Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17295

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ السُّلَمِيِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ فِي أُمِّ الْكِتَابِ لَخَاتَمُ النَّبِيِّينَ وَإِنَّ آدَمَ لَمُنْجَدِلٌ فِي طِينَتِهِ وَسَأُنَبِّئُكُمْ بِتَأْوِيلِ ذَلِكَ دَعْوَةِ أَبِي إِبْرَاهِيمَ وَبِشَارَةِ عِيسَى قَوْمَهُ وَرُؤْيَا أُمِّي الَّتِي رَأَتْ أَنَّهُ خَرَجَ مِنْهَا نُورٌ أَضَاءَتْ لَهُ قُصُورُ الشَّامِ وَكَذَلِكَ تَرَى أُمَّهَاتُ النَّبِيِّينَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ

حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اس وقت بھی اللہ کا بندہ اور خاتم النبیین تھا جب کہ حضرت آدم علیہ السلام ابھی گارے میں ہی لتھڑے ہوئے تھے، اور میں تمہیں اس کی ابتداء بتاتا ہوں میں اپنے جد امجد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعاء حضرت عیسی علیہ السلام کی بشارت اور اپنی والدہ کا وہ خواب ہوں جو انہوں نے دیکھا تھا اور تمام انیباء علیہم السلام کی مائیں اسی طرح خواب دیکھتی تھیں ۔

رَسُولِ اللَّهِ ← الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ السُّلَمِيِّ، ← سَعِيدِ بْنِ سُوَيْد ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو الْيَمَانِ الْحَکَمُ بْنُ نَافِعٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17295

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17296

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ عَنِ ابْنِ أَبِي بِلَالٍ عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَخْتَصِمُ الشُّهَدَاءُ وَالْمُتَوَفَّوْنَ عَلَى فُرُشِهِمْ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي الَّذِينَ مَاتُوا مِنْ الطَّاعُونِ فَيَقُولُ الشُّهَدَاءُ إِخْوَانُنَا قُتِلُوا وَيَقُولُ الْمُتَوَفَّوْنَ عَلَى فُرُشِهِمْ إِخْوَانُنَا مَاتُوا عَلَى فُرُشِهِمْ كَمَا مِتْنَا فَيَقْضِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بَيْنَهُمْ أَنْ انْظُرُوا إِلَى جِرَاحَاتِ الْمُطَّعَنِينَ فَإِنْ أَشْبَهَتْ جِرَاحَاتِ الشُّهَدَاءِ فَهُمْ مِنْهُمْ فَيَنْظُرُونَ إِلَى جِرَاحِ الْمُطَّعَنِينَ فَإِذَا هُمْ قَدْ أَشْبَهَتْ فَيُلْحَقُونَ مَعَهُمْ

حضرت عرباض رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا طاعون کی وباء میں مرنے والوں کے متعلق پروردگار عالم کے سامنے شہداء اور طبعی موت مرنے والوں کے درمیان جھگڑا ہوگا، شہداء کہیں گے کہ یہ ہمارے بھائی ہیں ، اور ہماری طرح شہید ہوئے، اور طبعی موت مرنے والے کہیں گے کہ یہ ہمارے بھائی ہیں اور ہماری طرح اپنے بستروں پر فوت ہوئے ہیں ، پروردگار فرمائے گا کہ ان کے زخم دیکھو، اگر ان کے زخم شہداء کے زخموں جیسے ہوں تو یہ شہداء میں شمار ہو کر ان کے ساتھ ہوں گے، جب دیکھا جائے گا تو ان کے زخم شہداء کے زخموں کے مشابہہ ہوں گے۔

الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ: ← ابْنِ أَبِي بِلَالٍ ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← أَبُو الْيَمَانِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17296

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17297

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُدْرِكٍ عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ كَانَ رَجُلٌ قُتِلَ مِنْهُمْ بِأَوْطَاسٍ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَبَا عَامِرٍ أَلَا غَيَّرْتَ فَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ أَيْنَ ذَهَبْتُمْ إِنَّمَا هِيَ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ مِنْ الْكُفَّارِ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ

حضرت ابو عامر اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ اوطاس میں ان کا ایک آدمی مارا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عامر! تمہیں غیرت نہ آئی، ابو عامر رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھ کر سنا دی، اے ایمان والو! اپنے نفس کا خیال رکھنا اپنے اوپر لازم کرلو، اگر تم ہدایت پر ہوئے تو کسی کے بھٹکنے سے تمہیں نقصان نہیں ہوگا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم غصے میں آگئے اور فرمایا تم کہاں جا رہے ہو؟ آیت کا مطلب تو یہ ہے کہ اے اہل ایمان! اگر تم ہدایت پر ہوئے تو گمراہ کافر تمہیں کوئی نقصان نہ پہنچا سکیں گے۔

كَانَ رَجُلٌ قُتِلَ مِنْهُمْ بِأَوْطَاسٍ ← أَبِي عَامِرٍ الْأَشْعَرِيِّ، ← عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ ← مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17297

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17298

حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَلَاذٍ يُحَدِّثُ عَنْ نُمَيْرِ بْنِ أَوْسٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ مَسْرُوحٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ الْأَشْعَرِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نِعْمَ الْحَيُّ الْأُسْدُ وَالْأَشْعَرِيُّونَ لَا يَفِرُّونَ فِي الْقِتَالِ وَلَا يَغُلُّونَ هُمْ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُمْ قَالَ عَامِرٌ فَحَدَّثْتُ بِهِ مُعَاوِيَةَ فَقَالَ لَيْسَ هَكَذَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَكِنَّهُ قَالَ هُمْ مِنِّي وَإِلَيَّ فَقَالَ لَيْسَ هَكَذَا حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَكِنَّهُ قَالَ هُمْ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُمْ قَالَ فَأَنْتَ إِذًا أَعْلَمُ بِحَدِيثِ أَبِيكَ قَالَ عَبْد اللَّهِ هَذَا مِنْ أَجْوَدِ الْحَدِيثِ مَا رَوَاهُ إِلَّا جَرِيرٌ

حضرت ابوعامر اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بنو اسد اور اشعریین بہترین قبیلے ہیں ، جو میدان جنگ سے بھاگتے ہیں اور نہ ہی خیانت کرتے ہیں ، وہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں ۔ حضرت ابو عامر رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے عامر کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو سنائی تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم منی کے بعد وانا منہم نہیں فرمایا تھا بلکہ والی فرمایا تھا، عامر نے کہا کہ میرے والد صاحب نے اس طرح بیان نہیں کیا بلکہ یہی فرمایا وانا منہم تو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اپنے والد کی حدیث تم زیادہ بہتر جانتے ہوگے۔

لَيْسَ هَكَذَا ← بِهِ مُعَاوِيَةَ، ← عَامِرٍ، ← مِنهم ← نِعْمَ الْحَيُّ الْأُسْدُ وَالْأَشْعَرِيُّونَ لَا يَفِرُّونَ فِي الْقِتَالِ وَلَا يَغُلُّونَ هُمْ مِنِّي ← النَّبِيِّ ← أَبِيهِ ← عامر بن أبي عامر الأشعري ← مالك بن مسروح ← نمير بن أوس ← عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَلَاذٍ، ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17298

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17299

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي حُسَيْنٍ حَدَّثَنَا شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ عَنْ عَامِرٍ أَوْ أَبِي عَامِرٍ أَوْ أَبِي مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ فِي مَجْلِسٍ فِيهِ أَصْحَابُهُ جَاءَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فِي غَيْرِ صُورَتِهِ يَحْسِبُهُ رَجُلًا مِنْ الْمُسْلِمِينَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ ثُمَّ وَضَعَ جِبْرِيلُ يَدَهُ عَلَى رُكْبَتَيْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْإِسْلَامُ فَقَالَ أَنْ تُسْلِمَ وَجْهَكَ لِلَّهِ وَأَنْ تَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ قَالَ فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَقَدْ أَسْلَمْتُ قَالَ نَعَمْ ثُمَّ قَالَ مَا الْإِيمَانُ قَالَ أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ وَالْمَوْتِ وَالْحَيَاةِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ وَالْحِسَابِ وَالْمِيزَانِ وَالْقَدَرِ كُلِّهِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ قَالَ فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَقَدْ آمَنْتُ قَالَ نَعَمْ ثُمَّ قَالَ مَا الْإِحْسَانُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ فَإِنَّكَ إِنْ كُنْتَ لَا تَرَاهُ فَهُوَ يَرَاكَ قَالَ فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَقَدْ أَحْسَنْتُ قَالَ نَعَمْ وَنَسْمَعُ رَجْعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ وَلَا يُرَى الَّذِي يُكَلِّمُهُ وَلَا يُسْمَعُ كَلَامُهُ قَالَ فَمَتَى السَّاعَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُبْحَانَ اللَّهِ خَمْسٌ مِنْ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ فَقَالَ السَّائِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ شِئْتَ حَدَّثْتُكَ بِعَلَامَتَيْنِ تَكُونَانِ قَبْلَهَا فَقَالَ حَدِّثْنِي فَقَالَ إِذَا رَأَيْتَ الْأَمَةَ تَلِدُ رَبَّهَا وَيَطُولُ أَهْلُ الْبُنْيَانِ بِالْبُنْيَانِ وَعَادَ الْعَالَةُ الْحُفَاةُ رُءُوسَ النَّاسِ قَالَ وَمَنْ أُولَئِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الْعَرِيبُ قَالَ ثُمَّ وَلَّى فَلَمَّا لَمْ نَرَ طَرِيقَهُ بَعْدُ قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ ثَلَاثًا هَذَا جِبْرِيلُ جَاءَ لِيُعَلِّمَ النَّاسَ دِينَهُمْ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا جَاءَنِي قَطُّ إِلَّا وَأَنَا أَعْرِفُهُ إِلَّا أَنْ تَكُونَ هَذِهِ الْمَرَّةُ

حضرت ابوعامر اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ کسی مجلس میں تشریف فرما تھے، کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام اپنی شکل وصورت بدل کر آگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ سمجھے کہ یہ کوئی مسلمان آدمی ہے، انہوں نے سلام کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا، پھر انہوں نے اپنے ہاتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں پر رکھ دیئے اور پوچھا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) اسلام سے کیا مراد ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے آپ کو اللہ کے سامنے جھکا دو، لا الہ الا اللہ کی گواہی دو اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، نماز قائم کرو اور زکوۃ دو، انہوں نے پوچھا کہ جب میں یہ کام کر لوں گا تو مسلمان کہلاؤں گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! پھر انہوں نے پوچھا کہ ایمان سے کیا مراد ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ پر، یوم آخرت، ملائکہ، کتابوں ، نبیوں ، موت اور حیات بعد الموت، جنت وجہنم، حساب و میزان اور ہر اچھی بری تقدیر اللہ کی طرف سے ہونے کا یقین رکھو، انہوں نے پوچھا کہ جب میں یہ کام کرلوں گا تو مومن بن جاؤں گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! پھر انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) احسان سے کیا مراد ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی عبادت اس طرح کرنا کہ گویا تم اسے دیکھ رہے ہو، اگر یہ تصور نہیں کر سکتے تو پھر یہی تصور کر لو کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے، انہوں نے پوچھا اگر میں ایسا کر لوں تو میں نے احسان کا درجہ حاصل کر لیا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ، راوی کہتے ہیں کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جوابات تو سن رہے تھے لیکن وہ شخص نظر نہیں آ رہا تھا جس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم گفتگو فرما رہے تھے اور نہ ہی اس کی بات سنائی دے رہی تھی۔ پھر سائل نے پوچھا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) قیامت کب آئے گی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سبحان اللہ! غیب کی پانچ چیزیں ایسی ہیں جنہیں اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا، (پھر یہ آیت تلاوت فرمائی) " بیشک قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے، وہی بارش برساتا ہے، وہی جانتا ہے کہ رحم مادر میں کیا ہے؟ کوئی نفس نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائے گا؟ اور کوئی نفس نہیں جانتا کہ وہ کس سر زمین میں مرے گا، بیشک اللہ بڑا جاننے والا باخبر ہے " پھر سائل نے عرض کیا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو دو علامتیں بتا سکتا ہوں جو قیامت سے پہلے رونما ہوں گی۔ اس نے کہا جب آپ دیکھیں کہ باندی اپنی مالکن کو جنم دے رہی ہے اور عمارتوں والے عمارتوں میں ایک دوسرے پر فخر کر رہے ہیں اور ننگے افراد لوگوں کے سردار بن گئے ہیں (تو قیامت قریب آجائے گی) راوی نے پوچھا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) یہ کون لوگ ہوں گے؟ فرمایا دیہاتی لوگ۔ پھر وہ سائل چلا گیا اور ہمیں بعد میں اس کا راستہ نظر نہیں آیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ سبحان اللہ کہہ کر فرمایا یہ جبرائیل تھے جو لوگوں کو ان کے دین کی تعلیم دینے کے لئے آئے تھے، اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جان ہے، جبرائیل میرے پاس اس مرتبہ کے علاوہ جب بھی آئے، میں نے انہیں پہچان لیا (لیکن اس مرتبہ نہیں پہچان سکا) ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف عورتوں سے ابتداء میں نکاح کرنے سے منع کر دیا تھا۔ فائدہ : حدیث کی مکمل وضاحت نمبر٢٩٢٤ ملاحظہ کیجئے۔

عَامِرٍ أَوْ أَبِي عَامِرٍ أَوْ أَبِي مَالِكٍ ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← عَبْد اللَّه بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، ← شُعَيْبٌ، ← أَبُو الْيَمَانِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17299

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17300

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ قَالَ حَدَّثَنِي شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَصْنَافِ النِّسَاءِ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ

حضرت ابوعامر اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ کسی مجلس میں تشریف فرما تھے، کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام اپنی شکل وصورت بدل کر آگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ سمجھے کہ یہ کوئی مسلمان آدمی ہے، انہوں نے سلام کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا، پھر انہوں نے اپنے ہاتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں پر رکھ دیئے اور پوچھا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) اسلام سے کیا مراد ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے آپ کو اللہ کے سامنے جھکا دو، لا الہ الا اللہ کی گواہی دو اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، نماز قائم کرو اور زکوۃ دو، انہوں نے پوچھا کہ جب میں یہ کام کر لوں گا تو مسلمان کہلاؤں گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! پھر انہوں نے پوچھا کہ ایمان سے کیا مراد ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ پر، یوم آخرت، ملائکہ، کتابوں ، نبیوں ، موت اور حیات بعد الموت، جنت وجہنم، حساب و میزان اور ہر اچھی بری تقدیر اللہ کی طرف سے ہونے کا یقین رکھو، انہوں نے پوچھا کہ جب میں یہ کام کرلوں گا تو مومن بن جاؤں گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! پھر انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) احسان سے کیا مراد ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی عبادت اس طرح کرنا کہ گویا تم اسے دیکھ رہے ہو، اگر یہ تصور نہیں کر سکتے تو پھر یہی تصور کر لو کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے، انہوں نے پوچھا اگر میں ایسا کر لوں تو میں نے احسان کا درجہ حاصل کر لیا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ، راوی کہتے ہیں کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جوابات تو سن رہے تھے لیکن وہ شخص نظر نہیں آ رہا تھا جس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم گفتگو فرما رہے تھے اور نہ ہی اس کی بات سنائی دے رہی تھی۔ پھر سائل نے پوچھا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) قیامت کب آئے گی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سبحان اللہ! غیب کی پانچ چیزیں ایسی ہیں جنہیں اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا، (پھر یہ آیت تلاوت فرمائی) " بیشک قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے، وہی بارش برساتا ہے، وہی جانتا ہے کہ رحم مادر میں کیا ہے؟ کوئی نفس نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائے گا؟ اور کوئی نفس نہیں جانتا کہ وہ کس سر زمین میں مرے گا، بیشک اللہ بڑا جاننے والا باخبر ہے " پھر سائل نے عرض کیا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو دو علامتیں بتا سکتا ہوں جو قیامت سے پہلے رونما ہوں گی۔ اس نے کہا جب آپ دیکھیں کہ باندی اپنی مالکن کو جنم دے رہی ہے اور عمارتوں والے عمارتوں میں ایک دوسرے پر فخر کر رہے ہیں اور ننگے افراد لوگوں کے سردار بن گئے ہیں (تو قیامت قریب آجائے گی) راوی نے پوچھا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) یہ کون لوگ ہوں گے؟ فرمایا دیہاتی لوگ۔ پھر وہ سائل چلا گیا اور ہمیں بعد میں اس کا راستہ نظر نہیں آیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ سبحان اللہ کہہ کر فرمایا یہ جبرائیل تھے جو لوگوں کو ان کے دین کی تعلیم دینے کے لئے آئے تھے، اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جان ہے، جبرائیل میرے پاس اس مرتبہ کے علاوہ جب بھی آئے، میں نے انہیں پہچان لیا (لیکن اس مرتبہ نہیں پہچان سکا) ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف عورتوں سے ابتداء میں نکاح کرنے سے منع کر دیا تھا۔ فائدہ : حدیث کی مکمل وضاحت نمبر٢٩٢٤ ملاحظہ کیجئے۔

أَصْنَافِ النِّسَاءِ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← عَبْدِ الْحَمِيدِ ← أَبُو النَّضْرِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17300

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17301

وَذَكَرَ مُلْصِقًا بِهِ قَالَ جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَجْلِسًا فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فَجَلَسَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِيهِ إِنْ شِئْتَ حَدَّثْتُكَ بِمَعَالِمَ لَهَا دُونَ ذَلِكَ قَالَ أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَحَدِّثْنِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَيْتَ الْأَمَةَ وَلَدَتْ رَبَّتَهَا فَذَكَرَ الْحَدِيثَ

حضرت ابوعامر اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ کسی مجلس میں تشریف فرما تھے، کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام اپنی شکل وصورت بدل کر آگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ سمجھے کہ یہ کوئی مسلمان آدمی ہے، انہوں نے سلام کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا، پھر انہوں نے اپنے ہاتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں پر رکھ دیئے اور پوچھا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) اسلام سے کیا مراد ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے آپ کو اللہ کے سامنے جھکا دو، لا الہ الا اللہ کی گواہی دو اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، نماز قائم کرو اور زکوۃ دو، انہوں نے پوچھا کہ جب میں یہ کام کر لوں گا تو مسلمان کہلاؤں گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! پھر انہوں نے پوچھا کہ ایمان سے کیا مراد ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ پر، یوم آخرت، ملائکہ، کتابوں ، نبیوں ، موت اور حیات بعد الموت، جنت وجہنم، حساب و میزان اور ہر اچھی بری تقدیر اللہ کی طرف سے ہونے کا یقین رکھو، انہوں نے پوچھا کہ جب میں یہ کام کرلوں گا تو مومن بن جاؤں گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! پھر انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) احسان سے کیا مراد ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی عبادت اس طرح کرنا کہ گویا تم اسے دیکھ رہے ہو، اگر یہ تصور نہیں کر سکتے تو پھر یہی تصور کر لو کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے، انہوں نے پوچھا اگر میں ایسا کر لوں تو میں نے احسان کا درجہ حاصل کر لیا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ، راوی کہتے ہیں کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جوابات تو سن رہے تھے لیکن وہ شخص نظر نہیں آ رہا تھا جس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم گفتگو فرما رہے تھے اور نہ ہی اس کی بات سنائی دے رہی تھی۔ پھر سائل نے پوچھا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) قیامت کب آئے گی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سبحان اللہ! غیب کی پانچ چیزیں ایسی ہیں جنہیں اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا، (پھر یہ آیت تلاوت فرمائی) " بیشک قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے، وہی بارش برساتا ہے، وہی جانتا ہے کہ رحم مادر میں کیا ہے؟ کوئی نفس نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائے گا؟ اور کوئی نفس نہیں جانتا کہ وہ کس سر زمین میں مرے گا، بیشک اللہ بڑا جاننے والا باخبر ہے " پھر سائل نے عرض کیا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو دو علامتیں بتا سکتا ہوں جو قیامت سے پہلے رونما ہوں گی۔ اس نے کہا جب آپ دیکھیں کہ باندی اپنی مالکن کو جنم دے رہی ہے اور عمارتوں والے عمارتوں میں ایک دوسرے پر فخر کر رہے ہیں اور ننگے افراد لوگوں کے سردار بن گئے ہیں (تو قیامت قریب آجائے گی) راوی نے پوچھا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) یہ کون لوگ ہوں گے؟ فرمایا دیہاتی لوگ۔ پھر وہ سائل چلا گیا اور ہمیں بعد میں اس کا راستہ نظر نہیں آیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ سبحان اللہ کہہ کر فرمایا یہ جبرائیل تھے جو لوگوں کو ان کے دین کی تعلیم دینے کے لئے آئے تھے، اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جان ہے، جبرائیل میرے پاس اس مرتبہ کے علاوہ جب بھی آئے، میں نے انہیں پہچان لیا (لیکن اس مرتبہ نہیں پہچان سکا) ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف عورتوں سے ابتداء میں نکاح کرنے سے منع کر دیا تھا۔ فائدہ : حدیث کی مکمل وضاحت نمبر٢٩٢٤ ملاحظہ کیجئے۔

أَجَلْ ← فِيهِ إِنْ شِئْتَ حَدَّثْتُكَ بِمَعَالِمَ لَهَا دُونَ ذَلِكَ ← الْحَدِيثَ. ← جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ مَجْلِسًا فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ فَجَلَسَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ ← مُلْصِقًا بِهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17301

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17302

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو خَلَفٍ مُوسَى بْنُ خَلَفٍ كَانَ يُعَدُّ فِي الْبُدَلَاءِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ عَنْ جَدِّهِ مَمْطُورٍ عَنِ الْحَارِثِ الْأَشْعَرِيِّ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَمَرَ يَحْيَى بْنَ زَكَرِيَّا عَلَيْهِمَا السَّلَام بِخَمْسِ كَلِمَاتٍ أَنْ يَعْمَلَ بِهِنَّ وَأَنْ يَأْمُرَ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَنْ يَعْمَلُوا بِهِنَّ وَكَادَ أَنْ يُبْطِئَ فَقَالَ لَهُ عِيسَى إِنَّكَ قَدْ أُمِرْتَ بِخَمْسِ كَلِمَاتٍ أَنْ تَعْمَلَ بِهِنَّ وَتَأْمُرَ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَنْ يَعْمَلُوا بِهِنَّ فَإِمَّا أَنْ تُبَلِّغَهُنَّ وَإِمَّا أَنْ أُبَلِّغَهُنَّ فَقَالَ يَا أَخِي إِنِّي أَخْشَى إِنْ سَبَقْتَنِي أَنْ أُعَذَّبَ أَوْ يُخْسَفَ بِي قَالَ فَجَمَعَ يَحْيَى بَنِي إِسْرَائِيلَ فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ حَتَّى امْتَلَأَ الْمَسْجِدُ فَقُعِدَ عَلَى الشُّرَفِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَمَرَنِي بِخَمْسِ كَلِمَاتٍ أَنْ أَعْمَلَ بِهِنَّ وَآمُرَكُمْ أَنْ تَعْمَلُوا بِهِنَّ أَوَّلُهُنَّ أَنْ تَعْبُدُوا اللَّهَ لَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا فَإِنَّ مَثَلَ ذَلِكَ مَثَلُ رَجُلٍ اشْتَرَى عَبْدًا مِنْ خَالِصِ مَالِهِ بِوَرِقٍ أَوْ ذَهَبٍ فَجَعَلَ يَعْمَلُ وَيُؤَدِّي غَلَّتَهُ إِلَى غَيْرِ سَيِّدِهِ فَأَيُّكُمْ سَرَّهُ أَنْ يَكُونَ عَبْدُهُ كَذَلِكَ وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَكُمْ وَرَزَقَكُمْ فَاعْبُدُوهُ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَآمُرُكُمْ بِالصَّلَاةِ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَنْصِبُ وَجْهَهُ لِوَجْهِ عَبْدِهِ مَا لَمْ يَلْتَفِتْ فَإِذَا صَلَّيْتُمْ فَلَا تَلْتَفِتُوا وَآمُرُكُمْ بِالصِّيَامِ فَإِنَّ مَثَلَ ذَلِكَ كَمَثَلِ رَجُلٍ مَعَهُ صُرَّةٌ مِنْ مِسْكٍ فِي عِصَابَةٍ كُلُّهُمْ يَجِدُ رِيحَ الْمِسْكِ وَإِنَّ خُلُوفَ فَمِ الصَّائِمِ عِنْدَ اللَّهِ أَطْيَبُ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ وَآمُرُكُمْ بِالصَّدَقَةِ فَإِنَّ مَثَلَ ذَلِكَ كَمَثَلِ رَجُلٍ أَسَرَهُ الْعَدُوُّ فَشَدُّوا يَدَيْهِ إِلَى عُنُقِهِ وَقَدَّمُوهُ لِيَضْرِبُوا عُنُقَهُ فَقَالَ هَلْ لَكُمْ أَنْ أَفْتَدِيَ نَفْسِي مِنْكُمْ فَجَعَلَ يَفْتَدِي نَفْسَهُ مِنْهُمْ بِالْقَلِيلِ وَالْكَثِيرِ حَتَّى فَكَّ نَفْسَهُ وَآمُرُكُمْ بِذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ كَثِيرًا وَإِنَّ مَثَلَ ذَلِكَ كَمَثَلِ رَجُلٍ طَلَبَهُ الْعَدُوُّ سِرَاعًا فِي أَثَرِهِ فَأَتَى حِصْنًا حَصِينًا فَتَحَصَّنَ فِيهِ وَإِنَّ الْعَبْدَ أَحْصَنُ مَا يَكُونُ مِنْ الشَّيْطَانِ إِذَا كَانَ فِي ذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا آمُرُكُمْ بِخَمْسٍ اللَّهُ أَمَرَنِي بِهِنَّ بِالْجَمَاعَةِ وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ وَالْهِجْرَةِ وَالْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَإِنَّهُ مَنْ خَرَجَ مِنْ الْجَمَاعَةِ قِيدَ شِبْرٍ فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَةَ الْإِسْلَامِ مِنْ عُنُقِهِ إِلَّا أَنْ يَرْجِعَ وَمَنْ دَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ فَهُوَ مِنْ جُثَاءِ جَهَنَّمَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَإِنْ صَامَ وَإِنْ صَلَّى قَالَ وَإِنْ صَامَ وَإِنْ صَلَّى وَزَعَمَ أَنَّهُ مُسْلِمٌ فَادْعُوا الْمُسْلِمِينَ بِأَسْمَائِهِمْ بِمَا سَمَّاهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْمُسْلِمِينَ الْمُؤْمِنِينَ عِبَادَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ

حضرت حارث اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے حضرت یحیی بن زکریا علیہما السلام کو پانچ باتوں کے متعلق حکم دیا کہ ان پر خود بھی عمل کریں اور بنی اسرائیل کو بھی ان پر عمل کرنے کا حکم دیں ، قریب تھا کہ حضرت یحیی علیہ السلام سے اس معاملے میں تاخیر ہو جاتی کہ حضرت عیسی علیہ السلام کہنے لگے آپ کو پانچ باتوں کے متعلق حکم ہوا ہے کہ خود بھی ان پر عمل کریں اور بنی اسرائیل کو بھی ان پر عمل کرنے کا حکم دیں ، اب یا تو یہ پیغام آپ خود پہنچا دیں ، ورنہ میں پہنچائے دیتا ہوں ، حضرت یحیی علیہ السلام نے فرمایا بھائی! مجھے اندیشہ ہے کہ اگر آپ مجھ پر سبقت لے گئے تو میں عزاب میں مبتلا ہو جاؤں گا یا زمین میں دھنسا دیا جاؤں گا۔ چنانچہ اس کے بعد حضرت یحیی علیہ السلام نے بیت المقدس میں بنی اسرائیل کو جمع کیا، جب مسجد بھر گئی تو وہ ایک ٹیلے پر بیٹھ گئے، اللہ کی حمدوثناء کی اور فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے پانچ باتوں کے متعلق حکم دیا ہے کہ خود بھی ان پر عمل کروں اور تمہیں بھی ان پر عمل کرنے کا حکم دوں ، ان میں سب سے پہلی چیز یہ ہے کہ تم صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، اس کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے اپنے خالص مال یعنی سونے چاندی سے ایک غلام خریدا، وہ غلام اپنے آقا کے علاوہ کسی دوسرے کے لئے مزدوری کرنا اور اسے اپنی تنخواہ دینا شروع کر دے تو تم میں سے کون چاہے گا کہ اس کا غلام ایسا ہو؟ نیز میں تمہیں نماز کا حکم دیتا ہوں کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنی تمام تر توجہات اپنے بندے پر مرکوز فرما دیتا ہے بشرطیکہ وہ ادھر ادھر نہ دیکھے، اس لئے جب تم نماز پڑھا کرو تو دائیں بائیں نہ دیکھا کرو، نیز میں تمہیں روزوں کا حکم دیتا ہوں کیونکہ اس کی مثال اس شخص کی سی ہے جو بھری محفل میں مشک کی ایک شیشی لے کر آئے اور سب کو اس کی مہک کا احساس ہو، اور اللہ کے نزدیک روزہ دار کے منہ کی بھبک مشک کی مہک سے بھی زیادہ عمدہ ہوتی ہے۔ نیز میں تمہیں صدقہ کرنے کا حکم دیتا ہوں کیونکہ اس کی مثال اس شخص کی سی ہے جسے دشمن نے قید کر کے اس کے ہاتھ گردن سے باندھ دیئے ہوں اور پھر اسے قتل کرنے کے لئے لے چلیں اور وہ ان سے کہے کہ کیا تم میری جان کا فدیہ وصول کرنے کے لئے تیار ہو؟ پھر وہ تھوڑے اور زیادہ کے ذریعے جس طرح بھی بن پڑے اپنی جان کا فدیہ پیش کرنے لگے یہاں تک کہ اپنے آپ کو چھڑا لے، اور میں تمہیں کثرت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے کا حکم دیتا ہوں ، کیونکہ اس کی مثال اس شخص کی سی ہے دشمن جس کا بہت تیزی سے پیچھا کر رہا ہو، اور وہ ایک مضبوط قلعہ میں گھس کر پناہ گزین ہوجائے، اس طرح بندہ بھی جب تک اللہ کے ذکر میں مصروف رہتا ہے، شیطان کے حملوں سے محفوظ ایک مضبوط قلعے میں ہوتا ہے۔ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں بھی تمہیں پانچ چیزوں کا حکم دیتا ہوں جنہیں اختیار کرنے کا اللہ نے مجھے حکم دیا ہے (١) اجتماعیت کا (٢) حکمران کی بات سننے کا (٣) بات ماننے کا (٤) ہجرت کا () اور جہاد فی سبیل اللہ کا، کیونکہ جو شخص بھی ایک بالشت کے برابر جماعت مسلمین سے خروج کرتا ہے، وہ اپنی گردن سے اسلام کا قلادہ اتار پھینکتا ہے، الاّ یہ کہ واپس جماعت کی طرف لوٹ آئے، اور جو شخص زمانہ جاہلیت کے نعرے لگاتا ہے، وہ جہنم کا ایندھن ہے، صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) اگرچہ وہ نماز روزہ کرتا ہو؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگرچہ وہ نماز روزہ کرتا ہو اور اپنے آپ کو مسلمان سمجھتا ہو، سو تم مسلمانوں کو ان ناموں سے پکارو جن ناموں سے اللہ نے اپنے مسلمان بندوں کو پکارا ہے۔

الْحَارِثُ الْأَشْعَرِيُّ؛ ← جَدِّهِ مَمْطُورٍ، ← زَیْدِ بْنِ سَلَّامٍ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← أَبُو خَلَفٍ مُوسَى بْنُ خَلَفٍ كَانَ يُعَدُّ فِي الْبُدَلَاءِ ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17302

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17303

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا ثَوْرٌ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ قَالَ حَدَّثَنِي حَبِيبُ بْنُ عُبَيْدٍ عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ أَبِي كَرِيمَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَحَبَّ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيُعْلِمْهُ أَنَّهُ يُحْبِبْهُ

حضرت مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص اپنے کسی بھائی سے محبت کرتا ہو تو اسے چاہیے کہ اسے بتا دے۔

إِذَا أَحَبَّ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيُعْلِمْهُ أَنَّهُ يُحْبِبْهُ ← النَّبِيِّ ← الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ أَبِي كَرِيمَةَ ← حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ، ← ثَوْرٌ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17303

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17304

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ أَبِي كَرِيمَةَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَيْلَةُ الضَّيْفِ وَاجِبَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ فَإِنْ أَصْبَحَ بِفِنَائِهِ مَحْرُومًا كَانَ دَيْنًا لَهُ عَلَيْهِ إِنْ شَاءَ اقْتَضَاهُ وَإِنْ شَاءَ تَرَكَهُ

حضرت مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے مہمان کی رات ہر مسلمان پر (اس کی خبر گیری کرنا) واجب ہے، اگر وہ اپنے میزبان کے صحن میں صبح تک محروم رہا تو وہ اس کا مقروض ہوگیا، چاہے تو ادا کر دے اور چاہے تو چھوڑ دے۔

رَسُولِ اللَّهِ ← الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ أَبِي كَرِيمَةَ أَنَّهُ ← الشَّعْبِيِّ، ← مَنْصُورٌ، ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17304

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17305

حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَكَّائِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ عَنْ عَامِرٍ عَنْ أَبِي كَرِيمَةَ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةُ الضَّيْفِ وَاجِبَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ فَإِنْ أَصْبَحَ بِفِنَائِهِ مَحْرُومًا كَانَ دَيْنًا لَهُ عَلَيْهِ إِنْ شَاءَ اقْتَضَاهُ وَإِنْ شَاءَ تَرَكَهُ

حضرت مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سناہے مہمان کی رات ہر مسلمان پر (اس کی خبرگیری کرنا) واجب ہے، اگر وہ اپنے میزبان کے صحن میں صبح تک محروم رہا تو وہ اس کا مقروض ہوگیا، چاہے تو ادا کر دے اور چاہے تو چھوڑ دے۔

أَبِي كَرِيمَةَ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ ← عَامِرٍ، ← مَنْصُورٌ، ← زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَکَّائِيُّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17305

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17306

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَخْبَرَنَا حَرِيزٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَوْفٍ الْجُرَشِيِّ عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ الْكِنْدِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا إِنِّي أُوتِيتُ الْكِتَابَ وَمِثْلَهُ مَعَهُ أَلَا إِنِّي أُوتِيتُ الْقُرْآنَ وَمِثْلَهُ مَعَهُ لَا يُوشِكُ رَجُلٌ يَنْثَنِي شَبْعَانًا عَلَى أَرِيكَتِهِ يَقُولُ عَلَيْكُمْ بِالْقُرْآنِ فَمَا وَجَدْتُمْ فِيهِ مِنْ حَلَالٍ فَأَحِلُّوهُ وَمَا وَجَدْتُمْ فِيهِ مِنْ حَرَامٍ فَحَرِّمُوهُ أَلَا لَا يَحِلُّ لَكُمْ لَحْمُ الْحِمَارِ الْأَهْلِيِّ وَلَا كُلُّ ذِي نَابٍ مِنْ السِّبَاعِ أَلَا وَلَا لُقَطَةٌ مِنْ مَالِ مُعَاهَدٍ إِلَّا أَنْ يَسْتَغْنِيَ عَنْهَا صَاحِبُهَا وَمَنْ نَزَلَ بِقَوْمٍ فَعَلَيْهِمْ أَنْ يَقْرُوهُمْ فَإِنْ لَمْ يَقْرُوهُمْ فَلَهُمْ أَنْ يُعْقِبُوهُمْ بِمِثْلِ قِرَاهُمْ

حضرت مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا یاد رکھو! مجھے قرآن کریم اور اس کے ساتھ کچھ اور بھی دیا گیا ہے، یاد رکھو! عنقریب ایک ادمی آئے گا جو اپنے تخت پر بیٹھ کر یہ کہے گا کہ قرآن کریم کو اپنے اوپر لازم کرلو، صرف اس میں جو چیز تمہیں حلال ملے، اسے حلال سمجھو اور جو حرام ملے، اسے حرام سمجھو، یاد رکھو! تمہارے لئے پالتو گدھوں کا گوشت اور کوئی کچلی والا درندہ حلال نہیں ہے، کسی ذمی کے مال کی گری پڑی چیز بھی حلال نہیں ، الاّ یہ کہ اس کے مالک کو اس کی ضرورت نہ ہو، اور جو شخص کسی قوم کے یہاں مہمان بنے، انہیں اس کی مہمان نوازی کرنا چاہئے، اگر وہ اس کی مہمان نوازی نہ کریں تو انہیں بھی اجازت ہے کہ وہ اسی طرح ان کی بھی مہمان نوازی کریں ۔

الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ الْكِنْدِيِّ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَوْفٍ الْجُرَشِيِّ ← حَرِيزٌ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17306

chevron_left Previous
1…303132…111
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter