ قَدْ ذُكِرَ لَنَا أَنَّ الْحَجَرَ يُلْقَى مِنْ شَفِيرِ جَهَنَّمَ فَيَهْوِي فِيهَا سَبْعِينَ عَامًا مَا يُدْرِكُ لَهَا قَعْرًا وَاللَّهِ لَتَمْلَؤُنَّهُ أَفَعَجِبْتُمْ وَاللَّهِ لَقَدْ ذُكِرَ لَنَا أَنَّ مَا بَيْنَ مَصَارِعِ الْجَنَّةِ مَسِيرَةَ أَرْبَعِينَ عَامًا وَلَيَأْتِيَنَّ عَلَيْهِ يَوْمٌ كَظِيظُ الزِّحَامِ وَلَقَدْ رَأَيْتُنِي سَابِعَ سَبْعَةٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَنَا طَعَامٌ إِلَّا وَرَقَ الشَّجَرِ حَتَّى قَرِحَتْ أَشْدَاقُنَا وَإِنِّي الْتَقَطْتُ بُرْدَةً فَشَقَّقْتُهَا بَيْنِي وَبَيْنَ سَعْدٍ فَأْتَزَرَ بِنِصْفِهَا وَائْتَزَرْتُ بِنِصْفِهَا فَمَا أَصْبَحَ مِنَّا أَحَدٌ الْيَوْمَ إِلَّا أَصْبَحَ أَمِيرَ مِصْرٍ مِنْ الْأَمْصَارِ وَإِنِّي أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَكُونَ فِي نَفْسِي عَظِيمًا وَعِنْدَ اللَّهِ صَغِيرًا وَإِنَّهَا لَمْ تَكُنْ نُبُوَّةٌ قَطُّ إِلَّا تَنَاسَخَتْ حَتَّى يَكُونَ عَاقِبَتُهَا مُلْكًا وَسَتَبْلُونَ أَوْ سَتَخْبُرُونَ الْأُمَرَاءَ بَعْدَنَا

ایک مرتبہ حضرت عتبہ رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیتے ہوئے شروع میں اللہ کی حمدوثناء بیان کی اور اما بعد کہہ کر فرمایا کہ دنیا اس بات کی خبر دے رہی ہے کہ وہ ختم ہونے والی ہے اور وہ پیٹھ پھیر کر جانے والی ہے اور اس کی بقاء اتنی ہی رہ گئی ہے جتنی کسی برتن کی تری ہوتی ہے جو پینے والا چھوڑ دیتا ہے اور تم ایک ایسے گھر کی طرف منتقل ہونے والے ہو جسے کبھی زوال نہیں آئے گا، لہذا بہترین اعمال کے ساتھ اس گھر کی طرف منتقل ہو جاؤ، کیونکہ ہمیں یہ بات بتائی گئی ہے کہ ایک پھتر جہنم کے دہانے سے لڑھکایا جائے گا تو وہ ستر سال تک گرتا جائے گا لیکن اس کی تہہ تک نہیں پہنچ سکے گا، بخدا! اسے ضرور بھرا جائے گا، کیا تمہیں اس بات سے تعجب ہوتا ہے؟ اور ہمیں یہ بات بھی بتائی گئی ہے کہ جنت کے دونوں کناروں کے درمیان چالیس سال کی مسافت واقع ہے، اور اس پر بھی ایک دن ایسا ضرور آئے گا کہ وہ رش کی وجہ سے بھری ہوئی ہوگی، اور میں نے وہ وقت بھی دیکھا ہے جب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اسلام قبول کرنے والوں میں سے ساتواں فرد تھا، اس وقت ہمارے پاس سوائے درختوں کے پتوں کے کھانے کے لئے کچھ نہیں ہوتا تھا، جس کی وجہ سے ہمارے جبڑے چھل گئے تھے۔ ایک دن مجھے ایک چادر ملی، میں نے اسے اپنے اور سعد کے درمیان دو حصوں میں تقسیم کرلیا، چنانچہ وہ نصف چادر انہوں نے تہبند کے طور پر باندھ لی اور نصف میں نے باندھ لی، اور اب ہم میں سے ہر ایک کسی نہ کسی شہر کا گورنر ہے، میں اس بات سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں کہ میں اپنی نظروں میں خود کو بڑا عظیم سمجھوں جبکہ میں اللہ کے نزدیک حقیر ہوں اور نبوت کا جو سلسلہ تھا، وہ اب ختم ہوگیا ہے اور اس کا انجام بادشاہت پر ہوگا اور عنقریب تم ہمارے بعد کے حکمرانوں کو آزماؤ گے۔

فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ ← قَبْلَ هَذِهِ الْمَرَّةِ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ ← بَهْزٌ ← خَطَبَ عُتْبَةُ بْنُ غَزْوَانَ ← خَالِدِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← حُمَيْدٌ يَعْنِي ابْنَ هِلَالٍ ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17718

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17719

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ قَيْسٍ عَنْ دُكَيْنِ بْنِ سَعِيدٍ الْخَثْعَمِيِّ قَالَ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ أَرْبَعُونَ وَأَرْبَعُ مِائَةٍ نَسْأَلُهُ الطَّعَامَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ قُمْ فَأَعْطِهِمْ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا عِنْدِي إِلَّا مَا يَقِيظُنِي وَالصِّبْيَةَ قَالَ وَكِيعٌ الْقَيْظُ فِي كَلَامِ الْعَرَبِ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ قَالَ قُمْ فَأَعْطِهِمْ قَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ سَمْعًا وَطَاعَةً قَالَ فَقَامَ عُمَرُ وَقُمْنَا مَعَهُ فَصَعِدَ بِنَا إِلَى غُرْفَةٍ لَهُ فَأَخْرَجَ الْمِفْتَاحَ مِنْ حُجْزَتِهِ فَفَتَحَ الْبَابَ قَالَ دُكَيْنٌ فَإِذَا فِي الْغُرْفَةِ مِنْ التَّمْرِ شَبِيهٌ بِالْفَصِيلِ الرَّابِضِ قَالَ شَأْنَكُمْ قَالَ فَأَخَذَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا حَاجَتَهُ مَا شَاءَ قَالَ ثُمَّ الْتَفَتُّ وَإِنِّي لَمِنْ آخِرِهِمْ وَكَأَنَّا لَمْ نَرْزَأْ مِنْهُ تَمْرَةً

حضرت دکین بعد سعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ہم لوگوں کی کل تعداد چار سو چالیس افراد تھی، ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غلہ کی درخواست لے کر آئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اٹھو اور انہیں غلہ دو، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) میرے پاس صرف اتنا غلہ ہے جو مجھے اور بچوں کو صرف چار مہینے کے لئے کافی ہوسکتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا حکم دوبارہ دہرایا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) جو آپ کا حکم، میں ابھی پورا کرتا ہوں ، چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوگئے، ہم بھی ان کے ساتھ چل پڑے، وہ ہمیں لے کر اپنے ایک کمرے میں پہنچے، چابی نکالی، اور دروازہ کھول دیا، دیکھا کہ کمرے میں بکری کے بچے کی طرح کھجور کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا جتنا لینا چاہو، لے لو، چنانچہ ہم میں سے ہر شخص نے اپنی اپنی ضرورت کے مطابق کھجوریں لے لیں ، میں سب سے آخر میں تھا، میں نے جو غور کیا تو ایسا محسوس ہوا کہ ہم سب نے مل کر بھی اس میں سے ایک کھجور تک کم نہیں کی۔

النَّبِيُّ لِعُمَرَ قُمْ فَأَعْطِهِمْ ← أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ وَنَحْنُ أَرْبَعُونَ وَأَرْبَعُ مِائَةٍ نَسْأَلُهُ الطَّعَامَ ← دُكَيْنِ بْنِ سَعِيدٍ الْخَثْعَمِيِّ ← قَيْسٍ ← إِسْمَاعِيلُ ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17719

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17720

حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ قَيْسٍ عَنْ دُكَيْنِ بْنِ سَعِيدٍ الْمُزَنِيِّ قَالَ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعِينَ رَاكِبًا وَأَرْبَعَ مِائَةٍ نَسْأَلُهُ الطَّعَامَ فَقَالَ لِعُمَرَ اذْهَبْ فَأَعْطِهِمْ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا بَقِيَ إِلَّا آصُعٌ مِنْ تَمْرٍ مَا أَرَى أَنْ يَقِيظَنِي قَالَ اذْهَبْ فَأَعْطِهِمْ قَالَ سَمْعًا وَطَاعَةً قَالَ فَأَخْرَجَ عُمَرُ الْمِفْتَاحَ مِنْ حُجْزَتِهِ فَفَتَحَ الْبَابَ فَإِذَا شِبْهُ الْفَصِيلِ الرَّابِضِ مِنْ تَمْرٍ فَقَالَ لِتَأْخُذُوا فَأَخَذَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا مَا أَحَبَّ ثُمَّ الْتَفَتُّ وَكُنْتُ مِنْ آخِرِ الْقَوْمِ وَكَأَنَّا لَمْ نَرْزَأْ تَمْرَةً

حضرت دکین بن سعید المزنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ہم لوگوں کی کل تعداد چار سو چالیس افراد تھی، ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غلہ کی درخواست لے کر آئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اٹھو اور انہیں غلہ دو، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) میرے پاس صرف اتنا غلہ ہے جو مجھے اور بچوں کو صرف چار مہینے کے لئے کافی ہوسکتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا حکم دوبارہ دہرایا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) جو آپ کا حکم، میں ابھی پورا کرتا ہوں ، چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوگئے، ہم بھی ان کے ساتھ چل پڑے، وہ ہمیں لے کر اپنے ایک کمرے میں پہنچے، چابی نکالی، اور دروازہ کھول دیا، دیکھا کہ کمرے میں بکری کے بچے کی طرح کھجور کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا جتنا لینا چاہو، لے لو، چنانچہ ہم میں سے ہر شخص نے اپنی اپنی ضرورت کے مطابق کھجوریں لے لیں ، میں سب سے آخر میں تھا، میں نے جو غور کیا تو ایسا محسوس ہوا کہ ہم سب نے مل کر بھی اس میں سے ایک کھجور تک کم نہیں کی۔

لِعُمَرَ اذْهَبْ فَأَعْطِهِمْ ← أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ أَرْبَعِينَ رَاكِبًا وَأَرْبَعَ مِائَةٍ نَسْأَلُهُ الطَّعَامَ ← دُكَيْنُ بْنُ سَعِيدٍ الْمُزَنِيُّ، ← قَيْسٍ ← إِسْمَاعِيلُ ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17720

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17721

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ قَيْسٍ عَنْ دُكَيْنِ بْنِ سَعِيدٍ الْخَثْعَمِيِّ قَالَ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ أَرْبَعُونَ وَأَرْبَعُ مِائَةٍ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ

حضرت دکین بن سعید المزنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ہم لوگوں کی کل تعداد چار سو چالیس افراد تھی، ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غلہ کی درخواست لے کر آئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اٹھو اور انہیں غلہ دو، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) میرے پاس صرف اتنا غلہ ہے جو مجھے اور بچوں کو صرف چار مہینے کے لئے کافی ہوسکتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا حکم دوبارہ دہرایا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) جو آپ کا حکم، میں ابھی پورا کرتا ہوں ، چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوگئے، ہم بھی ان کے ساتھ چل پڑے، وہ ہمیں لے کر اپنے ایک کمرے میں پہنچے، چابی نکالی، اور دروازہ کھول دیا، دیکھا کہ کمرے میں بکری کے بچے کی طرح کھجور کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا جتنا لینا چاہو، لے لو، چنانچہ ہم میں سے ہر شخص نے اپنی اپنی ضرورت کے مطابق کھجوریں لے لیں ، میں سب سے آخر میں تھا، میں نے جو غور کیا تو ایسا محسوس ہوا کہ ہم سب نے مل کر بھی اس میں سے ایک کھجور تک کم نہیں کی۔

أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ وَنَحْنُ أَرْبَعُونَ وَأَرْبَعُ مِائَةٍ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ← دُكَيْنِ بْنِ سَعِيدٍ الْخَثْعَمِيِّ ← قَيْسٍ ← إِسْمَاعِيلُ ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17721

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17722

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ قَيْسٍ عَنْ دُكَيْنِ بْنِ سَعِيدٍ قَالَ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ

حضرت دکین بن سعید المزنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ہم لوگوں کی کل تعداد چار سو چالیس افراد تھی، ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غلہ کی درخواست لے کر آئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اٹھو اور انہیں غلہ دو، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) میرے پاس صرف اتنا غلہ ہے جو مجھے اور بچوں کو صرف چار مہینے کے لئے کافی ہوسکتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا حکم دوبارہ دہرایا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) جو آپ کا حکم، میں ابھی پورا کرتا ہوں ، چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوگئے، ہم بھی ان کے ساتھ چل پڑے، وہ ہمیں لے کر اپنے ایک کمرے میں پہنچے، چابی نکالی، اور دروازہ کھول دیا، دیکھا کہ کمرے میں بکری کے بچے کی طرح کھجور کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا جتنا لینا چاہو، لے لو، چنانچہ ہم میں سے ہر شخص نے اپنی اپنی ضرورت کے مطابق کھجوریں لے لیں ، میں سب سے آخر میں تھا، میں نے جو غور کیا تو ایسا محسوس ہوا کہ ہم سب نے مل کر بھی اس میں سے ایک کھجور تک کم نہیں کی۔

أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ← دُكَيْنِ بْنِ سَعِيدٍ ← قَيْسٍ ← إِسْمَاعِيلُ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17722

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17723

حَدَّثَنَا يَعْلَى وَمُحَمَّدٌ ابْنَا عُبَيْدٍ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ قَيْسٍ عَنْ دُكَيْنِ بْنِ سَعِيدٍ الْمُزَنِيِّ قَالَ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ

حضرت دکین بن سعید المزنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ہم لوگوں کی کل تعداد چار سو چالیس افراد تھی، ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غلہ کی درخواست لے کر آئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اٹھو اور انہیں غلہ دو، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) میرے پاس صرف اتنا غلہ ہے جو مجھے اور بچوں کو صرف چار مہینے کے لئے کافی ہوسکتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا حکم دوبارہ دہرایا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) جو آپ کا حکم، میں ابھی پورا کرتا ہوں ، چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوگئے، ہم بھی ان کے ساتھ چل پڑے، وہ ہمیں لے کر اپنے ایک کمرے میں پہنچے، چابی نکالی، اور دروازہ کھول دیا، دیکھا کہ کمرے میں بکری کے بچے کی طرح کھجور کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا جتنا لینا چاہو، لے لو، چنانچہ ہم میں سے ہر شخص نے اپنی اپنی ضرورت کے مطابق کھجوریں لے لیں ، میں سب سے آخر میں تھا، میں نے جو غور کیا تو ایسا محسوس ہوا کہ ہم سب نے مل کر بھی اس میں سے ایک کھجور تک کم نہیں کی۔

أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ← دُكَيْنُ بْنُ سَعِيدٍ الْمُزَنِيُّ، ← قَيْسٍ ← إِسْمَاعِيلُ ← يَعْلَى، وَمُحَمَّدٌ، ابْنَا عُبَيْدٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17723

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17724

حَدَّثَنَا يَعْلَى أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَمِّهِ سُرَاقَةَ بْنِ جُعْشُمٍ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الضَّالَّةِ مِنْ الْإِبِلِ تَغْشَى حِيَاضِي هَلْ لِي مِنْ أَجْرٍ أَسْقِيهَا قَالَ نَعَمْ مِنْ كُلِّ ذَاتِ كَبِدٍ حَرَّاءَ أَجْرٌ

حضرت سراقہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ان بھٹکے ہوئے اونٹوں کا مسئلہ پوچھا جو میرے حوض پر آئیں تو کیا مجھے ان کو پانی پلانے پر اجروثواب ملے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! ہر تر جگر رکھنے والے میں اجروثواب ہے۔

نَعَمْ مِنْ كُلِّ ذَاتِ كَبِدٍ حَرَّاءَ أَجْرٌ ← الضَّالَّةِ مِنْ الْإِبِلِ تَغْشَى حِيَاضِي هَلْ لِي مِنْ أَجْرٍ أَسْقِيهَا ← سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ← عَمِّهِ سُرَاقَةَ بْنِ جُعْشُمٍ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ← يعلى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17724

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17725

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ قَالَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا فِي الْوَادِي فَقَالَ أَلَا إِنَّ الْعُمْرَةَ دَخَلَتْ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ

حضرت سراقہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم وادی میں خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمایا یاد رکھو! قیامت تک کے لئے عمرہ، حج میں داخل ہوگیا ہے۔

قَامَ رَسُولُ اللَّهِ خَطِيبًا فِي الْوَادِي ← سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ ← طَاوْسٍ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، ← مِسْعَرٍ، ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17725

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17726

حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الْمَلِكِ الزَّرَّادَ يَقُولُ سَمِعْتُ النَّزَّالَ بْنَ سَبْرَةَ صَاحِبَ عَلِيٍّ يَقُولُ سَمِعْتُ سُرَاقَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ دَخَلَتْ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ قَالَ وَقَرَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ

حضرت سراقہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت تک کے لئے عمرہ، حج میں داخل ہوگیا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع میں حج قرآن فرمایا۔

وَقَرَنَ رَسُولُ اللَّهِ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ ← دَخَلَتْ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ← رَسُولِ اللَّهِ ← سراقةَ ← النَّزَّالَ بْنَ سَبْرَةَ صَاحِبَ عَلِيٍّ ← عَبْدِ الْمَلِكِ الزرَّاد ← دَاوُدُ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ ← مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17726

chevron_left Previous
1…656667…111
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter