Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17691

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ وَكِيعٌ مُرَّةَ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ وَلَمْ يَقُلْ مُرَّةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهَا صَبِيٌّ لَهَا بِهِ لَمَمٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اخْرُجْ عَدُوَّ اللَّهِ أَنَا رَسُولُ اللَّهِ قَالَ فَبَرَأَ فَأَهْدَتْ إِلَيْهِ كَبْشَيْنِ وَشَيْئًا مِنْ أَقِطٍ وَشَيْئًا مِنْ سَمْنٍ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُذْ الْأَقِطَ وَالسَّمْنَ وَأَحَدَ الْكَبْشَيْنِ وَرُدَّ عَلَيْهَا الْآخَرَ

حضرت یعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنا ایک بچہ لے کر آئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) اس بچے کو کوئی تکلیف ہے جس کی وجہ سے ہم پریشان ہوتے رہتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا منہ کھول کر اس میں تین مرتبہ اپنا لعاب دہن ڈالا اور فرمایا: بسم اللہ! میں اللہ کا بندہ ہوں ، اے دشمن خدا! دور ہو، وہ بچہ اسی وقت ٹھیک ہوگیا، اس کی ماں نے دو مینڈھے، کچھ پنیر اور کچھ گھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پنیر گھی اور ایک مینڈھا لے لو اور دوسرا واپس کر دو۔

فَبَرَأَ فَأَهْدَتْ إِلَيْهِ كَبْشَيْنِ وَشَيْئًا مِنْ أَقِطٍ وَشَيْئًا مِنْ سَمْنٍ ← رَسُولِ اللَّهِ ← النَّبِيُّ اخْرُجْ عَدُوَّ اللَّهِ ← أَبِيهِ أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ مَعَهَا صَبِيٌّ لَهَا بِهِ لَمَمٌ ← وَكِيعٌ مُرَّةَ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ وَلَمْ يَقُلْ مُرَّةَ ← أَبِيهِ ← يَعْلَی بْنِ مُرَّةَ ← الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ← الْاَعْمَشِ ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17691

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17692

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنْ عُمَرَ بْنِ يَعْلَى الثَّقَفِيِّ عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ مَسَحَ وُجُوهَ أَصْحَابِهِ قَبْلَ أَنْ يُكَبِّرَ فَأَصَبْتُ شَيْئًا مِنْ خَلُوقٍ فَمَسَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وُجُوهَ أَصْحَابِهِ وَتَرَكَنِي قَالَ فَرَجَعْتُ وَغَسَلْتُهُ ثُمَّ جِئْتُ إِلَى الصَّلَاةِ الْأُخْرَى فَمَسَحَ وَجْهِي وَقَالَ عَادَ بِخَيْرِ دِينِهِ الْعُلَا تَابَ وَاسْتَهَلَّتْ السَّمَاءُ

حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو تکبیر سے پہلے اپنے ساتھیوں کے چہروں پر ہاتھ پھیرتے تھے، میں نے خلوق نامی خوشبو لگا رکھی تھی لہذا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیگر صحابہ کے چہروں پر تو ہاتھ پھیرا لیکن مجھے چھوڑ دیا، میں نے واپس جا کر اسے دھویا اور دوسری نماز کے وقت حاضر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے چہرے پر ہاتھ پھیر کر فرمایا اچھے دین کے ساتھ واپس آئے، علا (یعلی) نے توبہ کرلی اور ان کی آواز آسمان تک پہنچی۔

جُوهَ أَصْحَابِهِ قَبْلَ ← كَانَ النَّبِيُّ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ مَسَحَ ← يَعْلَی بْنِ مُرَّةَ ← عُمَرَ بْنِ يَعْلَى الثَّقَفِيِّ ← الْمَسْعُودِيِّ ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17692

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17693

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنْ ابْنِ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ وُجُوهَنَا فِي الصَّلَاةِ وَيُبَارِكُ عَلَيْنَا قَالَ فَجَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ فَمَسَحَ وُجُوهَ الَّذِينَ عَنْ يَمِينِي وَعَنْ يَسَارِي وَتَرَكَنِي وَذَلِكَ أَنِّي كُنْتُ دَخَلْتُ عَلَى أُخْتٍ لِي فَمَسَحْتُ وَجْهِي بِشَيْءٍ مِنْ صُفْرَةٍ فَقِيلَ لِي إِنَّمَا تَرَكَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَا رَأَى بِوَجْهِكَ فَانْطَلَقْتُ إِلَى بِئْرٍ فَدَخَلْتُ فِيهَا فَاغْتَسَلْتُ ثُمَّ إِنِّي حَضَرْتُ صَلَاةً أُخْرَى فَمَرَّ بِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَسَحَ وَجْهِي وَبَرَّكَ عَلَيَّ وَقَالَ عَادَ بِخَيْرِ دِينِهِ الْعُلَا تَابَ وَاسْتَهَلَّتْ السَّمَاءُ

حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو تکبیر سے پہلے اپنے ساتھیوں کے چہروں پر ہاتھ پھیرتے تھے، میں نے خلوق نامی خوشبو لگا رکھی تھی لہذا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیگر صحابہ کے چہروں پر تو ہاتھ پھیرا لیکن مجھے چھوڑ دیا، میں نے واپس جا کر اسے دھویا اور دوسری نماز کے وقت حاضر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے چہرے پر ہاتھ پھیر کر فرمایا اچھے دین کے ساتھ واپس آئے، علا (یعلی) نے توبہ کرلی اور ان کی آواز آسمان تک پہنچی۔

يَمِينِي ← فَجَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ فَمَسَحَ وُجُوهَ الَّذِينَ ← كَانَ النَّبِيُّ يَمْسَحُ وُجُوهَنَا فِي الصَّلَاةِ وَيُبَارِكُ عَلَيْنَا ← أَبِيهِ ← ابن يعلى بن مرة ← الْمَسْعُودِيِّ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17693

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17694

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِي عَمْرِو بْنِ حَفْصٍ أَوْ أَبِي حَفْصِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ قَالَ رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيَّ خَلُوقًا فَقَالَ أَلَكَ امْرَأَةٌ قَالَ قُلْتُ لَا قَالَ فَاذْهَبْ فَاغْسِلْهُ ثُمَّ لَا تَعُدْ

حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ پر خلوق نامی خوشبو لگی ہوئی دیکھی تو پوچھا کہ کیا تمہاری شادی ہوئی ہے؟ میں نے عرض کیا نہیں ، فرمایا تو جا کر اسے دھو اور دوبارہ مت لگانا۔

فَاذْهَبْ فَاغْسِلْهُ ثُمَّ لَا تَعُدْ ← قُلْتُ: لَا ← رَأَى رَسُولُ اللَّهِ عَلَيَّ خَلُوقًا فَقَالَ أَلَكَ امْرَأَةٌ ← يَعْلَی بْنِ مُرَّةَ ← أَبِي عَمْرِو بْنِ حَفْصٍ أَوْ أَبِي حَفْصِ بْنِ عَمْرٍو ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17694

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17695

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِي رَدْعٌ مِنْ زَعْفَرَانٍ قَالَ اغْسِلْهُ ثُمَّ اغْسِلْهُ ثُمَّ اغْسِلْهُ ثُمَّ لَا تَعُدْ قَالَ فَغَسَلْتُهُ ثُمَّ لَمْ أَعُدْ

حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ پر زعفران کے نشان دیکھے تو فرمایا جا کر اسے تین مرتبہ دھو لو اور دوبارہ مت لگانا چنانچہ میں نے اسے دھولیا اور دوبارہ نہیں لگایا۔

فَغَسَلْتُهُ ثُمَّ لَمْ أَعُدْ ← اغسله ثم اغسله ثم اغسله ثم لا تعد ← أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ وَبِي رَدْعٌ مِنْ زَعْفَرَانٍ ← يَعْلَی بْنِ مُرَّةَ ← حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← حَمَّادٌ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17695

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17696

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيَّ صُفْرَةٌ مِنْ زَعْفَرَانٍ فَقَالَ اغْسِلْهُ ثُمَّ اغْسِلْهُ ثُمَّ لَا تَعُدْ قَالَ فَغَسَلْتُهُ ثُمَّ لَمْ أَعُدْ

حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ پر زعفران کے نشان دیکھے تو فرمایا جا کر اسے تین مرتبہ دھو لو اور دوبارہ مت لگانا چنانچہ میں نے اسے دھولیا اور دوبارہ نہیں لگایا۔

فَغَسَلْتُهُ ثُمَّ لَمْ أَعُدْ ← اغْسِلْهُ ثُمَّ اغْسِلْهُ ثُمَّ لَا تَعُدْ ← أَتَيْتُ النَّبِيَّ وَعَلَيَّ صُفْرَةٌ مِنْ زَعْفَرَانٍ ← يَعْلَی بْنِ مُرَّةَ ← حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← حَمَّادٌ، ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17696

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17697

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيَّ صُفْرَةٌ مِنْ زَعْفَرَانٍ فَقَالَ اغْسِلْهُ ثُمَّ اغْسِلْهُ ثُمَّ لَا تَعُدْ قَالَ فَغَسَلْتُهُ ثُمَّ لَمْ أَعُدْ

حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ پر زعفران کے نشان دیکھے تو فرمایا جا کر اس تین مرتبہ دھو لو اور دوبارہ مت لگانا چنانچہ میں نے اسے دھولیا اور دوبارہ نہیں لگایا۔

فَغَسَلْتُهُ ثُمَّ لَمْ أَعُدْ ← اغْسِلْهُ ثُمَّ اغْسِلْهُ ثُمَّ لَا تَعُدْ ← أَتَيْتُ النَّبِيَّ وَعَلَيَّ صُفْرَةٌ مِنْ زَعْفَرَانٍ ← يَعْلَی بْنِ مُرَّةَ ← حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← حَمَّادٌ، ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17697

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17698

حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ قَالَ اغْتَسَلْتُ وَتَخَلَّقْتُ بِخَلُوقٍ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ وُجُوهَنَا فَلَمَّا دَنَا مِنِّي جَعَلَ يُجَافِي يَدَهُ عَنْ الْخَلُوقِ فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ يَا يَعْلَى مَا حَمَلَكَ عَلَى الْخَلُوقِ أَتَزَوَّجْتَ قُلْتُ لَا قَالَ لِي اذْهَبْ فَاغْسِلْهُ قَالَ فَمَرَرْتُ عَلَى رَكِيَّةٍ فَجَعَلْتُ أَقَعُ فِيهَا ثُمَّ جَعَلْتُ أَتَدَلَّكُ بِالتُّرَابِ حَتَّى ذَهَبَ قَالَ ثُمَّ جِئْتُ إِلَيْهِ فَلَمَّا رَآنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَادَ بِخَيْرِ دِينِهِ الْعُلَا تَابَ وَاسْتَهَلَّتْ السَّمَاءُ

حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو تکبیر سے پہلے اپنے ساتھیوں کے چہروں پر ہاتھ پھیرتے تھے، میں نے خلوق نامی خوشبو لگا رکھی تھی لہذا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیگر صحابہ کے چہروں پر تو ہاتھ پھیرا لیکن مجھے چھوڑ دیا، میں نے واپس جا کر اسے دھویا اور دوسری نماز کے وقت حاضر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے چہرے پر ہاتھ پھیر کر فرمایا اچھے دین کے ساتھ واپس آئے، علا (یعلی) نے توبہ کرلی اور ان کی آواز آسمان تک پہنچی۔

جَدِّهِ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ ← أَبِيهِ ← عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ ← عبيدة بن حميد

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17698

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17699

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي اللَّيْثِ حَدَّثَنَا الْأَشْجَعِيُّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ الثَّقَفِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ عَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ الذَّهَبِ عَظِيمٌ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتُزَكِّي هَذَا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا زَكَاةُ هَذَا فَلَمَّا أَدْبَرَ الرَّجُلُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمْرَةٌ عَظِيمَةٌ عَلَيْهِ

حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک آدمی حاضر ہوا جس نے سونے کی بہت بڑی (بھاری) انگوٹھی پہن رکھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ کیا تم اس کی زکوۃ ادا کرتے ہو؟ اس نے پوچھا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) اس کی زکوۃ کیا ہے؟ جب وہ واپس چلا گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ اس کے لئے ایک بہت بڑی چنگاڑی ہے۔

لَهُ النَّبِيُّ أَتُزَكِّي هَذَا ← أَتَى النَّبِيَّ رَجُلٌ عَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ الذَّهَبِ عَظِيمٌ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ الثَّقَفِيِّ ← سُفْيَانَ، ← الْأَشْجَعِيُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي اللَّيْثِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17699

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17700

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ عَبْد اللَّهِ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَفْصٍ عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ أَنَّهُ كَانَ عِنْدَ زِيَادٍ جَالِسَا فَأُتِيَ بِرَجُلٍ شَهِدَ فَغَيَّرَ شَهَادَتَهُ فَقَالَ لَأَقْطَعَنَّ لِسَانَكَ فَقَالَ لَهُ يَعْلَى أَلَا أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَا تُمَثِّلُوا بِعِبَادِي قَالَ فَتَرَكَهُ

حضرت یعلی رضی اللہ عنہ کے متعلق مروی ہے کہ ایک مرتبہ زیاد کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، زیاد کے پاس ایک آدمی کو لایا گیا جس نے کوئی شہادت دی، زیاد نے اس کی گواہی کو بدل دیا اور کہنے لگا کہ میں تیری زبان کاٹ ڈالوں گا، حضرت یعلی رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر فرمایا کیا میں تمہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی ایک حدیث نہ سناؤں ؟ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندوں کا مثلہ مت کرو، اس پر زیاد نے اسے چھوڑ دیا۔

يَعْلَی بْنِ مُرَّةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَفْصٍ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ← مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17700

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17701

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَهُوَ أَبُو إِبْرَاهِيمَ الْمُعَقِّبُ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ يَعْنِي الْفَزَارِيَّ حَدَّثَنَا أَبُو يَعْفُورٍ عَنْ أَبِي ثَابِتٍ قَالَ سَمِعْتُ يَعْلَى بْنَ مُرَّةَ الثَّقَفِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ أَخَذَ أَرْضًا بِغَيْرِ حَقِّهَا كُلِّفَ أَنْ يَحْمِلَ تُرَابَهَا إِلَى الْمَحْشَرِ

حضرت یعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص ناحق زمین کا کوئی حصہ لیتا ہے، اس شخص کو قیامت کے دن اس بات پر مجبور کیا جائے گا کہ وہ اس کی مٹی اٹھا کر میدان حشر میں لے آئے۔

مَنْ أَخَذَ أَرْضًا بِغَيْرِ حَقِّهَا كُلِّفَ أَنْ يَحْمِلَ تُرَابَهَا إلَى الْمَحْشَرِ. ← رَسُولِ اللَّهِ ← يَعْلَى بْنَ مُرَّةَ الثَّقَفِيَّ ← أَبِي ثَابِتٍ، ← أَبُو يَعْفُورٍ ← مَرْوَانُ يَعْنِي الْفَزَارِيَّ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَهُوَ أَبُو إِبْرَاهِيمَ الْمُعَقِّبُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17701

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17702

حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي جُبَيْرَةَ عَنْ يَعْلَى بْنِ سِيَابَةَ قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ لَهُ فَأَرَادَ أَنْ يَقْضِيَ حَاجَةً فَأَمَرَ وَدْيَتَيْنِ فَانْضَمَّتْ إِحْدَاهُمَا إِلَى الْأُخْرَى ثُمَّ أَمَرَهُمَا فَرَجَعَتَا إِلَى مَنَابِتِهِمَا وَجَاءَ بَعِيرٌ فَضَرَبَ بِجِرَانِهِ إِلَى الْأَرْضِ ثُمَّ جَرْجَرَ حَتَّى ابْتَلَّ مَا حَوْلَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَدْرُونَ مَا يَقُولُ الْبَعِيرُ إِنَّهُ يَزْعُمُ أَنَّ صَاحِبَهُ يُرِيدُ نَحْرَهُ فَبَعَثَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَوَاهِبُهُ أَنْتَ لِي فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لِي مَالٌ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ قَالَ اسْتَوْصِ بِهِ مَعْرُوفًا فَقَالَ لَا جَرَمَ لَا أُكْرِمُ مَالًا لِي كَرَامَتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَتَى عَلَى قَبْرٍ يُعَذَّبُ صَاحِبُهُ فَقَالَ إِنَّهُ يُعَذَّبُ فِي غَيْرِ كَبِيرٍ فَأَمَرَ بِجَرِيدَةٍ فَوُضِعَتْ عَلَى قَبْرِهِ فَقَالَ عَسَى أَنْ يُخَفَّفَ عَنْهُ مَا دَامَتْ رَطْبَةً

حضرت یعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر پر نکلا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قضاء حاجت کا ارادہ کیا تو دو درختوں کو حکم دیا، وہ مل گئے پھر حکم دیا تو اپنی اپنی جگہ پر واپس چلے گئے، اسی طرح ایک دن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ ایک اونٹ دوڑتا ہوا آیا اور آکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی گردن ڈال دی اور پھر اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ یہ اونٹ کیا کہہ رہا ہے؟ یہ کہہ رہا ہے کہ اس کا مالک اسے ذبح کرنا چاہتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے مالک کو بلایا اور فرمایا کیا تم اسے مجھے ہبہ کرتے ہو؟ اس نے کہا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) یہ مجھے بہت محبوب ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنا، اس نے کہا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) اب میں اپنے کسی مال کا اتنا خیال نہیں رکھو گا جتنا اس کا رکھوں گا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر ایک قبر پر ہوا جس میں مردے کو عذاب ہو رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے کسی بڑی وجہ سے عذاب نہیں ہو رہا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قبر پر ایک ٹہنی گاڑنے کا حکم دے دیا اور فرمایا ہوسکتا ہے کہ جب تک یہ تر رہے، اس کے عذاب میں تخفیف رہے۔

كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ فِي مَسِيرٍ لَهُ فَأَرَادَ ← يَعْلَى بْنُ سِيَابَةَ ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي جَبِيرَةَ ← عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17702

chevron_left Previous
1…636465…111
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter