Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند امام احمد بن حنبل

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

28,221 Hadith18 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17271

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَوَكِيعٌ قَالَا حَدَّثَنَا هِشَامٌ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْتَغْفِرُ لِلصَّفِّ الْمُقَدَّمِ ثَلَاثًا وَلِلثَّانِي مَرَّةً

حضرت عرباض بن ساریہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پہلی صف والوں کے لئے تین مرتبہ اور دوسری صف والوں کے لئے ایک مرتبہ استغفار فرماتے تھے۔

الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ: ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← هِشَامٍ ← يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَوَكِيعٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17271

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17272

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ حَبِيبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرٍو السُّلَمِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ الْعِرْبَاضَ بْنَ سَارِيَةَ قَالَ وَعَظَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَوْعِظَةً ذَرَفَتْ مِنْهَا الْعُيُونُ وَوَجِلَتْ مِنْهَا الْقُلُوبُ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذِهِ لَمَوْعِظَةُ مُوَدِّعٍ فَمَاذَا تَعْهَدُ إِلَيْنَا قَالَ قَدْ تَرَكْتُكُمْ عَلَى الْبَيْضَاءِ لَيْلُهَا كَنَهَارِهَا لَا يَزِيغُ عَنْهَا بَعْدِي إِلَّا هَالِكٌ وَمَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ فَسَيَرَى اخْتِلَافًا كَثِيرًا فَعَلَيْكُمْ بِمَا عَرَفْتُمْ مِنْ سُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ وَعَلَيْكُمْ بِالطَّاعَةِ وَإِنْ عَبْدًا حَبَشِيًّا عَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ فَإِنَّمَا الْمُؤْمِنُ كَالْجَمَلِ الْأَنِفِ حَيْثُمَا انْقِيدَ انْقَادَ

حضرت عرباض بن ساریہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایسا وعظ فرمایا کہ جس سے لوگوں کی آنکھیں بہنے لگیں اور دل لرزنے لگے، ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ تو رخصتی کا وعظ محسوس ہوتا ہے، آپ ہمیں کیا وصیت فرماتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں ایسی واضح شریعت پر چھوڑ کر جارہا ہوں جس کی رات اور دن برابر ہیں ، میرے بعد جو بھی اس سے کجی اختیار کرے گا، وہ ہلاک ہوگا، اور تم میں سے جو شخص زندہ رہے گا، وہ عنقریب بہت سے اختلافات دیکھے گا، لہذا تم میری جو سنتیں جانتے ہو اور خلفاء راشدین مہدیین کی سنتوں کو اپنے اوپر لازم پکڑو اور امیر کی اطاعت اپنے اوپر لازم کرلو خواہ وہ ایک حبشی غلام ہی ہو، ان باتوں کو اچھی طرح محفوظ کرلو، کیونکہ مسلمان تو فرمانبردار اونٹ کی طرح ہوتا ہے کہ اسے جہاں لے جایا جائے وہ چل پڑتا ہے۔

وَعَظَنَا رَسُولُ اللَّهِ مَوْعِظَةً ذَرَفَتْ مِنْهَا الْعُيُونُ وَوَجِلَتْ مِنْهَا الْقُلُوبُ قُلْنَا ← الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ: ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرٍو السُّلَمِيِّ، أَنَّهُ ← ضَمْرَةَ بْنِ حَبِيبٍ ← مُعَاوِيَةَ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17272

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17273

حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ عَنْ يُونُسَ بْنِ سَيْفٍ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ أَبِي رُهْمٍ عَنْ عِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ قَالَ دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى السَّحُورِ فِي رَمَضَانَ فَقَالَ هَلُمَّ إِلَى هَذَا الْغِذَاءِ الْمُبَارَكِ

حضرت عرباض بن ساریہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہ رمضان میں مجھے ایک مرتبہ سحری کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا اس مبارک کھانے کے لئے آجاؤ۔

هَلُمَّ إِلَى هَذَا الْغِذَاءِ الْمُبَارَكِ ← دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ إِلَى السَّحُورِ فِي رَمَضَانَ ← عِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ ← أَبِي رُهْمٍ ← الْحَارِثِ بْنِ زِيَادٍ، ← يُونُسَ بْنِ سَيْفٍ، ← مُعَاوِيَةَ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ ← حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17273

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17274

حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ عَنْ ثَوْرٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرٍو السُّلَمِيِّ عَنْ عِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ قَالَ صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَجْرَ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا فَوَعَظَنَا مَوْعِظَةً بَلِيغَةً ذَرَفَتْ لَهَا الْأَعْيُنُ وَوَجِلَتْ مِنْهَا الْقُلُوبُ قُلْنَا أَوْ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَأَنَّ هَذِهِ مَوْعِظَةُ مُوَدِّعٍ فَأَوْصِنَا قَالَ أُوصِيكُمْ بِتَقْوَى اللَّهِ وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ وَإِنْ كَانَ عَبْدًا حَبَشِيًّا فَإِنَّهُ مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ يَرَى بَعْدِي اخْتِلَافًا كَثِيرًا فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ وَعَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُورِ فَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ وَإِنَّ كُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ

حضرت عرباض بن ساریہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایسا وعظ فرمایا کہ جس سے لوگوں کی آنکھیں بہنے لگیں اور دل لرزنے لگے، ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) یہ تو رخصتی کا وعظ محسوس ہوتا ہے، آپ ہمیں کیا وصیت فرماتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں ایسی واضح شریعت پر چھوڑ کر جارہا ہوں جس کی رات اور دن برابر ہیں ، میرے بعد جو بھی اس سے کجی اختیار کرے گا، وہ ہلاک ہوگا، اور تم میں سے جو شخص زندہ رہے گا، وہ عنقریب بہت سے اختلافات دیکھے گا، لہذا تم میری جو سنتیں جانتے ہو اور خلفاء راشدین مہدیین کی سنتوں کو اپنے اوپر لازم پکڑو اور امیر کی اطاعت اپنے اوپر لازم کرلو خواہ وہ ایک حبشی غلام ہی ہو، ان باتوں کو اچھی طرح محفوظ کرلو، کیونکہ مسلمان تو فرمانبردار اونٹ کی طرح ہوتا ہے کہ اسے جہاں لے جایا جائے وہ چل پڑتا ہے۔

عِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو السُّلَمِيُّ ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← ثَوْرٍ ← الضحاك بن مخلد

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17274

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17275

حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَعْدَانَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو السُّلَمِيُّ وَحُجْرُ بْنُ حُجْرٍ قَالَا أَتَيْنَا الْعِرْبَاضَ بْنَ سَارِيَةَ وَهُوَ مِمَّنْ نَزَلَ فِيهِ وَلَا عَلَى الَّذِينَ إِذَا مَا أَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ فَسَلَّمْنَا وَقُلْنَا أَتَيْنَاكَ زَائِرِينَ وَعَائِدِينَ وَمُقْتَبِسِينَ فَقَالَ عِرْبَاضٌ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ ذَاتَ يَوْمٍ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا فَوَعَظَنَا مَوْعِظَةً بَلِيغَةً ذَرَفَتْ مِنْهَا الْعُيُونُ وَوَجِلَتْ مِنْهَا الْقُلُوبُ فَقَالَ قَائِلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَأَنَّ هَذِهِ مَوْعِظَةُ مُوَدِّعٍ فَمَاذَا تَعْهَدُ إِلَيْنَا فَقَالَ أُوصِيكُمْ بِتَقْوَى اللَّهِ وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ وَإِنْ كَانَ عَبْدًا حَبَشِيًّا فَإِنَّهُ مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ بَعْدِي فَسَيَرَى اخْتِلَافًا كَثِيرًا فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ فَتَمَسَّكُوا بِهَا وَعَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُورِ فَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ

عبدالرحمن بن عمرو اور حجر بن حجر کہتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ جن کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی تھی "ان لوگوں پر کوئی حرج نہیں جو آپ کے پاس آتے ہیں تاکہ انہیں سوار کر دیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ " کی خدمت میں حاضر ہوئے، ہم نے انہیں سلام کر کے عرض کیا کہ ہم آپ سے ملاقات کے لئے، عیادت کے لئے اور آپ سے استفادے کے لئے حاضر ہوئے ہیں ، انہوں نے فرمایا ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی، پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر ایسا وعظ فرمایا کہ جس سے لوگوں کی آنکھیں بہنے لگیں اور دل لرزرنے لگے، ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) یہ تو رخصتی کا وعظ محسوس ہوتا ہے، آپ ہمیں کیا وصیت فرماتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں ایسی واضح شریعت پر چھوڑ کر جارہا ہوں جس کی رات اور دن برابر ہیں ، میرے بعد جو بھی اس سے کجی اختیار کرے گا، وہ ہلاک ہوگا، اور تم میں سے جو شخص زندہ رہے گا، وہ عنقریب بہت سے اختلافات دیکھے گا، لہذا تم میری جو سنتیں جانتے ہو اور خلفاء راشدین مہدیین کی سنتوں کو اپنے اوپر لازم پکڑو اور امیر کی اطاعت اپنے اوپر لازم کرلو خواہ وہ ایک حبشی غلام ہی ہو، ان باتوں کو اچھی طرح محفوظ کرلو، اور نوایجاد چیزوں سے اپنے آپ کو بچاؤ کیونکہ ہر نوایجاد چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔

عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو السُّلَمِيُّ، وَحُجْرُ بْنُ حُجْرٍ ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17275

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17276

حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ حَدَّثَنِي بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ عَنِ ابْنِ أَبِي بِلَالٍ عَنْ عِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَظَهُمْ يَوْمًا بَعْدَ صَلَاةِ الْغَدَاةِ فَذَكَرَهُ

عبدالرحمن بن عمرو اور حجر بن حجر کہتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ جن کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی تھی "ان لوگوں پر کوئی حرج نہیں جو آپ کے پاس آتے ہیں تاکہ انہیں سوار کر دیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ " کی خدمت میں حاضر ہوئے، ہم نے انہیں سلام کر کے عرض کیا کہ ہم آپ سے ملاقات کے لئے، عیادت کے لئے اور آپ سے استفادے کے لئے حاضر ہوئے ہیں ، انہوں نے فرمایا ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی، پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر ایسا وعظ فرمایا کہ جس سے لوگوں کی آنکھیں بہنے لگیں اور دل لرزرنے لگے، ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) یہ تو رخصتی کا وعظ محسوس ہوتا ہے، آپ ہمیں کیا وصیت فرماتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں ایسی واضح شریعت پر چھوڑ کر جارہا ہوں جس کی رات اور دن برابر ہیں ، میرے بعد جو بھی اس سے کجی اختیار کرے گا، وہ ہلاک ہوگا، اور تم میں سے جو شخص زندہ رہے گا، وہ عنقریب بہت سے اختلافات دیکھے گا، لہذا تم میری جو سنتیں جانتے ہو اور خلفاء راشدین مہدیین کی سنتوں کو اپنے اوپر لازم پکڑو اور امیر کی اطاعت اپنے اوپر لازم کرلو خواہ وہ ایک حبشی غلام ہی ہو، ان باتوں کو اچھی طرح محفوظ کرلو، اور نوایجاد چیزوں سے اپنے آپ کو بچاؤ کیونکہ ہر نوایجاد چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔

عِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ أَنَّهُ ← ابْنِ أَبِي بِلَالٍ ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، ← بَقِيَّةُ ← حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17276

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17277

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ عَنْ أَبِي بِلَالٍ عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَظَهُمْ يَوْمًا بَعْدَ صَلَاةِ الْغَدَاةِ فَذَكَرَهُ

عبدالرحمن بن عمرو اور حجر بن حجر کہتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ جن کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی تھی "ان لوگوں پر کوئی حرج نہیں جو آپ کے پاس آتے ہیں تاکہ انہیں سوار کر دیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ " کی خدمت میں حاضر ہوئے، ہم نے انہیں سلام کر کے عرض کیا کہ ہم آپ سے ملاقات کے لئے، عیادت کے لئے اور آپ سے استفادے کے لئے حاضر ہوئے ہیں ، انہوں نے فرمایا ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی، پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر ایسا وعظ فرمایا کہ جس سے لوگوں کی آنکھیں بہنے لگیں اور دل لرزرنے لگے، ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) یہ تو رخصتی کا وعظ محسوس ہوتا ہے، آپ ہمیں کیا وصیت فرماتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں ایسی واضح شریعت پر چھوڑ کر جارہا ہوں جس کی رات اور دن برابر ہیں ، میرے بعد جو بھی اس سے کجی اختیار کرے گا، وہ ہلاک ہوگا، اور تم میں سے جو شخص زندہ رہے گا، وہ عنقریب بہت سے اختلافات دیکھے گا، لہذا تم میری جو سنتیں جانتے ہو اور خلفاء راشدین مہدیین کی سنتوں کو اپنے اوپر لازم پکڑو اور امیر کی اطاعت اپنے اوپر لازم کرلو خواہ وہ ایک حبشی غلام ہی ہو، ان باتوں کو اچھی طرح محفوظ کرلو، اور نوایجاد چیزوں سے اپنے آپ کو بچاؤ کیونکہ ہر نوایجاد چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔

العرباض بن سارية أنه ← أَبِي بِلالٍ ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ← إِسْمَاعِيلُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17277

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17278

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْتَغْفِرُ لِلصَّفِّ الْمُقَدَّمِ ثَلَاثَ مِرَارٍ وَلِلثَّانِي مَرَّةً

حضرت عرباض بن ساریہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پہلی صف والوں کے لئے تین مرتبہ اور دوسری صف والوں کے لئے ایک مرتبہ استغفار فرماتے تھے۔

العرباض بن سارية أنه ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ← إِسْمَاعِيلُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17278

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17279

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ هَانِئٍ قَالَ سَمِعْتُ الْعِرْبَاضَ بْنَ سَارِيَةَ قَالَ بِعْتُ مِنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَكْرًا فَأَتَيْتُهُ أَتَقَاضَاهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ اقْضِنِي ثَمَنَ بَكْرِي فَقَالَ أَجَلْ لَا أَقْضِيكَهَا إِلَّا لُجَيْنِيَّةً قَالَ فَقَضَانِي فَأَحْسَنَ قَضَائِي قَالَ وَجَاءَهُ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اقْضِنِي بَكْرِي فَأَعْطَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ جَمَلًا قَدْ أَسَنَّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا خَيْرٌ مِنْ بَكْرِي قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ خَيْرَ الْقَوْمِ خَيْرُهُمْ قَضَاءً

حضرت عرباض بن ساریہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ ایک جوان اونٹ فروخت کیا، کچھ عرصے بعد میں قیمت کا تقاضا کرنے کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) میرے اونٹ کی قیمت ادا کر دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہت اچھا، میں تمہیں اس کی قیمت میں چاندی ہی دوں گا، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خوب بہترین طریقے سے مجھے اس کی قیمت ادا کر دی۔ تھوڑی دیر بعد ایک دیہاتی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) مجھے میرا اونٹ دے دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک پکی عمر کا اونٹ دے دیا، اس نے کہا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) یہ تو میرے اونٹ سے بہت عمدہ ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں میں سب سے بہترین وہ ہوتا ہے جو ادائیگی میں سب سے بہترین ہو۔

بِعْتُ مِنْ النَّبِيِّ بَكْرًا فَأَتَيْتُهُ أَتَقَاضَاهُ فَقُلْتُ ← الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ: ← سَعِيدِ بْنِ هَانِئٍ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17279

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17280

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ الْكَلْبِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هِلَالٍ السُّلَمِيِّ عَنْ عِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ لَخَاتَمُ النَّبِيِّينَ وَإِنَّ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَام لَمُنْجَدِلٌ فِي طِينَتِهِ وَسَأُنَبِّئُكُمْ بِأَوَّلِ ذَلِكَ دَعْوَةُ أَبِي إِبْرَاهِيمَ وَبِشَارَةُ عِيسَى بِي وَرُؤْيَا أُمِّي الَّتِي رَأَتْ وَكَذَلِكَ أُمَّهَاتُ النَّبِيِّينَ تَرَيْنَ

حضرت عرباض بن ساریہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اس وقت بھی اللہ کا بندہ اور خاتم النبیین تھا جب کہ حضرت آدم علیہ السلام ابھی گارے میں ہی لتھڑے ہوئے تھے، اور میں تمہیں اس کی ابتداء بتاتا ہوں میں اپنے جد امجد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعاء حضرت عیسی علیہ السلام کی بشارت اور اپنی والدہ کا وہ خواب ہوں جو انہوں نے دیکھا تھا اور تمام انیباء علیہم السلام کی مائیں اسی طرح خواب دیکھتی تھیں ۔

عِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هِلَالٍ السُّلَمِيِّ ← سعيد بن سويد الكلبي ← مُعَاوِيَةَ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17280

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17281

حَدَّثَنَا أَبُو الْعَلَاءِ وَهُوَ الْحَسَنُ بْنُ سَوَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ مُعَاوِيَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ هِلَالٍ السُّلَمِيِّ عَنْ عِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَخَاتَمُ النَّبِيِّينَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ وَزَادَ فِيهِ إِنَّ أُمَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَتْ حِينَ وَضَعَتْهُ نُورًا أَضَاءَتْ مِنْهُ قُصُورُ الشَّامِ

گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے، البتہ اس میں یہ اضافہ بھی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ نے بچے کی پیدائش کے وقت ایک نور دیکھا جس سے شام کے محلات روشن ہوگئے۔

إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَخَاتَمُ النَّبِيِّينَ ← رَسُولِ اللَّهِ ← عِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ ← عبد الأعلى بن هلال السلمي ← سَعِيدِ بْنِ سُوَيْد ← مُعَاوِيَةَ، ← لَيْثٌ، ← أَبُو الْعَلَاءِ وَهُوَ الْحَسَنُ بْنُ سَوَّارٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17281

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17282

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ مُعَاوِيَةَ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ عَنْ يُونُسَ بْنِ سَيْفٍ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ أَبِي رُهْمٍ عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ السُّلَمِيِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَدْعُونَا إِلَى السَّحُورِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ هَلُمُّوا إِلَى الْغِذَاءِ الْمُبَارَكِ

حضرت عرباض بن ساریہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک مرتبہ سحری کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا اس مبارک کھانے کے لئے آجاؤ۔

الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ السُّلَمِيِّ، ← أَبِي رُهْمٍ ← الْحَارِثِ بْنِ زِيَادٍ، ← يُونُسَ بْنِ سَيْفٍ، ← مُعَاوِيَةَ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17282

chevron_left Previous
1…282930…111
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    0. Chapter
2. Book
    0. Chapter
3. Book
    0. Chapter
4. Book
    0. Chapter
5. Book
    0. Chapter
6. Book
    0. Chapter
7. Book
    0. Chapter
8. Book
    0. Chapter
9. Book
    0. Chapter