Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17667

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ عِيَاضٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعِ بْنِ أَبِي الْعَمْيَاءِ عَنْ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِيعَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى وَإِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَتَشَهَّدْ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ لِيُلْحِفْ فِي الْمَسْأَلَةِ ثُمَّ إِذَا دَعَا فَلْيَتَسَاكَنْ وَلْيَتَبَأَّسْ وَلْيَتَضَعَّفْ فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَذَاكَ الْخِدَاجُ أَوْ كَالْخِدَاجِ

حضرت مطلب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا (نفلی) نماز کی دو دو رکعتیں ہوتی ہیں ، ہر دو رکعتوں پر تشہد پڑھو، اپنی ضرورت اور عاجزی ظاہر کرو اور اپنے ہاتھوں کو پھیلاؤ، اور اے اللہ! اے اللہ! کہہ کر دعاء مانگو، جو شخص ایسا نہ کرے، اس کی نماز نامکمل ہے۔

المطلب بن ربيعة ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعِ بْنِ أَبِي الْعَمْيَاءِ ← عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ1 ← يَزِيدَ بْنِ عِيَاضٍ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← هَارُونُ بن معروف

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17667

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17668

حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنِي شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ عَنْ رَجُلٍ حَدَّثَهُ مُؤَذِّنُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَادَى مُنَادِي النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ مَطَرٍ أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ

ایک شخص کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن نے بتایا کہ ایک دن بارش ہو رہی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے نداء لگائی کہ لوگو! اپنے خیموں میں ہی نماز پڑھ لو۔

نَادَى مُنَادِي النَّبِيِّ فِي يَوْمِ مَطَرٍ أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ ← مُؤَذِّنُ النَّبِيِّ ← رَجُلٌ: ← عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← شُعْبَةُ، ← حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17668

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17669

حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ الْمُطَّلِبِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الصَّلَاةُ مَثْنَى مَثْنَى وَتَشَهَّدُ وَتُسَلِّمُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ وَتَبَأَّسُ وَتَمَسْكَنُ وَتُقْنِعُ يَدَيْكَ وَتَقُولُ اللَّهُمَّ اللَّهُمَّ فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَهِيَ خِدَاجٌ

حضرت مطلب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا (نفلی) نماز کی دو دو رکعتیں ہوتی ہیں ، ہر دو رکعتوں پر تشہد پڑھو، اپنی ضرورت اور عاجزی ظاہر کرو اور اپنے ہاتھوں کو پھیلاؤ، اور اے اللہ! اے اللہ! کہہ کر دعاء مانگو، جو شخص ایسا نہ کرے، اس کی نماز نامکمل ہے۔

الْمُطَّلِبِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ نَافِعٍ ← عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ ← عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ← شُعْبَةُ، ← حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17669

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17670

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ ابْنِ أَبِي أَنَسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعِ ابْنِ الْعَمْيَاءِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ الْمُطَّلِبِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الصَّلَاةُ مَثْنَى مَثْنَى تَشَهَّدُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ وَتَبَأَّسُ وَتَمَسْكَنُ وَتُقْنِعُ يَدَيْكَ وَتَقُولُ اللَّهُمَّ اللَّهُمَّ فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَهِيَ خِدَاجٌ قَالَ شُعْبَةُ فَقُلْتُ صَلَاتُهُ خِدَاجٌ قَالَ نَعَمْ فَقُلْتُ لَهُ مَا الْإِقْنَاعُ فَبَسَطَ يَدَيْهِ كَأَنَّهُ يَدْعُو

حضرت مطلب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا (نفلی) نماز کی دو دو رکعتیں ہوتی ہیں ، ہر دو رکعتوں پر تشہد پڑھو، اپنی ضرورت اور عاجزی ظاہر کرو اور اپنے ہاتھوں کو پھیلاؤ، اور اے اللہ! اے اللہ! کہہ کر دعاء مانگو، جو شخص ایسا نہ کرے، اس کی نماز نامکمل ہے۔

الْمُطَّلِبِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعِ ابْنِ الْعَمْيَاءِ ← ابن أبي انس ← عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ← شُعْبَةُ، ← رَوْحٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17670

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17671

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا مُفَضَّلُ بْنُ مُهَلْهِلٍ عَنْ مُغِيرَةَ عَنْ شِبَاكٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ ثَقِيفٍ قَالَ سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا فَلَمْ يُرَخِّصْ لَنَا فَقُلْنَا إِنَّ أَرْضَنَا أَرْضٌ بَارِدَةٌ فَسَأَلْنَاهُ أَنْ يُرَخِّصَ لَنَا فِي الطُّهُورِ فَلَمْ يُرَخِّصْ لَنَا وَسَأَلْنَاهُ أَنْ يُرَخِّصَ لَنَا فِي الدُّبَّاءِ فَلَمْ يُرَخِّصْ لَنَا فِيهِ سَاعَةً وَسَأَلْنَاهُ أَنْ يَرُدَّ إِلَيْنَا أَبَا بَكْرَةَ فَأَبَى وَقَالَ هُوَ طَلِيقُ اللَّهِ وَطَلِيقُ رَسُولِهِ وَكَانَ أَبُو بَكْرَةَ خَرَجَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ حَاصَرَ الطَّائِفَ فَأَسْلَمَ

ایک ثقفی صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے تین چیزوں کی درخواست کی تھی لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں رخصت نہیں دی، ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ ہمارا علاقہ بہت ٹھنڈا ہے، ہمیں نماز سے قبل وضو نہ کرنے کی رخصت دے دیں ، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجازت نہیں دی، پھر ہم نے کدو کے برتن کی اجازت مانگی تو اس وقت اس کی بھی اجازت نہیں دی، پھر ہم نے درخواست کی کہ ابو بکرہ کو ہمارے حوالے کر دیں ؟ لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کر دیا اور فرمایا وہ اللہ اور اس کے رسول کا آزاد کردہ ہے، دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت طائف کا محاصرہ کیا تھا تو حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے وہاں سے نکل کر اسلام قبول کرلیا تھا ۔

رَجُلٍ مِنْ ثَقِيفٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← شباك ← مُغِيرَةَ، ← مُفَضَّلُ بْنُ مُھَلْھِلٍ ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17671

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17672

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا الْوَرَكَانِيُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ مُغِيرَةَ عَنْ شِبَاكٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ ثَقِيفٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ

ایک ثقفی صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے تین چیزوں کی درخواست کی تھی لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں رخصت نہیں دی، ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ ہمارا علاقہ بہت ٹھنڈا ہے، ہمیں نماز سے قبل وضو نہ کرنے کی رخصت دے دیں ، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجازت نہیں دی، پھر ہم نے کدو کے برتن کی اجازت مانگی تو اس وقت اس کی بھی اجازت نہیں دی، پھر ہم نے درخواست کی کہ ابو بکرہ کو ہمارے حوالے کر دیں ؟ لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کر دیا اور فرمایا وہ اللہ اور اس کے رسول کا آزاد کردہ ہے، دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت طائف کا محاصرہ کیا تھا تو حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے وہاں سے نکل کر اسلام قبول کرلیا تھا ۔

النَّبِيِّ نَحْوَهُ ← رَجُلٍ مِنْ ثَقِيفٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← شباك ← مُغِيرَةَ، ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← الْوَرْکَانِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17672

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17673

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي إِسْرَائِيلَ قَالَ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ وَأَبُو إِسْرَائِيلَ يُصَلِّي فَقِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ ذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا يَقْعُدُ وَلَا يُكَلِّمُ النَّاسَ وَلَا يَسْتَظِلُّ وَهُوَ يُرِيدُ الصِّيَامَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَقْعُدْ وَلْيُكَلِّمْ النَّاسَ وَلْيَسْتَظِلَّ وَلْيَصُمْ

حضرت ابو اسرائیل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد نبوی میں داخل ہوئے تو وہ نماز پڑھ رہے تھے، کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) یہ ہے وہ آدمی جو بیٹھتا ہے اور نہ ہی لوگوں سے بات کرتا ہے یا سائے میں بیٹھتا ہے اور روزے رکھنا چاہتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے چاہئے کہ بیٹھا کرے، لوگوں سے بات چیت کیا کرے، سایہ لیا کرے، اور روزہ بھی رکھا کرے۔

دَخَلَ النَّبِيُّ الْمَسْجِدَ وَأَبُو إِسْرَائِيلَ يُصَلِّي فَقِيلَ لِلنَّبِيِّ هُوَ ذَا ← أَبِي إسْرَائِيلَ ← أَبِيهِ ← ابْنِ طَاوُسٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17673

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17674

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَمْزَةَ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ وَنَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ عِنْدَهُ فَأَخَذَ كَفًّا مِنْ حَصًى لِيَحْصِبَهُ ثُمَّ قَالَ عِكْرِمَةُ حَدَّثَنِي فُلَانٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ تَمِيمًا ذُكِرُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَجُلٌ أَبْطَأَ هَذَا الْحَيُّ مِنْ تَمِيمٍ عَنْ هَذَا الْأَمْرِ فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مُزَيْنَةَ فَقَالَ مَا أَبْطَأَ قَوْمٌ هَؤُلَاءِ مِنْهُمْ وَقَالَ رَجُلٌ يَوْمًا أَبْطَأَ هَؤُلَاءِ الْقَوْمُ مِنْ تَمِيمٍ بِصَدَقَاتِهِمْ قَالَ فَأَقْبَلَتْ نَعَمٌ حُمْرٌ وَسُودٌ لِبَنِي تَمِيمٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ نَعَمُ قَوْمِي وَنَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَقَالَ لَا تَقُلْ لِبَنِي تَمِيمٍ إِلَّا خَيْرًا فَإِنَّهُمْ أَطْوَلُ النَّاسِ رِمَاحًا عَلَى الدَّجَّالِ

ایک مرتبہ عکرمہ بن خالد رحمۃ اللہ علیہ کی موجودگی میں کسی شخص نے بنو تمیم کے ایک آدمی کی بے عزتی کی تو عکرمہ نے اسے مارنے کے لئے مٹھی میں بھر کر کنکریاں اٹھا لیں ، پھر کہنے لگے کہ مجھ سے ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان کی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بنو تمیم کا ذکر ہونے لگا، تو ایک آدمی کہنے لگا کہ بنو تمیم کے اس قبیلے نے ایمان قبول کرنے میں بڑی سستی کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ مزینہ کی طرف دیکھ کر فرمایا کہ ان کی نسبت تو ان سے زیادہ کسی قوم نے تاخیر نہیں کی، اسی طرح ایک مرتبہ ایک شخص کہنے لگا کہ بنو تمیم کے اس قبیلے نے زکوۃ کی ادائیگی میں بڑی تاخیر کر دی ہے، کچھ ہی عرصے بعد بنو تمیم کے سرخ وسیاہ جانور آگئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ میری قوم کے جانور ہیں ، اس طرھ ایک مرتبہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں بنو تمیم کے حوالے سے نامناسب جملے کہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بنو تمیم کا ہمیشہ اچھے انداز میں ہی تذکرہ کیا کرو، کیونکہ دجال کے خلاف سب سے زیادہ لمبے نیزے ان ہی کے ہوں گے۔

عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ، ← عُمَرَ بْنِ حَمْزَةَ ← عَبْدُ الصَّمَدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17674

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17675

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ الْأَسْوَدِ بْنِ خَلَفٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَاهُ الْأَسْوَدَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَايِعُ النَّاسَ يَوْمَ الْفَتْحِ قَالَ جَلَسَ عِنْدَ قَرْنِ مَصْقَلَةَ فَبَايَعَ النَّاسَ عَلَى الْإِسْلَامِ وَالشَّهَادَةِ قُلْتُ وَمَا الشَّهَادَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْأَسْوَدِ يَعْنِي ابْنَ خَلَفٍ أَنَّهُ بَايَعَهُمْ عَلَى الْإِيمَانِ بِاللَّهِ وَشَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت اسود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح مکہ کے دن لوگوں سے بیعت لیتے ہوئے دیکھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مسقلہ کی چوٹی پر تشریف فرما تھے، اور لوگوں سے اسلام اور شہادت پر بیعت لے رہے تھے، راوی نے پوچھا کہ شہادت سے کیا مراد ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ مجھے محمد بن اسود بن خلف نے بتایا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے اللہ پر ایمان اور اس بات کی شہادت پر بیعت لے رہے تھے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں ۔

جَلَسَ عِنْدَ قَرْنِ مَصْقَلَةَ فَبَايَعَ النَّاسَ عَلَى الْإِسْلَامِ وَالشَّهَادَةِ قُلْتُ وَمَا الشَّهَادَةُ ← أن أباه الأسود أتى النبي يبايع الناس يوم الفتح ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ الْأَسْوَدِ بْنِ خَلَفٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17675

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17676

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنِي أَبُو عُشَّانَةَ أَنَّ سُفْيَانَ بْنَ وَهْبٍ الْخَوْلَانِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّهُ كَانَ تَحْتَ ظِلِّ رَاحِلَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ أَوْ أَنَّ رَجُلًا حَدَّثَهُ ذَلِكَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ بَلَّغْتُ فَظَنَنَّا أَنَّهُ يُرِيدُنَا فَقُلْنَا نَعَمْ ثُمَّ أَعَادَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَقَالَ فِيمَا يَقُولُ رَوْحَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا عَلَيْهَا وَغَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا عَلَيْهَا وَإِنَّ الْمُؤْمِنَ عَلَى الْمُؤْمِنِ حَرَامٌ عِرْضُهُ وَمَالُهُ وَنَفْسُهُ حُرْمَةٌ كَحُرْمَةِ هَذَا الْيَوْمِ

حضرت سفیان بن وہب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے سائے تلے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک بلند جگہ سے خطاب فرما رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں نے پیغام پہنچا دیا؟ ہم سمجھ گئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے جواب مانگ رہے ہیں چنانچہ ہم نے کہہ دیا جی ہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ اس جملے کو دہرایا، اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو باتیں فرمائی تھیں ، ان میں سے ایک بات یہ بھی تھی کہ اللہ کے راستے میں ایک شام کے لئے نکلنا دنیا و ماعلیہا سے بہتر ہے اور ایک صبح کے لئے اللہ کے راستے میں نکلنا دنیا وماعلیہا سے بہتر ہے اور ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کی عزت و آبرو، مال ودولت اور جان کا احترام اسی طرح ضروری ہے جیسے آج کے دن کی حرمت ہے۔

أبو عشانة ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← حَسَنٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17676

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17677

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَوَادَةَ عَنْ زِيَادِ بْنِ نُعَيْمٍ عَنْ حِبَّانَ بْنِ بُحٍّ الصُّدَائِيِّ صَاحِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ قَوْمِي كَفَرُوا فَأُخْبِرْتُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَهَّزَ إِلَيْهِمْ جَيْشًا فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ إِنَّ قَوْمِي عَلَى الْإِسْلَامِ فَقَالَ أَكَذَلِكَ فَقُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَاتَّبَعْتُهُ لَيْلَتِي إِلَى الصَّبَاحِ فَأَذَّنْتُ بِالصَّلَاةِ لَمَّا أَصْبَحْتُ وَأَعْطَانِي إِنَاءً تَوَضَّأْتُ مِنْهُ فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَابِعَهُ فِي الْإِنَاءِ فَانْفَجَرَ عُيُونًا فَقَالَ مَنْ أَرَادَ مِنْكُمْ أَنْ يَتَوَضَّأَ فَلْيَتَوَضَّأْ فَتَوَضَّأْتُ وَصَلَّيْتُ وَأَمَّرَنِي عَلَيْهِمْ وَأَعْطَانِي صَدَقَتَهُمْ فَقَامَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ فُلَانٌ ظَلَمَنِي فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا خَيْرَ فِي الْإِمْرَةِ لِمُسْلِمٍ ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ يَسْأَلُ صَدَقَةً فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الصَّدَقَةَ صُدَاعٌ فِي الرَّأْسِ وَحَرِيقٌ فِي الْبَطْنِ أَوْ دَاءٌ فَأَعْطَيْتُهُ صَحِيفَتِي أَوْ صَحِيفَةَ إِمْرَتِي وَصَدَقَتِي فَقَالَ مَا شَأْنُكَ فَقُلْتُ كَيْفَ أَقْبَلُهَا وَقَدْ سَمِعْتُ مِنْكَ مَا سَمِعْتُ فَقَالَ هُوَ مَا سَمِعْتَ

حضرت حبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے میری قوم کے لوگ کافر تھے، مجھے پتہ چلا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف ایک لشکر بھیجنے کی تیاری کر رہے ہیں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میری قوم اسلام پر قائم ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا واقعی حقیقت یہی ہے؟ میں نے عرض کیا، جی ہاں ! پھر صبح تک وہ رات میں نے وہیں گذاری، صبح ہوئی تو میں نے اذان دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک برتن دیا جس سے میں نے وضو کیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیاں اس برتن میں ڈال دیں اور اس سے چشمے ابل پڑے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے جو شخص وضو کرنا چاہتا ہے وہ وضو کرلے، چنانچہ میں نے بھی وضو کیا اور نماز پڑھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ان کا امیر مقرر کر دیا اور ان کا صدقہ مجھے دے دیا، اسی دوران ایک آدمی کھڑا ہوا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگا کہ فلاں نے مجھ پر ظلم کیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان کے لئے امیر مقرر ہونے میں کوئی فائدہ اور خیر نہیں ہے، پھر ایک آدمی صدقہ کا سوال کرتے ہوئے آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ صدقہ تو سر میں درد اور پیٹ میں جلن پیدا کر دیتا ہے ، یہ سن کر میں نے اپنی امارت اور صدقہ واپس کر دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں کیا ہوا؟ میں نے عرض کیا کہ میں نے آپ سے جو باتیں سنی ہیں ، ان کی موجودگی میں انہیں کیسے قبول کرسکتا ہوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حقیقت وہی ہے جو تم نے سنی ہے۔

إِنَّ قَوْمِي كَفَرُوا فَأُخْبِرْتُ ← حِبَّانَ بْنِ بُحٍّ الصُّدَائِيِّ، صَاحِبِ النَّبِيِّ أَنَّهُ ← زِيَادِ بْنِ نُعَيْمٍ، ← بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← حَسَنٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17677

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17678

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ زِيَادِ بْنِ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيِّ عَنْ زِيَادِ بْنِ الْحَارِثِ الصُّدَائِيِّ أَنَّهُ أَذَّنَ فَأَرَادَ بِلَالٌ أَنْ يُقِيمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَخَا صُدَاءٍ إِنَّ الَّذِي أَذَّنَ فَهُوَ يُقِيمُ

حضرت زیاد بن حارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے اذان دی، اقامت کے وقت حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اقامت کہنا چاہی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے صدائی بھائی! جو شخص اذان دیتا ہے، وہی اقامت بھی کہتا ہے۔

زِيَادِ بْنِ الْحَارِثِ الصُّدَائِيِّ أَنَّهُ أَذَّنَ فَأَرَادَ بِلَالٌ أَنْ يُقِيمَ ← زِيَادِ بْنِ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيِّ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17678

chevron_left Previous
1…616263…111
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter