Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17523

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُهَنِيِّ قَالَ بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ طَلَعَ رَاكِبَانِ فَلَمَّا رَآهُمَا قَالَ كِنْدِيَّانِ مَذْحِجِيَّانِ حَتَّى أَتَيَاهُ فَإِذَا رِجَالٌ مِنْ مَذْحِجٍ قَالَ فَدَنَا إِلَيْهِ أَحَدُهُمَا لِيُبَايِعَهُ قَالَ فَلَمَّا أَخَذَ بِيَدِهِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ مَنْ رَآكَ فَآمَنَ بِكَ وَصَدَّقَكَ وَاتَّبَعَكَ مَاذَا لَهُ قَالَ طُوبَى لَهُ قَالَ فَمَسَحَ عَلَى يَدِهِ فَانْصَرَفَ ثُمَّ أَقْبَلَ الْآخَرُ حَتَّى أَخَذَ بِيَدِهِ لِيُبَايِعَهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ مَنْ آمَنْ بِكَ وَصَدَّقَكَ وَاتَّبَعَكَ وَلَمْ يَرَكَ قَالَ طُوبَى لَهُ ثُمَّ طُوبَى لَهُ ثُمَّ طُوبَى لَهُ قَالَ فَمَسَحَ عَلَى يَدِهِ فَانْصَرَفَ

حضرت ابو عبدالرحمن جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ دو سوار آتے ہوئے دکھائی دیئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھ کر فرمایا کہ ان کا تعلق قبیلہ کندہ کے بطن مذحج سے ہے، جب وہ قریب پہنچے تو واقعۃ دو مذحجی تھے، ان میں سے ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کے لئے آگے بڑھا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک ہاتھوں میں تھام کر کہنے لگا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) یہ بتائیے کہ جس شخص نے آپ کی زیارت کی، آپ پر ایمان لایا، آپ کی تصدیق کی اور آپ کی پیروی کی، تو اسے کیا ملے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے لئے خوشخبری ہے، اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر ہاتھ پھیرا اور واپس چلا گیا ، پھر دوسرے نے آگے بڑھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم وسلم کا دست مبارک بیعت کے لئے تھاما تو کہنے لگا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) یہ بتائیے کہ اگر کوئی شخص آپ پر ایمان لائے، آپ کی تصدیق اور پیروی کرے لیکن آپ کی زیارت نہ کر سکے تو اسے کیا ملے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا اس کے لئے خوشخبری ہے اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر ہاتھ پھیرا اور واپس چلا گیا۔

فَلَمَّا أَخَذَ بِيَدِهِ ← فَدَنَا إِلَيْهِ أَحَدُهُمَا لِيُبَايِعَهُ ← كِنْدِيَّانِ مَذْحِجِيَّانِ حَتَّى أَتَيَاهُ فَإِذَا رِجَالٌ مِنْ مَذْحِجٍ ← بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ إِذْ طَلَعَ رَاكِبَانِ فَلَمَّا رَآهُمَا ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُهَنِيِّ ← مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيُّ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17523

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17524

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ يَحْيَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ أَنَّ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ أَنَّ ابْنَ عَابِسٍ الْجُهَنِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ يَا ابْنَ عَابِسٍ أَلَا أُخْبِرُكَ بِأَفْضَلِ مَا تَعَوَّذَ بِهِ الْمُتَعَوِّذُونَ قَالَ قُلْتُ بَلَى فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ وَأَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ هَاتَيْنِ السُّورَتَيْنِ

حضرت ابن عابس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے ابن عابس! کیا میں تمہیں تعوذ کے سب سے افضل کلمات کے بارے میں نہ بتاؤں جن سے تعوذ کرنے والے تعوذ کرتے ہیں ؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) کیوں نہیں ، فرمایا دو سورتیں ہیں سورت فلق اور سورت ناس۔

أَنَّ ابْنَ عَابِسٍ الْجُهَنِيَّ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، ← يَحْيَى ← شَيْبَانَ ← حَسَنُ بْنُ مُوسَی

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17524

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17525

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ نُعَيْمِ بْنِ هَمَّارٍ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ يَا ابْنَ آدَمَ اكْفِنِي أَوَّلَ النَّهَارِ بِأَرْبَعِ رَكَعَاتٍ أَكْفِكَ بِهِنَّ آخِرَ يَوْمِكَ

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم! دن کے پہلے حصے میں تو چار رکعت پڑھ کر میری کفایت کر، میں ان کی برکت سے دن کے آخرت تک تیری کفایت کروں گا۔

عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ، ← نعيم بن همار ← قَتَادَةَ ← أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17525

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17526

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعْدٍ الْأَعْمَى يُحَدِّثُ عَطَاءً قَالَ رَحَلَ أَبُو أَيُّوبَ إِلَى عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ فَأَتَى مَسْلَمَةَ بْنَ مَخْلَدٍ فَخَرَجَ إِلَيْهِ قَالَ دُلُّونِي فَأَتَى عُقْبَةَ فَقَالَ حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَبْقَ أَحَدٌ سَمِعَهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ سَتَرَ عَلَى مُؤْمِنٍ فِي الدُّنْيَا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَتَى رَاحِلَتَهُ فَرَكِبَ وَرَجَعَ

عطاء کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سفر کر کے حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، لیکن وہ حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچ گئے، حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ مجھے حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ کا پتہ بتا دو، چنانچہ وہ حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے اور کہنے لگے کہ ہمیں وہ حدیث سنائیے جو آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے خود سنی ہے اور اب کوئی شخص اس کی سماعت کرنے والا باقی نہیں رہا؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص دنیا میں اپنے بھائی کے کسی عیب کو چھپا لے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے عیوب پر پردہ ڈال دے گا؟ یہ حدیث سن کر وہ اپنی سواری کے پاس آئے، اس پر سوار ہوئے اور واپس چلے گئے۔

عَطَاءٍ، ← أَبَا سَعْدٍ الْأَعْمَى ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← سُفْيَانَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17526

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17527

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ مُعَاوِيَةَ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ الْقَاسِمِ مَوْلَى مُعَاوِيَةَ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ كُنْتُ أَقُودُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاحِلَتَهُ فِي السَّفَرِ فَقَالَ يَا عُقْبَةُ أَلَا أُعَلِّمُكَ خَيْرَ سُورَتَيْنِ قُرِئَتَا قُلْتُ بَلَى قَالَ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ فَلَمَّا نَزَلَ صَلَّى بِهِمَا صَلَاةَ الْغَدَاةِ قَالَ كَيْفَ تَرَى يَا عُقْبَةُ

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں کسی راستے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے آگے آگے چل رہا تھا ، اچانک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کیا مہیں تمہیں ایسی دو سورتیں نہ سکھا دوں ، جن کی مثل نہ ہو؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سورت فلق اور سورت ناس پڑھائیں ، پھر نماز کھڑی ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھ گئے اور نماز فجر میں یہی دونوں سورتیں پڑھیں ، پھر میرے پاس سے گذرتے ہوئے فرمایا اے عقبہ! تم کیا سمجھے؟ (یہ دونوں سورتیں سوتے وقت بھی پڑھا کرو اور بیدار ہو کر بھی پڑھا کرو) ۔

عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← الْقَاسِمِ، مَوْلَى مُعَاوِيَةَ، ← الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ ← مُعَاوِيَةَ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17527

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17528

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ عَنْ رَبِيعَةَ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ وحَدَّثَهُ أَبُو عُثْمَانَ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ كَانَتْ عَلَيْنَا رِعَايَةُ الْإِبِلِ فَجَاءَتْ نَوْبَتِي فَرَوَّحْتُهَا بِعَشِيٍّ فَأَدْرَكْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمًا يُحَدِّثُ النَّاسَ فَأَدْرَكْتُ مِنْ قَوْلِهِ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ الْوُضُوءَ ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ مُقْبِلًا عَلَيْهِمَا بِقَلْبِهِ وَوَجْهِهِ إِلَّا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ فَقُلْتُ مَا أَجْوَدَ هَذِهِ فَإِذَا قَائِلٌ بَيْنَ يَدَيَّ يَقُولُ الَّتِي قَبْلَهَا أَجْوَدُ مِنْهَا فَنَظَرْتُ فَإِذَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَالَ إِنِّي قَدْ رَأَيْتُكَ جِئْتَ آنِفًا قَالَ مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ يَتَوَضَّأُ فَيُسْبِغُ الْوُضُوءَ ثُمَّ يَقُولُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ إِلَّا فُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةُ يَدْخُلُ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ اپنے کام خود کرتے تھے اور آپس میں اونٹوں کو چرانے کی باری مقرر کر لیتے تھے، ایک دن جب میری باری آئی اور میں انہیں دوپہر کے وقت لے کر چلا، تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں کے سامنے کھڑے ہو کر بیان کرتے ہوئے دیکھا، میں نے اس موقع پر جو کچھ پایا، وہ یہ تھا کہ تم میں سے جو شخص وضو کرے اور خوب اچھی طرح کرے، پھر کھڑا ہو کر دو رکعتیں پڑھے جن میں وہ اپنے دل اور چہرے کے ساتھ متوجہ رہے تو اس کے لئے جنت واجب ہوگئی اور اس کے سارے گناہ معاف ہوگئے۔ میں نے کہا کہ یہ کتنی عمدہ بات ہے، اس پر مجھ سے آگے والے آدمی نے کہا کہ عقبہ! اس سے پہلے والی بات اس سے بھی عمدہ تھی، میں نے دیکھا تو وہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ تھے، میں نے پوچھا اے ابو حفص! وہ کیا بات ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ تمہارے آنے سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ تم میں سے جو شخص وضو کرے اور خوب اچھی طرح کرے، پھر یوں کہے اشہد ان لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ وان محمدا عبدہ ورسولہ۔ تو اس کے لئے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیئے جائیں گے کہ جس دروازے سے چاہے، داخل ہوجائے۔

عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، ← أَبُو عُثْمَانَ ← عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، ← رَبِیعَۃَ، ← مُعَاوِيَةَ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17528

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17529

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا لَيْثٌ حَدَّثَنَا قَبَاثُ بْنُ رَزِينٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَتَدَارَسُ الْقُرْآنَ قَالَ تَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ وَاقْتَنُوهُ قَالَ قَبَاثٌ وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ وَتَغَنُّوا بِهِ فَإِنَّهُ أَشَدُّ تَفَلُّتًا مِنْ الْمَخَاضِ فِي عُقُلِهَا

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ مسجد میں بیٹھے قرآن کریم کی تلاوت کر رہے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لے آئے، اور ہمیں سلام کیا، ہم نے جواب دیا، پھر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کتاب اللہ کا علم حاصل کیا کرو، اسے مضبوطی سے تھامو اور ترنم کے ساتھ اسے پڑھا کرو، اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد کی جان ہے، یہ قرآن باڑے میں بندھے ہوئے اونٹوں سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ نکل جاتا ہے ۔

وَتَغَنُّوا بِهِ فَإِنَّهُ أَشَدُّ تَفَلُّتًا مِنْ الْمَخَاضِ فِي عُقُلِهَا ← قَبَاثٌ وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا ← تَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ وَاقْتَنُوهُ ← خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ وَنَحْنُ نَتَدَارَسُ الْقُرْآنَ ← عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ، ← عَلِیِّ بْنِ رَبَاحٍ، ← قُبَاثَ بْنِ رَزِينٍ، ← لَيْثٌ، ← هاشم بن القاسم

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17529

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17530

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَشِيطٍ الْخَوْلَانِيِّ عَنْ كَعْبِ بْنِ عَلْقَمَةَ عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ عَنْ دُخَيْنٍ كَاتِبِ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ قُلْتُ لِعُقْبَةَ إِنَّ لَنَا جِيرَانًا يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ وَأَنَا دَاعٍ لَهُمْ الشُّرَطَ فَيَأْخُذُوهُمْ فَقَالَ لَا تَفْعَلْ وَلَكِنْ عِظْهُمْ وَتَهَدَّدْهُمْ قَالَ فَفَعَلَ فَلَمْ يَنْتَهُوا قَالَ فَجَاءَهُ دُخَيْنٌ فَقَالَ إِنِّي نَهَيْتُهُمْ فَلَمْ يَنْتَهُوا وَأَنَا دَاعٍ لَهُمْ الشُّرَطَ فَقَالَ عُقْبَةُ وَيْحَكَ لَا تَفْعَلْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ سَتَرَ عَوْرَةَ مُؤْمِنٍ فَكَأَنَّمَا اسْتَحْيَا مَوْءُودَةً مِنْ قَبْرِهَا

دخین جو حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ کا کاتب تھا، سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ ہمارے پڑوسی شراب پیتے ہیں ، میں پولیس کو بلانے جا رہا ہوں تاکہ وہ آکر انہیں پکڑ لے، حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ایسا نہ کرو، بلکہ انہیں سمجھاؤ اور ڈراؤ،۔ کاتب نے ایسا ہی کیا لیکن وہ باز نہ آئے، چنانچہ دخین دوبارہ حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں نے انہیں منع کیا لیکن وہ باز نہ آئے، اور اب تو میں پولیس کو بلا کر رہوں گا، حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا افسوس! ایسا مت کرو، کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کسی مسلمان کے عیوب پر پردہ ڈالتا ہے، گویا وہ کسی زندہ درگور کی ہوئی بچی کو بچا لیتا ہے۔

رَسُولِ اللَّهِ ← عُقْبَۃُ وَیْحَکَ لَا تَفْعَلْ فَاِنِّیْ ← داع لهم الشرط ← إني نهيتهم فلم ينتهوا ← فَجَاءَهُ دُخَيْنٌ ← فَفَعَلَ فَلَمْ يَنْتَهُوا ← لا تفعل ولكن عظهم وتهددهم ← دَاعٍ لَهُمْ الشُّرَطَ فَيَأْخُذُوهُمْ ← قُلْتُ لِعُقْبَةَ إِنَّ لَنَا جِيرَانًا يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ ← دُخَيْنٍ كَاتِبِ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ← أَبِي الْهَيْثَمِ، ← كَعْبُ بْنُ عَلْقَمَةَ ← إبراهيم بن نشيط الخولاني ← لَيْثٌ، ← هَاشِمٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17530

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17531

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا لَيْثٌ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَبِي الْخَيْرِ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِيَّاكُمْ وَالدُّخُولَ عَلَى النِّسَاءِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَرَأَيْتَ الْحَمْوَ قَالَ الْحَمْوُ الْمَوْتُ

حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورتوں کے پاس جانے سے اپنے آپ کو بچاؤ ایک انصاری نے پوچھا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) دیور کا کیا حکم ہے؟ فرمایا دیور تو موت ہے۔

عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← أَبِي الْخَيْرِ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← لَيْثٌ، ← هَاشِمٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17531

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17532

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا لَيْثٌ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَبِي الْخَيْرِ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمًا فَصَلَّى عَلَى أَهْلِ أُحُدٍ صَلَاتَهُ عَلَى الْمَيِّتِ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ إِنِّي فَرَطٌ لَكُمْ وَأَنَا شَهِيدٌ عَلَيْكُمْ وَإِنِّي وَاللَّهِ لَأَنْظُرُ إِلَى حَوْضِي الْآنَ وَإِنِّي قَدْ أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الْأَرْضِ وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِي وَلَكِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تَنَافَسُوا فِيهَا

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور اہل احد کی قبروں پر پہنچ کر نماز جنازہ پڑھی، پھر واپس آکر منبر پر رونق افروز ہوئے اور فرمایا میں تمہارا انتظار کروں گا اور میں تمہارے لئے گواہی دوں گا، واللہ میں اس وقت بھی اپنے حوض کو دیکھ رہا ہوں ، یاد رکھو! مجھے زمین کے خزانوں کی چابیاں دی گئی ہیں ، بخدا! مجھے تمہارے متعلق یہ اندیشہ نہیں ہے کہ میرے پیچھے تم شرک کرنے لگو گے، بلکہ مجھے یہ اندیشہ ہے کہ تم دنیا میں منہمک ہو کر ایک دوسرے سے مسابقت کرنے لگو گے۔

عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ، ← أَبِي الْخَيْرِ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← لَيْثٌ، ← هَاشِمٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17532

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17533

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ الْأَزْرَقِ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَتَانِ إِحْدَاهُمَا يُحِبُّهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَالْأُخْرَى يُبْغِضُهَا اللَّهُ وَمَخِيلَتَانِ إِحْدَاهُمَا يُحِبُّهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَالْأُخْرَى يُبْغِضُهَا اللَّهُ الْغَيْرَةُ فِي الرَّمْيَةِ يُحِبُّهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَالْغَيْرَةُ فِي غَيْرِهِ يُبْغِضُهَا اللَّهُ وَالْمَخِيلَةُ إِذَا تَصَدَّقَ الرَّجُلُ يُحِبُّهَا اللَّهُ وَالْمَخِيلَةُ فِي الْكِبْرِ يُبْغِضُهَا اللَّهُ

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا غیر کی دو قسمیں ہیں جن میں سے ایک اللہ تعالیٰ کو پسند اور دوسری ناپسند ہے، اور فخر کی بھی دو قسمیں ہیں جن میں سے ایک اللہ تعالیٰ کو پسند اور دوسری ناپسند ہے، شک کے موقع پر غیرت اللہ کو پسند ہے، غیر اللہ کے معاملے غیرت اللہ کو ناپسند ہے، صدقہ کرنے والے آدمی کا فخر اللہ کو پسند ہے اور تکبر کا فخر اللہ کو ناپسند ہے۔

عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ الْأَزْرَقِ ← زَیْدِ بْنِ سَلَّامٍ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17533

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17534

وَقَالَ ثَلَاثٌ مُسْتَجَابٌ لَهُمْ دَعْوَتُهُمْ الْمُسَافِرُ وَالْوَالِدُ وَالْمَظْلُومُ

اور فرمایا تین قسم کے لوگ مستجاب الدعوات ہوتے ہیں ، مسافر، والد اور مظلوم۔

ثَلَاثٌ مُسْتَجَابٌ لَهُمْ دَعْوَتُهُمْ الْمُسَافِرُ وَالْوَالِدُ وَالْمَظْلُومُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17534

chevron_left Previous
1…495051…111
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter