Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17367

حَدَّثَنَا سَعْدٌ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَمْرَو بْنَ عَوْفٍ وَهُوَ حَلِيفُ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ وَكَانَ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ

حضرت عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ جو کہ غزوہ بدر کے شرکاء میں سے تھے سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو بحرین کی طرف بھیجا، تاکہ وہاں سے جزیہ وصول کر کے لائیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل بحرین سے صلح کر لی تھی اور ان پر حضرت علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کو امیر بنا دیا تھا ، چنانچہ ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ بحرین سے مال لے کر آئے، انصار کو جب ان کے آنے کا پتہ چلا تو وہ نماز فجر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز فجر پڑھ کر فارغ ہوئے تو وہ سامنے آئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں دیکھ کر مسکرا پڑے، اور فرمایا شاید تم نے ابوعبیدہ کی واپسی اور ان کے کچھ لے کر آنے کی خبر سنی ہے؟ انہوں نے عرض کیا جی یا رسول اللہ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خوش ہوجاؤ اور اس چیز کی امید رکھو جس سے تم خوش ہو جاؤ گے، واللہ مجھے تم پر فقروفاقہ کا اندیشہ نہیں ، بلکہ مجھے تو اندیشہ ہے کہ تم پر دنیا اسی طرح کشادہ کر دی جائے گی جیسے تم سے پہلے لوگوں پر کشادہ کر دی گئی تھی، اور تم اس میں ان ہی کی طرح مقابلہ بازی کرنے لگو گے اور تم اسی طرح غفلت میں پڑ جاؤ گے جیسے وہ غفلت میں پڑگئے۔

عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← صَالِحٍ، ← أَبِي ← سَعْدٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17367

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17368

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الْمِنْهَالِ سَمِعَ إِيَاسَ بْنَ عَبْدٍ الْمُزَنِيَّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَبِيعُوا الْمَاءَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْمَاءِ لَا يَدْرِي عَمْرٌو أَيَّ مَاءٍ هُوَ

حضرت ایاس بن عبد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ضرورت سے زائد پانی مت بیچا کرو کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو زائد پانی بیچنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے۔

بَيْعِ الْمَاءِ» لَا يَدْرِي عَمْرٌو أَيَّ مَاءٍ هُوَ ← رَسُولَ اللهِ نَهَى ← لَا تَبِيعُوا الْمَاءَ فَإِنِّي ← إِيَاسَ بْنَ عَبْدٍ الْمُزَنِيَّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← أَبُو الْمِنْهَالِ ← عَمْرٍو، ← سُفْيَانَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17368

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17369

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ مُزَيْنَةَ أَنَّهُ قَالَتْ لَهُ أُمُّهُ أَلَا تَنْطَلِقُ فَتَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا يَسْأَلُهُ النَّاسُ فَانْطَلَقْتُ أَسْأَلُهُ فَوَجَدْتُهُ قَائِمًا يَخْطُبُ وَهُوَ يَقُولُ مَنْ اسْتَعَفَّ أَعَفَّهُ اللَّهُ وَمَنْ اسْتَغْنَى أَغْنَاهُ اللَّهُ وَمَنْ سَأَلَ النَّاسَ وَلَهُ عِدْلُ خَمْسِ أَوَاقٍ فَقَدْ سَأَلَ إِلْحَافًا فَقُلْتُ بَيْنِي وَبَيْنَ نَفْسِي لَنَاقَةٌ لَهُ هِيَ خَيْرٌ مِنْ خَمْسِ أَوَاقٍ وَلِغُلَامِهِ نَاقَةٌ أُخْرَى هِيَ خَيْرٌ مِنْ خَمْسِ أَوَاقٍ فَرَجَعْتُ وَلَمْ أَسْأَلْهُ

ایک مزنی صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان سے ان کی والدہ نے کہا کہ تم بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر دوسرے لوگوں کی طرح سوال کیوں نہیں کرتے؟ چنانچہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سوال کے لئے روانہ ہو، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے خطبہ دے رہے ہیں اور فرما رہے ہیں جو شخص عفت طلب کرتا ہے، اللہ اسے عفت عطاء فرما دیتا ہے اور جو شخص غناء طلب کرتا ہے اللہ اسے غناء عطاء فرما دیتا ہے اور جو شخص پانچ اوقیہ چاندی کے برابر رقم ہونے کے باوجود لوگوں سے مانگتا پھرتا ہے، وہ الحاف کے ساتھ سوال کرتا ہے، میں نے اپنے دل میں اپنی اونٹنی کے متعلق سوچا کہ وہ تو پانچ اوقیہ سے بہتر ہے میرے غلام کے پاس بھی ایک اونٹنی ہے اور وہ بھی پانچ اوقیہ سے بہتر ہے، چنانچہ میں واپس آگیا اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے کسی چیز کے متعلق سوال نہیں کیا۔

رَجُلٍ مِنْ مُزَيْنَةَ أَنَّهُ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17369

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17370

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ شِهَابٍ يُحَدِّثُ أَنَّ أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ وَكَانَ أَحَدَ النُّقَبَاءِ يَوْمَ الْعَقَبَةِ أَنَّهُ أَخَذَتْهُ الشَّوْكَةُ فَجَاءَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ فَقَالَ بِئْسَ الْمَيِّتُ لَيَهُودُ مَرَّتَيْنِ سَيَقُولُونَ لَوْلَا دَفَعَ عَنْ صَاحِبِهِ وَلَا أَمْلِكُ لَهُ ضَرًّا وَلَا نَفْعًا وَلَأَتَمَحَّلَنَّ لَهُ فَأَمَرَ بِهِ وَكُوِيَ بِخَطَّيْنِ فَوْقَ رَأْسِهِ فَمَاتَ

حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ جو بیعت عقبہ کے موقع پر نقباء میں سے ایک نقیب تھے کے حوالے سے مروی ہے کہ انہیں ایک مرتبہ بیماری نے آلیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی عیادت کے لئے تشریف لائے اور دو مرتبہ فرمایا بدترین میت یہودیوں کی ہوتی ہے وہ کہہ سکتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھی کی بیماری کو دور کیوں نہ کر دیا، میں ان کے لئے کسی نفع و نقصان کا مالک نہیں ہوں ، البتہ میں ان کے لئے تدبیر ضرور کرسکتا ہوں ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو ان کے سر کے اوپر دو مرتبہ داغا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکے اور فوت ہوگئے۔

أَنَّ أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ ← رَوْحٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17370

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17371

حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو عَمْرَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ أَرْبَعَةُ نَفَرٍ وَمَعَنَا فَرَسٌ فَأَعْطَى كُلَّ إِنْسَانٍ مِنَّا سَهْمًا وَأَعْطَى الْفَرَسَ سَهْمَيْنِ

ابوعمرہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ہم چار آدمی تھے، اور ہمارے ساتھ ایک گھوڑا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم میں سے ہر شخص کو ایک ایک حصہ دیا اور گھوڑے کو دو حصے دیئے۔

أَبِيهِ ← أَبُو عَمْرَةَ ← الْمَسْعُودِيِّ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17371

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17372

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ قَالَ سَمِعْتُ عُمَارَةَ بْنَ خُزَيْمَةَ يُحَدِّثُ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ أَنَّ رَجُلًا ضَرِيرَ الْبَصَرِ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يُعَافِيَنِي قَالَ إِنْ شِئْتَ دَعَوْتُ لَكَ وَإِنْ شِئْتَ أَخَّرْتُ ذَاكَ فَهُوَ خَيْرٌ فَقَالَ ادْعُهُ فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَوَضَّأَ فَيُحْسِنَ وُضُوءَهُ فَيُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ وَيَدْعُوَ بِهَذَا الدُّعَاءِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ يَا مُحَمَّدُ إِنِّي تَوَجَّهْتُ بِكَ إِلَى رَبِّي فِي حَاجَتِي هَذِهِ فَتَقْضِي لِي اللَّهُمَّ شَفِّعْهُ فِيَّ

حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک نابینا آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ اللہ سے دعاء کر دیجئے کہ وہ مجھے عافیت عطاء فرمائے (میری آنکھوں کی بینائی لوٹا دے) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم چاہو تو میں تمہارے حق میں دعاء کر دوں اور چاہو تو اسے آخرت کے لئے مؤخر کر دوں جو تمہارے حق میں زیادہ بہتر ہے؟ اس نے کہا کہ دعاء کر دیجئے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو کہ نبی الرحمۃ ہیں کے وسیلے سے آپ سے سوال کرتا اور آپ کی طرف متوجہ ہوتا ہوں ، اے محمد! صلی اللہ علیہ وسلم! میں آپ کو لے کر اپنے رب کی طرف توجہ کرتا ہوں اور اپنی یہ ضرورت پیش کرتا ہوں ، تاکہ آپ میری یہ ضرورت پوری کر دیں ، اے اللہ! میرے حق میں ان کی سفارش کو قبول فرما اس نے ایسا ہی کیا اور اللہ نے اس کی بینائی واپس لوٹا دی۔

إِنْ شِئْتَ دَعَوْتُ لَكَ وَإِنْ شِئْتَ أَخَّرْتُ ذَاكَ فَهُوَ خَيْرٌ ← ادْعُ اللَّهَ أَنْ يُعَافِيَنِي. ← عُثْمَان بن حنيف أَن رجلا ضَرِير الْبَصَر أَتَى النَّبِي ← عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ ← أَبِي جَعْفَرٍ، ← شُعْبَةُ، ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17372

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17373

حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْمَدِينِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عُمَارَةَ بْنَ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ يُحَدِّثُ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ أَنَّ رَجُلًا ضَرِيرًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يُعَافِيَنِي فَقَالَ إِنْ شِئْتَ أَخَّرْتُ ذَلِكَ فَهُوَ أَفْضَلُ لِآخِرَتِكَ وَإِنْ شِئْتَ دَعَوْتُ لَكَ قَالَ لَا بَلْ ادْعُ اللَّهَ لِي فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَوَضَّأَ وَأَنْ يُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ وَأَنْ يَدْعُوَ بِهَذَا الدُّعَاءِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ يَا مُحَمَّدُ إِنِّي أَتَوَجَّهُ بِكَ إِلَى رَبِّي فِي حَاجَتِي هَذِهِ فَتَقْضِي وَتُشَفِّعُنِي فِيهِ وَتُشَفِّعُهُ فِيَّ قَالَ فَكَانَ يَقُولُ هَذَا مِرَارًا ثُمَّ قَالَ بَعْدُ أَحْسِبُ أَنَّ فِيهَا أَنْ تُشَفِّعَنِي فِيهِ قَالَ فَفَعَلَ الرَّجُلُ فَبَرَأَ

حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک نابینا آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ اللہ سے دعاء کر دیجئے کہ وہ مجھے عافیت عطاء فرمائے (میری آنکھوں کی بینائی لوٹا دے) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم چاہو تو میں تمہارے حق میں دعاء کر دوں اور چاہو تو اسے آخرت کے لئے مؤخر کر دوں جو تمہارے حق میں زیادہ بہتر ہے؟ اس نے کہا کہ دعاء کر دیجئے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو کہ نبی الرحمۃ ہیں کے وسیلے سے آپ سے سوال کرتا اور آپ کی طرف متوجہ ہوتا ہوں ، اے محمد! صلی اللہ علیہ وسلم! میں آپ کو لے کر اپنے رب کی طرف توجہ کرتا ہوں اور اپنی یہ ضرورت پیش کرتا ہوں ، تاکہ آپ میری یہ ضرورت پوری کر دیں ، اے اللہ! میرے حق میں ان کی سفارش کو قبول فرما اس نے ایسا ہی کیا اور اللہ نے اس کی بینائی واپس لوٹا دی۔

عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ، ← عُمَارَۃَ بْنِ خُزَیْمَۃَ بْنِ ثَابِتِ ← أَبِي جَعْفَرٍ الْمَدِينِيِّ، ← شُعْبَةُ، ← رَوْحٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17373

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17374

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْخَطْمِيُّ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ ذَهَبَ بَصَرُهُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ

حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک نابینا آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ اللہ سے دعاء کر دیجئے کہ وہ مجھے عافیت عطاء فرمائے (میری آنکھوں کی بینائی لوٹا دے) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم چاہو تو میں تمہارے حق میں دعاء کر دوں اور چاہو تو اسے آخرت کے لئے مؤخر کر دوں جو تمہارے حق میں زیادہ بہتر ہے؟ اس نے کہا کہ دعاء کر دیجئے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو کہ نبی الرحمۃ ہیں کے وسیلے سے آپ سے سوال کرتا اور آپ کی طرف متوجہ ہوتا ہوں ، اے محمد! صلی اللہ علیہ وسلم! میں آپ کو لے کر اپنے رب کی طرف توجہ کرتا ہوں اور اپنی یہ ضرورت پیش کرتا ہوں ، تاکہ آپ میری یہ ضرورت پوری کر دیں ، اے اللہ! میرے حق میں ان کی سفارش کو قبول فرما اس نے ایسا ہی کیا اور اللہ نے اس کی بینائی واپس لوٹا دی۔

عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ قَدْ ذَهَبَ بَصَرُهُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ← عُمَارَۃَ بْنِ خُزَیْمَۃَ بْنِ ثَابِتِ ← أَبُو جَعْفَرٍ الْخَطْمِيُّ ← حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ← مُؤَمَّلٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17374

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17375

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ يَزِيدَ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عُثْمَانَ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ هَانِئِ بْنِ مُعَاوِيَةَ الصَّدَفِيِّ حَدَّثَهُ قَالَ حَجَجْتُ زَمَانَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فَجَلَسْتُ فِي مَسْجِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا رَجُلٌ يُحَدِّثُهُمْ قَالَ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَأَقْبَلَ رَجُلٌ فَصَلَّى فِي هَذَا الْعَمُودِ فَعَجَّلَ قَبْلَ أَنْ يُتِمَّ صَلَاتَهُ ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ هَذَا لَوْ مَاتَ لَمَاتَ وَلَيْسَ مِنْ الدِّينِ عَلَى شَيْءٍ إِنَّ الرَّجُلَ لَيُخَفِّفُ صَلَاتَهُ وَيُتِمُّهَا قَالَ فَسَأَلْتُ عَنْ الرَّجُلِ مَنْ هُوَ فَقِيلَ عُثْمَانُ بْنُ حُنَيْفٍ الْأَنْصَارِيُّ

ہانی بن معاویہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں حج کی سعادت حاصل کی، میں مسجد نبوی میں بیٹھا ہوا تھا، وہاں ایک آدمی یہ حدیث بیان کر رہا تھا کہ ایک دن ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی آیا اور اس ستون کی آڑ میں نماز پڑھنے لگا، اس نے جلدی جلدی نماز پڑھی اور اس میں اتمام نہیں کیا اور واپس چلا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ مر گیا تو اس حال میں مرے گا کہ دین پر ذرا سا بھی قائم نہیں ہوگا، آدمی اپنی نماز کو مختصر کرتا ہے تو مکمل بھی تو کرے، ہانی کہتے ہیں کہ میں نے حدیث بیان کرنے والے کے متعلق لوگوں سے پوچھا تو بتایا گیا کہ یہ حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ ہیں ۔

حَجَجْتُ زَمَانَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فَجَلَسْتُ فِي مَسْجِدِ النَّبِيِّ فَإِذَا رَجُلٌ يُحَدِّثُهُمْ ← هَانِئِ بْنِ مُعَاوِيَةَ الصَّدَفِيِّ، ← الْبَرَاءِ بْنِ عُثْمَانَ الْأَنْصَارِيِّ، ← الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← حَسَنُ بْنُ مُوسَی

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17375

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17376

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيُّ وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ

حضرت عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ يَمْسَحُ عَلَی الْخُفَّيْنِ ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ ← جَعْفَرُ بْنُ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيُّ وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17376

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17377

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَالْخِمَارِ

حضرت عمروبن امیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو موزوں اور عمامے پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ, وَالْخِمَارِ. ← أَبِيهِ ← جَعْفَرُ بْنُ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيُّ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17377

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17378

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى وَحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّ جَعْفَرَ بْنَ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ

حضرت عمروبن امیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ ← أَنَّ أَبَاهُ ← أَبِي سَلَمَةَ أَنَّ جَعْفَرَ بْنَ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيَّ ← يَحْيَى ← شَيْبَانَ ← حَسَنُ بْنُ مُوسَى وَحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17378

chevron_left Previous
1…363738…111
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter